روہت ویمولہ، بابا صاحب اور مودی جی

سہیل انجم
ہندوستان ایک کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی، کثیر لسانی اور کثیر برادری والا ملک ہے۔ یہاں صدیوں سے ذات پات کا نظام رائج رہا ہے اور اب بھی رائج ہے۔ کچھ بڑی ذات کے لوگ ہیں تو کچھ چھوٹی ذات کے۔ کچھ اعلی ذات مانے جاتے ہیں اور کچھ نیچی ذات۔ اعلی ذات کے ہندو نچلی ذات کے ہندووں کو اچھوت سمجھتے ہیں۔ ان کے ہاتھ کا چھوا پانی پیتے ہیں نہ کھانا کھاتے ہیں۔ بعض مقامات پر اب بھی یہ قبیح رواج قائم ہے کہ دلت برادری کنویں سے پانی نہیں لے سکتی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہندووں کی کتاب منو اسمرتی میں یہاں تک لکھا ہے کہ نچلی ذات کے ہندووں کو اشلوک سننے کا بھی حق نہیں ہے۔ اگر کوئی سن لے تو اس کے کان میں سیسہ پگھلا کے ڈال دیا جائے۔ ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو گئے ہیں بلکہ اس صدی کے بھی پندرہ برس گزر چکے ہیں۔ یہاں کے حکمراں بار بار یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بننے جا رہا ہے۔ ہم ایک عالمی قوت بن کر ابھر رہے ہیں۔ لیکن سماجی سطح پر جا کر حالات کا جائزہ لیا جائے تو کہنا پڑے گا کہ ہم اب بھی صدیوں پرانی قبیح روایات کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ آج بھی یہاں ذات پات کا نظام رائج ہے۔ آج بھی دلت اچھوت ہیں اور آج بھی ایسے بہت سے علاقے ہیں جہاں دلتوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔
آئین کے خالق بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر بھی ایک دلت تھے۔ انھوں نے اپنی قابلیت اور اعلی تعلیم کی بنیاد پر نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں اپنا ایک اہم مقام بنایا تھا۔ ان کی قابلیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس کمیٹی نے ہندوستان کا آئین تشکیل دیا وہ اس کے سربراہ تھے۔ لیکن چونکہ دلت تھے اس لیے انھیں بھی نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ بھی ذات پات کے شکار بنتے رہے۔ بچپن میں بھی اور بڑی عمر میں بھی۔ انھیں بارہا بے عزتی سہنی پڑی اور بالآخر انھوں نے اپنا وہ مذہب ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا جس میں وہ پیدا ہوئے تھے۔ یعنی ہندو مذہب کو چھوڑنے کا انھوں نے تہیہ کر لیا۔ ان کے سامنے دو راستے تھے ایک مذہب اسلام تھا اور دوسرا بودھ مت تھا۔ ابتدا میں انھوں نے قبول اسلام کا فیصلہ کیا لیکن بعض تاریخ دانوں کے مطابق مسلمانوں کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے مجبور ہو کر انھوں نے بودھ مت اختیار کر لیا۔ یہ 1956 کا واقعہ ہے۔ انھوں نے تن تنہا بودھ مت اختیار نہیں کیا بلکہ اپنے ہزاروں پیروکاروںکے ساتھ ہندو مذہب چھوڑا۔ اگر کوئی اسلام کا مطالعہ کرکے اسے اختیار کرتا ہے تو یہ بڑی خوشی کی بات ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا۔ لیکن ہندوستان جیسے ملک میں جہاں معمولی معمولی باتوں کو بھی غلط رنگ دے دیا جاتا ہے اور پھر مسلمانوں کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا ہو جاتا ہے، قبول اسلام کے واقعات بعض اوقات بڑے نازک ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی معروف شخصیت اسلام قبول کرتی ہے تو اس پر تو ہنگامہ ہوتا ہی ہے۔ ذرا سوچیے کہ اگر ہزاروں کی تعداد میں ہندو بیک وقت مسلمان ہو جائیں تو کیا ہوگا۔ میناکشی پورم کا واقعہ سامنے ہے جہاں سیکڑوں ہندووں نے اجتماعی طور پر قبول اسلام کیا تھا۔ لیکن اس کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف ہنگامہ برپا کر دیا گیا۔ لہٰذا یہ اچھا ہی ہوا کہ بابا صاحب نے اسلام قبول نہیں کیا ورنہ اس وقت مسلم دشمن طاقتیں اس کو دوسرا رنگ دے کر مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیتیں۔
ایک عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی بہت سے لوگ سماجی امتیازات کے شکار ہو کر اپنا مذہب بدل لیتے ہیں۔ چونکہ اس قسم کے امتیازات ہندو مذہب ہی میں ہیں اس لیے ہندو ہی اپنا مذہب بدلتے ہیں۔ اسلام میں ذات پات کی بنیاد پر یا کسی بھی بنیاد پر کسی کے ساتھ تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے کوئی مسلمان اپنا مذہب نہیں بدلتا۔ اسی لیے آر ایس ایس کی جانب سے شدھی کرن کی تحریک چلائی جاتی ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمان تو ہندو ہوتا ہی نہیں تو انھوں نے یہ شوشہ چھوڑا کہ چونکہ مسلمانوں کے آبا و اجداد ہندو ہی تھے اس لیے انھیں اپنے آبائی مذہب میں واپس آجانا چاہیے۔ اس کو انھوں نے بڑا خوبصورت نام گھر واپسی کا دیا۔ یعنی مسلمان جو اپنے مذہب سے بھٹک گئے ہیں وہ اپنے گھر واپس آجائیں۔ حالانکہ انھیں کیا معلوم کہ مسلمان بھٹکے نہیں ہیں بلکہ راہ راست پر آگئے ہیں۔ اگر ان کے آبا و اجداد مسلمان نہیں تھے تو کیا یہ ضروری ہے کہ آج کے مسلمان بھی اسی مذہب پر لوٹ جائیں۔ اسلام اسی لیے آیا ہے کہ وہ گمراہ انسانوں کو صحیح راستہ دکھائے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صراط مستقیم پا جانے کے بعد وہ پھر اسی ذلت و گمراہی میں واپس چلے جائیں جہاں سے نکلے تھے۔
اس وقت ایک بار پھر ملک میں ذات پات کے نام پر تفریق کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر روہت ویمولہ نے اسی تفریق کے خلاف انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے خود کشی کر لی۔ آج اس کی ماں اور اس کے بھائی نے بھی بالآخر اپنا آبائی مذہب یعنی ہندو مذہب ترک کر دیا اور انھوں نے بھی وہی مذہب اختیار کر لیا جو بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر نے اختیار کیا تھا۔ یعنی وہ بھی بودھ مت کے زیر سایہ چلے گئے۔ انھوں نے بابا صاحب کے 125 ویں یوم پیدائش پر منعقدہ ایک تقریب میں بودھ مت کی دیکشا لی۔ شکر ہے کہ انھوں نے مذہب اسلام اختیار نہیں کیا ورنہ مسلم دشمن طاقتیں اس کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش ضرور کرتیں۔ تبدیلی مذہب کے بعد روہت ویمولہ کے بھائی راجہ ویمولہ اور اس کی ماں نے کہا کہ ہم آج روز روز کی بے عزتی سے نجات پا گئے۔ روہت بھی ہندو نہیں تھا۔ وہ دل سے بودھ تھا اور آج ہم نے بودھ مت اختیار کرکے اس کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
بابا صاحب کے ساتھ کیا کیا ہوا تھا اور کن لوگوں نے کیا تھا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے لوگ خوب جانتے ہیں۔ لیکن آج ایک تماشہ ہو رہا ہے۔ تمام پارٹیاں ان کی وراثت کو ہتھیانے کی کوشش میں جٹ گئی ہیں۔ کانگریس بھی، بی ایس پی بھی ، سماجوادی بھی اور یہاں تک کہ بی جے پی بھی۔ بی ایس پی دلتوں کے حقوق کے نام پر قائم ہوئی تھی اور شروع میں اس میں صرف نچلی ذات کے لوگ تھے۔ بعد میں مایاوتی نے سیاسی مقاصد کے تحت اس میں بڑی ذات کے ہندووں کو بھی شامل کر لیا۔ ورنہ بی ایس پی کا نعرہ تھا ”تلک ترازو اور تلوار، ان کو مارو جوتے چار“۔ لیکن اب انھی لوگوں کو لے کر مایاوتی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پھر بھی اگر وہ بابا صاحب کا نام لے کر سیاست کرتی ہیں تو ان کو اس کا حق ہے۔ لیکن مودی جی کو کیا حق ہے کہ وہ ان کے نام پر سیاست کریں۔ ان کی پارٹی تو اعلی ذات کے ہندووں کی پارٹی ہے۔ وہ اعلی ذات اس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جو بابا صاحب کے ساتھ ناانصافیاں کرتی رہیں اور جن کے رویوں سے عاجز آکر انھوں نے ہندو مذہب چھوڑا تھا۔ مودی جی معاملات کا استحصال کرنے میں بڑے تیز ہیں اور ماہر بھی ہیں۔ وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ فلاں کا نام لینے سے انھیں اور ان کی پارٹی کو فائدہ ہوگا تو فوراً خود کو اس سے جوڑ دیتے ہیں۔ وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ان کو بھی اپنا بتانے لگتے ہیں جن کے خلاف ان کی پارٹی سرگرم رہی ہے۔ بابا صاحب کے 125 ویں یوم پیدائش پر مودی جی نے جو تقریر کی وہ موقع پرستی کی بدترین مثال ہے۔ انھوں نے خود کو بابا صاحب سے یہ کہہ کر جوڑ دیا کہ دوسروں کے گھروں میں برتن صاف کرنے والی ماں کا بیٹا اگر وزیر اعظم بنا ہے تو اس کا سہرا بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر کے سر جاتا ہے۔ لیجیے صاحب اب بابا صاحب بھی ان کے اپنے ہو گئے۔ وہ کبھی چائے والوں سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں تو کبھی برتن صاف کرنے والوں سے۔ اگر ان کے وزیر اعظم بننے کا سہرا بابا صاحب کے سر جاتا ہے تو انھوں نے ان لوگوں کے ساتھ کون سی بھلائی کا کام کیا جو بابا صاحب کی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ روہت ویمولہ کے بھائی اور اس کی ماں کو ہندو مذہب ترک کرنے سے نہیں روک سکے۔ خوبی تو تب تھی جب وہ ان کو اپنا مذہب چھوڑنے سے باز رکھتے اور روہت کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی اس کی تلافی کرتے۔ اگر ان کی حکومت نے روہت کے ساتھ انصاف کیا ہوتا تو اس کی ماں اور بھائی اپنا مذہب نہیں بدلتے۔ لیکن ان کی حکومت نے تو انصاف کرنا تو دور اس کے برعکس روہت کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ لہٰذا اگر اس کے اہل خانہ ہندو مذہب ترک کرکے دوسرا مذہب اختیار کرتے ہیں تو اس کا ذمہ دار یہاں کاذات پات کا نظام تو ہے ہی موجودہ حکومت بھی ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Rohit vemula baba sahib and modi in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply