سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے……..

سہیل انجم

1971 میں ایک فلم آئی تھی ”دشمن“۔ اس میں کلیدی کردار اس وقت کے سپر اسٹار راجیش کھنہ نے ادا کیا تھا۔ انھوں نے ایک قوالی گائی تھی جس کے ابتدائی بول کچھ یوں ہیں:

سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھلولوں سے
میں انتظار کروں، میں تجھ سے پیار کروں
میں دل نثار کروں، مگر کیسے اعتبار کروں
کہ جھوٹا ہے ترا وعدہ، وعدہ ترا وعدہ

پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان شاہدآفریدی کے ایک بیان نے بے ساختہ اس قوالی کی یاد دلا دی۔ اس کے ابتدائی بول ان کے بیان اور اس کے تناظر میں پاکستان کی حکومتوں پر بلا مبالغہ صادق آتے ہیں۔ انھوں نے کشمیر کے بارے میں ایک فطری بیان دیا ہے جس کے دو حصے ہیں۔ پہلا یہ کہ پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے اور دوسرا یہ کہ پاکستان سے تو اپنے چار صوبے ہی نہیں سنبھل پا رہے ہیں وہ کشمیر کو کیا سنبھالے گا۔ انھوں نے یہ بیان لندن میں ایک یونیورسٹی کے طلبا کے سوالوں کے جواب میں دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بیان بڑا ہی حقیقت پسندانہ ہے۔ حالانکہ جب اس پر پاکستان میں ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تو انھوں نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کی کہ ہندوستانی میڈیا نے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر اور سیاق و سباق سے کاٹ کر دکھایا ہے۔ لیکن سچائی وہی ہے جو انھوں نے کہی ہے۔ سچ کو زیادہ دنوں تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ وہ کسی نہ کسی کی زبان سے اور کسی نہ کسی شکل میں واضح اور ظاہر ہو کر رہتا ہے۔

آپ پوچھیں گے کہ آفریدی کے بیان پر دشمن فلم کی قوالی کیوں یاد آگئی؟ تو سنیے۔ ابتدائی دو مصرعوں میں سچائی اور بناوٹ کی بات کہی گئی ہے۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان کی جو پالیسی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ سچائی پر مبنی نہیں ہے۔ وہ ایک مصنوعی موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کو عالمی فورموں پر اٹھا کر ہندوستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ کشمیری عوام کے تئیں مخلص نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو کشمیر کے حالات کو خراب ہونے میں معاون و مددگار نہیں بنتا۔ اس کا یہ کہنا کہ وہ کشمیری عوام کی ”جد و جہد آزادی“ کو جو ہندوستان کی نظروں میں دہشت گردی ہے، اپنی ہر طرح کی حمایت جاری رکھے گا، در اصل مسئلہ کشمیر کو اور پیچیدہ بنانا ہے۔ سرحد پار سے بار بار درانداز کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور داخل ہو بھی جاتے ہیں۔ ان کے اس عمل میں ہندوستانی حکومت کے مطابق پاکستانی فوج معاون بنتی ہے۔ وہ ان کو Cover فراہم کرتی ہے اور اس طرح ان کو سرحد کے اندر گھسا دیتی ہے۔ اگر پاکستان کشمیری عوام کا ہمدرد ہے اور اس کی ہمدردی کا دعویٰ فرضی نہیں ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو امن و چین سے رہنے دے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں میں کئی معاہدے ہوئے ہیں جن میں آخری معاہدہ شملہ سمجھوتہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو دونوں ملک باہمی مذاکرات سے اسے حل کریں گے۔ اس کے باوجود پاکستان اسے عالمی فورموں پر اٹھاتا ہے۔ اس کا کیا مطلب نکالا جائے۔

مذکورہ قوالی میں عاشق اپنے محبوب سے شکوہ کناں ہے کہ میں تو تجھ پر اپنا دل نثار کرتا ہوں، میں تیرا انتظار کرتا ہوں مگر تیرا وعدہ جھوٹا ہے۔ اگر اسے کشمیر کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کے تناظر میں دیکھیں تو کشمیر کا وہ ایک چھوٹا طبقہ جو پاکستان کی طرف نظریں گڑائے رہتا ہے، اس سے شکوہ کناں بھی رہتا ہے۔ وہ پاکستان کی محبت میں گرفتار ہے مگر پاکستان کے سارے وعدے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں۔ آخر کوئی کب تک کسی کا منتظر رہے گا۔ وعدے کے انتظار کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر پاکستان واقعی کشمیریوں کے معاملے میں سچا ہے اور ان سے الفت و محبت رکھتا ہے تو اسے حالات کو خراب کرنے کے بجائے بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اب اسے کیسے بہتر بنایا جائے گا اس کا فیصلہ اسے خود کرنا ہے۔ اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے۔ وہ اپنے وعدے میں پکا ہے۔

اب آئیے شاہد آفریدی کے بیان کے دوسرے حصے کی طرف۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تو اپنے چار صوبے ہی نہیں سنبھال پا رہا ہے تو کشمیر کو کیسے سنبھالے گا۔ یہ بیان ایک برہنہ سچائی کا غماز ہے۔ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے۔ وہاں صرف چار صوبے ہیں۔ لیکن ان چاروں میں خلفشار مچا رہتا ہے۔ بلوچستان میں بلوچ نیشنل آرمی کی قیادت میں اور سندھ میں جے سندھ کی سیادت میں علاحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں۔ بلوچ رہنماؤں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ پاکستان کے سابق صدر اور سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک بلوچ رہنما کے قتل کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ وہاں جمہوریت انتہائی کمزور ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کی عمر کا نصف حصہ فوجی بوٹوں کی دھمک سنتے سنتے گزرا ہے۔ کبھی ایوب خان نے مارشل لا لگایا تو کبھی یحییٰ خان نے۔ کبھی جنرل ضیاءالحق نے تو کبھی پرویز مشرف نے۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے انتہائی ذہین رہنما کو محض اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ایک مقدمہ میں پھنسا کر پھانسی دے دی گئی۔ ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو ہلاک کر دیا گیا۔ اور بھی جانے کتنے سیاست دانوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ابھی چند روز قبل اسلام آباد کے ایک ایس پی کا اغوا کیا گیا اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔ صوبے چار ہی ہیں لیکن کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں ہے جہاں لاقانونیت نہ ہو، دہشت گردی نہ ہو، شورش نہ ہو،نراج نہ ہو، افراتفری نہ ہو۔ خود پاکستان میں دہشت گردانہ وارداتوں میں پچاس ہزار سے زائد سویلین ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور پیچھے جائیں تو مشرقی پاکستان کے ساتھ وہاں کے حکمرانوں کے امتیازی سلوک نے اسے الگ کرا دیا اور وہ بنگلہ دیش کے نام سے ایک الگ ملک بن گیا۔ شاہد آفریدی کا یہ بیان کہ پاکستان سے اپنے چار صوبے ہی نہیں سنبھل رہے ہیں بلاشبہ ایک تلخ حقیقت ہے ۔

جہاں تک کشمیر کے دوسرے حصے کا تعلق ہے، جس پر پاکستان کا قبضہ ہے، تو وہاں بھی عوام کو کوئی آزادی حاصل نہیں ہے۔ حالانکہ پاکستان اس کو آزاد کشمیر کہتا ہے۔ لیکن اس کشمیر میں کتنی آزادی ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہاں صدر کون ہوگا، وزیر اعظم کون ہوگا، حکومت کون چلائے گا، کیا پروگرام بنائے جائیں گے اور کیا پلاننگ ہوگی یہ سب پاکستان کی وفاقی حکومت طے کرتی ہے۔ وہ جس کو چاہتی ہے صدر اور وزیر اعظم بنا دیتی ہے اور جس طرح چاہتی ہے حکومت چلاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں تو کم از کم انتخابات ہوتے ہیں اور یہاں کے عوام ان میں حصہ لے کر اپنی حکومت منتخب کرتے ہیں۔ نام نہاد ”آزاد کشمیر“ میں کہنے کو تو ایک 14 رکنی کونسل ہے جو مالیاتی امور کو گورن (Govern) کرتی ہے۔ لیکن اس کونسل میں 6 ممبران پاکستان کے ہوتے ہیں اور پاکستان کا وزیر اعظم اس کا چیئرمین یا سی ای او (CEO) ہوتا ہے۔ ایسے میں وہ آزادی کے ساتھ کیسے کام کر سکتا ہے۔ ہندوستان اس کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پورا جموں و کشمیر ہمارا ہے اور رہے گا۔ شاہد آفریدی کے بیان پر ہندوستان کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان بالکل درست ہے۔ پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے۔ کشمیر تو ہمارا ہے اور رہے گا۔

مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے مابین ایک ایسا تنازعہ ہے جسے ہر حال میں حل ہونا چاہیے۔ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ باہمی مذاکرات سے اسے حل کریں۔ ہندوستان نے کشمیری عوام اور رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو اپنا نمائندہ بنایا ہے۔ وہ لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔ تمام لیڈروں کو ان سے ملنا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ جب تک بات چیت نہیں ہوگی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

بہر حال شاہد آفریدی نے بے خیالی ہی میں سہی ایک بہت بڑی بات کہہ دی ہے۔ انھوں نے ایک ایسی سچائی پر سے پردہ اٹھایا ہے جسے پاکستان اٹھانا نہیں چاہتا۔ وہ اس سچائی پر ہمیشہ سیاست کی نقاب ڈالے رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں شاہد آفریدی ایسے تنہا شخص نہیں ہیں جو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے حامی ہیں بلکہ وہاں کا ایک بہت بڑا طبقہ کشمیر میں امن چاہتا ہے۔ یہ اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب پاکستان مداخلت بند کرے۔ اسی صورت میں کشمیر میں انسانیت باقی رہ سکتی ہے جس کی خواہش شاہد آفریدی نے کی ہے۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Shahid afridis kashmir comment in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment