غالب کے ساتھ سیلفی

سہیل انجم

ہم نے کئی بار بلی ماران کی گلی قاسم جان میں واقع مرزا غالب کی حویلی کی زیارت کی ہے۔ ہم جب بھی وہاں گیا زائرین کی بھیڑ دیکھی۔ اُس بھیڑ میں نوجوانوں یا اسٹوڈینٹس کی اکثریت نظر آئی۔ بارہا ہمارے دل میں خیال آیا کہ ان نوجوانوں سے غالب کے بارے میں دریافت کریں۔ ایک بار ہم نے کئی طلبہ اور طالبات کو وہاں گھومتے اور غالب کے اشعار میں دلچسپی لیتے دیکھا۔ ایک نوجوان غالب کی دیوار پوش تصویر کے ساتھ سیلفی لیتا نظر آیا۔ اس کو دیکھ کے ہمیں خیال آیا کہ آج اگر غالب ہوتے تو وہ اپنے محبوب سے ضرور فرمائش کرتے کہ ہم تمھارے ساتھ ایک سیلفی لینا چاہتے ہیں اور ان کی اس کوشش میں جب محبوب غصے میں بپھر جاتا تو وہ کچھ اس قسم کے شعر کہتے کہ:
دھول دھپہ اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
ہم ہی لے بیٹھے تھے غالب ”ایک سیلفی“ ایک دن
بہر حال ہم سے نہیں رہا گیا اور ہم نے ان طلبہ سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کو غالب سے اتنی دلچسپی کیوں ہے اور ان کے اشعار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
پہلے تو وہ جھجکے، پھر بولے کہ غالب ایک عظیم شاعر ہیں۔ ان کی بات ہی اور ہے۔ ایک دوسرے نوجوان نے لقمہ دیا ”کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور“۔
ہم نے پوچھا کہ ان کے اشعار کے بارے میں آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟
ایک اسٹوڈینٹ نے کہا کہ میں نے دیوان غالب کو ہندی میں پڑھا ہے کیونکہ میں اچھی اردو نہیں جانتا۔ میں نے دیکھا کہ غالب نے جہاں انسانی جذبات و احساسات کو اشعار میں ڈھالا ہے وہیں انھوں نے کچھ ایسے اشعار بھی کہے ہیں جن میں بہت گہری معنویت ہے۔ ایک شعر میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے اردو کے ایک استاد سے پوچھا اور انھوں نے جو مطلب بتایا اس کو سن کر میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔
ہم نے پوچھا کس شعر کی بات آپ کر رہے ہیں؟
نوجوان نے کہا کہ شعر تو یاد نہیں لیکن اس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ میں بھی خدا کی ذات کا ایک حصہ ہوں۔ اگر اس نے مجھے انسان نہ بنایا ہوتا تو میں بھی خدا ہوتا۔
ہم نے کہا کہ اچھا اچھا آپ اِس شعر کی بات کر رہے ہیں:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
نوجوان نے برجستہ کہا کہ ہاں ہاں یہی شعر ہے۔ اس میں انتی گہرائی ہے کہ وہاں تک عام لوگ آسانی سے نہیں پہنچ سکتے۔
پھر انہی میں سے ایک نوجوان نے کہا کہ ان کا ایک شعر تو کچھ اس طرح کا ہے کہ اس میں انھوں نے خود کو صوفی بتایا ہے، کچھ ولی ولی کی بات کی ہے، حالانکہ وہ مئے خوار تھے۔
ہم نے کہا کہ اچھا آپ شاید اِس شعر کی بات کر رہے ہیں:
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
ابھی شعر مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نوجوان نے کہا کہ جی جی اسی شعر کی بات کر رہا ہوں۔
میں نے پوچھا کہ یہاں آپ لوگوں نے کیا کیا دیکھا اور کیا غالب کے بارے میں اور بھی کچھ دیکھنا چاہیں گے۔
اسی نوجوان نے کہا کہ ”بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے“۔
ہم نے کہا کہ ارے واہ آپ لوگوں کو تو غالب کے اشعار بھی یاد ہیں۔ اس پر اس نوجوان نے کہا کہ ابھی یہاں لکھا ہوا دیکھا تھا ذہن میں بیٹھ گیا۔
یہ صرف ایک غالب کی حویلی کی بات نہیں ہے۔ بلکہ غالب اکیڈمی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے میوزیم میں بھی لوگ اکثر غالب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایوان غالب کے زیر سایہ مجسمہ غالب کے ساتھ بالخصوص نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو تصویریں کھنچواتے یا سیلفی لیتے بھی ہم نے دیکھا ہے۔ غالب کی یہ مقبولیت کسی ایک خاص عمر، طبقے یا صرف اردو والوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر عمر اور طبقے کے لوگوں میں انھیں پسند کیا جاتا ہے اور ان کو بھی غالب میں بڑی دلچسپی ہے جو اردو کے رسم الحظ سے واقف نہیں ہیں۔
عدلیہ میں بھی غالب کو اسی دلچسپی اور تجسس کے ساتھ دیکھا جاتا ہے جس کے ساتھ دوسرے ان کو دیکھتے ہیں۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو جب سپریم کورٹ کے جج تھے تو انھوں نے ممبئی کی ایک نرس ارونا شان باگ کے Mercy Killing یعنی از راہ ترحم موت کی اجازت کے مقدمے میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ ارونا شان باگ کے ساتھ عالم شباب ہی میں جنسی ز یادتی ہوئی تھی جس کے بعد وہ نیم بے ہوشی کی کیفیت میں پہنچ گئی تھیں۔ تقریباً 40 برسوں تک بستر مرگ پر رہنے کے بعد ان کی موت ہو گئی۔ ارونا شان باگ کی ایک دوست اور ہم پیشہ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کو از راہ مروت موت دے دی جائے کیونکہ ان کی زندگی موت سے بھی بدتر ہے۔ جسٹس کاٹجو نے اس فیصلے کا آغاز غالب کے اس شعر سے کیا تھا:
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
غالباً انھوں نے یا کسی دوسرے جج نے ایک مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے غالب کا یہ شعر استعمال کیا ہے:
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
ہمارے ایک صحافی دوست بدقسمتی سے ایک موذی مرض میں مبتلا ہو گئے۔ ہم نے جب ان سے خیریت پوچھی تو انھوں نے برجستہ یہ شعر پڑھا:
ہو گئیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
سیاست دانوں میں بھی غالب بالکل اسی طرح مقبول ہیں۔ جو سیاست داں ان کے اشعار کے مطلب بھی پوری طرح نہیں سمجھتے وہ بھی اپنی تقریروں میں ان کے اشعار کا برجستہ استعمال کرتے ہیں۔ 2013 ءمیں پارلیمنٹ کے اندر صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اپوزیشن کے الزامات کے جواب میں اور خاص طور پر سشما سوراج کو مخاطب کرکے غالب کا یہ شعر پڑھا تھا:
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ڈاکٹر من موہن سنگھ کو شعر و شاعری سے گہرا شغف ہے اور وہ اپنی تقریروں میں عموماً غالب اور اقبال کے اشعار استعمال کرتے ہیں۔ اُس سے قبل مارچ 2011ءمیں ایف ڈی آئی پر ہونے والی بحث کے دوران ایک ممبر نشی کانت دوبے نے غالب کا یہ شعر پڑھا:
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
2014ءمیں کانگریس لیڈر ملک ارجن کھڑگے کو پارلیمنٹ میں ریلوے بجٹ پیش کرنا تھا۔ بھلا وہ کیسے شعر کے بغیر اپنی تقریر مکمل کرتے۔ لہٰذا انھوں نے بھی غالب ہی کا سہارا لیا:
صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
عہد حاضر میں جبکہ ایک نجی ادارے ریختہ ڈاٹ کام کے زیر اہتمام اردو کا جشن منایا جانے لگا تو اس میں اکثریت نوجوانوں کی نظر آئی۔ اس جشن کے طفیل میں نئی نسل کی دلچسپی اردو کی جانب بڑھی ہے اور ان میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو غالب کو پڑھنا اور ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ ریختہ کی ویب سائٹ پر دیوان غالب اور اس کی مختلف شرحوں کو اسکین کرکے اپ لوڈ کر دیا گیا ہے جس سے غالب کے چاہنے والے استفادہ کر سکتے ہیں۔ یہ ویب سائٹ بھی غالب شناسی میں کسی طرح کا ایک رول ضرور ادا کر رہی ہے۔
”غالب کو اس بات کا افسوس تھا کہ انھیں جو قدر و منزلت ملنی چاہیے وہ نہیں مل رہی ہے۔ لیکن اس بات کا احساس بھی تھا کہ آنے والی نسلیں ان کو سمجھیں گی اور ان کی قدر کریں گی“۔ یہ بات اتنی کثرت سے دوہرائی جا چکی ہے کہ اس کو سنتے ہی فرسودگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ بات ابھی اور جانے کتنی بار دوہرائی جائے گی۔ کیونکہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ واقعی غالب کے بارے میں لوگوں کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے دور میں غالب کے کلام میں لوگوں کو اتنی دلچسپی کیوں ہے اور وہ ان کے اشعار پڑھنا او رانھیں سمجھنا کیوں چاہتے ہیں۔ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اگر ہم غور کریں تو پائیں گے کہ اس کے بیشتر اسباب خود کلام غالب ہی میں پوشیدہ ہیں۔ انھوں نے انسانی نفسیات کو جس طرح دلچسپ اور موثر انداز میں اپنے کلام میں باندھا ہے وہ دلوں کو چھو جاتا ہے ۔
انسان عام طور پر خواہشات کا غلام ہوتا ہے۔ ایک خواہش پوری ہو جائے تو دوسری سر اٹھانے لگتی ہے۔ دوسری پوری ہو جائے تو تیسری جلوہ دکھاتی ہے۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے لاتعداد خواہشیں اس کے دل و دماغ میں اپنا گھر بنا لیتی ہیں۔ غالب نے جب یہ کہا تھا:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
تو ان کو شاید اس کا احساس نہیں رہا ہوگا کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جو صارفیت کا زمانہ کہلائے گا اور جس میں انسانی خواہشیں موجودہ خواہشوں کے مقابلے میں ہزاروں گنا بڑھ جائیں گی۔ وہ زمانہ آگیا اور آج دیکھیے کہ ایک انسان کتنی خواہشوں اور آرزووں کا قیدی بن گیا ہے۔ غالب کا یہ شعر آج بھی اسی معنویت کے ساتھ زندہ ہے جس معنویت کے ساتھ ان کے دور میں زندہ تھا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کہ آج یہ شعر انسانی نفسیات سے کہیں زیادہ قریب تر ہو گیا ہے۔
غالب کو ایک مشکل پسند شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن جب وہ مشکل پسندی کے خول سے باہر آکر شعر کہتے ہیں تو سہل ممتنع کے لاجواب اشعار نازل ہوجاتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سہل ممتنع کے ہی شاعر ہیں۔ ان کے ایسے سادہ و سلیس اشعار میں ضرب المثل بننے کی پوری قوت موجود ہوتی ہے۔ کیا ان اشعار کی برجستگی کو کوئی نظرانداز کر سکتا ہے:
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
آج کے دور میں جبکہ اردو لکھنے پڑھنے کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے ایسے سادہ مگر دل میں اتر جانے والے اشعار پر لوگ کیوں نہ سر دھنیں۔ یہ اشعار لوگوں کو بہ آسانی یاد ہو جاتے ہیں اور حافظے میں کافی دنوں تک محفوظ بھی رہتے ہیں۔
غالب کی طبیعت میں بڑی شوخی اور ظرافت تھی۔ انھوں نے انسان کو حیوان ظریف کہا ہے۔ اور اپنے اشعار سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھی حیوان ظریف ہی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کے کلام میں یہ شوخی یہ ظرافت کہاں سے آتی:
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو
کیا بات ہے تمھاری شراب طہور میں
عہد حاضر میں ضروری و غیر ضروری تفکرات نے انسانوں کو جکڑ رکھا ہے۔ ایسے میں وہ کچھ تفریحی لمحات چاہتے ہیں اور غم روزگار و غم زمانہ سے دامن کش ہو کر تھوڑی دیر کے لیے مسرت و انبسات میں پناہ ڈھونڈھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ٹی وی چینلوں پر دکھائے جانے والے مزاحیہ و تفریحی پروگرام خاصے مقبول ہیں۔ غالب کے یہ اشعار بھی کچھ دیر کے لیے انسان کو احساس غم و آلام سے نجات دلا دیتے ہیں۔
چھیڑ چھاڑ، شوخی اور ظرافت میں وہ اپنا مذاق اڑانے سے بھی باز نہیں آتے۔ جبھی تو وہ کہتے ہیں:
چاہتے ہیں خوب روؤں کو اسد
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
یہ شوخی، یہ چھیڑ چھاڑ یہ ظرافت اور وہ بھی غیر شائستگی سے بچتے ہوئے، آج کے دور میں غنیمت ہے۔
ان کے فلسفیانہ اشعار بھی موجودہ دور سے یکسر ہم آہنگ ہیں۔ جب وہ یہ کہتے ہیں:
قید ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
تو یہ اشعار آج کے انتہائی ترقی یافتہ دور میں بھی، جبکہ ایک روبوٹ کو شہریت مل جاتی ہے اور ہزاروں لاکھوں لوگ حقِ شہریت سے محروم ہو جاتے ہیں، انسان کی عاجزی، کوتاہ دستی، کوتاہ دامنی و کوتاہ ذہنی اور بہت سے امور میں قدرت کے سامنے بے بسی و بیچارگی کا استعارہ بن جاتے ہیں۔
غالب کی مقبولیت میں فلم، موسیقی اور ٹی وی سیرئیل نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ 1954 میں سہراب مودی کی فلم ”مرزا غالب“ اور 1988 میں گلزار کے ٹی وی سیرئیل ”مرزا غالب“ میں علی الترتیب بھارت بھوشن اور نصیر الدین شاہ نے غالب کا انتہائی موثر کردار ادا کرکے ان کی مقبولیت میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ فلم غالب میں محمد رفیع کی آواز میں غالب کی یہ غزل جس کا مقطع ہے:
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
شائقین و ناظرین کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے۔ اسی طرح ٹی وی سیرئیل میں جو کہ ایک ایک گھنٹے کی آٹھ قسطوں پر مشتمل تھا، جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی آواز میں غالب کی غزلوں نے وہ جادو جگایا ہے کہ آپ آج بھی ان کو سنیے اور سر دھنیے۔
غالب کی مقبولیت میں قوالوں کا بھی کچھ نہ کچھ رول ہے۔ راحت فتح علی خاں اور دوسروں نے ان کی غزلیں قوالی کے انداز میں گائی ہیں اور اہل ذوق سے داد و تحسین کا تحفہ حاصل کیا ہے۔ راحت نے ایک پروگرام میں غالب کی ایک غزل چھیڑی جس کا مطلع ہے ، کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی، تو اس پوری غزل کو گانے کے دوران انھوں نے غالب کی کم از کم بیس غزلوں کے پچاسوں اشعار پڑھے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ پہلے مصرعے سے دوسرے مصرعے تک جانے کے لیے پہلے مصرعے کو انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے تقریباً تیس مرتبہ دوہرایا۔ عہد حاضر میں غالب کی مقبولیت میں معروف رقاصہ کامنا پرشاد بھی اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ غالب کی غزلوں پر رقص کرتی ہیں اور اہل نظر سے داد اور اہل کرم سے مال حاصل کرتی ہیں۔ جبکہ غالب تو فقیروں کا بھیس بنا کر اہل کرم کا تماشا ہی دیکھتے رہ گئے تھے۔
آج کے ترقی یافتہ دور میں آپ کو کسی بھی معاملے میں کوئی بھی معلومات چاہئیں تو گوگل مشکل کشا بن کر سامنے آجاتا ہے اور کچھ دیکھنا اور سننا ہو تو آپ یو ٹیوب کی خدمت میں حاضر ہو جائیے۔ غالب پر بنی فلم اور سیرئیل اور مختلف گلوکاروں کے ذریعے گائی جانے والی غالب کی غزلیں بڑی تعداد میں یو ٹیوب پر موجود ہیں۔ ان وسائل و ذرائع نے بھی غالب کی مقبولیت میں کچھ نہ کچھ رول ادا کیا ہے۔
ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو بھی غالب میں بڑی دلچسپی ہے۔ وہ دہلی میں غالب کی حویلی کا بھی دیدار کرتے ہیں اور غالب اکیڈمی میں واقع میوزیم کا بھی۔ مزار غالب پر فاتحہ خوانی بھی کرتے ہیں۔ ریڈیو وائس آف امریکہ واشنگٹن میں سینئر براڈ کاسٹر جناب قمر عباس جعفری جب دہلی آئے تو انھوں نے خاکسار کے ساتھ میوزیم بھی دیکھا اور مزار غالب پر فاتحہ خوانی بھی کی۔ واپسی پر انھوں نے اپنے سفرنامہ میں اس کا بطور خاص ذکر بھی کیا۔
نصیر الدین شاہ، جنھوں نے غالب کا لاجواب اور لازوال کردار ادا کیا ہے اور ایسے ادا کیا ہے کہ غالب کا نام آتے ہی نصیر الدین کا گیٹ اپ تصور میں ابھر آتا ہے، ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ وہ غالب کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اور یہ کہ غالب کو سمجھنے کے لیے سات بار پیدا ہونا پڑے گا۔ یعنی غالب اور کلام غالب میں جو معنویت اور تہہ داری ہے وہ ابھی پوری طرح کھل کر دنیا کے سامنے نہیں آئی ہے۔ حالانکہ ایک دبلے پتلے دیوان کی جانے کتنی ضخیم ضخیم شرحیں لکھی جا چکی ہیں۔
جس طرح سمعی و بصری آلات و وسائل متواتر ترقی پذیر ہیں اور جس طرح اردو سیکھنے، سمجھنے اور غالب کو پڑھنے میں لوگوں کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے، اس کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ غالب کی مقبولیت کے ابھی مزید دروازے وا، ہوں گے او ر ان کے چاہنے والوں کی تعداد میں ابھی اور اضافہ ہوگا:
ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest literature news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from literature and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Selfie with ghalib in Urdu | In Category: ادبیات Literature Urdu News

Leave a Reply