نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں حملہ اسلاموفوبیا کی بد ترین مثال

سہیل انجم

نیوزی لینڈ ایک ایسا ملک ہے جو کبھی کبھار ہی سرخیوں میں آتا رہا ہے اور وہ بھی اپنی کرکٹ ٹیم کی وجہ سے۔ ورنہ وہ کوئی ایسا ہنگامہ خیز ملک نہیں کہ اخبارات کی زینت بنے۔ لیکن گزشتہ دنوں وہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ پوری دنیا کے میڈیا میں اس کا نام چھا گیا۔ وہ بھی کسی اچھے کام کے لیے نہیں بلکہ ایک انتہائی وحشیانہ حرکت کے لیے۔ وہ حرکت تھی وہاں کے ایک چھوٹے سے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں پر دہشت گردانہ حملے اور ان میں پچاس مصلیوں کی ہلاکت۔ یہ حملے کسی گروہ نے نہیں کیے بلکہ ایک جنونی شخص نے تن تنہا کیا۔ اس نے نماز میں مصروف لوگوں کو خود کار رائفل سے اندھا دھند انداز میں نشانہ بنایا اور اس کو ہیلمٹ کیمرے کی مدد سے فیس بک پر لائیو بھی کیا۔

نیوزی لینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ پچاس لاکھ کی آبادی والا۔ انتہائی پر امن ملک۔ وہاں کے لوگوں کو کبھی خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی کہ ان کے ملک میں ایسا بھی کوئی واقعہ پیش آسکتا ہے۔ اسی لیے جوں ہی یہ خبر پھیلی پورا ملک سنّ ہو کر رہ گیا۔ لوگ مبہوت ہو گئے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ آخر یہ کیا ہو گیا ہے۔ ان کی جنت میں کوئی شیطان کہاں سے آگیا جس نے انتہائی وضعدار لوگوں کو اس طرح بھون کر رکھ دیا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد جب وہاں کی وزیر اعظم جیسنڈا کا چہرہ ٹی وی اسکرین پر نظر آیا تو اس کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ بہت دکھی ہیں۔ انھوں نے اسے فوری طور پر ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ انھوں نے اس موقع پر جو بیان دیا وہ انتہائی معقول اور زخموں پر مرہم پاشی جیسا تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے اگلے روز سیاہ ماتمی لباس پہنا اور سر پر دوپٹہ اوڑھ کر مسلم علاقوں میں گئیں۔ لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور مسلم خواتین سے گلے مل کر ان کے دکھ درد کو بانٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے باشندوں نے بھی اپنے بازو مسلمانوں کے لیے پھیلا دیے۔ جگہ جگہ لوگ جمع ہو گئے اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے لگے۔ النور مسجد کے پاس ایک بڑے میدان میں گلدستوں کے ڈھیر لگا دیے گئے۔ لوگ ہزاروں کی تعداد میں ایک اسٹیڈیم میں جمع ہوئے اور مسلمانوں کے غم میں خود کو شریک کیا۔ ایسے شریف النفس ہیں وہاں کے لوگ۔

لیکن ایسے لوگوں میں ایک درندہ کہاں سے آگیا۔ اس پر نیوزی لینڈ کے حکمراں طبقہ نے غور و خوض شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ ہم ہی میں سے تھا لہٰذا ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ وہ ایسا کیوں ہوا اور اس نے ایسا کیوں کیا۔ حملہ آور کے اہل خانہ بھی اس واقعہ سے بہت غم زدہ ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں سے معافی مانگی ہے جن میں اس کی معمر دادی بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ اس نے کچھ دنوں قبل یوروپ کا دورہ کیا تھا اور وہاں سے واپسی کے بعد وہ بدل گیا۔ در اصل یوروپ میں اس وقت اسلام کے خلاف جو زہر پھیلایا جا رہا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ وہ نیوزی لینڈ کا باشندہ نہیں ہے۔ بلکہ برطانوی نژاد آسٹریلیائی شہری ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے بھی اس وارادات کی مذمت کی ہے۔ لیکن آسٹریلیا میں اسلام دشمنی کے بیج بہت دنوں سے بوئے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ یوروپ میں ایک طبقہ ایسا ہے جو مسلمانوں کو دہشت گرد مانتا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلمان جہاں جاتے ہیں خون خرابہ کرتے ہیں۔ اس لیے کئی ملکوں نے اپنے یہاں مسلمانوں کے تعلق سے کئی سخت قوانین بنائے ہیں۔ اسکارف اور حجاب پر پابندی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

پوری دنیا میں جس طرح اسلام کا بول بالا ہو رہا ہے اور جس طرح بڑی تعداد میں لوگ مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں اس نے اسلام دشمن قوتوں کو بوکھلا دیا ہے۔ ان کے ذہن و دماغ میں یہ بات بیٹھ رہی ہے کہ اگر مسلمانوں کو نہیں روکا گیا اور اسلام کی توسیع پر قدغن نہیں لگائی گئی تو جس طرح قرون اولیٰ میں پورے یوروپ پر مسلمان چھا گئے تھے اسی طرح پھر چھا جائیں گے۔ یا اگر ایسا نہیں ہوگا تو کم از کم یہ تو ہوگا ہی کہ ان کی تہذیب و ثقافت ہماری تہذیب و ثقافت کو ملیا میٹ کر دے گی۔ یہ بات درست ہے کہ آج پوری دنیا میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں آتا جب سیکڑوں کی تعداد میں لوگ اسلام کے دامن میں نہ آتے ہوں۔ ایسے بھی واقعات سامنے آرہے ہیں کہ جن لوگوں کو اسلام کے خلاف مہم چلانے کی ذمہ داری دی جاتی ہے وہ جب اس کے لیے اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں یا مسلمانوں کے قریب جاتے ہیں تو وہ ان سے اس قدر متاثر ہو جاتے ہیں کہ وہ خود دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس صورت حال نے عیسائیت اور یہودیت کے علمبرداروں کو بے چین کر دیا ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر اسلام کے بڑھتے کارواں کو روکنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے نام نہاد قوم پرستی کی ہوا چلائی جا رہی ہے اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں جن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اوراس قوم کو مار بھگانا چاہیے۔ اسلام دشمن طاقتیں نوجوانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرنے کی کوشش کرتی ہیں اور انھیں یہ ذہن نشین کرانا چاہتی ہیں کہ یہ تمھارے دشمن ہیں۔

اگر ہم غور کریں تو پائیں گے کہ النور مسجد اور لِن ووڈ مسجد پر حملہ کرنے والا وحشی بھی انھی خیالات کا حامل تھا۔ اس کے دماغ میں ایسی باتیں بھر دی گئی تھیں۔ وہ ہر ایسے شخص کو اپنا ہیرو مانتا ہے جو مسلم دشمن ہے۔ اس نے سربیا کہ جنگی مجرم سلوبودون کرالجک کو اپنا ہیرو بتایا ہے جس کو ایک جنگی مجرم کی طرح عالمی عدالت انصاف میں گھسیٹا گیا اور جب اس نے دیکھا کہ اس کے خلاف فیصلہ ہو رہا ہے تو اس نے بھری عدالت میں زہر پی کر خود کشی کر لی تھی۔ اسے بوسنیا کا قصاب کہا جاتا ہے۔ اس نے بوسنیائی جنگ کے دوران ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اسی طرح وہ امریکہ کے صدر ٹرمپ کو اپنا ہیرو بتاتا ہے۔ ٹرمپ نے اگر چہ اس حملے کی مذمت کی ہے لیکن یہ بات بھی ہے کہ اقتدار میں آتے ہی انھوں نے کئی ملکوں کے مسلمانوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ وہ بھی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی امریکہ آمد کے خلاف ہیں۔ وہ میکسکو کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کروانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں سے آنے والے پناہ گزینوں کو روکا جا سکے۔ گویا یوروپ اور امریکہ میں ایک طرح کا اسلامو فوبیا پھیلایا جا رہا ہے۔ یعنی اسلام سے بلا وجہ کا خوف مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بہر حال پوری دنیا نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ خود نیوزی لینڈ کا رد عمل انتہائی قابل ستائش رہا ہے۔ حملہ آور اس وقت پولیس کی گرفت میں ہے۔ عدالت نے اسے پولیس ریمانڈ میں دے دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کو کیا سزا سنائی جاتی ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: New zealand massacre in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.