!ہائے یہ ملائم کی قلابازیاں

سہیل انجم
اس وقت اتر پردیش میں انتخابی مہابھارت چھڑی ہوئی ہے۔ بی جے پی، سماجوادی- کانگریس اتحاد اور بی ایس پی کے مہارتھی تیر و تفنگ لے کر ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی اور بی جے پی نے اپنے منشور جاری کر دیے ہیں۔ بی ایس پی کا کوئی منشور کبھی جاری نہیں ہوتا۔ اس لیے اس بار بھی نہیں ہوا ہے۔ مایاوتی کی زبان سے نکلنے والے بیانات ہی اس پارٹی کے منشور کا درجہ رکھتے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اور ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے لکھنؤ میں ایک مشترکہ روڈ شو بھی کر لیا ہے۔ جسے حسب توقع کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ دونوں لیڈران اعتماد سے بھرے ہوئے ہیں۔ لیکن اکھیلش کی خود اعتمادی قابل دید ہے۔ کچھ لوگوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کی خود اعتمادی کہیں انھیں لے نہ ڈوبے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پانچ سال میں جتنے کام کیے ہیں وہ انھیں واپس لانے کے لیے کافی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ذریعے شروع کی جانے والی اسکیموں سے جتنے افراد نے فائدہ اٹھایا ہے اگر صرف وہی ووٹ دے دیں تو ان کی پارٹی اقتدار میں آسانی کے ساتھ واپس آجائے گی۔ لیکن بہر حال ان کی پارٹی اقتدار میں واپس آئے یا نہ آئے یہ بات تقریباً طے مانی جا رہی ہے کہ اس اتحاد سے کانگریس اپنی کھوئی ہوئی زمین کا تھوڑا بہت حصہ ضرور واپس پا لے گی۔ کانگریس کو بھی اس کا احساس تھا کہ اگر اس نے اتحاد نہیں کیا تو پچھلے کے مقابلے میں کم سیٹیں آسکتی ہیں۔ اسی لیے قومی پارٹی ہونے کے باوجود سکنڈ پارٹی بن کر بھی ایک علاقائی پارٹی سے اس نے اتحاد کر لیا ہے۔ اس اتحاد سے سب سے زیادہ بی ایس پی کو پریشانی ہے۔ مایاوتی کو اندیشہ ہے کہ مسلمانوں کا جو ووٹ ان کو ملنے والا تھا وہ اب اس اتحاد کے بعد نہیں ملے گا۔ اسی لیے وہ بار بار یہ کہہ رہی ہیں کہ مسلمانوں نے اگر اس اتحاد کو یا سماجودای پارٹی کو ووٹ دیا تو ان کا ووٹ برباد ہو جائے گا۔ بی جے پی کو بھی اس اتحاد سے پریشانی ہے۔ اسی لیے اس نے اپنے منشور میں ایک بار پھر رام مندر کا نعرہ لگایا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے تین طلاق کا بھی مسئلہ چھیڑ دیا ہے۔ حالانکہ الیکشن سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ خالص مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور عائلی مسئلہ ہے۔ لیکن وہ اسے ایک جذباتی معاملہ بنانا چاہ رہی ہے۔ بی جے پی لیڈروں کو شائد یہ لگنے لگا ہے کہ ان کی پارٹی کی پوزیشن اچھی نہیں ہے اس لیے وہ لوگ اشتعال انگیزی بھی کرنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر بہو بیٹیوں کی عزت کا حوالہ دینا اور یہ کہنا کہ کیرانہ کشمیر بنتا جا رہا ہے، اسی جانب اشارہ کرتا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر ونے کٹیار نے پہلے پرینکا گاندھی کے بارے میں نازیبا تبصرہ کیا تھا۔ اب بی جے پی کے ترجمان پریم شکلا نے ایک سماجوادی لیڈر پنکھڑی پاٹھک کے بارے میں نازیبا بیان بازی کی ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے امیدوار سریش رانا نے یہ کہہ کر الیکشن کمیشن کے نوٹس کو دعوت دے دی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوئے تو کیرانہ، دیوبند اور مرادآباد میں کرفیو لگوا دیں گے۔ ذرا دور جائیں تو گوا میں بھی یہی حال ہے۔ وزیر دفاع اور گوا کے سابق وزیر اعلی منوہر پریکر نے ایک تقریر میں ووٹروں سے کہہ دیا کہ اگر کوئی ان کو پانچ سو روپے دیتا ہے تو اس کے جلسے میں چلے جائیں اور روپے لے لیں لیکن ووٹ بی جے پی کو ہی دیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجری وال نے بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی ہے۔ پریکر کے خلاف ابھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے لیکن الیکشن کمیشن نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔
بہر حال بات ہو رہی تھی اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی پوزیشن کی۔ پچھلے دنوں اس پارٹی میں جو کچھ ہوا اس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ایک ڈرامہ تھا جو اسٹیج کیا گیا شیو پال کو الگ تھلگ کرنے اور اکھلیش کو منظر عام پر لانے کے لیے۔ اس ڈرامہ کو لکھا تھا پارٹی صدر اور اکھلیش کے والد ملائم سنگھ نے۔ حالانکہ بہت سے لوگ اس پر یقین نہیں کرتے لیکن جانکاروں کے خیال میں یہی بات درست ہے۔ اس پورے ایپی سوڈ سے اگر کوئی سب سے زیادہ طاقتور بن کر ابھرا ہے تو وہ یقیناً اکھلیش ہیں اور اگر کوئی سب سے کمزور بن گیا ہے تو وہ شیو پال یادو ہیں۔ انھوں نے اظہار مایوسی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ الیکشن کے بعد اپنی الگ پارٹی بنائیں گے۔ بظاہر ملائم سنگھ بھی شکست خوردہ نظر آتے ہیں۔ لیکن اندرون خانہ کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ نورا کشتی تھی جو اب ختم ہو گئی ہے۔ اس درمیان ملائم سنگھ نے کئی رنگ بدلے ہیں۔ بظاہر وہ بہت پریشان رہے ہیں اور انھوں نے بھرپور کوشش کی کہ شیو پال کو آگے لے آئیں اور اکھلیش کو دبا دیں۔ لیکن وہ ہ ایسا نہیں کر سکے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ راجہ دشرتھ ہیں اور کیکیئی کے موہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یعنی اپنی دوسری بیوی اور اس سے پیدا ہونے والے بیٹے کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ ان کے دوسرے بیٹے پرتیک یادو کی بیوی اپرنا یادو کو ٹکٹ مل گیا ہے۔ وہ کانگریس سے بی جے پی میں جانے والی ریتا بہوگنا جوشی کو ٹکر دیں گی۔ جب پارٹی کا جھگڑا الیکشن کمیشن میں پہنچا تو پہلے تو امر سنگھ اور شیو پال یادو کے ساتھ ملائم سنگھ کمیشن کے در پر پہنچے اور اس سے انتخابی نشان دینے کی اپیل کی۔ لیکن بعد میں انھوں نے وہ سارے ضروری کاغذات کمیشن کو دیے ہی نہیں جس سے ان کے موقف کو تقویت حاصل ہوتی۔ اس طرح لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر اپنا کیس کمزور کیا۔
وہ اپنے اور شیو پال کے حامیوں کو اکساتے بھی رہے۔ لیکن پارٹی پر ان کی گرفت ایک دم کمزور ہو گئی اور پارٹی دفتر پر قبضہ جمانے کے باوجود وہ کچھ نہیں کر سکے۔ اس درمیان اکھلیش نے اپنا منشور جاری کیا۔ خیال تھا کہ ملائم اس میں شریک ہوں گے۔ لیکن وہ نہیں آئے۔ اکھلیش یادو اور ڈمپل نے ان کے پاس جا کر ان کو منشور پیش کیا اورتصویر کھنچوائی۔ ادھر سماجوادی اور کانگریس کا اتحاد ہو گیا۔ ملائم سنگھ تھوڑا خاموش رہے۔ مگر پھر ترنگ میں آگئے۔ انھوں نے ایک بیان جاری کرکے اس اتحاد کی مخالفت کی اور کہا کہ سماجوادی پارٹی کو اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تن تنہا الیکشن جیتنے اور حکومت بنانے کی اہل ہے۔ انھوں نے یہ بھی بیان دیا کہ وہ اس اتحاد کے حق میں پرچار نہیں کریں گے۔ پھر بیان آیا کہ وہ اس کے خلااف میدان میں اتریں گے۔ انھوں نے اپنے حامیوں سے بھی کہا کہ وہ اس اتحاد کے خلاف پرچار کریں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے یہاں تک کہا کہ وہ کانگریس کے خلاف مہم چلائیں گے۔ لیکن ابھی ان کے اس بیان کی صدائے بازگشت ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ انھوں نے پھر ایک بیان داغ دیا۔ اس بار انھوں نے کہا کہ اکھلیش کچھ بھی ہو میرا بیٹا ہے اور میں اس کے حق میں انتخابی مہم چلاو¿ں گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کانگریس کے حق میں بھی پرچار کریں گے تو انھوں نے تڑ سے جواب دیا کہ کانگریس سے اتحاد ہوا ہے تو کیوں نہیں پرچار کروں گا۔ اس طرح انھوں نے پارٹی میں لڑائی ہونے کے بعد سے جانے کتنے رنگ بدلے۔ لیکن ان کا کوئی بھی رنگ دیرپا ثابت نہیں ہوا۔
ان کے بارے میں غیر جانبدار سیاسی مشاہدین کی رائے ہے کہ وہ کانگریس کے ہمیشہ خلاف رہے ہیں اور اندر ہی اندر بی جے پی کے حامی رہے ہیں۔ چونکہ انھوں نے کانگریس کے ووٹ بینک پر قبضہ کرکے یو پی میں بہت دنوں تک حکومت کی اس لیے ان کو یہ اندیشہ کھائے جا رہا ہے کہ کانگریس سے اتحاد کرکے کہیں سماجوادی کی بنیاد نہ کھسک جائے۔ لیکن بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کانگریس کی مخالفت بی جے پی سے ہمدردی کی وجہ سے بھی کر رہے ہیں۔ بہر حال کچھ بھی ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ملائم نے خوب رنگ بدلا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اب چاہے جتنی قلابازیاں کھائیں ان کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب اکھلیش اور راہل کی شکل میں ایک نئی جوڑی سیاسی منظرنامے پر ابھر آئی ہے۔ راہل جہاں اس اتحاد کے ذریعے یو پی میں کانگریس کو اس کی زمین واپس دلوانا چاہتے ہیں وہیں وہ 2019 میں ہونے والے پارلیمانی الیکشن کے لیے زمین بھی ہموار کر رہے ہیں۔ جبکہ اکھلیش کے سامنے سردست یو پی کا الیکشن تو ہے ہی ان کی بھی نظر 2019 پر ہے۔ بلکہ وہ اس سے بھی آگے دیکھ رہے ہیں۔ وہ اپنے والد کے سائے سے نکل کر اپنی ایک الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور چونکہ ان کو سیاست میں ابھی بڑی لمبی پاری کھیلنی ہے اس لیے ان کی نظر بہت دور تک ہے۔ ان کے سامنے صرف یو پی نہیں ہے بلکہ وہ آگے چل کر مرکزی سیاست میں بھی ہاتھ آزمانے پر غور کر رہے ہیں۔ اپنے والد کے خلاف ایک طرح سے بغاوت اور ان کی گود سے چھٹک کر دور چلے جانا ان کی ایک طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اب وہ اپنی حکمت عملی میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: mulayam singh and his tactics | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply