پیلٹ گن: ہیرو یا ویلن؟

سہیل انجم
حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی آٹھ جولائی کو سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھڑکے عوامی احتجاج کو تین ہفتے ہو گئے ہیں۔ اس دوران سرینگر کے بیشتر علاقے کرفیو میں رہے اور عوامی زندگی سخت دشواریوں سے گزری۔ دشواریاں اب بھی کم نہیں ہوئی ہیں۔ گزشتہ دنوں کرفیو میں نرمی کے بعد پھر تشدد بھڑک اٹھا اور پھر سیکورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا۔ نوجوانوں کو جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ فوج پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کشمیر کے حالات رفتہ رفتہ فلسطین کے حالات جیسے بنتے جا رہے ہیں۔ وہاں فلسطینی نوجوان ظلم و زیادتی کے خلاف اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کرتے ہیں اور اسرائیلی فوجی فلسطینی باشندوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ کشمیر میں احتجاجی نوجوان ہندوستانی سیکورٹی فورسز پر سنگ باری کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز ان پر کبھی اشک آور گیس چھوڑتی ہیں، کبھی لاٹھی چارج کرتی ہیں اور کبھی بندوقوں کا دہانہ کھول دیتی ہیں۔ فلسطینی باشندوں کا مقابلہ جن افواج سے ہے وہ دشمن ملک کی ہیں اور کشمیری باشندوں کا تصادم جن افواج سے ہوتا ہے کشمیری عوام ان کو اپنا نہیں مانتے۔ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیری باشندے ہندوستان کے اپنے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ فوج کا جو رویہ ہے اس کے پیش نظر ایسا نہیں لگتا کہ وہ بھی کشمیری باشندوں کو اپنے لوگ مانتی ہو۔ فوج کی جانب سے اس کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ طاقت کا استعمال کرنا نہیں چاہتے لیکن کیا کریں مجبوری میں کرتے ہیں۔ اگر ہمارے اوپر حملہ نہ ہو تو ہم گولی بندوق کا سہارا نہ لیں۔ ایک اخبار میں وہاں تعینات ایک ہیڈ کانسٹبل کا انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ہم بدرجہ مجبوری طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہاں کے نوجوان ہم لوگوں پر پتھراؤ کرتے ہیں اور ہم کو گالیاں بھی دیتے ہیں اور بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ ہم لوگوں کو اکسانے کے لیے وہ غلیظ گالیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ بہر حال جو بھی ہو حالات اچھے نہیں ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کشمیر واقعی ایک روز فلسطین بن جائے۔
برہان وانی کو حزب المجاہدین کا پوسٹر بوائے کہا جاتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے سوشل میڈیا کے توسط سے نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کو اپنا ہمنوا بنایا تھا۔ اس نے متعدد فوجی جوانوں کو ہلاک کیا تھا اور حکومت نے اس کے اوپر دس لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا۔ لیکن جو خبریں چھن چھن کر آتی رہیں ان سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ برہان وانی نوجوان نسل میں کافی مقبول تھا۔ غالباً وہاں کے نوجوانوں کو اس میں اپنا مستقبل نظر آتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کی ہلاکت کی خبر آئی تو نوجوانوں میں زبردست اشتعال پیدا ہو گیا۔ انھوں نے سیکورٹی فورسز پر سنگ باری شروع کر دی اور پھر دیکھتے دیکھتے حالات اتنے ابتر ہو گئے کہ سیکورٹی فورسز پیلٹ گنوں کا استعمال کرنے لگیں۔ پیلٹ گنوں کے کئی درجے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ جن گنوں سے زیادہ چوٹ آتی ہے ان کا زیادہ استعمال کیا گیا۔ ان گنوں کے بارے میں سیکورٹی جوانوں کو ہدایت ہے کہ وہ گھٹنے کے نیچے ماریں۔ لیکن ان گنوں سے زخمی ہونے والوں میں ایسے زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کے چہروں پر چوٹیں آئی ہیں اور آنکھیں متاثر ہوئی ہیں۔ پیلٹ گنوں سے تین سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں نصف سے زائد کی آنکھیں زخمی ہوئی ہیں اور ان میں سے بھی نصف کی تعداد ایسی ہے جو اپنی بینائی کھو چکے ہیں یا کھونے والے ہیں۔
اس احتجاجی لہر میں سب سے زیادہ موضوع گفتگو اگر کوئی بنا ہے تو یہ پیلٹ گنیں ہی ہیں۔ ان پر لوگوں کے بیانات بھی آئے اور پارلیمنٹ میں اس کا معاملہ بھی گونجا۔ جموں و کشمیر کے حالات پر بحث کے دوران غلام نبی آزاد نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ کشمیر میں دہشت گردوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے کیا وہی سلوک عوام کے ساتھ بھی کیا جانا چاہیے۔ دہشت گردوں کو پیلٹ گنیں ماری جاتی ہیں کیا وہی گنیں بچوں، عورتوں اور ضعیفوں کو بھی ماری جائیں۔ انھوں نے دل شکستگی کے ساتھ سوال کیا کہ آخر دہشت گردوں اور سویلین میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔ غلام نبی آزاد نے ایک اور سوال کیا جو کہ تمام انصاف پسندوں کے دل کا سوال ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ کشمیر میں ہی ان گنوں کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے۔ ابھی ہریانہ میں جو فسادیوں نے زبردست فساد کیا اور ہزاروں کروڑ روپے کی املاک تباہ کر دیں تو ان پر ان گنوں کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔
پیلٹ گنوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ موت اور زخم کے درمیان ایک دیوار ہیں۔ یعنی جس کو یہ گن ماری جاتی ہے وہ مرتا تو نہیں لیکن اس قدر زخمی ہو جاتا ہے کہ زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف سیاستد انوں نے ہی ان بندوقوں کے استعمال پر اظہار تشویش کیا۔ قانونی ماہرین اور دانشوروں نے بھی اس پر اپنی فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔ سرینگر ہائی کورٹ نے بھی ان بندوقوں کے استعمال پر روک لگانے کی ہدایت دی۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی کہا کہ پیلٹ گنوں کا کم سے کم استعمال ہونا چاہیے۔ وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بہت تاخیر سے ایک بیان میں کہا کہ پیلٹ گنیں ہلاکت خیز ہتھیاروں سے کہیں زیادہ اثر دکھا رہی ہیں۔ لیکن ان کا استعمال ہو رہا ہے اور دھڑلے سے ہو رہا ہے۔ کرفیو کھلنے کے بعد جب پتھراؤ ہوا تو پھر انہی بندوقوں کا استعمال کیا گیا۔ سی آر پی ایف کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ نوجوان زخمی ہو رہے ہیں لیکن ہم کیا کریں ان گنوں کا استعمال ہوتا رہے گا۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ یہ سب سے کم ہلاکت خیز ہتھیار ہے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر اس کا استعمال نہیں ہوگا تو پھر براہ راست بندوقو ںکا استعمال ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے پیلٹ گنیں سیکورٹی فورسز کو بہت محبوب ہیں۔ وہ انھیں بہت پسند کرتی ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں اس سے لوگ مرتے تو نہیں البتہ اس طرح زخمی ہو جاتے ہیں کہ وہ پھر احتجاج میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔
بہر حال پیلٹ گنوں کا استعمال ایک طرف اور کشمیر کے معاملے میں سیاست دانوں اور میڈیا کا رویہ دوسری طرف۔ جہاں اپوزیشن کی جانب سے ان بندوقوں کے استعمال پر اعتراض کیا جا رہا ہے وہیں حکمراں محاذ کے سیاست داں اس پر خاموش ہیں۔ غالباً ان کے نزدیک یہ کوئی موضوع نہیں ہے یا اگر ہے تو قابل بحث نہیں ہے یا پھر ممکن ہے کہ وہ بھی چاہتے ہوں کہ احتجاجیوں پر ان بندوقوں کا استعمال ہوتا رہے۔ جہاں تک میڈیا کا سوال ہے تو وہ مسلمانوں کے دوسرے معاملوں کی مانند اس معاملے میں بھی یکطرفہ رپورٹنگ کر رہا ہے۔ نیوز چینلوں کی رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ کشمیر کے تمام نوجوان دہشت گرد ہو گئے ہیں۔ شاید انہی رپورٹوں سے متاثر ہو کر حکومت نے یہ بیان دیا کہ کشمیر میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ٹکراؤ ہے۔ اس بیان سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ گویا جو لوگ بھی احتجاج میں شامل ہیں وہ سب دہشت گرد ہیں۔ جہاں تک اس احتجاج کا معاملہ ہے تو اس کا آغاز برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہوا۔ گویا جو لوگ اس میں شامل ہیں وہ برہان وانی کو یا تو دہشت گرد نہیں مانتے یا پھر اس کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں بڑی تشویش ناک ہیں۔ اگر اسے دہشت گرد نہیں مانا جا رہا ہے تو بھی غلط ہے اور اگر ہیرو مانا جا رہا ہے تو بھی غلط ہے۔ بہر حال وہ ایک دہشت گرد تھا اور اس کی ہلاکت پر یوں احتجاج شروع ہونا افسوسناک ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان نے اس آگ میں گھی ڈالنے کی کوشش کی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ اس نے برہان وانی کو شہید قرار دے کر گویا ہندوستان کو چڑانے اور کشمیریو ںکو اکسانے کی کوشش کی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے یوم سیاہ بھی منایا اور ہندوستان پر الزام عاید کیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کی پامالی کر رہا ہے۔ حقوق کی پامالی کا الزام تو ہندوستان کے بھی بہت سے لوگ لگاتے ہیں۔ ادھر پاکستان نے ایک بار پھر اس مسئلے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کی جو بہر حال مناسب نہیں۔ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے مابین ایک تنازعہ ہے اور ان دونوں کو ہی بات چیت کے ذریعے اسے حل کرنا ہے۔ ہندوستان کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ اس میں کسی تیسرے فریق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بہر حال حالات اب بھی معمول پر نہیں آرہے ہیں۔ یہ معاملہ جتنا طول کھینچے گا اتنا ہی خطرناک ہوتا جائے گا۔ حکومت ہند کو چاہیے کہ جب وہ کشمیری عوام کو اپنا کہتی ہے تو ان کے ساتھ مذاکرات بھی کرے اور اس آگ پر جلد از جلد قابو پانے کی کوشش کرے ورنہ حالات کہیں اور دھماکہ خیز نہ ہو جائیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pellet guns hero or villian in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply