الیکشن کی بہار، سیکولر ووٹوں کے انتشار کے آثار

سہیل انجم

اس وقت انتخابات کی گہما گہمی عروج پر پہنچنے والی ہے۔ حکمراں محاذ این ڈی اے اور اپوزیشن یو پی اے سے وابستہ تمام پارٹیاں میدان میں آکر ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی کر رہی ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے انتخابی مہم کی کمان وزیر اعظم نریند رمودی نے اور کانگریس کی جانب سے اس کے صدر راہل گاندھی نے سنبھال رکھی ہے۔ جبکہ دوسری علاقائی جماعتیں بھی اپنے اپنے محاذ پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ پہلے مرحلے میں 11 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس مرحلے میں کل بیس ریاستوں کے 91 پارلیمانی حلقوں میں پولنگ ہوگی۔ خیال رہے کہ سات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جن حلقوں میں ووٹ پڑیں گے ان میں آندھرا کے 25، اروناچل اور میگھالیہ کے دو دو، میزورم ناگالینڈ سکم انڈمان نکوبار اور لکش دیپ میں ایک ایک اور تیلنگانہ میں سات اور اتراکھنڈ میں پانچ حلقے بھی شامل ہیں۔اترپردیش، بہارو اور مغربی بنگال میں تمام ساتوں مرحلوں میں ووٹ پڑیں گے۔ اسی مرحلے میں مغربی یو پی کے آٹھ حلقوں، مغربی بنگال میں دو اور بہار میں چار حلقوں میں ووٹ پڑیں گے۔ جموں او ربارہ مولہ حلقوں میں بھی اسی مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔

حکمرا ںاین ڈی اے کو امید ہے کہ ایک بار پھر وہ برسراقتدار آئے گی۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے اور بالخصوص وزیر اعظم مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کی جانب سے حکومت کی کامیابیوں اور حصولیابیوں کو پیش کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ایک ناکام حکومت بتایا جا رہا ہے اور وزیر اعظم مودی پر وعدہ خلافی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے مختلف اعداد و شمار کی روشنی میں یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پانچ برسوں میں بے روزگاری بڑھی ہے۔ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ملکی معیشت ڈاواں ڈول ہوئی ہے اور نوجوانوں کی بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ ا سکی جانب سے کرپشن کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ لیکن حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے شروع کی جانے والی ایسی متعدد اسکیموں پر روشنی ڈالی جاتی ہے جو اس کے مطابق غریبوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے شروع کی گئی ہیں اور جن سے عوام کو کافی فائدہ پہنچا ہے۔ اس طرح دونوں جانب سے اپنے اپنے ترکش کے تیر آزمائے جا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کس کا تیر نشانے پر بیٹھتا ہے اور کس کا وار خالی جاتا ہے۔

ایک طرف جہاں بی جے پی چھوٹی چھوٹی اور علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرنے میں کامیاب ہوئی ہے وہیں دوسری طرف اپوزیشن مہا گٹھ بندھن بنانے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اترپردیش میں جس کے نتائج سب سے زیادہ اثر انداز ہوں گے، اپوزیشن بکھرا ہوا ہے۔ صرف تین جماعتوں ایس پی بی ایس پی اور آر ایل ڈی کا ایک محاذ بنا ہے۔ کانگریس بیشتر سیٹوں پر لڑ رہی ہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے پر الزمات کے تیر بھی چلا رہے ہیں۔ اسی طرح مغربی بنگال میں حکومت مخالف پارٹی ترنمول کانگریس، کانگریس اور بایاں محاذ سب بکھرے ہوئے ہیں۔ ممتا اور راہل ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ ادھر ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس اور بائیں بازو میں انتخابی مفاہمت ہو جائے گی۔ لیکن اب جبکہ راہل گاندھی نے کیرالہ کے ویاناڈ سے بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے تو کمیونسٹ پارٹی اس کے خلاف ہو گئی ہے۔ اس نے اس پر رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

در اصل راہل کو اس بار اپنے گڑھ امیٹھی میں شاید کچھ خطرہ محسوس ہو رہا ہے اسی لیے انھوں نے جنوب کی جانب کوچ کر دیا ہے۔ بہار میں بڑی مشکل سے کانگریس اور آر جے ڈی میں اتحاد ہوا ہے۔ وہاں مہا گٹھ بندھن بن توگیا ہے لیکن کیا نتیجہ نکلے گا کہا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ مہاگٹھ بندھن کے باوجود کئی نشستوں پر آپس میں ہی لڑائی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر بیگو سرائے سے کنہیا کمار لڑ رہے ہیں اور وہیں سے ایک پرانے مسلم ایم پی تنویر حسین بھی کھڑے ہو گئے ہیں۔ جبکہ بی جے پی سے گری راج سنگھ میدان میں ہیں۔ مہا گٹھ بندھن نے کنہیا کو اپنے اتحاد میں شامل نہیں کیا ہے۔ وہ کمیونسٹ پارٹی سے میدان میں ہیں۔ اسی طرح کشن گنج میں اسد الدین اویسی کی پارٹی مجلس اتحا دالمسلمین نے اختر الایمان کو کھڑا کر دیا ہے۔ وہ پہلے جے ڈی یو میں تھے اور اس سے بھی پہلے آر جے ڈی میں تھے۔ ان کے علاوہ کانگریس سے ڈاکٹر محمد جاوید اور جے ڈی یو سے محمد اشرف میدان میں ہیں۔ چونکہ یہاں جے ڈی یو لڑ رہی ہے اس لیے یہاں سے بی جے پی کا کوئی امیدوار نہیں ہے۔ لیکن مجلس کے میدان میں آنے سے مقابلہ سہ رخی ہو گیا ہے۔ اس کا نقصان سیکولر ووٹوں کو ہوگا اور وہ کانگریس اور مجلس میں تقسیم ہو جائیں گے۔ جے ڈی یو کو اتنے ووٹ مل جائیں گے کہ اس کا امیدوار جیت جائے

۔ یہاں 70 فیصد مسلمان ہیں۔ گویا یہ مکمل طور پر مسلم سیٹ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسد الدین اویسی نے اس کو تاک رکھا ہے۔ حالانکہ ان کا یہ قدم سیکولر ووٹوں کے لیے نقصاندہ ہے۔ ان کو تو حیدرآباد تک محدود رہنا چاہیے۔ ان کا وہاں سے باہر نکلنا سیکولر حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔ اس سے قبل انھوں نے یو پی میں بھی اپنے امیدوار اتارے تھے۔ شکر ہے کہ اس بار وہاں نہیں گئے۔ لیکن وہ مہاراشٹر میں بھی لڑ رہے ہیں۔ اس سے وہاں بھی سیکولر ووٹ منتشر ہو جائیں گے۔ اختر الایمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر مجلس اتحاد المسلمین کے مسلمانوں کے لیے کاموں کو دیکھنا ہو تو حیدرآباد جائیے وہاں اس نے بہت کام کیا ہے۔

ارے بھائی اگر ایسی بات ہے تو آپ بھی حیدرآباد جائیے وہیں سے لڑیے۔ بہار میں لڑ کر کیوں سیکولر ووٹوں کو منتشر کر رہے ہیں۔ اسی طرح ملک میں اور بھی کئی ایسے حلقے ہیں جہاں مسلمان فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔ وہاں بھی تمام پارٹیاں مسلمان امیدوار اتار دیتی ہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ بکھر جاتا ہے اور اس کا فائدہ دوسرے اٹھا لیتے ہیں۔ اس الیکشن میں سیکولر ووٹوں کے اتحاد کی بہت ضرورت ہے۔ اگر وہ منتشر ہو گئے تو اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔ بہر حال یہ تو ہر الیکشن میں ہوتا ہے۔ اس میں بھی ہو رہا ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ہم ہندوستانی ووٹروں کے بالغ نظر ہونے کا جتنا بھی ڈھنڈورا پیٹیں حقیقت یہ ہے کہ وہ اب بھی یعنی آادی کے 70 سال بعد بھی پختہ سوچ کے مالک نہیں بن سکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس الیکشن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Outsiders may split secular votes in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.