امریکی ضمنی انتخاب میں مسلم خواتین کا دبدبہ

سہیل انجم

 

امریکہ میں کوئی بھی واقعہ ہو پوری دنیا کی نظریں اس پر لگی رہتی ہیں۔ ابھی چند روز قبل وہاں ضمنی انتخابات ہوئے ہیں۔ ان پر بھی پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان انتخابات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر ریفرنڈم تصور کیا گیا۔ خاص طور پر تارکین وطن سے متعلق ان کی پالیسی کے تعلق سے یہ انتخابات بہت اہمیت کے حامل تھے۔ ٹرمپ کی پارٹی کے رہنما الیکشن سے قبل یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر ایوان نمائندگان میں اپوزیشن ڈیموکریٹس کو اکثریت مل جاتی ہے تو ہمیں اپنے فیصلے منوانے میں دشواری ہوگی۔ اتفاق دیکھیے کہ وہاں ڈیموکریٹس کو ہی اکثریت ملی ہے۔ البتہ سینٹ میں ٹرمپ کی پارٹی ریپبلکن کو اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج کے بعد اپنے پہلے رد عمل میں کہا کہ ہمیں انتہائی بڑی جیت حاصل ہوئی ہے۔ ان کے اس بیان کا سبب یہ ہے کہ سینٹ پر ان کی پارٹی کی گرفت مزید سخت ہو گئی ہے۔ ایک ٹویٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ”جن لوگوں نے شاندار وسط مدتی انتخابی مہم میں میرے ساتھ کام کیا انھوں نے مخصوص پالیسیوں اور اصولوں کی پاسداری کا دم بھرا انھیں کامیابی حاصل ہوئی۔ جو ایسا نہیں کرپائے ہم انھیں خدا حافظ کہتے ہیں۔ ہمیں انتہائی بڑی کامیابی ملی۔ حالانکہ نفرت پر مبنی اور مخالف میڈیا کا دباو¿ جاری رہا“۔ لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کی روشنی میں ٹرمپ کو قانون سازی کی منظوری کے حصول میں مزید مشکل پیش آئے گی۔ ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹس نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ کے مالیاتی معاملات اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف کئی طرح کی جانچ پڑتال کرائیں گے۔

ان انتخابات کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں نے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ مساجد کے ائمہ نے مصلیوں کو ووٹ کی طاقت کی اہمیت بتائی اور انھیں سمجھایا کہ کس طرح وہ اچھے امیدواروں کا انتخاب کریں۔ بیشتر مساجد میں جمعہ کے روز ائمہ کرام نے اپنے خطبے میں ووٹنگ کی اہمیت کو موضوع بنایا۔ اس سلسلے میں منیاپولس کی مسجد ”دارالحجرا“ کے امام شیخ عبدالرحمان شریف کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خطبے میں نمازیوں کو سمجھایا کہ انتخابات میں ووٹ دے کر اپنی رائے کے اظہار کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ لہٰذا انہیں باہر نکل کر ووٹ ضرور ڈالنا چاہیے۔ ووٹنگ میں حصہ لینا مساجد کے عمومی نظریے کا اہم حصہ ہے اور یہ تبدیلی لانے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس وقت امریکی سیاست میں بہت زیادہ تقسیم اور منافرت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اگر مسلمان یہاں کے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں باہر نکل کر ووٹ ڈالنا ہو گا۔ اطلاعات کے مطابق بعض مساجد میں ووٹنگ کی اہمیت کو اجاگر کیے جانے کے نتیجے میں بہت سے نوجوان مسلمان مرد و خواتین نے ووٹنگ مراکز پر جا کر قبل از وقت ووٹ ڈالے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان ایسے تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ ووٹ ڈالا۔ ایک صومالی نژاد امریکی نوجوان خالد محمد حسن نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ ووٹ ڈال رہاہے۔اس نے کہا کہ وہ مسلم امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالے گا اور اس کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ ہیلتھ انشورنس ہے۔مینے سوٹا میں مسلمان امیدواروں میں سے ایک محمد نور ہیں جو ریاست کی اسمبلی کیلئے اتخاب لڑ رہے تھے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مقامی مسجد کے باہر کھڑے ہو کر وہاں آنے والے نمازیوں کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ محمد نور نے کہا کہ انتخاب میں حصہ لینے کا مقصد یہ تھا کہ اپنی مسلم برادری کی خدمت کر سکیں اور موجودہ حکومت کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف لڑ سکیں۔

امریکی انتخابات میں اس بار یوں تاریخ رقم ہوئی ہے کہ دو مسلمان خواتین ڈیموکرٹیک پارٹی کے ٹکٹ پر رکن کانگریس منتخب ہوئی ہیں۔ جبکہ طالبان کے خوف سے افغانستان سے بھاگ کر امریکہ آنے والی ایک مسلم خاتون نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں ریاست مشی گن سے منتخب ہونے والی رشیدہ طلیب بھی ہیں۔ ان کے والدین فلسطین سے آ کر امریکہ میں آباد ہوئے جبکہ منیسوٹا سے منتخب ہونے والی الہان عمر صومالی پناہ گزین بن کر امریکہ آئیں تھیں۔

رشیدہ طلیب

رشیدہ طلیب ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے مشی گن کے ایوان نمائندگان کی سابق رکن ہیں جہاں وہ ساو¿تھ ویسٹ ڈیٹرائیٹ کی نمائندگی کرتی تھیں۔ وہ مشی گن کے ایوان نمائندگان میں منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون اور امریکی تاریخ میں کسی بھی ریاست کے ایوان کیلئے منتخب ہونے والی دوسری مسلم خاتون تھیں۔ وہ اس سال ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکی ایوان نمائندگان کے لیے نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں اور بالآخر بلا مقابلہ منتخب ہو گئیں۔ رشیدہ طلیب 24 جولائی 1976 کو ڈیٹرائیٹ میں فلسطین کے ایک تارک وطن خاندان میں پیدا ہوئیں۔ وہ 14 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کی والدہ مغربی کنارے کے شہر رملا میں پیدا ہوئیں جبکہ والد کی پیدائش یروشلم میں ہوئی۔ رشیدہ کے والدین ترک وطن کرتے ہوئے پہلے نکاراگوا پہنچے اور پھر وہاں سے ڈیٹرائیٹ چلے آئے۔ ان کے والد نے وہاں فورڈ موٹر کمپنی میں کام کیا۔ رشیدہ نے 1994 میں ڈیٹرائیٹ کے ساو¿تھ ویسٹرن ہائی سکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وین سٹیٹ یونیورسٹی سے 1998 میں پولیٹکل سائنس میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر ٹامس کولی لاا سکول سے 2004 میں قانون کی ڈگری مکمل کی۔

اسی سال انہوں نے اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے رکن سٹیو ٹوبوک مین کے ساتھ انٹرن شپ کی۔ ٹوبوک مین 2007 میں ریاستی ایوان میں اکثریتی جماعت کے لیڈر منتخب ہو گئے۔ ٹوبوک مین نے 2008 میں رشیدہ سے کہا کہ وہ ان کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر انتخاب لڑیں۔ رشیدہ نے اس پرائمری انتخاب میں کئی لاطینی امیدواروں سے مقابلہ کیا جن میں سابق ریاستی نمائندہ بیلڈا گارزا بھی شامل تھیں۔ وہ ڈیموکریٹک پرائمری میں 44 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہیں اور پھر وہ عام انتخابات میں 90 فیصدر ووٹ حاصل کر کے ریاستی ایوان کی رکن منتخب ہو گئیں۔ وہ 2012 میں دوبارہ مشی گن ریاست کے ایوان کی رکن منتخب ہوئیں۔ مشی گن کے ریاستی ایوان میں اپنی دو مدتیں مکمل کرنے کے بعد رشیدہ طلیب نے شوگر لا سینٹر نامی غیر سرکاری تنظیم میں وکیل کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی جو مزدوروں کو ان کے حقوق کے سلسلے میں قانونی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس سال کے آغاز میں رشیدہ نے کانگریس میں جان کونئر کی چھوڑی ہوئی سیٹ کیلئے امریکی ایوان نمائندگان کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پرائمری میں ڈیٹرائیٹ سٹی کونسل کی صدر برینڈا جونز کو شکست دی اور پھر انتخابات میں وہ بلا مقابلہ امریکی ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہو گئیں۔ وہ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی رکن ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے نظریات کی حامی ہیں۔ وہ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کی فراہمی کی مخالف ہیں اور اسرائیل اور فلسطین کے ایک ریاست پر مبنی حل کی حمایت کرتی ہیں۔ رشیدہ نے 1998 میں فائز طلیب نامی شخص سے شادی کی۔ تاہم بعد میں ان کی طلاق ہو گئی۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔

الہان عمر

الہان عمر منے سوٹا سے صومالی نڑاد امریکی سیاست داں ہیں۔ وہ 2016 میں ڈیموکریٹک فارمر لیبر پارٹی کی طرف سے منے سوٹا کے ریاستی ایوان کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ ویمن آرگنائزنگ ویمن نیٹ ورک میں ڈائریکٹر آف پالیسی کی حیثیت سے کام کرتی رہی ہیں۔ الہان عمر 4 اکتوبر 1981 کو موگادیشو میں پیدا ہوئیں اور ان کی پرورش صومالیہ کے قصبے بیڈھابو میں ہوئی۔ وہ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کے والد نور عمر محمد اساتذہ کیلئے ٹرینر کی حیثیت سے کام کرتے تھے جبکہ ان کی والدہ اس وقت انتقال کر گئیں جب الہان بہت چھوٹی تھیں۔ والدہ کے انتقال کے بعد ان کی پرورش ان کے والد اور دادا نے کی۔ 1991 میں جب صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہوا تو الہان کا خاندان وہاں سے فرار ہو کر کینیا چلا گیا جہاں انہوں نے پناہ گزیں کی حیثیت سے چار برس گزارے۔ پھر الہان اور ان کے خاندان نے امریکہ کی شہریت لے لی۔ امریکہ میں پہلے وہ ورجینیا کے شہر آرلنگٹن آئے۔ تاہم بعد میں وہ مینی ایپولس جا کر آباد ہو گئے۔ الہان نے 14 برس کی عمر میں اپنے دادا کے ساتھ کاکس میٹنگز میں جانا شروع کر دیا اور یوں سیاست میں ان کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ انہوں نے اجلاس کے دوران ترجمان کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا۔انہوں نے 2013 میں مینی ایپولس سٹی کونسل کیلئے اینڈریو جانسن کی انتخابی مہم چلائی۔ جانسن کے انتخاب کے بعد انہوں نے دو برس تک سینئر پالیسی مشیر کے طور پر کام کیا۔ 2014 میں کاکس کے پرتشدد اجلاس کے دوران پانچ افراد نے ان پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ انہیں کچھ مقامی سیاستدانوں نے سیاسی میدان کا ایک ابھرتا ہوا ستارہ قرار دیا تھا۔

اس سال ان کی جماعت ڈیموکریٹک فارمر لیبر پارٹی نے انہیں ریاستی ایوان نمائندگان کا انتخاب لڑنے کیلئے نامزد کیا۔ انہوں نے 9 اگست کو ہونے والے پرائمری میں اس علاقے سے ریاستی ایوان نمائندگان کے سابق رکن فیلس کاہن کو شکست دی۔ ایوان کا رکن منتخب ہونے کے بعد انہوں نے 3 جنوری 2017 کو ایوان نمائندگان کے رکن کا منصب سنبھالا۔ اس سال جب مینی ایپولس سے امریکی ایوان نمائندگان کے رکن کیتھ ایلیسن نے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تو الہان نے 5 جون کو اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرا دیے۔ 17 جون کو ان کی جماعت ڈیموکریٹک فارمر لیبر پارٹی نے ان کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا اور بالآخر 6 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخاب میں کامیابی کے بعد وہ امریکی نمائندگان میں راشدہ طلیب کے ساتھ پہلی مسلمان خاتون رکن بن گئیں۔

صفیہ وزیر

ادھر ریاست نیو ہیمپشائر کے ایوان نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والی ایک اور مسلم خاتون صفیہ وزیر ہیں۔ ستائس سالہ صفیہ وزیر نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر ری پبلکن ڈینس سوسی کو نیو ہیمپشائر کی ریاستی اسمبلی کی ایوان نمائندگان کی سیٹ پر ہرایا۔ صفیہ جو دو بچوں کی ماں ہیں۔ انہوں نے اپنے بچپن میں افغانستان سے ازبکستان ہجرت کی جہاں وہ دس سال تک پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں رہیں اور 2007 میں امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے شہر کانکورڈ منتقل ہوئیں۔ صفیہ وزیر نے کنکورڈ کمیونٹی کالج سے بزنس کی ڈگری حاصل کی اور 2013 میں انہیں امریکی شہریت ملی۔انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں سستی رہائش، اسکولوں میں حفاظتی اقدامات اور نظام تعلیم میں بہتری جیسے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ساتھ ہی وہ ریاست میں تنوع لانے کی بھی حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری ریاست میں نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں یہاں سے منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق تارکین وطن اور پناہ گزین اپنے ساتھ نئے آئیڈیاز لاتے ہیں۔ صفیہ وزیر کی انتخابی مہم ملکی سطح پر اہمیت حاصل کر چکی تھی کیونکہ انہوں نے چار بار ریاستی انتخاب جیتنے والے ڈک پیٹن کو پرائمری انتخاب میں ہرایا تھا۔

sanjmdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Muslim women candidates create history in us congressional midterms in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment