نئی حکومت ، نئے عزائم، نئی امیدیں

سہیل انجم

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں دوبارہ مرکز میں این ڈی اے کی حکومت قائم ہو گئی۔ کہنے کو تو یہ این ڈی اے کی حکومت ہے لیکن پچھلی بار کی مانند بلکہ اس سے بھی کہیں واضح طور پر یہ بی جے پی کی حکومت ہے۔ اور اگر مزید گہرائی میں جائیں تو کہنا پڑے گا کہ آر ایس ایس کی حکومت ہے۔ آر ایس ایس کا قیام ستمبر 1925 میں ناگپور کے ڈاکٹر کیشو رام بلی رام ہیڈگیوار نے کیا تھا۔ ان کا مقصد ملک میں ہندو کلچر کو، جسے وہ ہندوستانی کلچر کہتے تھے، فروغ دینا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک ایسی حکومت قائم کرنا تھا جس کی باگ ڈور ہندو رہنماو¿ں کے ہاتھوں میں ہو۔ اس کے لیے اس نے زمینی سطح پر خوب کام کیا۔ مختلف شعبہ ہائے حیات کے لیے الگ الگ تنظیمیں قائم کیں، تعلیم گاہیں بنائیں اور سماجی خدمت کے ادارے کھولے۔ انھوں نے سماج کے تمام طبقات تک پہنچنے کے لیے حکمت عملی بنائی اور اس پر عمل بھی کیا۔ ان تنظیموں اور اداروں کے توسط سے ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور اس کے سہارے لوگوں کے اندر اپنے نظریات کو فروغ دینا تھا۔ ہم ان کے نظریات سے اتفاق کریں یا نہ کریں، لیکن یہ بات سچ ہے کہ جتنی لگن، خلوص اور محنت و مشقت کے ساتھ اس تنظیم کے ورکر کام کرتے ہیں اس کی کوئی دوسری مثال
ہندوستان میں نہیں ہے۔

بالآخر اس کے نظریات میں یقین رکھنے والوں نے ایک سیاسی جماعت بی جے پی قائم کی۔ آر ایس ایس سے اس جماعت میں لوگوں کو بھیجا جانے لگا۔ بعد میں جب بی جے پی کا دائرہ بہت بڑھ گیا تو ایسے لوگ بھی اس میں شامل ہو گئے اور جن کی تعداد آج کافی ہے، جو آر ایس ایس بیک گراونڈ کے نہیں ہیں۔ اسے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ بی جے پی نے اپنے دروازے ان لوگوں کے لیے بھی کھول دیے جو آر ایس ایس کے نظریات میں یقین نہیں رکھتے۔ اس سے اس کو بڑا فائدہ پہنچا۔ یہ انتہائی دور رس فیصلہ تھا۔ اس کے ذریعے اس کی توسیع ہوئی اور پھر لوک سبھا میں اس کے ممبران کی تعداد دو سے بڑھ کر آج 303 تک پہنچ گئی۔ گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں اس کے لوک سبھا ممبران کی تعداد 282 تھی۔ اس طرح پہلے 2014 میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی اور اب اس سے بھی کہیں زیادہ اکثریت کے ساتھ دوبارہ قائم ہو گئی ہے۔ اب بی جے پی کا نشانہ 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں اپنے لوک سبھا ممبران کی تعداد 333 تک پہنچا دینے کا ہے۔ اس سے قبل 1999 میں اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں بھی این ڈی اے حکومت بن چکی تھی لیکن اس وقت بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں تھی۔ وہ مکمل طور پر ایک مخلوط حکومت تھی۔

لیکن جس طرح امت شاہ کی صدارت میں بی جے پی نے اپنا دائرہ بڑھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ بی جے پی سے لاکھ اختلافات کے باوجود یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ امت شاہ نے اپنی پارٹی کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بنانے کے لیے جس کاوش سے کام لیا اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ اس پارٹی کے ممبران کی تعداد گیارہ کروڑ ہو گئی ہے اور اگر بی جے پی کے دعوے پر یقین کیا جائے تو یہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے۔ لیکن یہ کامیابی گھر بیٹھے نہیں ملی ہے۔ اس کے پس پردہ شب و روز کی محنت ہے اور خلوص کے ساتھ کام کرنے کی دھن ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج کوئی بھی اپوزیشن جماعت ایسی نہیں ہے جس کا رابطہ عوام سے ہو اور جو عوام سے خود کو مربوط کیے ہوئے ہو۔ پہلے کانگریس عوام سے جڑی ہوئی تھی مگر اب اس کی کاہلی، پست ہمتی، تن آسانی اور عوام سے دوری نے اسے ایک علاقائی جماعت کے برابر لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ اگر کانگریس خود کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتی ہے تو اسے امت شاہ جیسا ایک صدر چاہپیے جو منظم حکمت عملی کے تحت عوام کو دوبارہ کانگریس کے قریب لا سکے یا کانگریس کو عوام کے قریب لے جا سکے۔ اگر اس نے خود کو عوام سے نہیں جوڑا تو 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں اس کی پوزیشن اور بھی ابتر ہونے والی ہے اور ممکن ہے کہ اس کا خاتمہ ہی ہو جائے۔

بہر حال نریند رمودی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت پھر قائم ہو گئی ہے۔ حلف برداری سے قبل مودی نے این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ کی اپنی حکومت کا ایک خاکہ پیش کیا اور کہا کہ ہمیں اقلیتوں کے اعتماد کو جیتنا ہوگا۔ ان کو خوف و ہراس میں رکھا گیا اور ووٹ بینک بنا دیا گیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ اقلیتوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے میںکون سی جماعت یا کس جماعت کے کارکن پیش پیش ہیں، وزیر اعظم مودی کی یہ باتیں قابل غور اور قابل ستائش ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی یہ بات ان کی پارٹی کے وہ کارکن بھی سمجھیں گے جو صبح و شام مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی بات کرتے ہیں اور جو خود مودی کی اپیلوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ جس دن انھوں نے اپنی یہ تقریر کی تھی اسی روز ایک مسلم فیملی کو بیف کے نام پر پیٹا گیا۔ اس کے بعد کئی اور واقعات پیش آئے۔ ان واقعات پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔

اگر ہم مودی اور ان کی کابینہ کی حلف برداری کے مناظر کو دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس بار حالات کچھ مختلف ہوں گے۔ اگر چہ تقریب حلف برداری میں آٹھ ہزار افراد کو مدعو کیا گیا لیکن ایک بات بہت واضح طور پر نظر آئی۔ وہ یہ کہ اس تقریب میں مذہبی رہنماو¿ں کی شرکت نہ کے برابر رہی۔ گزشتہ حلف برداری میں زعفران پوش سادھو سنتوں کی خاصی تعداد تھی لیکن اس بار ان کی تعداد معدودے چند تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم اور عیسائی مذہبی رہنما بھی نظر نہیں آئے۔ مودی نے اپنی جو کابینہ بنائی ہے وہ پچھلی کابینہ کے مقابلے میں کچھ زیادہ مختلف تو نہیں ہے لیکن کچھ ایسے وزرا کو کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی جن کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ گویا مودی نے کام پر توجہ دی اور کسی دوسری خوبی کے بجائے کام کرنے کی خوبی کو ترجیح دی ہے۔ مثال کے طور پر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور، مینکا گاندھی، انو پریا پٹیل اور وجے گوئیل وغیرہ کو کابینہ سے الگ کر دینا بہت کچھ اشارے دے رہا ہے۔

اس حکومت میں دو شخصیات کی کمی بری طرح کھلے گی۔ ایک سشما سوراج کی اور دوسری ارون جیٹلی کی۔ ارون جیٹلی کینسر میں مبتلا ہیں اور سشما سوراج بھی بیمار چل رہی ہیں۔ یہ دونوں مودی حکومت کے اہم ستون رہے ہیں۔ اگر چہ سشماسوراج کو بحیثیت وزیر خارجہ کھل کر کام کرنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن انھیں جو بھی کام دیا گیا اسے انھوں نے بخوبی نبھایا۔ پارلیمنٹ میں تقریر کرنی ہو یا عالمی فورموں پر بولنا ہو، انھوں نے اپنی خطابت سے سب کو اپنا دیوانہ بنایا۔ اسی طرح ارون جیٹلی ہر مشکل گھڑی میں حکومت کے کام آتے رہے۔ کسی بھی وزارت کے بارے میں کوئی منفی بات آتی یا حکومت کے سامنے کوئی مشکل پیش آتی تو جیٹلی ہی سامنے آتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن رہنماو¿ں کے مودی حکومت پر ہونے والے حملوں کا بھرپور انداز میں جواب دیا۔ پارلیمنٹ میں تقریر کرنی ہو یا ٹویٹر پر بیان دینا ہو، وہ اپوزیشن پر حاوی ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن اب پارلیمنٹ میں یہ دونوں قابل چہرے نظر نہیں آئیں گے۔ یقیناً یہ حکومت کے لیے فکر کی بات ہے۔ سشما نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گی۔ جیٹلی نے حلف برداری سے قبل وزیر اعظم کو ایک مکتوب لکھ کر حکومت میں شمولیت سے اپنی معذوری ظاہر کر دی تھی۔ مودی کے لیے جیٹلی کتنے اہم تھے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ مودی انھیں منانے ان کے گھر گئے۔ لیکن ان کی بیماری نے انھیں مودی کو بیرنگ واپس کرنے پر مجبور کر دیا۔

جن نئے لوگوں کو کابینہ میں جگہ دی گئی ہے ان میں ایک بہت اہم نام ایس جے شنکر کا ہے۔ وہ سابق خارجہ سکریٹری ہیں اور مودی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ وہ ایک لائق و فائق افسر رہے ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی حکومت میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سول نیوکلیائی معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت وہ امریکہ میں ہندوستان کے سفیر تھے۔ اس کے بعد مودی حکومت میں خارجہ سکریٹری بنائے گئے۔ اس دوران انھوں نے ڈوکلام میں چینی افواج کے قبضے کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورت حال کو معمول پر لانے اور چینی افواج کو واپس جانے میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ چین میں ان کے بڑے اچھے روابط ہیں۔ انھوں نے خارجہ سطح پر مودی حکومت کی بڑی مدد کی تھی۔ لہٰذا پہلے انھیں پدم شری کا اعزاز دے کر انعام دیا گیا اور اب کابینہ وزیر بنا کر ایک بڑا انعام دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ انھیں جو بھی ذمہ داری سونپی جائے گی وہ اسے بحسن و خوبی انجام دیں گے۔ دوسرا چہرہ امت شاہ کا ہے۔ انھوں نے جس طرح بی جے پی کو نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے، توقع ہے کہ وہ حکومت میں رہ کر بھی کارنامے انجام دیں گے۔ اس لیے ایس جے شنکر کو وزارت خارجہ اور امیت شاہ کو وزارت داخلہ سونپے جانے کا قوی امکان ہے۔۔

بہر حال مودی کابینہ نے حلف لے لیا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وزیر اعظم نے جن نئے ارادوں اور عزائم کا اظہار کیا ہے ان کے مطابق ہی یہ حکومت کام کرے گی اور اقلیتوں کے ساتھ انصاف کرنے کے علاوہ ملکی عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کی کوشش کرے گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس بار نوٹ بندی او رجی ایس ٹی جیسے متنازعہ فیصلے نہیں کیے جائیں گے اور ملکی معیشت کی گاڑی کو پٹری پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔ کسانوں کے مسائل حل کیے جائیں گے۔ خواتین کو ان کے حقوق ملیں گے۔ ہجومی تشدد پر پابندی لگائی جائے گی اور جو لوگ ان میں ملوث پائے جائیں گے ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مذہب، ذات پات، رنگ نسل اور عقیدہ کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جائے گا اور یہ حکومت وزیر اعظم کی اس بات کو حقیقی معنوں میں لے گی کہ جنھوں نے ہمیں ووٹ دیا وہ بھی ہمارے ہیں اور جنھوں نے نہیں دیا وہ بھی ہمارے ہیں۔ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ اور خیرسگالی تعلقات قائم کیے جائیں گے اور باہمی اختلافات کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم لگایا جائے گا اور ان کے ساتھ ہمدردانہ برتاو¿ تمام کشمیریوں کے دلوں کو بھی جیتا جائے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: New government new aims and new hopes in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.