یہ کیسا این آر سی ہے، کوئی بھی خوش نہیں؟

سہیل انجم

جب 31 اگست 2019 کو آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر این آر سی کی حتمی فہرست جاری ہوئی تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ 19 لاکھ سے زائد شہریوں کے نام اس فہرست سے باہر ہیں۔ یعنی ان تمام کو غیر ملکی قرار دیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل جب این آر سی کی ایک نامکمل فہرست جاری ہوئی تھی تو چالیس لاکھ افراد کے نام اس سے باہر تھے۔ اب اندرون ملک رفتہ رفتہ اس ہنگامے کی گرد بیٹھنے لگی ہے۔ لیکن اندرون آسام اب بھی لوگوں میں شدید بے چینی اور اضطراب ہے۔ جن لوگوں کے نام باہر ہیں ان کو خدشہ ہے کہ انھیں گرفتار کرکے حراستی مراکز میں بھیج دیا جائے گا۔ حالانکہ حکومت نے کہا ہے کہ ان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کو باہر نہیں نکالا جائے گا۔ ان کو 120 دنوں کا وقت دیا گیا ہے۔ وہ فارنرس ٹربیونل یعنی غیر ملکیوں کے تعلق سے بنائے جانے والے ٹربیونل میں جا کر از سر نو اپنی درخواست دے سکتے ہیں اور اپنے کاغذات کی تصدیق کرا سکتے ہیں۔ اس کے بعد بھی وہ مطمئن نہ ہوں تو سپریم کورٹ تک جا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اضطراب میں کوئی کمی نہیں ہے۔ لوگوں کو اندیشہ ہے کہ اگر ٹربیونل نے ان کی دستاویزات تسلیم نہیں کیں یا سپریم کورٹ میں وہ اپنا کیس ثابت نہیں کر سکے یعنی یہ نہیں بتا سکے کہ وہ ہندوستان کے شہری ہیں تو پھر کیا ہوگا۔ اس کے علاوہ اس کام میں وقت کی بربادی الگ ہوگی۔ لوگ روزی روٹی کمائیں یا ٹربیونل اور عدالتوں کے چکر لگائیں۔

آسام میں غیر ملکیوں کا مسئلہ ایک بہت پرانا مسئلہ ہے۔ وہاں اس سے پہلے 1951 میں این آر سی جاری کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد کہا جانے لگا کہ بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی ہندوستان میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ درانداز ہیں، ان کو نکال باہر کرنا ضروری ہے۔ ان لوگوں نے ریاست کے وسائل پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کی وجہ سے مقامی تہذیب و ثقافت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو وہاں کے اصل باشندے اقلیت میں آجائیں گے اور غیر ملکیوں کی اکثریت ہو جائے گی۔ اس ایشو پر وہاں تحریکیں بھی چلتی رہی ہیں۔ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین نے تحریک چلائی۔ پھر اس نے آسام گن پریشد نامی ایک سیاسی جماعت بنائی اور برسراقتدار آگئی۔ پرفل موہنتا وزیر اعلیٰ بنائے گئے۔ بعد میں راجیو گاندھی کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا جس میں یہ طے ہوا کہ 1971 سے قبل جو لوگ آسام میں آگئے تھے ان کو یہاں کا شہری مانا جائے گا۔ جو اس کے بعد داخل ہوئے ان کو غیر ملکی مانا جائے گا۔ بی جے پی نے بھی اس مسئلے کو خوب اچھالا۔ اس طرح اس ایشو پر سیاست بھی خوب ہوتی رہی۔ بالآخر 2013 میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں این آر سی کی تیاری کا کام شروع ہوا۔ پوری ریاست اس میں لگ گئی۔ ہزاروں کروڑ روپے کا صرفہ آیا۔

پہلی لسٹ میں جن لوگوں کے نام نہیں آئے ان میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔ کئی لوگوں نے خود کشی کر لی۔ بہت سے بیمار پڑ گئے۔ بہت سے لوگ ڈپریشن کے شکار ہو گئے جن کا علاج اب بھی چل رہا ہے۔
لیکن جب حتمی فہرست آئی تو اس میں غیر ملکیوں کی تعداد کم ہو گئی جو کہ وہاں کی کل آبای کا محض چھ فیصد ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آگے چل کر یہ تعداد اور کم ہو جائے گی۔ لہٰذا یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ غیر ملکیوں کے ہنگامے کا کیا ہوا۔ لاکھوں لاکھ افراد کے داخل ہونے کے دعوے میں دم کہاں رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لاکھوں غیر ملکیوں اور بنگلہ دیشیوں کی باتیں ساری جماعتوں نے کہی۔ یو پی اے نے بھی کہی اور این ڈی اے نے بھی۔ بی جے پی صدر اور موجودہ وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ تعداد پچاس لاکھ بتائی تھی۔ انھوں نے ان لوگوں کو دیمک قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں چن چن کر نکال باہر کیا جائے گا۔ اس سے پہلے بھی یہ تعداد لاکھوں میں بتائی جا رہی تھی۔ سابق وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم ایل کے آڈوانی نے یہ تعداد 2003 میں دس لاکھ بتائی تھی۔ نومبر 2016 میں وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ دو کروڑ بنگلہ دیشی غیر قانونی طریقے سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ 1991 میں اس وقت کے آسام کے وزیر اعلی ہتیشور سائیکیا نے آسام میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کی تعداد 30 لاکھ بتائی تھی۔ بعد میں کانگریس کے مرکزی وزیر داخلہ سری پرکاش جیسوال نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ پچاس لاکھ غیر قانونی بنگلہ دیشی آسام میں ہیں۔ دیوے گوڑا کی حکومت میں وزیر داخلہ رہے اندرجیت گپتا نے یہ تعداد 42 لاکھ بتائی تھی۔

این آر سی کی حتمی فہرست بھی عجیب ہے۔ گھر کے کچھ افراد ہندوستانی ہیں تو کچھ غیر ملکی ہیں۔ بچے کا نام آگیا ہے مگر اس کے والدین کے نہیں۔ گھر کے مکھیا کا نام آگیا ہے مگر اس کی ماں کا نہیں۔ ایک بھائی کا آگیا ہے دو بھائیوں کے نہیں۔ تین بھائی فوج میں ہیں، ایک کا آگیا دو کے نہیں۔ ایک نوجوان شاہجہاں مناف 2015 سے رضاکارانہ طور پر این آر سی کا کام کر رہا ہے۔ اس نے اپنے رضاکاروں کی ایک ٹیم بنائی ہے اور غریب اور ان پڑھ لوگوں کی مدد کر رہا ہے۔ برسوں سے ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا انعام اس کو یہ ملا ہے کہ اس کے خاندان کے تیس افراد کے نام غائب ہیں۔ اس کا اور اس کے والد عبد المناف دونوں کا کہنا ہے کہ سازش کے تحت ایسا کیا گیا ہے۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ این آر سی مراکز کے کام میں شفافیت نہیں ہے۔ یہ بات درست لگتی ہے۔ اگر شفافیت ہوتی تو یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ گھر کے چند افراد کے نام آئیں اور چند کے نہ آئیں۔ جبکہ تمام اہل خانہ نے ایک ہی قسم کے کاغدات داخل کیے تھے۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ ہر شہری یہ بتائے کہ 1971 سے قبل اس کے اجداد آسام میں آئے تھے۔ اب بتائیے غریب لوگ کہاں سے کاغذات لائیں گے۔ کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات رہی ہوگی کہ ہم ایک دن غیر ملکی قرار نہ دے دیے جائیں اس لیے اپنے کاغذات سنبھال کر رکھو۔ اور پھر ان حالات میں کہ آسام کے بعض علاقوں میں ہر سال سیلاب آتا ہے۔ لوگوں کے گھر بار اجڑ جاتے ہیں۔ سیلاب کا پانی سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ ایسے میں زندگی بچانی مشکل ہوتی ہے کوئی کاغذ کہاں تک بچا پائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آسام میں بنگلہ دیشیوں یا غیر ملکیوں کے نام پر تحریکیں کیوں چلتی رہی ہیں۔ در اصل یہ سارا معاملہ سیاسی ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہت سے لوگ بنگلہ دیش میں روزی روٹی کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہندوستان میں داخل ہوئے ہوں۔ اور ان داخل ہونے والوں میں مسلمان بھی ہوں اور غیر مسلم بھی ہوں۔ لیکن صرف مسلمانوں کو ہی ہدف بنایا جاتا رہا ہے۔ یہ عجیب تماشہ ہے کہ اگر مسلمان حالات کی مار سے مجبور ہو کر ہندوستان میں داخل ہو جائے تو وہ غیر ملکی اور درانداز یا گھس پیٹھیا ہے اور غیر مسلم آجائے تو وہ رفیوجی یا پناہ گزیں ہے۔

اب ہر پارٹی، ہر تنظیم اور ہر شخص کی زبان پر یہی ہے کہ ہم این آر سی سے خوش نہیں ہیں۔ بی جے پی بھی خوش نہیں ہے۔ آسام گن پریشد بھی خوش نہیں ہے۔ آسو بھی خوش نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں این آر سی کا مقدمہ لڑنے والی تنظیم آسام پبلک ورکس بھی خوش نہیں ہے۔ سابق وزیر اعلی ترون گوگوئی بھی خوش نہیں ہیں۔ موجودہ وزیر اعلیٰ سونووال بھی خوش نہیں ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما بھی خوش نہیں ہیں۔ غرضیکہ کوئی بھی خوش نہیں ہے۔ تو پھر اس تحریک کا مقصد کیا تھا۔ کیا صرف سیاست ہی اس کا واحد مقصد تھا۔ اگر ایسا ہے تو یہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ زبردست ناانصافی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو غیر ملکی ہے اس کو نکالا جانا چاہیے۔ وہ اگر ہندوستان میں رہنا چاہتا ہے تو جائز طریقے سے رہے یعنی شہریت حاصل کرکے رہے۔ لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی غیر ملکی کو نکالنے کے چکر میں حقیقی شہریوں کو ہی نہ نکال دیا جائے یا ان کو ہی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ مثال کے طور پر پچھلی لسٹ کے اجرا کے بعد بہت سے ایسے لوگوں کو بھی گرفتار کرکے حراستی مراکز میں ڈال دیا گیا جو نسل در نسل آسام میں رہتے آئے ہیں۔ ایسے ہی مظلوم لوگوں میں ایک 80 سالہ بڑھیا بھی ہے۔ اس کو بھی ایک روز پولیس نے گرفتار کر لیا اور ایک مرکز میں لے جا کر ڈال دیا۔ اس نے اپنی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ وہ لاکھ چیختی رہی کہ اس کا وہ نام نہیں ہے جو پولیس کہہ رہی ہے بلکہ اس کا دوسرا نام ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے پکڑ کر ڈال دیا گیا۔ اس کے مطابق ہم لوگ ایک کمرے میں 40 افراد تھے۔ سب دن بھر بیٹھے روتے رہتے۔ کئی لوگ بیمار پڑ کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ اس کو بھی اندیشہ تھا کہ وہ بھی ایک روز اسی مرکز میں ختم ہو جائے گی۔ لیکن بعد میں اس کو رہا کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک شخص کا نام جب پچھلی لسٹ میں نہیں آیا تو وہ بہت پریشان رہنے لگا۔ بالآخر اس نے خود کشی کر لی۔ آسام میں ایسی کہانیاں بہت ہیں۔ گویا این آر سی لوگوں کے لیے اذیت کا سامان بن کر آیا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اب آئندہ ملک کی کسی دوسری ریاست میں ایسی کوئی تکلیف دہ مشق شروع نہیں کی جائے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No one happy with the nrc in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
Tags: , ,
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.