ان کا تو بائیکاٹ کر دینا چاہیے!

سہیل انجم
پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد جو طوفان برپا ہوا تھا اس کی گرد اب دھیرے دھیرے بیٹھ رہی ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اتر پردیش کے چھوڑ کر باقی چار ریاستوں میں بیٹھ گئی ہے۔ پنجاب میں امریندر سنگھ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت بن گئی ہے۔ گوا اور منی پور میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی لیکن اس کی مرکزی قیادت کی سستی، کاہلی اور ناکامی نے اس کی حکومت نہیں بننے دی۔ ان دونوں ریاستوں میں بی جے پی نے اپنی سیاسی تیزی دکھاتے ہوئے دوسری پارٹیوں کے ممبران اور آزاد ارکان کو اپنی حمایت میں لیا اور حکومت بنا لی۔ بی جے پی کے صدر امت شاہ بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ ہم چار ریاستوں میں حکومت بنائیں گے۔ یہاں تک کہ جب نتائج آگئے اور بی جے پی گوا اور منی پور میں اکثریت سے کافی دور رہی تب بھی وہ یہی کہتے رہے کہ حکومت ہم ہی بنائیں گے۔ اس طرح ان کی باتیں سچ ثابت ہوئیں اور بی جے پی برسراقتدار آگئی۔ گوا میں کانگریس کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے اور ریاستی لیڈروں نے کانگریس کی مرکزی قیادت پر حکومت سازی میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔
اتر پردیش کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ وہاں انتخابی مہم کے دوران یہی قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کا اتحاد سب سے بڑا اتحاد بن کر ابھرے گا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ بی ایس پی دوسرے اور بی جے پی تیسرے نمبر پر رہے گی۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ سینئر اور تجربہ کار صحافی اپنی پیش گوئیوں میں کہتے رہے کہ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ ملک کے ایک سینئر اور غیر جانبدار صحافی راج دیپ سردیسائی اور پرنب رائے نے بی جے پی کی کامیابی کی پیشین گوئی کی تھی جس پر کچھ جذباتی مسلمانوں نے انھیں بی جے پی کا پٹھو قرار دے دیا تھا۔ در اصل الیکشن میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام کی جو آندھی چل رہی تھی اس کو بی جے پی مخالفین اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے دیکھ پانے میں ناکام رہے۔ جبکہ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو وہ آندھی بالکل صاف دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن پھر بھی یہ امید نہیں تھی کہ بی جے پی اتنی زبردست اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ در اصل نریندر مودی نے جو آخری تین روز بنارس میں لگائے اس نے اس آندھی میں مزید شدت پیدا کر دی اور وہ لوگ جو کسی کے حق میں رائے بنانے سے معذور رہے انھوں نے بھی بی جے پی کے حق میں اپنی رائے بنا لی۔ لیکن پھر بھی جس انداز کی کامیابی اسے ملی ہے اس پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مایاوتی، کیجری وال اور کانگریس کے کئی لیڈران الیکٹرنک ووٹنگ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگا رہے ہیں۔ وہ اپنے الزام کو بی جے پی لیڈروں سبرامنیم سوامی، ایل کے آڈوانی اور جی وی ایل نرسمھا کے بیانات اور الزامات سے پختہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اب اس قسم کی باتیں بھی اٹھ رہی ہیں جس میں دم بھی ہے کہ جو ہار جاتا ہے وہ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگاتا ہے۔ ورنہ کانگریس پنجاب گوا اور منی پور میں یہی الزام کیوں نہیں لگاتی۔ صرف یو پی کے تناظر میں کیوں الزام لگایا جا رہا ہے۔ بہر حال یہ الزام اپنی جگہ پر اور نتائج اپنی جگہ پر۔ اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر۔یو پی میں بی جے پی کی کامیابی کے کئی اسباب ہیں جن میں سے ایک سبب مسلمانوں کے نام پر قائم ہونے والی سیاسی جماعتیں اور ان کی سرگرمیاں بھی ہے۔ اس تاریخی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ آزادی کے بعد جب الیکشن کا وقت آیا تھا تو مولانا آزاد جیسے رہنما کے لیے بھی ایک محفوظ حلقہ انتخاب کی تلاش کی جا رہی تھی۔ جبکہ اس وقت ملک میں فرقہ واریت کا زہر اس پیمانے پر نہیں سرایت کر پایا تھا جس پیمانے پر آج کر گیا ہے۔ اس کے باوجود یہ اندیشہ تھا کہ ہندو ان کو ووٹ نہیں دیں گے اور وہ ہار جائیں گے۔ مولانا آزاد کا الیکشن ہارنا بہت بڑی بے عزتی کی بات ہوتی۔ اس وقت کے مقابلے میں آج کے حالات کافی زہرآلود ہو گئے ہیں۔ ایک مخصوص جماعت نے ملک کی اکثریت کے مذہبی جذبات و احساسات کو بری طرح ابھار دیا ہے جس کی وجہ سے ایک طرح سے اقلیت مخالف ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ اس ماحول میں اگر کوئی کسی ایک مخصوص فرقے یا ذات اور نسل کے نام پر اور یہاں تک کہ خالص مسلمانوں کے نام پر سیاست کرتا ہے تو ناکامی اس کا مقدر ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی بھی اپنی سیاست میں ناکام ہو گئیں جو کہ یادو، مسلمان اور دلت کے نام پر سیاست کرتی رہی ہیں۔ اس الیکشن میں یادو، دلت اور کسی حد تک مسلمانوں نے بھی بی جے پی کے حق میں ووٹ پول کیا ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی سیاسی جماعت صرف اور صرف مسلمانوں کی بات کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خودکشی کے راستے پر گامزن ہے۔ یو ںبھی اس ملک کا جو سیاسی کلچر ہے اور جو سیاسی مزاج ہے اس کی روشنی میں مسلمانوں کے نام پر کی جانے والی سیاست کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ مولانا آزاد اس سیاست کے ہمیشہ مخالف رہے۔ اسی لیے انھوں نے قیام پاکستان کی بھی مخالفت کی تھی اورانھوں نے جن اندیشوں کا اظہار کیا تھا وہ آج درست ثابت ہو رہے ہیں۔
ایسے ماحول میں ڈاکٹر محمد ایوب کی پیس پارٹی اور اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین نے جس انداز کی سیاست کی اس نے آگ میں گھی کا کام کیا۔ یہ دونوں پارٹیاں صرف مسلمانوں کی بات کرتی رہی ہیں۔ انھوں نے اس طرح مسلمانوں کی آواز اٹھائی کہ اس کے رد عمل میں اکثریتی طبقے کا بہت بڑا حصہ بی جے پی کی جانب راغب ہو گیا۔ ان کے ذہنوں میں یہ خیال آیا کہ یہ لوگ تو ہندوستان کو پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کی مخالفت کی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی انتخابی مہم بری طرح ناکام ہو گئی۔ حالانکہ ڈاکٹر محمد ایوب بڑی خوش فہمی میں مبتلا تھے اور اردو کے ایک اخبار میں مہینوں تک صفحہ اول پر اشتہارات دیتے رہے۔ انھوں نے خود کو یو پی کا مستقبل کا وزیر اعلیٰ اعلان کر دیا تھا۔ ان کی سیاست بی جے پی کی مخالفت کے ارد گرد گھومتی رہی۔ ا س کے علاوہ یوگی آدتیہ ناتھ کو انھوں نے اپنا سیاسی حریف قرار دے دیا تھا۔ انھوں نے جگہ جگہ مسلمانوں کو اپنا امیدوار بنایا۔ حالانکہ انھوں نے کچھ غیر مسلموں کو بھی اپنے ساتھ ملا رکھا ہے۔ لیکن اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کی سیاست مسلمانوں کے نام پر ہوتی رہی جس کا خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پچھلے الیکشن میں پیس پارٹی کو چار سیٹیں ملی تھیں لیکن اس بار ایک بھی نہیں مل سکی۔ اس کا پوری طرح صفایا ہو گیا۔ کیا اب بھی ڈاکٹر ایوب کے دل میں یو پی کا وزیر اعلیٰ بننے کا خیال موجود ہے۔
اسی طرح اسد الدین اویسی نے بھی مسلمانوں کے نام پر اشتعال انگیزی کی۔ وہ بیانات بھی ایسے دیتے ہیں جس کے رد عمل میں کٹر ہندو مسلمانوں کے خلاف ہو جائیں۔ اس سے انکار نہیں کہ نریندر مودی بی جے پی کے لیڈر ہیں۔ لیکن وہ اب ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ جب کوئی شخص اس قسم کے اعلیٰ عہدے پر پہنچ جاتا ہے تو وہ صرف اپنی پارٹی کا نہیں رہ جاتا۔ وہ سب کا ہو جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مودی جی اپنی پارٹی کی سیاست کی مجبوریوں کی وجہ سے الیکشن میں صرف ایک پارٹی کے لیڈر بن جاتے ہیں لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پورے ملک کے لیڈر ہیں۔ ان کے بھی ہیں جنھوں نے ان کو ووٹ دیا اور ان کے بھی ہیں جنھوں نے نہیں دیا۔ وہ ہندوؤں کے بھی وزیر اعظم ہیں اور مسلمانوں کے بھی ہیں۔ لیکن ایک ٹی وی پروگرام میں اسد الدین اویسی کے مقابلے میں سمبت پاترا جیسا بی جے پی کا گھاگھ ترجمان موجود تھا اور اس سے مباحثے میں اویسی بار بار کہہ رہے تھے کہ وہ مودی کو اپنا وزیر اعظم نہیں کہہ سکتے۔ پاترا نے ان کے اس بیان کا خوب استحصال کیا اور اس بیان نے بھی ہندووں کے ایک طبقے کو مسلمانوں کے خلاف متحد ہونے میں مدد دی۔ اویسی بھی صرف مسلمانوں کی بات کرتے ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ ان کی بہت سی باتیں درست ہوتی ہیں لیکن ان کو کہنے کا انداز دوسرا ہونا چاہیے۔ اگر کسی بات کو اس انداز میں پیش کیا جائے گا کہ اس ملک میں مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ رہی ہے اور تمام ہندو مسلمانوں کے دشمن ہو گئے ہیں تو یقینی طور پر اس کا رد عمل ہوگا اور جو کچھ نہیں ہونا چاہیے وہ سب ہو جائے گا۔
ڈاکٹر ایوب اور اسد الدین اویسی نے اور اس کے ساتھ ساتھ بی ایس پی کے ذریعے تقریباً سو حلقوں سے مسلمانوں کھڑا کرنے کے قدم نے ہندووں کی بہت بڑی اکثریت کو بی جے پی کے حق میں مائل کر دیا۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج یو پی کی اسمبلی میں مسلمانوں کی اب تک کی سب سے کم تعدا دجیت کر آئی ہے۔ یہ ملک ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں مذہب کی بنیاد پر سیاست نہیں کی جا سکتی۔ اگر چہ بی جے پی یہی کرتی آئی ہے لیکن وہ مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندووں کی مذہبی سیاست کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے نام پر سیاست بند کی جائے۔ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی جائے۔ اگر مسلمانوں کے ساتھ کہیں ناانصافی ہو رہی ہے تو اس کو اس انداز میں پیش نہ کیا جائے کہ دوسرے اس خلاف متحد ہو جائیں۔ راقم الحروف کی ناقص رائے یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نام پر کی جانے والی سیاست کا بائیکاٹ کر دیں اور ایسے لوگوں کو منہ نہ لگائیں جو جذباتیت کو ہوا دیتے ہوں اور جن کے اقدامات کے سبب ہندووں کی اکثریت مسلمانوں کے خلاف ہو جاتی ہو۔ اس قسم کی سیاست کرنے والے اپنے مفادات دیکھتے ہیں۔ وہ اپنی سیاست کی قربان گاہ پر مسلمانوں کو قربان کرتے رہتے ہیں۔ بہت سے جذباتی مسلمان ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور ان گندم نما جو فروشوں کو اپنا مسیحا سمجھنے لگتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور ایسے لوگوں کا اس طرح بائیکاٹ کریں کہ ان کا سیاسی میدان سے پوری طرح صفایا ہو جائے۔
sanjumdelhi@gmail.com
(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں۔اردو تہذیب کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Muslims in india must boycott these muslim leaders in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply