تھانوں کی اردو اور عدالت کا حکم

سہیل انجم

روزنامہ قومی آواز لکھنؤ کے ایڈیٹر حیات اللہ انصاری نے اردو زبان کے تعلق سے کئی تجربے کیے تھے۔ جن میں ایک تجربہ یہ بھی تھا کہ عربی فارسی آمیز اردو کا استعمال نہ کیا جائے بلکہ ایسی آسان زبان استعمال کی جائے جو سڑک پر چلنے والے کی بھی سمجھ میں آجائے۔ انھوں نے فارسی و عربی کے الفاظ کے عدم استعمال پر زور دیا تھا اور اس کے کچھ قواعد بھی بنائے تھے۔ مثال کے طور پر انھوں نے بین الاقوامی کو بین اقوامی، اقوام متحدہ کو متحدہ اقوام، اعلیٰ کو اعلااور ہندوستان کو ہندستان کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ جن الفاظ کے آخر میں ءآتا ہے جیسے کہ علماءوغیرہ ان الفاظ کو بغیر ءکے استعمال کرنے پر زور دیا تھا۔ جب تک قومی آواز شائع ہوتا رہا حیات اللہ انصاری کی اصلاح شدہ زبان ہی مستعمل رہی۔ ان کے اس قدم کی بڑی پذیرائی ہوئی تھی اور کئی دوسرے اخبارات نے بھی اس روش کو اختیار کیا تھا۔ مولانا محمد عثمان فارقلیط ایک جید صحافی رہے ہیں۔ انھوں نے متعدد روزنامہ و ہفت روزہ اخبارات میں کام کیا تھا۔ آزادی کے بعد پچیس برسوں تک وہ جمعیة علمائے ہند کے اخبار ”الجمعیة“ کے ایڈیٹر رہے۔ وہ انتہائی سادہ زبان استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخبارات میں وہ زبان استعمال ہونی چاہیے جو ایک رکشہ چلانے والا بھی پڑھ اور سمجھ لے۔ ان دنوں وہ بلی ماران میں واقع الجمعیة بلڈنگ میں قیام پذیر تھے۔ وہیں برابر میں چائے کا ایک ہوٹل تھا جہاں عام طور پر غریب غربا چائے پینے جاتے تھے۔ وہاں رکشہ چلانے والے اور ٹھیلہ کھینچنے والے بھی بیٹھتے تھے۔ مولانا فارقلیط بھی وہاں جاتے اور گھنٹوں بیٹھ کر چائے نوشوں کی باتیں سنتے۔ وہاں ملکی و غیر ملکی سیاست سے لے کر تمام قسم کے مسائل پر کھل کر گفتگو ہوتی اور تبصرے کیے جاتے۔ مولانا جب اپنے دفتر پہنچتے تو وہاں سنی ہوئی باتیں ان کے کام آتیں۔ وہاں زیر بحث آنے والے مسائل پر وہ اداریہ لکھتے جو عام قارئین کو خوب پسند آتا۔

ان واقعات کا ذکر ہم نے اس لیے کیا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے پولیس تھانوں میں استعمال ہونے والی عربی و فارسی آمیز زبان کی جگہ پر آسان زبان کے استعمال کی ہدایت دی ہے۔ پولیس تھانوں میں جو ایف آئی آر درج ہوتی ہے ان میں انتہائی مشکل زبان کا استعمال انگریزوں کے دور سے چلا آرہا ہے۔ پولیس محکمہ میں بھرتی ہونے والوں کو ان الفاظ کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ لیکن ان میں بہت سے ایسے مشکل الفاظ ہیں کہ آج کے یونیورسٹیوں کے اردو کے پروفیسر حضرات بھی ان کا مطلب نہیں بتا سکتے۔ مثال کے طور پر: استغاثہ، اندراج، عدم تعمیل، انسداد جرائم، مشتبہ، مسماة، سرزد، عدم پتہ، قابل دست درازی، آتش گیر اشیا، اقبال جرم، اعتراف جرم، ازالہ حیثیت عرفی، استحصال بالجبر، زنا بالجبر، تحقیر اختیار جائز، تصرف بیجا، حبس دوام، حفاظت خود اختیاری، سرقہ بالجبر، عافیت ذاتی، آسودگی عامہ خلائق، قانونِ مختص الامر، کفالت المال، مجمعہ خلاف قانون، مستثنیاتِ عامہ، مشترک افعال اور نشانِ صرفہ وغیرہ۔ یہ زبان تھانوں میں اور کچھ کچہری کے کاغذات میں استعمال ہوتی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر ایک عام آدمی کے لیے ہوتی ہے اس لیے اس میں ایسی زبان استعمال کی جانی چاہیے جو عام آدمی سمجھ لے۔ عدالت کے سامنے 383 مشکل الفاظ کی فہرست پیش کی گئی تھی ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایسے مشکل الفاظ استعمال نہ کیے جائیں جو عام آدمی نہ سمجھ سکے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کو پی ایچ ڈی نہیں سمجھنا چاہیے۔ (حالانکہ عدالت کو شاید علم نہیں کہ آجکل کے اردو پی ایچ ڈی اسکالر بھی مذکورہ الفاظ میں سے متعدد کے مطلب نہیں بتا پائیں گے۔) زمین جائداد کے کاغذات میں جو معاہدہ لکھا جاتا ہے اس کا آغاز ”من مُقِر“ سے ہوتا ہے۔ یعنی میں اقرار کرنے والا۔ کیا ایک عام آدمی اس زبان کو سمجھ سکتا ہے۔ غیر اردو داں تو چھوڑیے اردو والے بھی نہیں سمجھ سکتے۔ عدالت نے تمام تھانوں کو اس کی ہدایت دینے کا حکم دیا ہے کہ ایسی مشکل زبان استعمال نہ کی جائے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت کا یہ حکم اردو دشمنی میں نہیں بلکہ تھانوں کے کام کاج کو آسان اور وہاں استعمال ہونے والی زبان کو عام فہم بنانے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس لیے اردو والوں کو اس پر چیں بہ جبیں ہونے یا اس میں اردو دشمنی کی سازش کا پہلو تلاش کرنے کے بجائے اس ہدایت کی اصل منشا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج اردو زبان کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خود اردو گھرانے اردو کو چھوڑتے جا رہے ہیں۔ اتر پردیش، بہار، دہلی یہ سب اردو کے مراکز ہوا کرتے تھے۔ اب ان مراکز میں بھی اردو کا بول بالا نہیں ہے۔ اتر پردیش کی حالت تو بے حد خراب ہے۔ وہاں تو ایک بھی اردو میڈیم سرکاری اسکول نہیں ہے۔ جبکہ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نوجوان نسل میں اردو سیکھنے کی خواہش بڑھ رہی ہے۔ راجستھان وغیرہ کے ہندو خاندانوں کے بچے اردو پڑھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں اردو کی تعلیم سے ملازمت مل رہی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ اردو زبان سیکھنا چاہتے ہیں وہ اس کی شیرینی و حلاوت پر فریفتہ ہیں۔ لہٰذا اس شیرینی و حلاوت کو باقی رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی صورت میں باقی رہ پائے گی جب ہم آسان اردو سکھانے سے اس کا آغاز کریں۔ اس سلسلے میں اردو والوں کو کوشش کرنی ہوگی۔ حکومتوں اور عدالتوں کو مورد الزام ٹھہرا کر ہم اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ آج اردو والوں کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے گھروں میں اردو زبان کی کیا حالت ہے۔

کیا ان کے بچے اردو پڑھ رہے ہیں۔ کیا ان کے گھروں میں اردو کے اخبارات آتے ہیں۔ ان اردو کے پروفیسروں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے جو اردو پڑھانے کے نام پر ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو لاکھ روپے تنخواہیں اٹھا رہے ہیں۔ کیا ان کے بچے اردو پڑھ رہے ہیں۔ کیا ان کے گھروں میں اردو اخبارات آتے ہیں۔

صرف ادب لکھ دینا اور وہ ادب جس کو لکھنے والے کے علاوہ دوسرا کوئی پڑھنے والا نہ ہو، اردو کی خدمت نہیں ہے یا اردو کو زندہ رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ (حالانکہ ادب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا)۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کی ابتدائی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ اردو کے نام پر ہمارے ملک میں سیکڑوں بلکہ ہزاروں تنظیمیں موجود ہیں لیکن کیا کوئی تنظیم اردو کو پرائمری درجات میں پڑھانے کے سلسلے میں کوئی جد و جہد کر رہی ہے۔ اترپردیش اتنا بڑا صوبہ ہے اور اردو والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے لیکن کیا وہاں کے لوگ پرائمری اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا بند و بست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہ بدلتا رہتا ہے۔ تغیر کا عمل جاری رہتا ہے۔

یہی صورت حال زبانوں کے ساتھ بھی ہے۔ کسی زمانے میں کوئی زبان رائج ہوتی ہے اور کسی زمانے میں کوئی اور۔ جب ہندوستان پر مغلوں کی حکومت تھی تو فارسی زبان رائج تھی۔ انگریزوں کے زمانے میں اردو نے فارسی کی جگہ لے لی۔ انگریز افسران نے اردو کو رواج دینے کے لیے بہت کام کیا تھا۔ متعدد ادارے بنائے تھے۔ لیکن اب آزادی کے بعد ہندی کا زمانہ آیا ہے۔ اردو کا استعمال کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ خود اردو والے اسے دیس نکالا دے رہے ہیں۔ ایسے میں اردو والوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کو اپنی زبان کی بقا کی جد و جہد کرنی ہوگی۔ کیا وہ شکایت کرنے کے بجائے کچھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں؟
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Simple words in fir and court order in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.