سپریم کورٹ کا ایک قابل ستائش تبصرہ

سہیل انجم

ہندوستانی عدلیہ اپنی انصاف پسندی کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ وہ آئین و قانون کے مطابق چلتی ہے اور اسی کی رو سے فیصلے صادر کرتی ہے۔ یہاں کے فاضل جج حضرات پر نہ کسی کے اثر و رسوخ کا اثر پڑتا ہے نہ کسی کے دبدبے کا۔ وہ اپنے یا کسی دوسرے کے مذہب سے متاثر ہو کر بھی کوئی فیصلہ نہیں سناتے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ لا مذہب ہوتے ہیں۔ ان میں بھی اکثریت ایسے ججوں کی ہوتی جو کسی نہ کسی مذہب کے پیرو ہوتے ہیں اور اپنی زندگی میں اس کو نافذ بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ جج کی کرسی پر فائز ہوتے ہیں تو صرف ایک قانون داں ہوتے ہیں انصاف کرنے والا ایک عادل قاضی ہوتے ہیں۔ یہاں کی عدلیہ پوری طرح آزاد ہے۔ اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی یا دباو¿ بھی نہیں ہے۔ بہت سے عوامی مفادات کے معاملات میں عدالتیں بعض اوقات بہت سرگرم رول ادا کرتی ہیں۔ کبھی کبھار ان کی بہت زیادہ سرگرمی موضوع بحث بھی بنتی ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اپنی سرگرمیوں کی بدولت بعض اوقات وہ ایسے کام بھی کر جاتی ہیں جو حکومتیں نہیں کر پاتیں۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حکومت کے کام اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہیں کیونکہ بہر حال ہر ادارے کے کام بٹے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے فیصلوں سے عوام کو بڑی راحت ملتی ہے اور بعض اوقات انفرادی و انسانی آزادی اور بنیادی حقوق کے تعلق سے ان کے فیصلے انتہائی مستحسن اور قابل ستائش ہوتے ہیں۔ فاضل جج حضرات قانون کی اپنے اپنے انداز میں توضیح کرتے ہیں اور اسی کی روشنی میں فیصلے سناتے ہیں۔ ایسے معاملات بھی سامنے آئے ہیں کہ جج حضرات کچھ اور فیصلہ سنانا چاہتے ہیں مگر شواہد کی ناکافی کے سبب انھیں برعکس فیصلے سنانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
سپریم کورٹ نے پندرہ فروری کو پونے کے ایک نوجوان محسن شیخ کے قتل سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے قابل قدر تبصرہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو محض مذہب کی بنیاد پر قتل نہیں کر سکتا اور نہ ہی مذہب کی بنیاد پر کسی حملے کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس ایل ناگیشور راو¿ کی بینچ نے مذکورہ معاملے میں ملزموں کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عدالت کو ملک کی مذہبی تکثیریت کا خیال رہا ہوگا۔ عدالت کو مختلف برادریوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہم کوئی ایسا تبصرہ نہیں کر سکتے کہ جس سے ایسا تاثر ملے کہ وہ کسی ایک فرقے کے خلاف تعصب پر مبنی ہے۔
دراصل 12 جنوری 2017 کو بامبے ہائی کورٹ کی جج مردلا بھٹکر نے محسن شیخ قتل معاملے میں تین کلیدی ملزموں وجے راجندر گمبھیر، گنیش عرف رنجیت شنکر یادو اور اجے دلیپ لالگے کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ انھوں نے اپنے چھ صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ ”مقتول کا واحد قصور یہ تھا کہ اس کا تعلق دوسرے مذہب سے تھا۔ میں اس بات کو درخواست دہندگان (ضمانت کی درخواست دینے والوں) یا ملزموں کے حق میں مانتی ہوں۔ مزید برآں یہ کہ درخواست دہندگان یا ملزموں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ انھیں مذہب کے نام پر مشتعل کیا گیا اور انھوں نے قتل کر دیا“۔ اس معاملے میں ضمانت پر اور کئی ملزم رہا ہو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں محسن شیخ کے بھائی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزموں کو حراست میں لیا جائے اور ان کی درخواست ضمانت پر از سر نو سماعت کی جائے گی۔ عدالت نے بامبے ہائی کورٹ کی جج کے تبصرے پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں فریقوں کے الگ الگ مذہبوں کا حوالہ سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ کیوں کہا گیا کہ مقتول کا قصور صرف یہ تھا کہ اس کا مذہب حملہ آوروں کے مذہب سے مختلف تھا۔ ممکن ہے کہ جج یہ کہنا چاہتے ہوں کہ صرف مذہبی نفرت کی بنیاد پر قتل کیا گیا نہ کہ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فاضل جج کی نیت کسی خاص فرقے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا دوسرے فرقے کو سپورٹ کرنے کی نہ رہی ہو۔ لیکن جن الفاظ کا استعمال کیا گیا ان پر تنقید فطری ہے۔ لہٰذا اس عدالت نے جو حکم سنایا (ضمانت منظورکرنے کا) اسے جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ (یعنی ضمانت مسترد کی جاتی ہے)۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ مقتول کا دوسرے مذہب کا ہونا اس کے قتل کا جواز نہیں بن سکتا۔
خیال رہے کہ2 جون 2014 کو پونے کی ایک آئی ٹی فرم میں کام کرنے والے 28 سالہ محسن شیخ ایک مسجد سے عشا کی نماز پڑھ کر لوٹ رہے تھے کہ ہندو راشٹریہ سینا کے کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس وقت وہ ہری ٹی شرٹ میں تھے۔ ان کے ساتھ ان کے دوست ریاض احمد بھی تھے۔ وہ کسی طرح بچ گئے۔ لیکن محسن شیخ کو ہلاک کر دیا گیا۔ بعد میں ایک پولیس کیس قائم کیا گیا اور ہندو راشٹریہ سینا کے صدر دھننجے جے رام دیسائی عرف بھائی سمیت سینا کے 21 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انھی میں سے تین ملزموں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کی جج نے مذکورہ تبصرہ کیا تھا جس پر مختلف حلقوں سے زبردست تنقید ہوئی تھی۔
ماہر قانون اور NALSAR یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفی نے ایک نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اور پھر انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس میں کالم لکھتے ہوئے اس آرڈر کے کچھ پہلووں سے بحث کی ہے اور اسے انتہائی متنازعہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اب اس فیصلے کے بعد امریکہ اور آسٹریلیا میں ہندوستانیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی شکایت ہندوستان نہیں کر سکتا۔ انھوں نے ایک مخصوص لفظ اشتعال انگیزی کی قانون کی روشنی میں تشریح کی ہے اور اسی کے ساتھ ضمانت کے سلسلے میں بھی قانونی بارکیوں پر رائے رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم کو ضمانت ملنی ہی چاہیے کیونکہ وہ مملکت کے خلاف کھڑا ہے۔ اس وقت ہماری جیلوں میں جو قیدی ہیں ان میں سے دو تہائی ایسے ہیں جن کے معاملات زیر سماعت ہیں یعنی جن پر کوئی جرم ابھی ثابت نہیں ہوا ہے۔ لیکن وہ مذکورہ معاملے میں جس بنیاد پر ضمانت دی گئی ہے اس کو صحیح نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ کسی دوسرے کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر دوسرے کے خلاف مشتعل ہو جائے۔ مزید برآں دستور کی دفعہ 153 اے بھی مذہب کے نام پر کسی کو مشتعل کرنے کو جرم مانتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”مشتعل ہو کر کسی کو قتل کر دینے کے معاملے میں اگر اشتعال انگیزی کو درست مانا جائے تو پھر وہ قتل بے ارادہ قتل میں تبدیل ہو جائے گا اور اس کی سزا بھی کم ہو جائے گی“۔ گویا جج صاحبہ نے جس طرح ضمانت دی ہے اس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملزموں نے بے ارادہ قتل کیا لہٰذا جب حتمی فیصلہ سنایا جائے گا تو ممکن ہے کہ ان کی سزائیں کم ہو جائیں۔
لیکن ان کے یہ خدشات اس وقت غلط ثابت ہو گئے جب سپریم کورٹ نے مذہب کی بنیاد پر قتل کو جواز بنا کر دی گئی ضمانت مسترد کر دی۔ در اصل یہی اس ملک کی عدلیہ کی خاصیت ہے۔ خاص طور پر ملک کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ میں اتنے قابل جج پہنچتے ہیں کہ ان کی نیتوں پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات نچلی عدالتوں کے فیصلوں پر سپریم کورٹ برعکس فیصلہ سنا کر ان کو پلٹ دیتا ہے۔ یعنی سپریم کورٹ میں قانون کی باریکیوں پر زیادہ گہری نظر رکھی جاتی ہے اور جو جج حضرات وہاں پہنچتے ہیں وہ آئین و قانون کے ایسے ماہر ہوتے ہیں کہ وہ قانون سے الگ ہٹ کر کوئی رائے ظاہر نہیں کر سکتے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھار کسی جج نے کوئی ایسا فیصلہ سنایا جس پر شبہ کیا جا سکے کہ وہ کسی بات یا خیال یا شخص سے متاثر ہو کر مذکورہ نتیجے پر پہنچا ہے۔ لیکن ایسے معاملات استثنائی ہیں۔ ابھی چند روز قبل چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی سربراہی والی بینچ نے بابری مسجد رام جنم مندر تنازعہ کا مقدمہ سنتے ہوئے کہا کہ وہ اس کا فیصلہ عقیدت یا عقیدے یا آستھا کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاریخی دستاویزات، شواہد اور مالکانہ حقوق کی بنیاد پر کرے گا۔ ایسے ماحول میں جبکہ اس سلسلے میں پورے ملک میں دو الگ الگ رائیں بن چکی ہیں اور مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ مسجد تھی اور مسجد رہے گی اور ہندو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ رام مندر ہے اور وہیں مندر بنے گا یہ آستھا کا سوال ہے اس سے ہٹا نہیں جا سکتا، سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ وہ مالکانہ حقوق اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اس کی غیر جانبداری کی ایک نمایاں مثال ہے۔ جب تک ہندوستانی عدلیہ کا یہ کردار باقی رہے گا اس ملک سے انصاف کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Mohsin shaikh murder casesupreme court quashes bail in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment