جنگ کے استعفیٰ سے دہلی میں عارضی جنگ بندی

سہیل انجم
دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کے مابین اختیارات کی رسہ کشی سے دہلی کی سیاست میں جو گرمی تھی وہ جنگ کے اچانک استعفے کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ کیجری وال نے ان کے ساتھ اپنے رشتے کو کھٹا میٹھا قرار دیا ہے اور نجیب جنگ کا کہنا ہے کہ زندگی ایک گول پہیہ ہے جو گھومتا رہتا ہے۔ استعفیٰ دینے کی اگلی صبح کو نجیب جنگ اور کیجری وال کی ملاقات جنگ کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جنگ نے انھیں ناشتے پر مدعو کیا تھا۔ گویا دونوں کے مابین جو کھٹا میٹھا رشتہ تھا اس میں سے کھٹاس کو جنگ نے نکال دیا۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے رشتے کی اونچ نیچ کو تو یاد رکھیں گے ہی لیکن اب ان کے درمیان اختیارات کی جنگ نہیں ہوگی۔ نجیب جنگ نے اچانک 22 دسمبر کو اپنے استعفے کا اعلان کر دیا۔ ان کے اس اعلان نے سب کو چونکا دیا۔ ان کا اسٹاف بھی چونک پڑا اور مرکزی حکومت کے اہلکار بھی۔ ان کے حامیوں نے بھی حیرت کا اظہار کیا اور مخالفین نے بھی۔ ابھی دو روز قبل انھوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے اور داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی سے ملاقات کی تھی۔ مہرشی کا کہنا ہے کہ انھیں ذرا بھی گمان نہیں تھا کہ نجیب جنگ استعفیٰ دینے والے ہیں۔ انھوں نے اس کا اشارہ بھی نہیں دیا۔ نجیب جنگ نے اپنے استعفے کے بارے میں بتایا کہ وہ اب اپنے پرانے ”پیار“ یعنی تعلیم کی طرف لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے اہل خانہ کو بھی کچھ وقت دینا چاہتے ہیں۔ کیجری وال نے بتایا کہ انھوں نے ذاتی اسباب سے استعفیٰ دیا ہے۔ جنگ کا کہنا ہے کہ وہ 65 سال کے ہو گئے ہیں اور اب اپنے پوتوں پوتیوں کو بھی وقت دینا چاہتے ہیں۔45 سال تک ملک کی خدمت کی اب اپنے اپنے بچوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ مہرشی نے بتایا کہ نجیب جنگ نے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ اس ماہ کا آخری ہفتہ جو کہ اس سال کا بھی آخری ہفتہ ہے، گوا میں گزارنا چاہتے ہیں۔ ادھر اسی درمیان یہ خبر بھی آئی ہے کہ جون میں جب ان کے عہدے کی مدت تین سال ہو گئی تھی تو مرکزی حکومت انھیں ہٹانا چاہتی تھی۔ ممکن ہے کہ ان کے استعفے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی رہی ہو۔
نجیب جنگ کا تقرر سابق یو پی اے حکومت میں ہوا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کے ساتھ ان کے رشتے بہت خوشگوار رہے۔ جب مرکز میں این ڈی اے کی حکومت بنی تو یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ انھیں ہٹا دیا جائے گا اور ان کی جگہ پر کسی آر ایس ایس نواز کو ایل جی بنایا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ وہ مرکزی حکومت کے ایجنڈے کو پورا کر رہے تھے اس لیے انھی سے کام لیا جاتا رہا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی میں تگڑی دشمنی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال ہمیشہ بی جے پی کو اپنے نشانے پر لیے رہتے ہیں۔ وہ خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو خوب نشانہ بناتے ہیں۔ دونوں میں دشمنی کیوں نہ ہو کہ مودی کی انتخابی کامیابی کے رتھ کو دہلی میں کیجری وال نے ہی روکا تھا۔ دہلی میں جب پہلا اسمبلی الیکشن ہوا تو کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی تھی۔ ایک معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی۔ عام آدمی پارٹی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری تھی۔ اس نے کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جو نہیں چلی اور گرا دی گئی۔ اس کے بعد دہلی میں گورنر راج لاگو ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد جب دوبارہ الیکشن ہوا تو عام آدمی پارٹی نے اپنا انتخابی نشان جھاڑو اس طرح چلایا کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں کا صفایا ہو گیا۔ یہاں تک کہ 70 نشستوں میں سے کانگریس کو ایک بھی نشست نہیں ملی اور بی جے پی کو محض تین سیٹیں ملیں۔ ایسے میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے مابین ٹکراو¿ فطری تھا۔ کیجری وال نے دہلی میں مودی کے خواب کو چکنا چور کر دیا تھا۔ ان حالات میں کیجری وال کے الزام کے مطابق مرکز نے نجیب جنگ کو سامنے کر دیا اور ان کے ذریعے انھیں پریشان کرنا شروع کر دیا۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ بی جے پی عام آدمی پارٹی کو حکومت کرنے دینا نہیں چاہتی۔ اسی لیے اس کے سامنے روڑے اٹکائے جاتے رہے۔ کیجری وال کے الزام کے مطابق نجیب جنگ مرکز کی ”غلامی“ کر رہے تھے۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ جنگ ملک کے نائب صدر بننا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ بقول ان کے مرکزی حکومت کی ”غلامی“ کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لاکھ کوشش کر لیں بی جے پی حکومت ان کو نائب صدر نہیں بنائے گی۔
دہلی ایک مکمل ریاست نہیں ہے۔ یہاں بیشتر اختیارات لیفٹننٹ گورنر کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں ڈی ڈی اے کا محکمہ ہے۔ ان کے ہاتھوں میں پولیس ہے۔ ان کے ہاتھوں میں ایم سی ڈی ہے اور دوسرے بہت سے اختیارات ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں میں زیادہ اختیارات نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کیجری وال حکومت اس انداز میں کام نہیں کر پا رہی جس انداز میں اس کو کرنا چاہیے۔ کیجری وال کا مطالبہ ہے کہ پولیس کو دہلی حکومت کے ہاتھوں میں دے دینا چاہیے۔ وہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ مطالبہ ایک عرصے سے کیا جاتا رہا ہے۔ یہ مطالبہ بی جے پی بھی اس وقت زور شور کے ساتھ کرتی رہی ہے جب وہ اپوزیشن میں تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ برسراقتدار آئی تو دہلی کو مکمل ریاست کاد رجہ دے دیا جائے گا۔ لیکن مرکز میں آئے اسے ڈھائی سال سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن اس نے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ بلکہ اس کے برعکس کیجری وال کے مطالبے پر طرح طرح کی تاویلیں کی جانے لگی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر دہلی میں بی جے پی کی حکومت ہوتی تو اب تک اسے مکمل ریاست کا درجہ دے دیا گیا ہوتا۔ مکمل ریاست کا درجہ نہ ملنے کی وجہ سے نجیب جنگ کے ہاتھوں میں زیادہ اختیارات رہے جن کا وہ استعمال بھی کرتے رہے۔ انھوں نے دہلی حکومت کی بہت سی تقرریوں کو کالعدم کر دیا۔ یہاں تک کہ دہلی میں جب چکن گنیا کی وبا پھیلی اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا فن لینڈ کے دورے پر گئے تو نجیب جنگ نے انھیں فوراً واپس آنے کا حکم دیا اور انھیں اپنا دورہ مختصر کرکے واپس آجانا پڑا۔ اختیارات کی یہ لڑائی عدالت تک پہنچی۔ عدالت نے کہا کہ دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کے ہاتھوں میں زیادہ اختیارات ہیں اور وہ ان کا استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ ایک منتخب حکومت کے ہاتھوں میں بھی کچھ تو اختیارات ہونے چاہئیں۔ اس ریمارک کو وزیر اعلیٰ کے حق میں تصور کیا گیا اور یہ بات کہی گئی کہ دہلی کی حکومت کو مزید اختیارات ملنے چاہئیں۔ یہ بات بھی بہت سے مبصرین کہتے رہے ہیں کہ وزیر اعلی کیجری وال نے عمداً مرکزی حکومت کے ساتھ لڑائی مول لی ہے۔ تاکہ وہ اپنی حکومت کی ناکامیوں کو اس کے سر ڈال کر کنارہ کشی اختیار کر سکیں۔ جب بھی دہلی میں لا اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے یا جرائم میں اضافہ ہوتا ہے تو کیجری وال فوراً دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی ذمہ داری سے بچ جاتے ہیں۔ جب دہلی میں شیلا دیکشت کی حکومت تھی تو پانچ سال واجپئی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت رہی۔ لیکن شیلا نے اس حکومت سے ٹکراو¿ مول لیے بغیر کام کیا تھا اور خوب کیا تھا۔ اگر کیجری وال بھی ٹکراو¿ سے بچتے ہوئے اور مرکزی حکومت کے ساتھ مصالحت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کام کریں تو وہ بھی اچھا کام کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی فطرت میں احتجاج موجود ہے۔ خود کیجری وال کی فطرت میں بھی احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے عناصر ہیں۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر وہ مرکز کے ساتھ دوستانہ رشتہ قائم بھی کرنا چاہیں تو شائد ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ بی جے پی کو ان کے ہاتھوں جس شکست کا زخم ملا ہے وہ ابھی تک بھرا نہیں ہے اور اس وقت تک نہیں بھرے گا جب تک کہ نئی حکومت نہیں آجاتی۔ بہر حال نجیب جنگ کا دور ختم ہو گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ مرکز کس کو نیا ایل جی مقرر کرتی ہے۔ کئی نام موضوع گفتگو ہیں۔ کانگریس نے دھمکی دی ہے کہ اگر آر ایس ایس کے کسی آدمی کو یا آر ایس ایس نواز کو ایل جی بنایا گیا تو وہ سڑکوں پر اترے گی۔ نجیب جنگ کا دور ختم ہو گیا اور اسی کے ساتھ اختیارات کی رسہ کشی کے معاملے میں بھی عارضی جنگ بندی ہو گئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئے ایل جی اور دہلی حکومت کے مابین کیسے رشتے بنتے ہیں۔ بہر کیف جنگ کا دور دہلی کی سیاست میں بعض اسباب کی بنا پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Political situation after najeeb jungs exit as lieutenant governor in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply