ایک نادر موقع گنوا دیا گیا

سہیل انجم

جب حکومت ہند نے جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی درخواست پر 17 مئی کو رمضان کے مقدس مہینے میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تو امید تھی کہ اس کا مثبت جواب دیا جائے گا اور ریاست میں امن کی بحالی میں مدد ملے گی۔ لیکن حکومت کی فراخ دلانہ پیشکش بیکار چلی گئی اور ایک بار پھر آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 17 برسوں کے دوران یہ پہلا موقع تھا جب سیز فائر کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے نئی دہلی میں ملاقات کرکے ان سے اس کی درخواست کی تھی۔ انھیں یہ امید تھی کہ وادی میں سرگرم جنگجو تنظیمیں سویلین کی خیر خواہی میں اپنی کارروائیاں بند کر دیں گی اور امن کے قیام کو ایک موقع دیں گی۔

جب حکومت کی جانب سے سیز فائر کا اعلان کیا گیا تو اس کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا تھا۔ موجودہ وزیر اعلی کے علاوہ سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے بھی خیر مقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ جنگجووں کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔ لیکن جنگجووں نے اس کو حکومت کی ڈراما قرار دیا اور اپنی کارروائیوں کو جاری رکھا۔ جس کے نتیجے میں ماہ رمضان میں کنٹرول لائن پر 18 دہشت گرد اور ان کی کارروائیوں میں تین پولیس جوان ہلاک ہوئے۔ 17سیکورٹی جوانوں سمیت 50سے زائد افراد زخمی ہوئے اور دہشت گردوں کی جانب سے متعدد گرینیڈ حملے کیے گئے۔ یہ ایک ماہ کا وقفہ ختم ہونے ہی والا تھا کہ ایک فوجی جوان اورنگ زیب کو جو کہ عید کی چھٹی منانے اپنے گھر جا رہا تھا اغوا کیا گیا اور پھر اسے ہلاک کر دیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ سری نگر کے ایک سینئر صحافی اور ریاست میں قیام امن کے لیے ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں شریک اور تین اخباروں کے مالک و مدیر شجاعت بخاری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ کارروائی عید سے دو روز قبل اس وقت کی گئی جب افظار سے عین پہلے وہ اپنے دفتر سے نکل کر جا رہے تھے۔ انھیں اس سے قبل دو بار اغوا کیا گیا تھا۔ لیکن دونوں بار وہ بچ کر نکل آئے تھے۔ ان کی زندگی ہمیشہ خطروں کی میں رہی۔ انھیں دو محافظ ملے ہوئے تھے۔ حملے میں وہ دونوں بھی مارے گئے۔ شجاعت بخاری کا قتل ایک امن کی آواز کا قتل ہے۔ وہ ایک حق گو صحافی تھے۔ وہ ہر قسم کی زیادتی کے خلاف تھے خواہ وہ کسی بھی جانب سے ہو رہی ہو۔ ابھی تک ان کے قتل کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ البتہ اس معاملے میں چار افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

جب حکومت کی جانب سے فائر بندی کا اعلان کیا گیا تو نہ تو عسکریت پسندوں کی جانب سے کوئی مثبت رد عمل ظاہر کیا گیا تھا اور نہ ہی علاحدگی پسندو ںکی جانب سے۔ البتہ مین اسٹریم کے سیاست دانوں نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ اگر ا س کا مثبت انداز میں جواب دیا جاتا تو وادی میں صورت حال کو بہتر بنانے میں مدد ملتی اور بے قصوروں کی ہلاکت روکی جا سکتی تھی۔ فائر بندی کے اعلان کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سری نگر کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے دہشت گردوں کی صفوں میں شامل نوجوانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے امن و عزت کی زندگی گزاریں اور ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں تعاون دیں۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار وہ ایسی اپیل کر چکے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وادی میں سرگرم جنگجو تنظیموں کو امن سے کوئی مطلب نہیں۔ انھیں اس سے بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ ان کی کارروائیوں سے سویلین کو تکلیف ہوتی ہے یا نہیں۔
علاحدگی پسند رہنماو¿ں کا رویہ بھی ناقابل فہم ہے۔ انھیں چاہیے تھا کہ وہ اس پہل کا خیر مقدم کرتے اور وادی میں ایک معاون ماحول بنانے میں حکومت کے ساتھ تعاون کرتے۔ یہ شکایت بجا ہے کہ اس مسئلے کو بندوق سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ خود وزیر اعظم بھی کہہ چکے ہیں کہ اسے نہ گالی سے حل کیا جا سکتا ہے نہ گولی سے۔ اس لیے علاحدگی پسند رہنماو¿ں کو چاہیے کہ وہ ایک بار حکومت کا امتحان لیں۔ وہ دیکھیں کہ حکومت اس مسئلے کو کس طرح حل کرتی ہے۔ یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ اسے طاقت کے بل پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسے بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے اس کے لیے ایک مذاکرات کار بھی مقرر کر دیا ہے جو الگ الگ حلقوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ سب سے بات کریں گے۔ یعنی علاحدگی پسندوں سے بھی۔ لیکن علاحدگی پسندوں کی جانب سے اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ امید کی جا رہی تھی کہ اگر حالات بہتر رہے تو فائر بندی کی مدت میں اضافہ کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا تو حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں سے مذاکرات کی راہ نکلتی۔ ان کو چاہیے کہ وہ بات چیت کی میز پر آئیں اور وہاں اپنے مطالبات رکھیں۔

یہ بات پوری دنیا جانتی ہے اور بار بار دوہرائی جا چکی ہے کہ تشدد سے اور بندوق سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ تمام قسم کے مسائل خواہ وہ کتنے ہی سنگین اور پیچیدہ کیوں نہ ہوں بات چیت سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت بڑے بڑے عالمی مسئلے بات چیت سے حل ہو چکے ہیں۔ تازہ معاملہ امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین دھمکی آمیز بیانوں کا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا کہ جب لگ رہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ ہونے ہی والی ہے۔ دونوں جانب سے جنگی جنون کی باتیں کی جا رہی تھیں۔ لیکن کیا ہوا۔ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگاپور میں ملاقات کر لی اور اس طرح دنیا پر چھائے عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے۔ اس سے پہلے جنوبی اور شمالی کوریا کے صدور بھی آپس میں مل چکے ہیں۔ مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کی ماضی میں بھی متعدد مثالیں مل جائیں گی۔ لہٰذا کشمیری رہنماو¿ں کو بھی چاہیے کہ وہ بات چیت کی میز پر آئیں اور مسئلے کو حل کرکے وادی کو ایک بار پھر زمین کی جنت بنانے کی کوشش کریں۔

وادی میں بہت خون بہہ چکا ہے۔ دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے بجائے لہو کی موجیں ہلکوریں لے رہی ہیں۔ قبروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ کسی کی زندگی کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب تک زندہ رہے گا۔ یا کب کوئی گولی سنسناتے ہوئے آئے گی اور اس کا خاتمہ کر دے گی۔ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیمی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ آبادیاں بری طرح برباد ہو رہی ہیں۔ تاریخی عمارتیں نذر آتش ہو کر اپنا وجود کھو رہی ہیں۔ ریاست کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی سیاحت متاثر ہے۔ آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ لوگ ہوش کے ناخن لیتے اور انسانیت کی فلاح و بہبود کی خاطر اور انسانی زندگی کی بقا کی خاطر تشدد کا راستہ ترک کر کے امن کے راستے پر چلتے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: One more opportunity lost by militants in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply