کیا نواز شریف کا حشر بھٹو جیسا ہوگا؟

سہیل انجم
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کبھی بھی، کہیں بھی اور کسی کے ساتھ بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ وہاں کی سیاست ابتدا سے ہی جس بے یقینی کی دھند میں لپٹی رہی ہے اس سے وہ آج تک باہر نہیں آسکی ہے۔ وہاں کی سیاست کے بارے میں حتمی پیشین گوئی کرنا رسوائی کا تاج اپنے سر پر سجانے کے مترادف ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ سابق فوجی سربراہ اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف قتل سمیت کئی مقدمات چل رہے ہیں لیکن جیل جانے کا اندیشہ پاکستان مسلم لیگ نون کے سابق صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ستا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شیخ رشید نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا ہے کہ مئی کے اواخر تک وہ جیل چلے جائیں گے۔ عمران خان بھی کئی بار نواز شریف کے اڈیالہ جیل میں جانے کی پیشین گوئی کر چکے ہیں۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا خود نواز شریف کو اسی کا اندیشہ ہے۔ حالانکہ اس وقت وہ اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ اپنی بیمار اہلیہ کو دیکھنے دبئی گئے ہوے ہیں لیکن انھوں نے وعدہ کیا ہے اور ان کی بیٹی نے بھی کہ وہ جلد ہی پاکستان واپس آجائیں گے۔ لیکن پاکستان جیسے ملک میں کسی کے وعدے کو کوئی اعتبار حاصل نہیں ہے۔ اگر نواز شریف کو یہ محسوس ہوا کہ وہ اپنی سرزمین پر قدم رکھتے ہی پا بہ زنجیر کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیے جائیں گے تو وہ ہرگز نہیں لوٹیں گے۔ کون احمق ہوگا جو خود ہی اپنے دونوں ہاتھ ہتھکڑیوں کے لیے اور دونوں پاو¿ں بیڑیوں کے لیے پیش کر دے اور کہے کہ چلو جی کس جیل میں مجھے رکھنا ہے۔
نواز شیرف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے جس طرح عدلیہ سے ٹکراو¿ مول لیا ہے وہ ان کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ آجکل پاکستان کی عدلیہ بہت فارم میں ہے۔ حالانکہ یہی عدلیہ ہے جو پہلے حکمرانوں اور بالخصوص فوجی حکمرانوں کے احکام بجا لانے میں فخر محسوس کرتی رہی ہے۔ لیکن آجکل اس نے انصاف کا جھنڈا بلند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں کی سیاست خوب نشیب و فراز سے گزر رہی ہے۔ ان دنوں اس نے دہشت گردوں پر کم اور سیاست دانوں پر زیادہ کرم فرمائی کر رکھی ہے اور وہ بھی نواز شریف پر۔ پناما لیکس معاملے میں پہلے ان کے خلاف ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے انتہائی کم وقت میں جانچ مکمل کرکے نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو منی لانڈرنگ کا مجرم قرار دے دیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں مقدمہ چلا اور عدالت نے انھیں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ انھیں فوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ اس کے بعد انھیں پارٹی صدر کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا اور انھیں نے صدارت سے بھی استعفیٰ دیا۔ اب ان پر تازندگی الیکشن لڑنے پر پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کے عہدے سے ان کو ہٹائے جانے کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کو پارٹی کا صدر مقرر کیا گیا۔
در اصل اپنے اس حشر کے ذمہ دار نواز شریف خود ہیں۔ جنرل ضیاءالحق نے اپنے دور صدارت میں آئین میں ترمیم کرکے وزیر اعظم کے لیے صادق اور امین کی شق جوڑی تھی۔ نواز شریف کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اس شق کو کالعدم نہیں کروایا۔ لہٰذا جب پناما لیکس کا معاملہ سامنے آیا اور جانچ میں انھیں مجرم پایا گیا تو ان پر اسی دفعہ کا اطلاق کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ نہ تو صادق ہیں اور نہ ہی امین۔ صادق اس لیے نہیں ہیں کہ انھوں نے آف شور کمپنیاں بنائیں ان سے مالی فائدے اٹھائے اور کالے دھن کو سفید کیا۔ لیکن اس بارے میں انھوں نے ملک کو سچ نہیں بتایا۔ بلکہ جب یہ کیس چلا تو وہ ہر الزام کو مسترد کرتے رہے اور یہ کہتے رہے ہیں کہ انھوں نے دبئی کی اپنے بیٹے کی کمپنی میں جس میں وہ ایک ڈائرکٹر تھے، کوئی تنخواہ نہیں لی۔ لیکن ان کی اس بات پر کسی نے یقین نہیں کیا اور کہا گیا کہ ٹھیک ہے آپ نے تنخواہ نہیں لی لیکن آپ ڈائرکٹر کیوں بنے اور اس بارے میں آپ نے ملک کو کچھ بتایا کیوں نہیں۔ معاملات آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے بہت سے جھوٹ بے نقاب ہوتے رہے۔ اس طرح وہ صادق ہونے کی شرط پر پورے نہیں اترے۔ وہ امین یعنی امانت دار اس لیے نہیں ہیں کہ انھوں نے غلط طریقے سے پیسہ کمایا اور کالے دھن کو جو کہ ملک کی امانت تھا سفید کیا اور اپنا بینک بیلنس بڑھایا۔ اس طرح وہ مذکورہ دونوں شرطوں پر کھرے نہیں اترے اس لیے وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لائق نہیں ہیں۔ لیکن اب اور بھی دوسری بہت سی باتیں سامنے آئی ہیں جن کی وجہ سے ان پر تاحیات پابندی لگا دی گئی ہے۔
نواز شریف اس سے پہلے بھی جیل جا چکے ہیں۔ جب سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے غیر خونی انقلاب سے ان کا تختہ پلٹ دیا تھا اور انھیں جیل میں ڈال دیا تھا۔ کئی سال تک جیل میں رہنے کے بعد سعودی عرب کی حکومت کی ثالثی میں پرویز مشرف اور نواز شریف میں مصالحت ہوئی اور انھیں جیل سے نکال کر سعودی عرب میں جلا وطن کر دیا گیا۔ لیکن پھر حالات نے کروٹ لی اور نواز شریف وطن واپس آگئے اور نہ صرف واپس آگئے بلکہ جب پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ حکومت کے بعد انتخابات ہوئے تو ان میں حصہ بھی لیا اور ان کی پارٹی کو زبردست کامیابی بھی ملی اور وہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ لیکن اس سے قبل کہ وہ پانچ سال کی مدت مکمل کر پاتے پناما لیکس کا عذاب ان کو مسلط کر دیا گیا۔ اب انھیں جیل جانے کا خوف ستا رہا ہے۔ حالانکہ جیل جانے کے لیے تو پرویز مشرف کو تیار رہنا چاہیے۔ لیکن وہ جہاں بھی رہے سینہ تان کر رہے اور جو بھی کیا خواہ صحیح یا غلط اس کا بھرپور انداز میں دفاع بھی کیا۔ وہ ایک فوجی ہیں اور فوجیوں کی مانند ہی بڑے جری اور بہادر ہیں۔ انھوں نے نائن الیون کے بعد جس طرح امریکہ کے احکامات کی پابندی کی اس پر پاکستان کا ایک حلقہ خوش تھا تو دوسرا ناراض۔ خوش ہونے والے حلقے کا خیال تھا کہ انھوں نے دہشت گردی مخالف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے کر پاکستان کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔ لیکن ناراض حلقے کا کہنا تھا کہ انھوں نے پاکستان کو امریکہ کا غلام بنا دیا جس سے ملک کا بہت نقصان ہوا۔ لیکن پرویز مشرف نے اپنے تمام فیصلوں کا دفاع کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان میں نظربند رہیں یا دوسرے ملک میں آزادی کے ساتھ رہیں ہمیشہ بولتے رہے۔ اس دوران وہ نیوز چینلوں کو انٹرویو بھی دیتے رہے اور جب بھی پاکستان کے مفاد کا معاملہ آیا اس کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ کھڑے بھی رہے۔
سیاست اچھی چیز بھی ہے اور خراب بھی ہے۔ اگر ایمانداری سے کی جائے تو اس سے ملک و قوم کا بھلا ہو سکتا ہے اور تعمیر و ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو اس کے عارضی فوائد بہت ہیں لیکن مستقبل میں خطرات و خدشات بھی بہت ہیں۔ سیاست بڑی پرفریب بھی ہے۔ وہ بے ایمانی کے ہزاروں راستے کھول دیتی ہے۔ اس کے پاس ایمانداری کے راستے بہت کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر سیاست داں بے ایمانی کے کسی نہ کسی راستے میں داخل ہو ہی جاتے ہیں۔ لیکن جن کے ضمیر اور خمیر میں ایمانداری کے اجزا ہوتے ہیں وہ ان راستوں سے دور رہتے ہیں۔ نواز شریف اگر وطن واپس آنے کے بعد سیاست کے چکر میں نہ پڑتے تو آج ان کو یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔ اسی طرح پرویز مشرف بھی اونچ نیچ سے گزرنے کے باوجود اب بھی سیاسی عزائم رکھتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں کہ ہاں جب موقع ملے گا وہ ملکی سیاست میں آئیں گے اور الیکشن لڑیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک بار جو شخص حکمراں بن گیا وہ ہمیشہ اسی منصب پر رہنا چاہتا ہے۔ اسی لیے سیاست کا چولہ پہننے کے بعد اسے اتارنا آسان نہیں ہوتا، خواہ اسی چولے میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
اس وقت نواز شریف برے دنوں سے گزر رہے ہیں اور ان کے جیل جانے کا اندیشہ تو قوی ہے ہی، اس کا بھی امکان ہے کہ ان کا حشر ذوالفقار علی بھٹو جیسا نہ ہو جائے۔ کیونکہ کب کون ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن جائے اور کب کیا فیصلہ کر لے کہا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کی سیاست کے بارے میں تو جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، کچھ کہا ہی نہیں جا سکتا۔ نواز شریف جیل بھی جا سکتے ہیں اور تختہ دار پر لٹک بھی سکتے ہیں۔ان کو بھی اپنا حشر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ پیشین گوئی تو پورے یقین کے ساتھ کی جا سکتی ہے کہ آج اگر وہ تمام الزامات سے بری کر دیے جائیں تو پھر سیاست کے میدان میں کود پڑیں گے اور انتخابات میں حصہ لے کر ایک بار پھر وزیر اعظم کی کرسی پر جلوہ افروز ہونے کا خواب دیکھنے لگیں گے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: nawaz sharifs fate hangs in balance | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply