مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

سہیل انجم

دہلی میں شیخ ابراہیم ذوق ایک اعلیٰ پائے کے شاعر گزرے ہیں۔ وہ اور مرزا غالب ہمعصر ہیں۔ لیکن ذوق آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے استاد رہے ہیں۔ ان کی شاعرانہ عظمت کی وجہ سے ان کو ”خاقانی ہند“ کا لقب عطا کیا گیا تھا۔ ان کی ایک مشہور غزل کا مطلع ہے:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

جس وقت انھوں نے یہ شعر کہا ہوگا ان کو اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ دہلی میں اگر زندگی میں چین نہیں تو ایک وقت آئے گا کہ واقعی مرنے کے بعد بھی چین نہیں ملے گا۔ یعنی آدمی مر تو جائے گا لیکن وہ کہاں دفن ہوگا یا اس کی آخری آرام گاہ کہاں بنے گی یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ حالانکہ استاد ذوق کو زندگی میں تو مسائل نہیں تھے کیونکہ وہ بادشاہ کے استاد تھے، لیکن انتقال کے بعد ان کی قبر کے لیے مسئلہ ضرور پیدا ہو گیا تھا۔ اس پر آگے چل کر روشنی ڈالیں گے۔

پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دہلی میں موت بھی ایک مسئلہ بننے والی ہے۔ در اصل گزشتہ دنوں دہلی اقلیتی کمیشن نے قبرستانوں سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب اہالیان دہلی کو اپنے مردے دفن کرنے کے لیے جگہ نہیں ملے گی۔ اس رپورٹ کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں قبرستانوں کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ ایک سال بعد مردوں کو دفنانے کے لیے جگہ ہی نہیں بچے گی۔ دہلی کے قبرستانوں میں اس وقت جگہ کی انتہائی قلت ہے۔ رپورٹ میں اس مسئلہ کے پیش نظر یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ اراضی الاٹمنٹ اور غیر مستقل قبروں کی سہولت جیسے اقدام پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا ہے کہ شہر میں ہر سال اوسطاً 13000 مسلمان انتقال کرتے ہیں یعنی اتنے مسلمانوں کی موت ہوتی ہے۔ 2017 تک موجودہ قبرستانوں میں 29370 مردوں کو ہی دفنانے کی جگہ بچی تھی۔ اس طرح دیکھا جائے تو 2019 سے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں اس سلسلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ”موجودہ حالات پر نظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سال بعد دہلی کے قبرستانوں میں مسلمانوں کو دفنانے کے لیے کوئی جگہ نہیں بچے گی بشرطیکہ کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا گیا۔“

ریکارڈوں کے مطابق دہلی کے مختلف علاقوں میں 704 قبرستان ہیں جن میں سے صرف 131 میں ہی میتوں کی تدفین ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق”دہلی میں صرف 131 ایسے قبرستان ہیں جن میں میتوں کی تدفین ہوتی ہے اور ان میں سے 16 قبرستانوں پر مقدمے چل رہے ہیں۔ اسی وجہ سے فی الحال میتوں کی تدفین ان میں نہیں ہو پا رہی ہے۔ 43 قبرستانوں پر مختلف اداروں نے قبضے کر رکھے ہیں۔“ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہر کے زیادہ تر قبرستان چھوٹے ہیں جو 10 بیگھہ یا اس سے کم کے ہیں اور ان میں سے 46 فیصد پانچ بیگھہ یا اس سے کم پیمائش کے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ”دہلی میں مسلم قبرستانوں کے مسائل اور حالات“ کے عنوان سے ”ہیومن ڈیولپمنٹ سوسائٹی“ کے ذریعہ 2017 میں تحقیق کرائی گئی تھی جس کے پیش نظر دہلی اقلیتی کمیشن نے مذکورہ رپورٹ تیار کی ہے۔

یہ رپورٹ بلا شبہ آنے والے دنوں میں ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ متعدد مسلم تنظیموں کی جانب سے جب حکومتوں سے کچھ مطالبے کیے جاتے ہیں تو ان میں ایک مطالبہ قبرستانوں کا بھی ہوتا ہے۔ دہلی میں جو بھی قبرستان میں وہ سب قدیم ادوار سے قائم ہیں۔ نئے قبرستانوں کے لیے جگہوں کا تعین نہیں ہو رہا ہے۔ در اصل ملک کے دوسرے علاقوں کی مانند دہلی کی بھی آبادی اتنی بڑھتی جا رہی ہے کہ لوگوں کو رہائش کے مسائل درپیش ہیں قبرستانوں کا معاملہ تو زندگی کے بعد آتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی اور موت دونوں دوش بہ دوش چلتی ہیں۔ نئی ولادتیں ہوتی ہیں اور پرانے لوگ دنیا سے رخصت ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ولادتوں کے مقابلے میں رخصتی کی شرح ہمیشہ کم رہی ہے۔ پھر بھی جو لوگ اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں ان کو آخری آرام گاہ کی ضرورت تو پڑتی ہی ہے۔

میتوں کی آخری رسوم کے سلسلے میں مختلف مذاہب میں مختلف طریقے رائج ہیں۔ مذہب اسلام میں میتوں کی تدفین کی جاتی ہے۔ عیسائی اور دوسرے بہت سے مذاہب میں بھی یہی کیا جاتا ہے۔ ہندو مذہب میں اکثریتی طبقہ اپنی میتوں کو نذر آتش کر دیتا ہے۔ کچھ لوگ دفن بھی کرتے ہیں۔ پارسی مذہب میں میت کو ایک بلند مقام پر رکھ دیا جاتا ہے جہاں گدھ انھیں کھا لیتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو قبروں کے لیے جگہوں کی قلت کی ایک بڑی وجہ پختہ قبریں بھی ہیں۔ اسلام میں پختہ قبروں کی ممانعت ہے۔ لیکن مسلمانوں نے جانے کیوں یہ وطیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ اپنے بزرگوں اور عزیزوں کی قبریں پکی بناتے ہیں۔ کچھ تو بہت عالیشان بناتے ہیں۔ کچھ تھوڑی ہلکی کوالٹی کی بناتے ہیں۔ کچھ مالی اعتبار سے کمزور لوگ کم از کم ایک پتھر لگا کر ہی قبروں کی نشانی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر مسلمان پختہ قبریں بنانا بند کر دیں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے راقم سے گفتگو میں بتایا کہ ہم لوگ مسلمانوں کو اس بات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ قبروں کو پختہ بنانے کا رویہ ترک کریں۔ ان کو کچی ہی رہنے دیں۔ تاکہ بعد میں ان میں دوسرے مردے دفن کیے جا سکیں۔

ہم نے مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں دیکھا ہے کہ وہاں ہمیشہ مٹی ڈالی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کافی اونچی ہو گئی ہے۔ ابتدائی ایام میں بقیع نشیبی علاقہ تھا مگر اب مسجد نبوی کے بیرونی صحن کے فرش سے کم از کم ایک منزل اونچا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے یہاں ہمیشہ مٹی ڈالی جاتی ہے۔ جنوب مشرقی سمت میں مٹی کے ٹرک کھڑے رہتے ہیں۔ جب قبروں کی زیارت ختم ہو جاتی ہے تو مٹی ڈالنے کا کام شروع ہوتا ہے۔ بقیع میں کم از کم دس ہزار صحابہ کرام مدفون ہیں۔ نوے ہزار تابعین اور طبع تابعین ہیں۔ گویا ایک لاکھ قبریں تو پرانے مرحومین کی ہیں۔ ابتدا میں جب قبرستان بھر گیا اور ایک بھی قبر کی جگہ نہیں بچی تو مٹی ڈال کر یوں سمجھیے کہ اسے دو منزلہ کر دیا گیا۔ اس لیے یقین کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی جا سکتی کہ کہاں کس صحابی کی قبر ہوگی۔ پہلے یہاں کچھ قبروں پر قبے بنائے گئے تھے۔ بہت سی قبروں کو جوں کا توں رکھا گیا تھا۔ لیکن ملک سعود کی حکومت کے قیام کے بعد ان نشانات کو ختم کر دیا گیا۔ اب قبروں پر دو ڈھائی فٹ لمبائی اور تقریباً ایک بالشت اونچائی میں مٹی لگا دی جاتی ہے تاکہ قبر کی نشاندہی ہو سکے۔ باقی جگہ کو بالکل برابر کر دیا جاتا ہے۔ سرھانے ایک چھوٹا سا پتھر نصب کر دیا جاتا ہے۔ قبرستان کہیں نیچا ہے تو کہیں اونچا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں مسلسل مٹی ڈالی جاتی ہے۔

لیکن یہاں ہندوستان میں صدیوں پرانی قبریں اب بھی جوں کی توں موجود ہیں۔ یہ بھی ایک رواج چل پڑا ہے کہ بزرگوں اور ولیوں کی قبروں کے نزدیک قبر حاصل کرنے کے لیے منہ ماگی قیمت ادا کی جاتی ہے۔ شاید لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ولی اللہ کی قبر کے نزدیک مردہ دفن کرنے سے اس کو قبر میں راحت نصیب ہوگی۔ یہ خیال غلط ہے۔ قبر میں راحت ملنے کی واحد صورت نیک اعمال ہیں۔ کسی نے اچھے اعمال کیے ہیں تو اسے کہیں بھی دفن کیا جائے قبر میں تکلیف نہیں ہوگی۔ لیکن اگر کسی کے اعمال اچھے نہیں ہیں تو کسی بزرگ کے پہلو میں ہی اسے کیوں نہ دفن کر دیا جائے اسے عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا یہ خیال مسلمانوں کو اپنے دل سے نکال دینا چاہیے کہ بزرگوں کی قربت تکالیف میں کمی کا باعث ہوگی۔ اگر یہاں بھی قبریں کچی بنائی جائیں اور ایک وقت یا عرصہ مقرر کر لیا جائے کہ اتنے دنوں کے بعد پرانی قبریں ختم کر دی جائیں گی اور وہاں نئی قبریں بنائی جائیں گی تو اس بڑے مسئلے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

شروع میں ہم نے استاد ذوق کا ذکر کیا تھا۔ ان کی قبر دہلی میں پہاڑ گنج میں واقع ہے۔ ایک ماہر آثار قدیمہ اور تاریخ داں رعنا صفوی نے اس بارے میں ایک تفصیلی مضمون قلمبند کیا تھا جس کے کچھ اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں۔

”بھائی صاحب یہاں شیخ ابراہیم ذوق کی قبر کہاں ملے گی؟“ یہ سوال میں نے ایک صاحب سے پہاڑ گنج کی گلیوں میں پوچھا۔ اس شریف شخص نے بہت ہی آہستہ سے دبی زبان میں کہا ”کوڑے کٹّے کے بغل میں۔“ وہاں سے کوڑے کٹے کو پوچھتی ہوئی پہاڑ گنج کے نبی کریم محلے کی تنگ اور گندی گلیوں سے گزرتی ہوئی میں اس مقام پر پہنچی جہاں ”خاقانی ہند“ کی کبھی قبر ہوا کرتی تھی۔ نہ جانے کس وقت اس جگہ پرعام آدمیوں کے لیے ایک بیت الخلا بنا دیا گیا۔ ذوق کے چاہنے والوں کے لیے یہ جگہ ہمیشہ کے لیے کھو گئی ہو تی اگر فیروز بخت احمد نے اس کے خلاف جنگ نہ شروع کی ہوتی۔ فیروز بخت احمد نے PILعرضیاں نہ داخل کی ہوتیں اور اخباروں میں قبر کے مقام پر بیت الخلا بنانے والے میونسپل افسران کے خلاف مضمون نہ لکھا ہوتا تواس قبر کا نام و نشان مٹ جاتا۔ اس کار خیر میں ان کا ساتھ ایم سی مہتا نے دیا۔1996 میں ایم سی مہتا نے محکمہ آثار قدیمہ اور وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے نام سپریم کورٹ میں ایک PIL داخل کی جس میں انھوں نے فیروز بخت احمد کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ ذوق کی قبر کہاں ہے؟اس کے بعد عدالت نے ایک کمیٹی تشکیل دی اور ذوق کی قبر کے نشانات ڈھونڈنے کا حکم دیا گیا۔ اصل قبر تو نہیں ملی لیکن بیت الخلا وہاں سے ہٹا دیا گیا اور ایک چار دیواری کھینچ کر یادگارِ ذوق بنادیا گیا۔ وہاں پر نشانی کے طور پر ایک پتھر کا تابوت بنا دیا گیا اور چاروں دیوار وں پر محرابیں بناکر ان کے چند اشعارکا کتبہ لگا دیا گیا۔آج اس کی حالت اتنی خراب تو نہیں ہے مگر دروازے پر تالا لگا رہتا ہے اور یادگار پر ایک ویرانی سی چھائی رہتی ہے۔“
گویا استاد ذوق کا یہ شعر خود انھی پر صادق آگیا کہ:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

sanjumdelhi@gmail.com 

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Scarcity of graveyards cemeteries in delhi in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment