چار بیویاں، چالیس بچے اور ایک مہاراج

سہیل انجم
کہتے ہیں کہ جس زبان پر چٹخارے دار کھانوں کا ذائقہ چڑھ جائے اس کو کوئی اور کھانا اچھا ہی نہیں لگتا۔ یہی بات اشتعال انگیز بیانوں کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ جس کو شرانگیزی کرنے کی عادت پڑ جائے اس کو کوئی سیدھی سچی بات اچھی ہی نہیں لگتی۔ وہ ہر حال میں زبان درازی کرے گا خواہ اس سے اس کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو جائے۔ اس ملک میں زبان درازوں کا ایک ایسا گروہ موجود ہے جو موقع بے موقع اپنی چار ہاتھ کی زبان نکالتا رہتا ہے اور اس کے ذریعے اپنی ذہنی خباثتوں کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے۔ کوئی بھی موقع ہو وہ پیچھے نہیں ہٹتا۔ ایسے لوگوں کا ہاضمہ ہی اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو آلائشوں میں لت پت نہ کر دیں۔ جب ملک میں انتخابات کا موقع آتا ہے تو اس قسم کے لوگوں کا جوش و خروش بہت بڑھ جاتا ہے۔ وہ ہر حال میں کچھ نہ کچھ بکتے ہی رہتے ہیں۔ جب سے ملک میں ایک نئی قسم کی سیاست شروع ہوئی ہے اس خاص قسم کے گروہ کو بڑی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس خاص قسم کی سیاست کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کی بیان بازیوں سے سیاست کا اور بالخصوص انتخابی سیاست کا اونٹ اسی کروٹ بیٹھے گا جس کروٹ وہ بٹھانا چاہتے ہیں۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران بھی اس کا خوب مظاہرہ ہوا تھا اور اب جبکہ اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کر دیا گیا ہے، ایک بار پھر اشتعال انگیزی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ ایسے عناصر ہندووں میں بھی ہیں اور مسلمانوں میں بھی ہیں۔
بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ ہیں سوامی ساکشی مہاراج۔ وہ اس قسم کی اشتعال انگیزی کرنے والے نام نہاد مرد سنیاسیوں کے قائد ہیں۔ اسی طرح ایک مرکزی وزیر سادھوی نرنجن دیوی ہیں۔ ایک بی جے پی ایم پی مہنت آدتیہ ناتھ ہیں۔ ایک اور سادھوی کا نام لیا جا سکتا ہے یعنی سادھوی پراچی۔ ایک اور سادھوی تھیں جن کا نام ہے پرگیہ ٹھاکر۔ وہ خیر سے داخل زنداں ہیں۔ وہ صرف اشتعال انگیزی ہی نہیں کرتی تھیں بلکہ مبینہ طور پر بہت کچھ کرتی تھیں۔ جبھی تو ایک بار جیل گئیں تو ابھی تک باہر نہیں آسکیں۔ جس طرح ساکشی مہاراج کو اس مرد گروہ کا قائد کہا جانا چاہیے اسی طرح سادھوی پراچی کو عورتوں کے گروہ کا قائد کہا جانا چاہیے۔ یہ الگ بحث کا موضوع ہے کہ یہ لوگ سوامی، سادھو یا سادھوی ہیں یا نہیں۔ یا یہ لوگ سوامیوں اور سادھو¿وں کے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ بہر حال! سوامی ساکشی مہاراج پارلیمنٹ کے ممبر ہیں لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں نہیں بولتے۔ جانتے ہیں کہ ان کو اپنی زبان پر قابو نہیں ہے۔ بولتے بولتے اگر بہک گئے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اس لیے وہ پارلیمنٹ کے باہر بولتے ہیں اور خوب بولتے ہیں۔ انھوں نے ابھی حال ہی میں ایک مندر میں منعقدہ ایک پروگرام میں بولتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔ جس سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کے ذمہ دار ہندو نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو چار بیویوں اور چالیس بچوں کی بات کرتے ہیں۔ سوامی نے مسلمانوں کا نام تو نہیں لیا لیکن یہ ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ ان کا اشارہ مسلمانوں کی جانب ہی تھا۔ حالانکہ چار بیویوں اور چالیس بچوں کی بات کرنا مسلمانوں پر ایک الزام ہے۔ ہندوستان میں شائد ہی کوئی ایسا مسلمان ہو جس کے چار بیویاں اور چالیس بچے ہوں۔ در اصل یہ فقرہ یا یہ نعرہ بھی انھی لوگوں کا گھڑا ہوا ہے۔ ایسے اور بھی بہت سے نعرے ان لوگوں نے گھڑ لیے ہیں اور وہ ان کو وقتاً فوقتاً مسلمانوں پر فٹ کرتے رہتے ہیں۔ ہاں اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ہے لیکن بعض شرطوں کے ساتھ ہے۔ ہندوستان میں دو بیویوں والے کچھ مسلمان شوہر تو ممکن ہے مل جائیں لیکن دو سے زائد بیویوں والے مسلم شوہر تو ملیں گے ہی نہیں۔ چہ جائیکہ چار چار بیویاں رکھی جائیں۔ اس زمانے میں ایک بیوی اور دو بچوں کا پیٹ عزت کے ساتھ پال لیا جائے وہی بہت ہے۔ سوامی ساکشی مہاراج کا یہ بیان یقینی طور پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور ہندووں کے ایک طبقے کو مسلمانوں کے خلاف ورغلانے والا ہے۔ یہ بیان بلا شبہ قابل اعتراض ہے او رایسے میں جبکہ الیکشن کا اعلان ہو چکا ہے اس قسم کے بیانات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے پانچ ریاستوں میں انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی مثالی ضابط اخلاق بھی نافذ کر دیا ہے۔ یعنی کوئی ایسی بات نہیں کہی جا سکتی جو مذہبی یا فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرتی ہو یا جس کے ذریعے عوام میں ایک دوسرے کے تئیں نفرت و کدورت کو ہوا ملتی ہو۔ یوں تو پورے ملک میں اور بالخصوص پورے شمالی ہندمیں مذہب کی بنیاد پر ایک خاص قسم کی سیاست کو ہوا دی گئی ہے جس کے خطرناک نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ اتر پردیش تو ایک ایسی ریاست ہے جہاں اس قسم کی سیاست کا خاصا زور ہے۔ رام مندر کا معاملہ ہو یا یکساں سول کوڈ کا یا پھر لو جہاد اور مبینہ گو¿ کشی کا۔ اس ریاست میں اس قسم کی سیاست کو خوب ہوا دی جاتی رہی ہے اور اس کے نتیجے میں عوام کو مذہبی بنیاد پر بانٹا گیا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات بھی کروائے گئے ہیں اور اس طرح ایک مخصوص طبقے کے ووٹ ایک خاص جماعت کی طرف منتقل کیے گئے ہیں۔
ملک کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں اپنے ایک انتہائی اہم فیصلے میں کہا ہے کہ مذہب، ذات پات، زبان، رنگ، نسل کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگا جا سکتا۔ اگر کوئی امیدوار اور یہاں تک کہ اس کا کوئی پولنگ ایجنٹ بھی اس بنیاد پر ووٹ مانگے گا تو مذکورہ امیدوار کا الیکشن کالعدم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اب الیکشن میں مذہب یا فرقہ کی بنیاد پر انتخابی مہم نہیں چلائی جائے گی۔ لیکن ابھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سوامی ساکشی مہاراج نے مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے والا بیان دے دیا۔ ان کے اس بیان کے خلاف کانگریس اور دوسری پارٹیوں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا اوران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ الیکشن کمیشن نے سوامی ساکشی کی زبردست سرزنش کی اور کہا کہ ابھی تو ان کو متنبہ کرکے چھوڑا جا رہا ہے لیکن اگر انھوں نے آگے بھی اس قسم کی حرکت کی تو سپریم کورٹ کے فیصلے اور آئین کے ذریعے دیے گئے تمام اختیارات کا استعمال کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
یہ ایک وارننگ ہے نہ صرف ساکشی مہاراج کے لیے بلکہ ان تمام عناصر کے لیے جو مذہب، ذات برادری اور زبان اور رنگ و نسل کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں یا کسی خاص جماعت کے حق میں ووٹوں کو منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ تمام پارٹیوں میں ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی میں بھی، کانگریس میں بھی، سماجوادی میں بھی اور بی ایس پی میں بھی۔ لہٰذا ایسے تمام لوگوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔ اگر انھوں نے کوئی غلط حرکت کی تو الیکشن کمیشن ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ الیکشن کمیشن کی کارروائی کسی سیاسی جماعت کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ وہ فلاں جماعت کا مخالف ہے اس لیے اس نے اس کے امیدوار یا کارکن کے خلاف کارروائی کی۔ بلکہ وہ کاموں اور بیانوں کی بنیاد پر کارروائی کرتا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ساکشی مہاراج کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ اگر ان کا رشتہ کسی اور سیاسی جماعت سے ہوتا اور انھوں نے مذکورہ بیان دیا ہوتا تب بھی ان کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ جب مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہو جاتا ہے تو الیکشن کمیشن پر بھی بہت سی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں اور سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں اور کارکنوں پر بھی عائد ہو جاتی ہیں۔ اتر پردیش تو ایک ایسی ریاست ہے جہاں مذہب کے علاوہ ذات برادری کے نام پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔ ایک مخصوص پارٹی کا جنم ہی ذات برادری کی بنیاد پر ہوا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد کے ادوار میں اس نے اپنا چہرہ تبدیل کیا اور ان برادریوں کو بھی اپنے یہاں جگہ دی اور خاصی جگہ دی جن کو برا بھلا کہتی رہی ہے۔ اسے سیاسی زبان میں سوشل انجینیرنگ کہا گیا۔ یعنی ایک ایسا سماجی تانا بانا جس میں دوسری برادریوں کے لیے بھی باعزت جگہ بنائی گئی ہو۔ لیکن اب اگر وہ جماعت بھی ذات برادری کے نام پر ووٹ مانگے گی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن اس کے خلاف بھی کارروائی کرے گا۔
سیاست ایک ایسی چیزہے جس میں اشاروں کنایوں سے بھی بہت سے کام نکالے جاتے ہیں۔ ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار نے راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے دوران سیاسی جماعتیں ایسے نعرے اختیار کریں گی اور ایسی اپیلیں کریں گی جو بظاہر اشتعال انگیز تو نہیں ہوں گی یا سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی نہیں ہوں گی لیکن بین السطور ایسا پیغام پنہاں ہوگا کہ جس کے لیے نعرہ لگایا گیا ہوگا وہ طبقہ اسے بڑی آسانی سے سمجھ لے گا۔ اس طرح مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ووٹ مانگنے پر پابندی کا فیصلہ کوئی بہت زیادہ اثر نہیں دکھا پائے گا۔ بہر حال یہ بات اپنی جگہ پر ہے۔ اس سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی۔ لیکن الیکشن کمیشن نے سوامی ساکشی مہاراج کو زبردست وارننگ دی ہے اور یہ ابھی پہلا معاملہ ہے۔ ممکن ہے کہ جب الیکشن کی گہما گہمی ہو تو بعض دوسرے لیڈران بھی اس قسم کی زبان استعمال کریں۔ اگر کوئی ایسی زبان استعمال کرے گا تو بلا شبہ اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ چاہے سوامی ساکشی مہارج ہوں یا آدتہ ناتھ، یا سادھوی نرنجن ہوں یا سادھوی پراچی، یا اسد الدین اویسی یا کوئی اور۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sakshi maharaj and his provocative statements in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply