پاکستان نے توہین انسانیت کی حد کر دی

سہیل انجم

پاکستان کی جیل میں بند ایک ہندوستانی شہری کل بھوشن جادھو کی والدہ اور اہلیہ سے اسلام آباد میں ان کی ملاقات کے موقع پاکستان نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اس سے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ یہاں ہندوستان میں اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ممبران نے پاکستان کے رویے کی مذمت کی اور اسے انسانیت کو شرمسار کرنے والا قرار دیا۔ جادھو کو مارچ 2016 میں ایران سے پکڑا گیا تھا۔ ان پر جاسوسی اور دہشت گردی کا الزام عاید کیا گیا۔ انھیں ہندوستانی خفیہ ایجنسی RAW کا ایجنٹ بتایا گیا۔ ان کے خلاف وہاں کی ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور عدالت نے ان کو موت کی سزا سنا دی۔ جادھو ہندوستانی بحریہ کے ایک سابق افسر ہیں۔ انھوں نے اپنی ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور ایران سے اپنی تجارت شروع کی تھی۔ ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھیں ایران سے گرفتار کیا گیا۔ جبکہ پاکستان کا دعوی ہے کہ انھیں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے بعد سے لے کر اب تک ہندوستان نے ڈیڑھ درجن مرتبہ پاکستان سے یہ درخواست کی کہ ہندوستانی سفارت خانہ کے افسروں کو ان سے ملنے دیا جائے تاکہ وہ انھیں قانونی مدد فرامہ کر سکیں۔ اسے قونصلر رسائی کہا جاتا ہے۔ ویانہ کنونشن کے مطابق کسی بھی ملک میں اگر کسی دوسرے ملک کا شہری پکڑا جاتا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ چلتا ہے تو اس ملک کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ قیدی سے ملاقات کرے اور اسے قانونی مدد فراہم کرے۔ لیکن پاکستان نے ہندوستان کی ہر درخواست مسترد کر دی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ فوجی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزائے موت سنا دی۔ جبکہ اگر ان پر کوئی الزام تھا بھی تو سول عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے تھا نہ کہ فوجی عدالت میں۔ بہر حال سزائے موت سنائے جانے کے بعد ہندوستان نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا اور اس سے درخواست کی کہ کل بھوشن چونکہ بے قصور ہیں انھیںپھنسایا گیا ہے، لہٰذا انھیں ہندوستان واپس کیا جائے۔ پاکستان نے ہندوستانی موقف کی مخالفت کی۔ لیکن عالمی عدالت نے پاکستان کو ہدایت دی کہ وہ اس وقت تک جادھو کو پھانسی نہ دے جب تک کہ عالمی عدالت انصاف کا حتمی فیصلہ نہیں آجاتا۔
اسی درمیان ہندوستان نے پاکستان سے کہا کہ وہ کل بھوشن کی والدہ اور ان کی اہلیہ کو ان سے ملنے کی اجازت دے۔ وہ ان سے مل کر ان کی خیر و عافیت جاننا چاہتی ہیں۔ پہلے تو پاکستان نے اس پر خاموشی اختیار کی۔ مگر بعد میں کہا کہ وہ صرف ان کی والدہ کو ملنے کی اجازت دے گا۔ لیکن ہندوستان کے اصرار پر اس نے دونوں کو ملنے کی اجازت دے دی۔ دونوں کو ویزہ جاری کیا گیا اور 25 دسمبر کو جو کہ کرسمس کا دن ہوتا ہے او رجو پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کا بھی یوم پیدائش ہے، ملاقات کا وقت دیا۔ کل بھوشن کی والدہ اور اہلیہ اس دن صبح کے وقت پاکستان کے لیے روانہ ہوئیں۔ چونکہ دونوں ملکوں میں براہ راست پروازیوں کا سلسلہ بند ہے اس لیے ان کو پہلے ہندوستانی طیارے سے دبئی جانا پڑا اور اس کے بعد وہ وہاں کے ایک طیارے سے اسلام آباد گئیں۔ انھیں اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے وہاں کے دفتر خارجہ لے جایا گیا۔ وہیں کل بھوشن سے ان کی ملاقات ہونے والی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ملاقات ایک کنٹیٹر میں کرائی گئی۔ اس کو ایک کمرے کی شکل دی گئی تھی۔ کمرے کے درمیان میں ایک شیشے کی دیوار حائل کی گئی۔ وہاں دونوں طرف انٹرکام نصب کیے گئے۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے۔ ملاقات کی ریکارڈنگ کے لیے کئی مزید کیمرے نصب کیے گئے۔
ملاقات کے کمرے میں جانے سے قبل ان کی والدہ اور اہلیہ کے کپڑے تبدیل کرائے گئے۔ ان کی والدہ ہمیشہ ساڑی باندھتی ہیں مگر انھیں شلوار قمیض پہننے کو دی گئی۔ ان کی چوڑیاں،بندی اور منگل سوتر اتروائے گئے۔ منگل سوتر ہندو مذہب میں ایک عورت کے سہاگ کی نشانی ہوتی ہے۔ جب کوئی ہندو عورت شادی کرتی ہے تو وہ اپنے گلے میں ایک مالا ڈالتی ہے جسے منگل سوتر کہتے ہیں۔ یہ منگل سوتر ہمیشہ اس کے گلے میں رہتا ہے۔ وہ اس کے شوہر کی موت کے بعد ہی اترتا ہے۔ لیکن پاکستانی اہلکاروں نے منگل سوتر بھی اتروا دیے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے جوتے بھی اتروائے گئے۔ ملاقات کے دوران جب جادھو نے اپنی والدہ کو اس حالت میں دیکھا تو انھیں کچھ شبہ ہوا اور انھوں نے یہ سمجھا کہ شاید ان کے والد اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ لہٰذا انھوں نے سب سے پہلے اپنے والد کی خیریت پوچھی۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ وہ بخیر ہیں۔ ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کو بیوہ کی شکل میں پیش کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ملاقات بقول پاکستان انسانیت اور خیرسگالی کی بنیاد پر کرائی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملاقات کے دوران انسانیت اور خیرسگالی کی فقدان تھا۔ انھوںنے الزام لگایا کہ پاکستان نے اس ملاقات کو ایک پروپیگنڈہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
بہر حال ملاقات کے بعد جب دونوں ساس بہو باہر آئیں تو ساس کے جوتے تو دے دیے گئے لیکن بہو کے جوتے واپس نہیں کیے گئے۔ ان کو پہننے کے لیے ایک چپل دی گئی۔ جب وہ لوگ ہندوستان کی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کے ساتھ باہر آئے تو سامنے کچھ فاصلے پر وہاں کا میڈیا موجود تھا۔ اس نے ان دونوں کے ساتھ انتہائی نازیبا سلوک کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے پوچھا کہ ایک قاتل بیٹے سے ملنے کے بعد کیسا لگ رہا ہے۔ کل بھوشن کی اہلیہ سے کہا گیا کہ تمھارے شوہر نے سیکڑوں پاکستانیوں کی جانیں لی ہیں تمھیں کیسا لگ رہا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی گاڑی کو وہاں لانے میں بھی کافی تاخیر ہوئی۔ اس کا مقصد شاید یہی تھا کہ اس دوران صحافیوں کو ان سے بد تمیزی کرنے کا موقع مل جائے۔ یہاں تک کہ جب گاڑی آنے میں کافی تاخیر ہو رہی تھی تو وہ تینوں یعنی کل بھوشن کی والدہ، اہلیہ اور جے پی سنگھ دوبارہ لابی میں چلے گئے۔
سشما سوراج نے بتایا کہ ملاقات سے قبل سفارتی سطحوں پر معاملات طے پا گئے تھے اور یہ ملاقات کس طرح ہوگی اس پر اتفاق ہو گیا تھا۔ لیکن پاکستان نے ان تمام باتوں کی خلاف ورزی کی۔ انھیں میں یہ بھی تھا کہ میڈیا وہاں نہیں ہوگا۔ لیکن میڈیا کو وہاں لایا گیا۔ انھوں نے ان کی بیوی کے جوتے واپس نہ کیے جانے پر کہا کہ شکر ہے کہ پاکستان نے صرف یہ کہا کہ ان کے جوتے میں کوئی مشکوک چیز ہے، ممکن ہے کہ وہ کیمرہ یا ریکارڈر ہو۔ سشما نے کہا کہ شکر ہے کہ انھوں نے یہ نہیں کہا کہ جوتے میں بم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں خواتین انتہائی سیکورٹی جانچ سے گزرتے ہوئے پاکستان پہنچی تھیں۔ پاکستان کے ایئرپورٹ پر بھی ان کی جانچ ہوئی تھی۔ ان کے جوتے میں کوئی مشکوک چیز کیسے ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ جوتوں کو فورنسک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ہندوستان کو شبہ ہے کہ وہ جوتوں کے ساتھ کوئی شرارت کر سکتا ہے اور یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس میں فلاں چیز تھی۔
بہر حال یہ معاملہ انتہائی حساس ہے۔ اس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ عالمی عدالت انصاف میں اس پر کارروائی زیر التوا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو بہت ہی احتیاط سے کام کرنا چاہیے تھا۔ اسے اس معاملے میں انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور 22 ماہ بعد کل بھوشن کی والدہ اور اہلیہ سے ہونے والی ملاقات کے وقت کم از کم درمیان میں شیشے کی دیوار حائل نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ اتنی انسانیت کا مظاہرہ تو کر ہی سکتا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان جو باتیں طے ہو گئی تھیں اسے ان کی پاسداری کرنی چاہیے تھی۔ لیکن اس نے قائد اعظم کے یوم پیدائش پر ایسی غیر انسانی حرکت کرکے خود کو پوری دنیا میں بدنام کر دیا۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے توہین انسانیت کی حد کر دی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistans discourteous behaviour in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply