انداز تو وزیر اعظم والا نہیں

سہیل انجم
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک پر بحث ہوئی۔ متعدد ارکان نے تقریریں کیں۔ حزب اختلاف کے بھی اور حزب اقتدار کے بھی۔ انسانی وسائل کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی نے بھی اور بی ایس پی کی لیڈر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے بھی۔ اسمرتی نے مایاوتی کے ساتھ ساتھ اپنے تمام مخالفین کو زیر کرنے کی کوشش کی جس کے دوران انھوں نے متعدد غلط بیانیاں کیں اور کئی حوالے دیے۔ غلط بیانیوں اور غیر ضروری حوالوں کی وجہ سے ان پر چوطرفہ حملہ ہو رہا ہے۔ ممبران میں خوب نوک جھونک بھی ہوئی۔ الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ بھی چلا۔حزب اقتدار کے لوگ اگر حملہ کرنے میں تند و تیز ہیں تو حزب اختلاف کے لوگ بھی ہیں۔ کبھی اِن کا پلہ بھاری ہو جاتا ہے تو کبھی اُن کا۔ لیکن شکست قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔
اسی تسلسل میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے بھی تقریر کی۔ حالانکہ جب پہلے روز بحث ہوئی اور اس میں راہل نے حصہ نہیں لیا تو کئی طرف سے آوازیں آنے لگیں کہ راہل نہیں بولے۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ ایک روز قبل انھوں نے بیان دے دیا تھا کہ بی جے پی والے ان کو بولنے دینا نہیں چاہتے۔ اس پر بی جے پی نے کہا کہ کوئی نہیں روکے گا وہ بولیں جتنا جی چاہے بولیں۔ لہٰذا راہل گاندھی نے ایوان میں ایک طویل تقریر کی اور ان تمام ایشوز کو اٹھایا جو اس وقت ملک میں چھائے ہوئے ہیں۔ روہت ویمولہ کا ایشو، جے این یو کا ایشو، دیش بھکتی اور دیش دروہ کا ایشو۔ منریگا کا ایشو، کالے دھن کا ایشو۔ سرکار کی فلاحی اسکیموں کے نفاذ کا ایشو۔ پی ایف کا پیسہ نکالنے پر حکومت کے ذریعے لگائے جانے والے ٹیکس کا ایشو۔ دوسرے ایشوز بھی۔ انھوں نے ان تمام معاملات پر بی جے پی لیڈروں اور خاص طور پر وزیر اعظم نریند رمودی سے جواب مانگا۔ انھوں نے حکومت کی اسکیموں کے بارے میں کہا کہ یہ فیئر اینڈ لولی اسکیم ہے۔ یعنی جس طرح فیئر اینڈ لولی کا پرچار یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ اس سے کالا آدمی گورا ہو جائے گا لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اسی طرح حکومت کی اسکیمیں ہیں۔ ایک روز بعد وزیر اعظم نے تقریر کی اور ایک گھنٹے سے زیادہ کی۔ لیکن افسوس کہ انھوں نے راہل گاندھی یا اپوزیشن کے اٹھائے گئے ایک بھی ایشو کو نہیں چھوا۔ بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اپنے عہدے سے نیچے گر کر راہل گاندھی کا مذاق اڑا یا۔ ان کی تقریر کو ہمیشہ کی مانند اس بار بھی نیوز چینلوں پر خوب دکھایا گیا۔ بعض چینلوں نے تو راہل اور مودی کی تقریر کا موازنہ کر ڈالا اور یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ کون حاوی رہا۔ ظاہر ہے ایسے مقابلوں میں یہی کہا جائے گا کہ وزیر اعظم حاوی رہے۔
ہم نے بھی وزیر اعظم کی تقریر سنی۔ لیکن ہمیں کہیں سے بھی یہ نہیں لگا کہ یہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز شخص کی تقریر ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی وزیر اعظم نہیں بلکہ اپوزیشن کا لیڈر بول رہا ہے۔ ان کی تقریر سے تنگ نظری کی بو بھی آرہی تھی۔ وہ اپنی باتوں کو طنز و طعن سے سجانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھوں نے راہل گاندھی کا نام لیے بغیر ان پر ذاتی حملے تک کر ڈالے۔ انھوں نے یہ تک کہہ دیا کہ کچھ لوگوں کی عمر بڑھ جاتی ہے مگر عقل نہیں بڑھتی۔ گویا انھوں نے راہل کو ایک ایسا کم عقل شخص قرار دیا جو عمر میں تو بڑا ہو گیا ہے لیکن عقل میں نہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کی سمجھ میں باتیں جلد نہیں آتیں آتے آتے آتی ہیں۔ اس میں بھی راہل کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کی باتوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کو راہل کی باتیں کافی چبھی ہیں۔ لیکن انھوں نے دلائل سے بات کرنے کے بجائے طنز و تشنیع سے کام چلانے کی کوشش کی۔ اس وقت جے این یو، قوم پرستی اور دوسرے موضوعات ملک پر چھائے ہوئے ہیں لیکن ہمیشہ کی مانند اس بار بھی انھوں نے ان سلگتے ہوئے مسائل کا ذکر تک نہیں کیا۔ انھوں نے اسمرتی ایرانی کی اشتعال انگیز تقریر پر کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے روہت ویمولہ کی خود کشی پر کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے سنگھ پریوار کی جانب سے نام نہاد دیش بھکتی کی آڑ میں مخالفین کو نشانہ بنانے کے واقعات پر کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے کالے دھن کو لانے کے سوال پر خاموشی اختیار کی۔ انھوں نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی بجٹ تجاویز میں ای پی ایف کا پیسہ نکالنے پر لگائے جانے والے ٹیکس پر لب نہیں ہلائے۔ ہاں اپنی تقریر کو پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سومنا تھ چٹرجی کی تقریروں کے اقتباسات کے حوالے سے دم دار بنانے کی کوشش کی۔ لیکن انھوں نے جن حوالوں سے اپوزیشن کو زیر کرنے کی کوشش کی وہ حوالے سب ان کی پارٹی کے اوپر پڑ گئے۔ انھوں نے پارلیمنٹ کے نہ چلنے پر کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے اندرا گاندھی کے بیان کا حوالہ دیا۔ لیکن اس حوالے کی روشنی میں بی جے پی کے اس رویے کو پرکھنے کی کوشش نہیں کی جو حزب اختلاف کی حیثیت سے اس نے اپنا رکھا تھا۔ انھوں نے اپوزیشن سے یہ تو چاہا کہ وہ پارلیمنٹ چلانے کی اجازت دے لیکن اس کا جائزہ نہیں لیا کہ خود ان کی پارٹی بھی تو یہی سب کرتی رہی ہے۔ یو پی اے حکومت کے دوآخری اجلاس تو بی جے پی کے ہنگامے کی نذر ہو گئے تھے۔ ان میں ایک دن بھی کام نہیں ہوا تھا۔ اس حکومت میں کم از کم کچھ تو پارلیمنٹ چلتی ہی ہے۔ لیکن بی جے پی نے پورے دو اجلاسوں کا اپنے ہنگاموں سے صفایا کر دیا تھا۔
بہتر ہوتا کہ نریند رمودی نہرو، اندرا، راجیو کی تقریروں کا حوالہ دینے کے بجائے راہل گاندھی کے اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دیتے۔ وہ یہ بتاتے کہ وہ کالا دھن ابھی تک کیوں نہیں آیا جس کو لانے کے وعدے کے گھوڑے پر سوار ہوکر آپ وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچے ہیں۔ وہ پندرہ پندرہ لاکھ روپے ہر شہری کے کھاتے میں کیوں نہیں جمع ہوئے جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔ خود ساختہ دیش بھکتی کے نام پر ملک میں ایک خاص نظریہ کو تھوپنے کی کوشش کے بارے میں آپ کچھ تو وضاحت کرتے۔ جے این یو کے طلبہ کو جس طرح غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا اس پر کچھ تو بولتے۔ لیکن نہیں، وہ کیوں ان ایشوز پر بولیں گے۔ ان کا ان سے کوئی تعلق تھوڑے ہی ہے۔ وہ تو وزیر اعظم ہیں۔ یہ سب تو چھوٹے چھوٹے معاملات ہیں۔ ان پر بولنے کے لیے راج ناتھ سنگھ ہیں نا۔ ارون جیٹلی ہیں نا۔ مختار عباس نقوی ہیں نا۔ اسمرتی ایرانی ہیں نا۔ خواہ دروغ بیانی سے ہی کیوں نہ کام لیا جائے۔ اور پھر ان لوگوں کی دروغ بیانی پر کسی کو اعتراض کیوں ہو۔ یہ تو سنگھ پریوار کا ایک اچوک ہتھیار ہے۔ وہ لوگ تو اس فن میں ماہر ہیں۔ یوں بھی مودی جی ان باتوں پر چپ ہی رہتے ہیں جن کی آگ میں پورا ملک جل رہا ہو۔ وہ تو من کی بات کرتے ہیں۔ اب ان کے من میں یہ ساری باتیں نہ آئیں تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ قصور تو ان کے من کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سلگتے ہوئے مسائل کو چھوڑ کر غیر ضروری امور پر اپنی چرب زبانی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کی تقریر کے جواب میں ان کی تقریر ایسی ہی تھی جیسی کہ کوئی جلی بھنی عورت اپنی ہمسائی کو طعنے مار رہی ہو۔ ان سے اچھی تو جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی وہ تقریر تھی جو اس نے جیل سے رہائی کے بعد جے این یو میں کی۔ کاش وزیر اعظم بھی ایشوز پر بات کرتے اور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دیتے کہ تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pm modis speech in lok sabha in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply