”ہاؤڈی مودی“ کے جلوے

سہیل انجم

اس وقت ہندوستانی میڈیا میں اگر کوئی موضوع سرخیوں میں چھایا ہوا ہے تو وہ ”ہاوڈی مودی“ ہے۔ کوئی بھی اخبار اٹھائیے اس کی خبروں سے بھرا ہوا ملے گا۔ کوئی بھی نیوز چینل کھولیے یہی پروگرام آرہا ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ اپنا اسٹائیل ہے کہ وہ جب کسی دوسرے ملک کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں آباد ہندوستانی نژاد شہریوں سے بھی خطاب کرتے ہیں۔ اس کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو خود نریندر مودی سرخیوں میں چھائے رہتے ہیں اور دوسرے اس ملک میں بھی کچھ دنوں تک ہندوستان کا چرچا ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہندوستانی میڈیا میں ایک عرصے تک اس پر گفتگو ہوتی ہے۔ دونوں ملکوں کے باہمی رشتوں پر بات ہوتی ہے۔ دونوں ملکوں کے باہمی رشتوں میں نیا پہلو جڑ جاتا ہے۔ اُس ملک کی حکومت بھی اس پروگرام کو بڑی دلچسپی سے دیکھنے لگتی ہے اور پھر اس کی سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ نریندر مودی اپنے ملک کے لوگوں میں بہت مقبول ہیں۔ اس کے بعد وہ ملک مودی سے اور پھر ہندوستان سے دوستی کی پینگیں بڑھانے لگتا ہے اور دونوں ملکوں میں معاہدے ہونے لگتے ہیں اور اس طرح دونوں پہلے کے مقابلے میں ایک دوسرے کے کہیں زیادہ قریب آجاتے ہیں۔ گویا مودی کے ذریعے ہندوستانی نژاد شہریوں سے خطاب کرنا ہندوستان کے حق میں جاتا ہے اور اس سے ہندوستان کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

لہٰذا جب یہ اعلان ہوا کہ وزیر اعظم مودی ستمبر میں نیویارک جائیں گے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے تو فوراً امریکی شہر ہوسٹن ٹیکساس میں بھی ان کا پروگرام رکھ دیا گیا۔ لیکن کسی کو یہ بات نہیں معلوم تھی کہ یہ پروگرام یوں اچانک بہت اہمیت اختیار کر جائے گا۔ اس کے اہمیت اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ پروگرام کے منتظمین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی دعوت دے دی کہ وہ بھی ہاوڈی مودی پروگرام میں شرکت کریں۔ حسن اتفاق کہ انھوں نے یہ دعوت منظور کر لی۔ اور خاص بات یہ ہے کہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی امریکی صدر کسی دوسرے ملک کے صدر یا وزیر اعظم کے پروگرام میں شریک ہو رہا ہو اور اس کے ساتھ وہاں خطاب بھی کرنے والا ہو۔ (حالانکہ یہ پروگرام 22 ستمبر کو ہے اور آپ یہ مضمون اس کے بعد بھی پڑھیں گے۔ اس کے باوجود ہم نے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اس پر لکھنے کا فیصلہ کیا۔ پروگرام کے بعد بھی اس مضمون کی اہمیت ختم نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس کی روشنی میں آپ ہندوستان اور امریکہ کے باہمی رشتوں کے نئی بلندیوں پر پہنچنے کا منظر دیکھ سکیں گے۔)

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس پروگرام کا نام ”ہاوڈی مودی“ کیوں رکھا گیا ہے۔ در اصل ہاوڈی ایک انگریزی جملہ How Do You Do کا مخفف ہے۔ انگریزی داں طبقہ میں جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو مذکورہ جملہ ادا کرتے ہیں جس کا مفہوم ہوا کہ آپ کیسے ہیں یا آپ کیا کر رہے ہیں۔ امریکہ میں ایک عام چلن یہ ہے کہ وہ لفظوں کو چھوٹا کر دیتے ہیں یا ان کا مخفف بنا دیتے ہیں۔ اس لیے ہوسٹن کے لوگوں نے ”ہاو ڈو یو ڈو“ کو مخفف کرکے ”ہاوڈی“ کر دیا ہے۔ تو ہاوڈی مودی کا مطلب ہوا کہ مودی جی آپ کیسے ہیں یا کیا کر رہے ہیں۔

بہر حال صدر امریکہ ٹرمپ بھی اس پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ہندوستان کا فائدہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو یہ دکھانے میں کامیاب رہے گا کہ دونوں ملک کس قدر ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں اور ان میں کیسی دوستی ہو گئی ہے کہ امریکی صدر ہندوستانی وزیر اعظم کے پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد پاکستان اس موضوع کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ امریکہ اس کی حمایت کر دے۔ حالانکہ ابھی تک امریکہ نے اس کے موقف کی حمایت کے بجائے ہندوستان کے موقف کی ہی حمایت کی ہے۔ لہٰذا ہندوستان کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ امریکہ اسی طرح اس کے موقف کی حمایت کرتا رہے۔ امریکی صدر نے اگر چہ دو تین بار یہ بات کہی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بات بھی دوہرائی ہے کہ یہ دونوں ملکوں کا باہمی مسئلہ ہے اور دونوں کو بات چیت سے ہی اسے حل کرنا ہے۔ ایسے ماحول میں نریندر مودی کے کسی پروگرام میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت پورے منظر کو تبدیل کر دینے کے لیے کافی ہے۔

ہاوڈی مودی پروگرام کیسے ترتیب دیا گیا؟ اس کی بھی ایک کہانی ہے۔ انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق جون ماہ میں ہوسٹن شہر کے بعض ہندوستانی نژاد امریکی پروفیشنلز کو یہ بات معلوم ہوئی کہ وزیر اعظم مودی ستمبر میں نیویارک جائیں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ ان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ مودی شکاگو اور بوسٹن کے علاوہ ہوسٹن بھی آئیں گے۔ ہوسٹن میں ہندوستانی نژاد شہریوں کی خاصی تعداد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وہاں ڈیڑھ لاکھ ہندوستانی آباد ہیں۔ وہ شہر توانائی کا بھی ایک بڑا مرکز ہے۔ ہندوستان کو توانائی کی ضرورت ہے۔ ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد ہندوستان کو کچھ دشواریوں کا سامنا ہے۔ لہٰذا ہوسٹن کے مودی کے دورے سے ہندوستان کی توانائی کی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ لہٰذا وہاں مقیم ایک ہندوستانی شخص جوگل ملانی نے اس موقع کے لیے ”ٹیکساس انڈیا فورم“ بنایا۔ وہ اس کے چیئرمین ہیں۔ اس کی اصل کمیٹی میں چھ ممبران ہیں اور اس کے علاوہ اس کی20 ورکنگ کمیٹیاں بنائی گئیں۔ اس کے علاوہ رضاکاروں کی ایک فوج تیار کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کو ایسے پروگرام کے انعقاد کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کسی دوسری تنظیم کے ساتھ مل کر اس پروگرام کا انعقاد کریں۔ لہٰذا سب کچھ خود ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس تنظیم کی جانب سے مودی کو 25 خطوط ارسال کیے گئے اور جب منظوری مل گئی تو پھر چندہ کیا جانے لگا۔ رپورٹ کے مطابق 2.4 ملین ڈالر کا چندہ ہوا ہے۔ توقع ہے کہ اس پروگرام میں پچاس ہزار افراد شرکت کریں گے۔

اس طرح اس پروگرام کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی موجودہ صورت حال اور کشمیر پر امریکہ اور یوروپ میں ایک قسم کی بے چینی کی وجہ سے اس پروگرام کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں کشمیر کے مسئلے پر بات نہیں ہوگی وہاں بات کرنے کے لیے اور بھی موضوعات ہیں، اس کے باوجود اندیشہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان وہاں پوری قوت کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ انھوں نے کہا بھی ہے کہ عدیم المثال طاقت کے ساتھ یہ مسئلہ رکھا جائے گا۔ لہٰذا اگر وہاں یہ مسئلہ اٹھتا ہے اور پاکستان کے بجائے کچھ دوسرے ممالک بھی اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو وزیر اعظم مودی کے پاس یہ موقع ہوگا کہ وہ اس کا بھرپور جواب دے سکیں۔

بہر حال اس سے قطع نظر توقع ہے کہ یہ پروگرام ہندوستان اور امریکہ کے باہمی رشتوں کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Nrg stadium in houston all set to host howdy modi mega event in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.