تنہائی کے زیادہ شکار کون، بزرگ یا فیس بک نسل؟

سہیل انجم

تلاش معاش کی خاطر ایک شہر سے دوسرے شہروں اور ایک ملک سے دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت نے لوگوں کے گھروں میں خوشحالی کے قمقمے روشن کیے ہیں اور زندگی میں آسائشیں مہیا کی ہیں۔ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ عیش و عشرت کے سامان گھروں میں آ گئے ہیں۔ والدین جب دوسروں کو یہ بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا یا بیٹے امریکہ، برطانیہ، کناڈا اور خلیجی ملکوں میں ملازمت یا روزگار کرتے ہیں اور اس شان و شوکت سے رہتے ہیں جس کو یہاں خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا، تو ان کی پیشانیاں مسرت و شادمانی کے جذبات سے چمکنے لگتی ہیں۔ وہ اپنے بچوں سے جو بھی فرمائش کرتے ہیں وہ پوری ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ خطرناک امراض میں گرفتار ہونے کی صورت میں وہ ان ملکوں میں جا کر بہترین علاج بھی کراتے ہیں اور شفایاب ہوکر لوٹتے ہیں۔ اور جب وہاں سے واپس آتے ہیں تو ان کے پاس تحائف کے ڈھیر ہوتے ہیں، احباب اور اعزا کے لیے قیمتی اشیا ہوتی ہیں۔ جب سے موبائل نے انسانی زندگی میں ایک لازمی جزو کی حیثیت اختیار کر لی ہے، رابطے میں بھی آسانی ہو گئی ہے۔ انٹرنیٹ نے لوگوں کو اور قریب کر دیا ہے۔ وہ جب چاہیں غیر ممالک میں آباد اپنے بچوں سے بات کر سکتے ہیں، چیٹنگ کر سکتے ہیں، ویڈیو کالنگ کر سکتے ہیں اور یہ جان کر اپنے دلوں کو مطمئن کر سکتے ہیں کہ بچے خوش ہیں، آرام سے ہیں اور بے فکری کی زندگی گزار رہے ہیں۔

لیکن اس خوشگوار سچائی کے ساتھ ساتھ کچھ تلخ حقائق بھی ہیں جن سے بچوں کو کم مگر والدین کو زیادہ گزرنا پڑتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونی ممالک کی ملازمتوں او رکاروبار نے گھروں میں خوشحالی کے چراغ جلائے ہیں اور جن گھروں میں عسرت، تنگ دستی اور مفلوک الحالی کے اندھیرے تھے وہاں اب دولت کی ریل پیل اور چکا چوند آگئی ہے۔ لیکن اس خوشحالی نے کچھ ناقابل بیان حد تک کربناک حالات سے بھی دوچار کیا ہے۔ ان کربناک حالات سے اولاد کو کم مگر والدین کو زیادہ گزرنا پڑتا ہے۔

یہ صورت حال چند سالوں قبل کی ترجمانی ہے۔ اور اس صورت حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اب تو یہ امتیاز کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ تنہائی کے زیادہ شکار بزرگ ہیں یا فیس بک نسل ہے یعنی نوجوان ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ اور مواصلاتی انقلاب نے دنیا کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے اور فاصلے سمٹ گئے ہیں۔ لیکن اس سکے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ فاصلے سمٹنے کے ساتھ ساتھ بڑھ بھی گئے ہیں۔ اسمارٹ فون آج ہماری زندگی کا اس قدر جزو لاینفک بن گیا ہے کہ اگر غلطی سے بھی ہم اپنا فون کہیں بھول جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی ادھوری ادھوری سی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسمارٹ فون ہاتھ میں آتے ہی انٹرنیٹ آن ہو جاتا ہے اور بھری بزم میں بیٹھا ہوا انسان بھی تنہا ہو جاتا ہے۔ آج کوئی بھی شخص اس کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ بس صرف اتنا کرنا ہوگا کہ اپنے ہی گھر میں ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ ذرا غور سی دیکھیے تو پتا چلے گا کہ اگر گھر میں دوچار نوجوان ہیں خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکی، تو سناٹا چھایا رہتا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ گھر قہقہوں سے گونج اٹھے۔ گھر کا گوشہ گوشہ ہنسی سے بھر جائے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ غور کیجیے تو پائیے گا کہ ہر نوجوان اپنے اسمارٹ فون میں مست ہے اور اس کی پوری دنیا اس کے اسکرین تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہاں تک کہ آواز لگائیے تو وہ آواز ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔

ان حالات میں ماہرین سماجیات کا ذہن اس سوال تک پہنچا کہ آج تنہائی کے زیادہ شکار کون لوگ ہیں؟کیا وہ بزرگ ہیں جن کے بچے دوسرے ملکوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور وہ اپنے وطن میں بچوں سے ملنے کے لیے تڑپ رہے ہیں، یہاں تک کہ انھیں ان سے ملنے کے لیے اس بڑھاپے میں لندن اور امریکہ کا سفر کرنا پڑ رہا ہے ۔ یا پھر وہ نوجوان نسل ہے جس کی زندگی اسمارٹ فون تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اس سوال نے کچھ ماہرین کو برطانیہ کی چار یونیورسٹیوں میں سروے کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ سروے 16 سال سے لے کر 75 سال اور اس سے اوپر کے لوگوں کے درمیان کیا گیا۔ اس سروے میں پچاس ہزار افراد سے سوالات کیے گئے۔ نتیجہ سن کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ اس سروے سے یہ انکشاف ہوا کہ آج کے دور میں 65 سے 75 سال کی عمر کے لوگ جو تنہائی کے شکار ہیں ان کا فیصد 29 ہے اور 16 سے 24 سال کے نوجوان جو تنہائی کے شکار ہیں ان کا فیصد 40 ہے۔ یہ فرق کم نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے۔ حالانکہ اس کے برعکس ہونا چاہیے تھا۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 75 سال سے اوپر کے تنہا لوگوں کا فیصد 27 ہے یعنی سب سے کم۔ گویا تنہائی کے سب سے زیادہ شکار نوجوان ہیں اور سب سے کم شکار انتہائی بزرگ ہیں۔ یہ سروے بی بی سی 4 نے کیا ہے۔

اس سروے میں لوگوں سے ان کے رویے اور تنہائی کے ذاتی تجربے سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔ حالانکہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان اس لیے زیادہ تنہائی کے شکار ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی عمر میں ہوتے ہیں جہاں خود کی شناخت یا تلاش ہوتی ہے۔ لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر آنکھ بند کرکے یقین کیا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کے انقلاب سے قبل بھی تو نوجوان ہوا کرتے تھے۔ لیکن وہ ان تجربات سے تو نہیں گزرتے تھے جن سے آج کے نوجوان گزر رہے ہیں۔ در اصل اس کی متعدد وجوہات ہیں اور انھی میں ایک وجہ انٹرنیٹ بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو نوجوان زیادہ تنہائی محسوس کرتے ہیں ان کے پاس جو دوست ہیں وہ آن لائن دوست ہیں۔ یعنی وہ ایسے نہیں ہیں کہ ان کو بلایا جائے، ان کے پاس بیٹھا جائے، ان سے گفتگو کی جائے یا ان سے اپنے دل کا حال بالمشافہ بیان کیا جائے۔ بلکہ یہ ایسے دوست ہیں جو صرف انٹرنیٹ پر فراہم ہیں۔ آپ کو ان سے کچھ گفتگو کرنی ہے تو انٹرنیٹ کے توسط سے ہی کر نی ہے۔

انٹرنیٹ نے متعدد گھر بھی تباہ و برباد کیے ہیں۔ ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ ایک جوڑے نے اپنے فرضی نام سے انٹرنیٹ پر دوستی کی اور جب ملاقات کے لیے ایک متعینہ مقام پر پہنچے تو دونوں میاں بیوی نکلے۔ خیر یہ ایک الگ کہانی ہے جس پر پھر کبھی گفتگو ہوگی۔ اس وقت تو ہمارا موضوع فیس بک نسل کی تنہائی ہے۔ اس تنہائی کی پانچ شکلیں ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ایسا نہیں ہے جس سے گفتگو کی جائے۔ دوسری یہ کہ یہ احساس کہ ہم دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ تیسری یہ کہ ہم اس احساس کے شکار ہوں کہ سماج نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔ چوتھی صورت غمزدگی ہے اور پانچویں صورت یہ ہے کہ ہم اس احساس میں مبتلا ہیں کہ ہم کچھ سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ آج کی نوجوان نسل یا فیس بک نسل انھی کیفیات میں مبتلا ہے۔
اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بہت سے لوگ اس کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں تھے کہ وہ تنہائی کے شکار ہیں۔ ان کو سماج کا ڈر تھا اور یہ خیال دامن گیر تھا کہ اگر وہ ایسی رائے ظاہر کریں گے تو لوگ کیا کہیں گے۔ اس سلسلے میں خواتین زیادہ شرما حضوری کی شکار نظر آئیں۔ یعنی اگر وہ اس کا اعتراف کرتی ہیں کہ وہ تنہائی کی شکار ہیں تو یہ بڑے شرم اور بڑی ندامت کی بات ہوگی۔ اس سروے میں بزرگوں نے کیا کہا وہ بھی سن لیجیے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تنہائی کو چھپانا زیادہ پسند کرتے ہیں لڑکوں کے مقابلے میں۔ گویا وہ بھی اس احساس میں مبتلا ہیں کہ اگر وہ کہیں کہ وہ تنہائی کے شکار ہیں تو لوگ ان کی اولاد وغیرہ کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ اور والدین کتنی ہی تکالیف اٹھا لیں وہ یہ کہنا گوارہ نہیں کریں گے کہ ان کی اس حالت کے ذمہ دار ان کے بچے میں۔ اس لیے نوجوانوں کے مقابلے میں وہ اپنی تنہائی کو چھپانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

سروے کمیٹی کی سربراہ یونیورسٹی آف مانچسٹر میں نفسیات کی استاد Pamela Qualter (پامیلا کوالٹر) کا کہنا ہے کہ اس سروے میں بڑے دلچسپ نتائج برآمد ہوئے۔ ان کے مطابق سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ لوگ تنہائی کے شکار ہونے کا اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ ان پر تنہا ہونے کا ٹھپہ لگ جائے گا۔ وہ ایسا ظاہر ہونے دینا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں نے تنہائی کے مختلف علاج بتائے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر ہم یہ محسوس کریں کہ ہم تنہائی کے زیادہ شکار ہیں تو ہمیں اپنے لیے خیر خواہ اور مہربان بننا پڑے گا۔ اگر ہم خود کے لیے مہربان ہو گئے تو ہم تنہائی کے احساس پر قابو پا لیں گے۔

بہر حال اس دلچسپ سروے نے یہ انکشاف کیا ہے کہ یہ بات اب پرانی اور فرسودہ ہو گئی ہے کہ بزرگ تنہائی کے زیادہ شکار ہیں۔ نئی حقیقت یہ ہے کہ اب فیس بک نسل یعنی نوجوان نسل تنہائی کی زیادہ شکار ہے۔ یہ صورت حال ایسی نفسیات کی جانب اشارہ کر رہی ہے جو بے حد تشویشناک بھی ہے اور اندیشوں سے بھرپور بھی۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Smartphone is ruining relationship in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment