صدر پاکستان کی تقریرِ دل پذیر اور عریاں حقائق

سہیل انجم

پاکستان کے صدر جناب عارف علوی بعض مخصوص مواقع پر ہی تقریر کرتے ہیں۔ لیکن جب کرتے ہیں تو خوب کرتے ہیں۔ یعنی بولتے ہیں تو خوب بولتے ہیں۔ انھوں نے یوم پاکستان پر اپنے خطاب میں کہا:
”ہماری افواج کا کوئی ثانی نہیں۔ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے ۔بھارت کو بھی ماننا پڑے گا۔ ہمارے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔پڑوسی ملک کا رویہ امن کے لیے خطرہ ہے۔ ہم نفرتیں ختم کرکے خوشحالی کے بیج بونا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ ہم پرامن قوم ہیں۔ماضی سے سبق سیکھ کرمستقبل تعمیر کررہے ہیں۔ ہم تلخیوں اورنفرتوں کوختم کرکے خوشحالی کے بیج بوناچاہتے ہیں۔ ہماری اصل جنگ غربت اوربے روزگاری کے خلاف ہے۔ بھارت نے دھمکی آمیز پیغامات سے جنگ کی فضا پیدا کی۔ ہم نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا فوری اور موثر جواب دیا۔ ہم ابھرتی ہوئی معاشی قوت اور پر امن ایٹمی طاقت ہیں۔ ہم نے دہشت گردی پر قابو پالیااب اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے“۔

کچھ باتوں کو چھوڑ کر یقیناً ان کی باتیں بہت اہم ہیں۔ یہ باتیں بہت اچھی ہیں اور ہر امن پسند شہری خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہو اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھے گا۔ لیکن چونکہ انھوں نے یہ تمام باتیں ہندوستان کو ذہن میں رکھ کر کہی ہیں اور کھل کر بھارت کا نام بھی لیا ہے کہ وہ اس کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھے اس لیے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تھیوری اور پریکٹکل میں فرق ہوتا ہے۔ جو باتیں کہی جائیں کوئی ضروری نہیں کہ وہی عمل میں بھی لائی جائیں۔ پاکستان کی پوری تاریخ اس کی گواہ ہے کہ اس کے حکمرانوں کے قول و عمل میں تضاد رہا ہے۔ وہ کہتے کچھ رہے ہیں اور کرتے کچھ اور۔ اس کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ عمران خان نے جب وزارت عظمیٰ کا تاج اپنے سر پر آویزاں کیا تھا تو انھوں نے بھی ایسی ہی باتیں کی تھیں۔ لیکن ان کی بھی محض باتیں تھیں۔ حقیقت سے ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔

یہ بات ہندوستان بار بار کہتا آیا ہے اور اس میں صداقت بھی ہے کہ اگر پاکستان اس کے ساتھ اپنے تنازعات کو ختم کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا۔ کیونکہ دونوں ملکو ںمیں مسائل کی جڑ دہشت گردی ہے۔ کہنے کو تو پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے بہت سے آپریشن چلائے ہیں اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کی سرزمین سے دہشت گردی کا بڑی حد تک صفایا ہو گیا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر امریکہ، ہندوستان اور اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے بھی اس سے مزید کارروائیوں کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد جنوبی ایشیا سے متعلق جو اپنی نئی پالیسی جاری کی تھی اس میں انھوں نے پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ ہم نے پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سرمایہ فراہم کیا مگر پاکستان میں ہمارے ہی شہریوں کو ہلاک کیا گیا۔ حکومت پاکستان نے اس پیسے سے دہشت گرد تنظیموں کی مدد کی۔ ا س کے بعد ایف اے ٹی ایف نے بھی سخت موقف اختیار کیا اور دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس، سخت اور موثر کارروائی نہ کرنے پر اس کا نام گرے لسٹ میں ڈال دیا۔ یعنی خطرے والے زون میں ڈال دیا۔ اب مئی میں اس کی میٹنگ ہونے والی ہے۔ اس موقع پر یہ جائزہ لیا جائے گا کہ اس نے دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ روکنے کے اقدامات کیے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ اس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوا تو وہ اسے بلیک لسٹ بھی کر سکتا ہے۔

پاکستان کے صدر کی باتیں بہت اچھی ہیں کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا وہ امن چاہتا ہے اور ہندوستان کے ساتھ اپنے دیرینہ مسائل کو بات چیت سے حل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ ابھی کچھ دنوں کی ہی بات ہے جب پاکستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروپ جیش محمد نے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر حملہ کر دیا جس میں 40جوان ہلاک ہو گئے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن مذکورہ واقعہ اس کے اس دعوے کا مذاق اڑاتا نظر آرہا ہے۔ اس نے یہ کارروائی پاکستان کی سرزمین سے ہی کی ہے۔ جیش محمد نے حملے کی ذمہ داری بھی لے لی۔ لیکن جب ہندوستان نے جیش کے خلاف کارروائی کی تو اسے اپنے اوپر کارروائی سمجھا گیا اور اگلے روز ہی ہندوستان کی فضائی حدود کو عبور کرکے اس کے اندر جا کر پاکستان کی فضائیہ نے کارروائی کی اور اس کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

حالانکہ وہ اس کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ لیکن یہ بات کہاں تک جائز ہے کہ کسی ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جائے۔ ہندوستان اپنی کارروائی کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کہتا ہے اور یہ بات اس لیے بھی درست ہے کہ اس کارروائی میں نہ تو کسی پاکستانی شہری کو کوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی وہاں کی فوج کو۔ البتہ ہندوستانی کارروائی میں پاکستان کے ایک جہاز کو نقصان پہنچا جس کے ثبوت میں ہندوستانی فضائیہ نے اس میزائل کے ٹکڑے دکھائے جو ایف 16 طیاروں پر پاکستان استعمال کرتا ہے۔ ہاں پاکستان کو جواب دینے کی صورت میں ہندوستان کا بھی ایک طیارہ تباہ ہو گیا اور اس کا پائلٹ پاکستان میں جا کر گرا۔ پاکستان نے اسے پکڑ لیا لیکن پھر جب دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی نوبت آگئی تو عالمی رہنماؤں نے مداخلت کرکے ہندوستانی پائلٹ کو بھارت بھجوایا اور اس طرح جنگ کے بادل چھٹ گئے۔ ایسا کیوں ہوا۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کی واردات کی وجہ سے ہوا۔ اگر پاکستان جیش محمد کو اپنے یہاں پناہ نہ دے تو اس قسم کی کارروائیاں نہیں ہوں گی اور دونوں ملکوں میںنفرت و کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ پاکستان آج بھی جیش محمد کی حمایت کر رہا ہے۔

ہندوستان بھی پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ اسی دوران دو ہندو لڑکیوں کے اغوا اور ان کو جبراً مسلمان بنانے اور ان سے شادی کرنے کا بھی ایک واقعہ منظر عام پر آیا ہے۔ اس قسم کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جو بہت زیادہ خبروں میں نہیں رہے۔ لیکن اب جبکہ دونوں ملکوں میں کشیدگی اب بھی باقی ہے ایسے واقعات تو آگ میں تیل ڈالنے کے مترادف ہوں گے۔ اب اگر ایسے واقعات ہوتے رہیں گے تو پھر بات چیت کا آغاز کیسے ہوگا اور باہمی مسائل کو کیسے حل کیا جائے گا۔ بات چیت کے آداب ہوتے ہیں۔ پاکستان کو ان آداب کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ ورنہ اگر پلوامہ اور جبراً مسلمان بنانے جیسے واقعات ہوتے رہے تو پھر پاکستانی رہنماؤں کی باتوں پر کیسے یقین کیا جائے گا۔ اب امن و آشتی کی باتیں صدر پاکستان کریں یا وزیر اعظم پاکستان۔ پہلے بات چیت کا ماحول تو بنائیے اس کے بعد مذاکرات کا آغاز خود بخود ہو جائے گا۔

صدر پاکستان نے اپنی تقریر میں جانے یہ کیسے کہہ دیا کہ ”ہم ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہیں“۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں کی معیشت بری طرح لڑکھڑا رہی ہے۔ عمران خان ملکوں ملکوں گھوم رہے ہیں اور ایک طرح سے چندہ کر رہے ہیں۔ پاکستانی اخباروں نے تو کھل کر اسے کشکول لے کر بھیک مانگنا قرار دیا ہے۔ بے روزگاری آسمان پر ہے۔ مہنگائی عوام کی کمر توڑ رہی ہے۔ اگر وہاں کی معیشت اچھی ہوتی تو یہ سب باتیں کیوں ہوتیں۔ ورلڈ بینک نے ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کا عنوان ہے ”پاکستان 2047 میں“۔ یعنی اپنے قیام کے سو سال بعد اس کی کیا صورت حال ہوگی اس نقشہ کھینچا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دفاع پر اخراجات بند کر کے ترقیاتی کاموں، تعلیم اور شرح پیدائش کم کرنے میں سرمایہ لگانا ہوگا۔ اسے اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے خواتین کی تعلیم پر توجہ کے ساتھ انھیں تمام شعبہ ہائے حیات میں برابری کے مواقع دینے ہوں گے۔ اس نے اگر ایسا نہیں کیا آج جہاں ہے 2047میں بھی وہیں رہے گا۔

ان حالات میں صدر پاکستان کی یہ بات کہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہے محض ایک مذاق معلوم ہوتی ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Speech of pak president arif alvi and actual facts in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.