بہو بیٹی کی جوڑی: یو پی سیاست کا نیا رنگ

سہیل انجم
اتر پردیش کی انتخابی سیاست میں ایسا غالباً پہلی بار ہو رہا ہے کہ خواتین کی ایک جوڑی مرکز نگاہ بنی ہوئی ہے۔ اس جوڑی کو الگ الگ انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔ کسی کے خیال میں یو پی سیاست کا یہ ایک نیا منظرنامہ ہے تو کسی کے خیال میں یو پی میں شروع ہونے والی یہ ہوا آگے چل کر ایک آندھی کی شکل اختیار کر ے گی۔ کوئی کہتا ہے کہ ان دونوں خواتین کی سیاسی دلچسپی صرف ایک ریاست تک محدود رہے گی تو کسی کا ماننا ہے کہ یہ آگے تک جائے گی اور دہلی کی سیاست کو بھی متاثر کرے گی۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ لیکن اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ یہ جوڑی کمال ضرور دکھائے گی اور اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ دوسری سیاسی جماعتوں میں اس جوڑی کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ اب بتا دیتے ہیں کہ اس جوڑی میں کون کون ہے۔ قارئین سمجھ گئے ہوں گے اس میں ایک ڈمپل یادو ہیں اور دوسری پرینکا گاندھی۔ ڈمپل اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی بیوی ہیں تو پرینکا گاندھی کانگریس صدر سونیا گاندھی کی بیٹی اور نائب صدر راہل گاندھی کی بہن ہیں۔
اگر سیاست میں کسی طرح کی سرگرمی کی بات کریں تو پرینکا سینئر ہیں۔ لیکن عہدے کی بات کریں تو ڈمپل کا پلڑا بھاری ہے۔ پرینکا برسوں سے انتخابی سیاست میں شامل ہیں اور بالخصوص اپنی والدہ سونیا گاندھی اور بھائی راہل گاندھی کے انتخابی حلقوں رائے بریلی اور امیٹھی میں انتخابی مہم چلاتی رہی ہیں۔ لیکن وہ نہ تو ایم پی ہیں اور نہ ہی ایم ایل اے۔ انھوں نے کبھی اس خواہش کا بھی اظہار نہیں کیا کہ وہ ایم پی یا ایم ایل اے بننا چاہتی ہیں۔ بلکہ انھوں نے سرگرم سیاست میں آنے میں بھی کوئی دلچسپی کبھی نہیں دکھائی۔ حالانکہ کانگریس کارکنوں کی جانب سے ان پر مسلسل دباؤ ہے کہ وہ سرگرم سیاست میں حصہ لیں اور ہو سکے تو کانگریس پارٹی کی کمان سنبھالیں۔ لیکن کانگریس صدر سونیا گاندھی ایک مصلحتِ خاص کے تحت ان کو سرگرم سیاست میں نہیں لا رہی ہیں۔ البتہ ان کو اس کی اجازت ہے کہ وہ رائے بریلی اور امیٹھی کے حلقوں میں انتخابی مہم چلائیں۔ اکھلیش کی بیوی ڈمپل کا جہاں تک معاملہ ہے تو وہ آٹھ سال سے سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ اس لحاظ سے بھی سرگرم سیاست کا حصہ ہیں کہ وہ قنوج سے لوک سبھا کی رکن ہیں۔ انھوں نے 2014 میں جبکہ نریندر مودی کی آندھی تھی یہ الیکشن جیتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا سخت مقابلہ کسی سے نہیں تھا۔ کیونکہ کانگریس اور دوسری پارٹیوں نے ان کے لیے راہ آسان کر دی تھی۔ اس سے قبل 2009 میں انھوں نے کانگریس کے راج ببر سے مقابلہ کیا تھا اور ہار گئی تھیں۔
اِدھر جب اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور انتخابی اتحاد کرنے کی باتیں اٹھنے لگیں تو پرینکا اور ڈمپل کا بھی چرچا شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ الٰہ آباد میں ایک پوسٹر چسپاں کیا گیا جس میں دونوں کو ایک ساتھ دکھایا گیا۔ لیکن دونوں میں اتحاد قائم ہونے سے قبل ہی سماجوادی پارٹی اندرونی اختلافات کی شکار ہو گئی۔ ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو کے مابین شیو پال یادو اور رام گوپال یادو اور امر سنگھ اور بعض دیگر سیاست دانوں کے سلسلے میں لڑائی جھگڑا ہونے لگا۔ ادھر الیکشن کا اعلان ہو گیا۔ جہاں دوسری پارٹیاں اپنے کارکنوں کو تیار کرتی نظر آئیں اور رائے دہندگان کے پاس جانے کی تیاری کرتی رہیں وہیں سماجوادی اپنے اختلافات کے بھنور میں پھنسی رہی۔ بہر حال اختلافات ختم ہوئے اور اکھلیش یادو پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر کے طور پر ابھرے۔ اس دوران بارہا ایسا محسوس ہوا کہ کانگریس اور سماجوادی پارٹی کا اتحاد نہیں ہو پائے گا۔ لیکن اندرون خانہ اس سلسلے میں کاوشیں جاری رہیں۔ اور یہ بات تو اب جگ ظاہر ہو گئی ہے کہ اس بارے میں جو دو لوگ بہت زیادہ سرگرم تھے وہ یہی پرینکا اور ڈمپل رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اکھلیش اور سونیا گاندھی نے دونوں کو اس محاذ پر لگا رکھا تھا۔ دونوں میں کئی ادوار کا تبادلہ خیال ہوا اور بالآخر اتحاد قائم ہو گیا۔ ایک وقت ایسا آیا تھا جب اتحاد خطرے میں پڑ گیا تھا۔ اس وقت بھی پرینکا اور ڈمپل کی نصف شب میں ہونے والی بات چیت نے اتحاد کی کشتی کو ساحل تک پہنچایا تھا۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آخری مرحلے میں سونیا گاندھی نے مداخلت کی۔ لیکن اتحاد کے تار و پود اکٹھا کرنے میں پرینکا اور ڈمپل کا خاصا کردار رہا ہے۔
اب جبکہ اتحاد قائم ہو گیا ہے اور انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے تو سب کی نگاہیں اس جوڑی پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ دونوں ایک ساتھ پرچار بھی کر سکتی ہیں اور ایک اسٹیج پر آبھی سکتی ہیں۔ سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ اگر اس جوڑی نے محنت کی تو اس کے بہت اچھے نتیجے برآمد ہو سکتے ہیں اور یہ کم از کم خاتون رائے دہندگان کو متاثر کرنے کی سمت میں اہم رول ادا کر سکتی ہیں۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کہیں سخت مقابلہ ہوا ہے تو وہاں فیصلہ اس امیدوار کے حق میں آیا ہے جس کی طرف خواتین جھک گئی ہیں۔ بہار اور تمل ناڈو اسمبلی کے انتخابات میں ایسا ہی ہوا تھا۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے شراب بندی کا جو قدم اٹھایا تھا اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عورتوں کی حمایت حاصل کی جائے کیونکہ بہر حال شراب نوشی سے سب سے زیادہ عورتیں ہی متاثر ہوتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے خواتین کو پنچایت اور ملازمتوں میں ریزرویشن دینے کا اعلان بھی اس طبقے کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کیا تھا جس کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اتر پردیش میں 2012 کے اسمبلی انتخابات میں عورتوں نے مردوں کے مقابلے میں پندرہ فیصد زیادہ ووٹ ڈالے تھے۔ اکھلیش اور راہل کی انتخابی حکمت عملی بنانے والوں کا خیال ہے کہ دونوں کو بہو اور بیٹی کی شکل میں پیش کیا جانا چاہیے۔ یعنی ڈمپل یادو اتر پردیش کی بہو ہیں اور پرینکا گاندھی اتر پردیش کی بیٹی ہیں۔ اگر یہ بات عورتوں کے ذہن میں بیٹھ گئی تو اس کا براہ راست فائدہ اس اتحاد کو مل سکتا ہے۔ سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ اس قسم کے نظارے بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں کہ دو خواتین ایک ساتھ اور ایک دوسرے کے شانہ بشانہ میدان میں آئیں۔ اتر پردیش میں غالباً یہ پہلی بار ہو رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جوڑی شہری اور دیہی دونوں علاقوں کی خواتین سے خود کو جوڑ سکتی ہے اور ان پر اپنے اثرات کا استعمال کر سکتی ہے۔ اکھلیش کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے ہر بڑے فیصلے میں ڈمپل شامل رہتی ہیں۔ ان کی سرگرمی کا ثبوت اس وقت بھی ملا جب اکھلیش یادو نے لکھنؤ میں اپنی پارٹی کا انتخابی منشور جاری کیا۔ ان کے برابر میں ڈمپل یادو ہی تھیں۔ اس کے بعد جب اکھلیش اپنے والد ملائم سنگھ سے ملنے ان کے پاس گئے تو ان کے ساتھ ڈمپل بھی تھیں اور وہاں انھوں نے ایک ساتھ تصویر کشی کی۔ اکھلیش کے اشتہاروں میں بھی ڈمپل دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کانگریس کی حکمت عملی تیار کرنے والے پرشانت کشور کے ساتھ جب اکھلیش کی پہلی میٹنگ ہوئی تو اس میں بھی ڈمپل شامل تھیں۔ اس کے علاوہ وہ ریاست میں خواتین سے متعلق چل رہی سکیموں میں کئی برسوں سے سرگرم ہیں۔ اس طرح خواتین تنظیموں پر بھی ان کی گرفت ہے۔ نوجوانوں میں بھی ان دونوں خواتین کا کافی کریز ہے۔ نوجوان لڑکے ہوں یا لڑکیاں وہ سب پرینکا اور ڈمپل کے نام کے دیوانے ہیں۔ پرینکا میں لوگ آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی شبیہ دیکھتے ہیں اور لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی تقریر کا انداز بھی اندرا جیسا ہے۔ ان کا خیال میں اگر پرینکا سرگرم سیاست میں آجائیں تو بہت سے سیاست دانوں کی چھٹی کر سکتی ہیں۔ پرینکا عام لوگوں سے خود کو بہت جلد جوڑ لیتی ہیں۔ وہ عوام کے اندر گھس جاتی ہیں اور ان سے بڑی اپنائیت کے ساتھ بات کرتی ہیں۔ ان کی یہ ادا لوگوں کو بہت پسند ہے۔
اترپردیش کی انتخابی سیاست میں ان دونوں خواتین کے سرگرم ہو جانے سے سب سے زیادہ پریشانی بی جے پی کو ہے۔ بی جے پی کے ایم پی ونے کٹیار نے پرینکا کے بارے میں ایک مضحکہ خیز اور ہتک آمیز بیان دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پارٹی میں اس سلسلے میں گھبراہٹ ہے۔ جب ان سے پرینکا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ بی جے پی میں ان سے بھی خوبصورت عورتیں ہیں۔ انھوں نے اسمرتی ایرانی کا نام لے کر کہا کہ وہ بھی لوگوں کی بھیڑ کھینچ لیتی ہیں۔ ان کے اس بیان پر چاروں طرف سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ پرینکا نے صرف اتنا کہا کہ اس سے بی جے پی والوں کی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسمرتی نے بھی اس بیان پر ناراضگی جتائی اور پارٹی کے دوسرے لیڈروں نے بھی۔ پارٹی نے خود کو اس بیان سے الگ کر لیا ہے۔
بہر حال اتر پردیش کا الیکشن بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سہ رخی مقابلہ ہے۔ بی جے پی، سماجوادی کانگریس اتحاد اور بی ایس پی کے مابین ٹکر ہے۔ بی ایس پی میں مایاوتی کے علاوہ کوئی ایسی خاتون نہیں ہے جو رائے دہندگان کو اکٹھا کر سکے یا ان کے ووٹ حاصل کرنے میں مددگار بن سکے۔ بی جے پی میں متعدد خواتین ہیں جو ووٹروں کو لبھا سکتی ہیں۔ لیکن اس کے پاس کوئی جوڑی نہیں ہے۔ کانگریس میں بھی کئی خواتین ہیں جن کا عوامی رابطہ اچھا ہے۔ البتہ سماجوادی پارٹی میں بھی ڈمپل کے علاوہ کوئی سرگرم خاتون نظر نہیں آتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس اور سماجودای کے اتحاد سے دونوں کو فائدہ ہوگا۔ کانگریس کو زیادہ ہوگا۔ اور پرینکا اور ڈمپل کی جوڑی اس اتحاد کو حاصل ہونے والے ووٹ میں اضافی رول ادا کرے گی یعنی اس جوڑی کے طفیل جو ووٹ حاصل ہوگا وہ بونس ہی بونس ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ جوڑی اس الیکشن میں کیا کمال دکھاتی ہے اور الیکشن کے بعدسیاست میں اس کا کیا رول ہوتا ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: priyanka dimple and up election in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar ) Urdu News

Leave a Reply