پھر ایک بار مودی سرکار

سہیل انجم

انتخابی مہم کے دوران پورے ملک میں گھومنے والے آزاد اور غیر جانبدار صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی پیشین گوئی تھی کہ اس بار بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔ تاہم بیشتر تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ حکومت تو مودی ہی بنائیں گے۔ کیسے، ایسے کہ این ڈی اے کو سادا اکثریت مل جائے گی۔جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ سمیت بی جے پی کے دیگر رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ بی جے پی اپنے دم پر اکثریت حاصل کرے گی اور این ڈی اے تین سو سے پار جائے گا۔ آخری مرحلے کی مہم کے دوران مودی نے مغربی بنگال میں تقریر کرتے ہوئے پھر یہ بات دوہرائی تھی ”اب کی بار بی جے پی تین سو کے پار“۔ لیکن تجزیہ کار اسے مودی اور شاہ کی مبالغہ آمیزی قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ بی جے پی کو اکثریت نہیں مل رہی ہے لیکن وہ اپنے کارکنوں کا حوصلہ بنائے رکھنے کے لیے ایسا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جب ایگزٹ پول کے نتائج آئے اور ان میں بی جے پی کو اکثریت دکھائی گئی تو اسے بھی بیشتر تجزیہ کاروں نے مسترد کر دیا تھا۔ لیکن جب 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور رجحانات سامنے آنے لگے تو بی جے پی کی سیٹوں کی بارش شروع ہو گئی۔

ابتدا میں یو پی اے کی سیٹیں بھی قدرے غنیمت تھیں لیکن جوں جوں گنتی آگے بڑھتی گئی اس کی سیٹیں گھٹتی گئیں اور این ڈی اے کی جو کہ پہلے ہی بڑھی ہوئی تھیں اور بڑھتی چلی گئیں۔ شام ہوتے ہوتے این ڈی اے کی سیٹیں تو تین سو کے پار گئیں ہی خود بی جے پی کی اپنی سیٹیں بھی تین سو کے پار چلی گئیں۔ یہاں تک کہ این ڈی اے نے ساڑھے تین سو کی گنتی چھو لی۔ اسے سابقہ نشستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نشستیں تو آئیں ہی، خود بی جے پی نے بھی اپنا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ اس نے جہاں انتہائی شاندار بلکہ غیر معمولی بلکہ اس سے بھی آگے تاریخی کامیابی حاصل کی وہیں کانگریس نیچے گرتی چلی گئی۔ اگر چہ اس نے سابقہ سیٹوں میں چند کا اضافہ کر لیا لیکن اس سے جو امید تھی اس پر وہ کھری نہیں اتر سکی۔ کہاں یہ پیشین گوئی کی جا رہی تھی کہ کانگریس کی قیادت میں مرکز میں غیر بی جے پی حکومت بن سکتی ہے اور اس کی کوششیں بھی شروع ہو گئی تھیں اور کہاں یہ کہ یو پی اے سو نمبر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ حد تو اس وقت ہو گئی جب کانگریس صدر راہل گاندھی امیٹھی کی اپنی خاندانی اور روایتی سیٹ بھی بی جے پی کی تیز طرار امیدوار اسمرتی ایرانی کے ہاتھوں گنوا بیٹھے۔ حالانکہ اس سیٹ پر کئی دہائیوں سے کانگریس جیتتی آئی تھی۔ پہلے اس پر راجیو گاندھی کامیاب ہوا کرتے تھے اور پھر اس کے بعد سونیا گاندھی۔ خود راہل گاندھی 2004 سے اس پر کامیاب ہوتے آئے تھے۔ لیکن وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا۔

کانگریس نے یو پی میں اب تک کی سب سے ابتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں اسے صرف دو نشستیں ملی تھیں اور وہ اس وقت تک کی سب سے خراب کارکردگی تھی۔ یعنی سونیا اور راہل کی سیٹیں آئی تھیں۔ لیکن اس بار تو صرف ایک ہی نشست مل سکی سونیا گاندھی کی رائے بریلی سیٹ۔ وہ تو حالات کا رخ بھانپ کر راہل گاندھی نے کیرالہ کے وائناڈ سے بھی پرچہ بھر دیا تھا۔ وہاں سے انھیں آٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ووٹوں سے کامیابی ملی ہے۔ اگر وہ وہاں نہیں گئے ہوتے تو ان کے لیے پارلیمنٹ کے دروازے بند ہو جاتے۔ ان کے وہاں جانے کو اسمرتی ایرانی نے ایسے پیش کیا کہ جیسے راہل نے امیٹھی کو تیاگ دیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے گزشتہ الیکشن کے بعد سے لے کر اب تک یعنی پانچ برسوں میں امیٹھی کا 35 مرتبہ دورہ کیا اور مودی سے کہہ سن کر کئی ترقیاتی پروجکٹ بھی وہاں لے جانے میں کامیاب ہوئیں۔ لہٰذا ان دونوں باتوں نے امیٹھی کے عوام کو راہل سے برگشتہ کر دیا۔ برگشتگی کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ راہل امیٹھی بہت کم جاتے تھے۔ پرینکا صرف الیکشن میں جاتی تھیں۔ راہل دور سے ہی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہاتھ ہلا دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے امیٹھی کے عوام کے دل جیت لیے۔

بہر حال کانگریس نے یوپی میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ تو کیا ہی، خود اپنی حکومت والی ریاستوں میں بھی اسی کارکردگی کو اس نے دوہرایا۔ یعنی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں۔ اسے ایک جگہ ایک دوسری جگہ دو اور تیسری جگہ ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ جبکہ ان تینوں ریاستوں کو اس نے گزشتہ سال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سے چھین لیا تھا۔ یہاں تک کہ کرناٹک میں بھی اسے ایک ہی سیٹ لی جبکہ وہاں بھی وہ برسراقتدار ہے۔ گجرات میں اسے ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ مہاراشٹرا میں بھی اس نے حسب امید کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ دوسری ریاستوں میں بھی یہی صورت حال رہی۔ البتہ اس نے کیرالہ، پنجاب اور تیلنگانہ میں کچھ اچھی کارکردگی دکھائی۔ جبکہ آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس نے بہترین مظاہرہ کیا۔

بی جے پی نے چند ریاستوں کو چھوڑ کر ہر جگہ زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہاں تک کہ اترپردیش میں بھی جہاں یہ کہا جا رہا تھا کہ ایس پی بی ایس پی کا اتحاد بی جے پی کو ختم کر دے گا، اسے زبردست کامیابی ملی۔ اگر چہ اتنی سیٹیں نہیں ملیں جتنی کا دعویٰ امت شاہ کر رہے تھے لیکن پھر بھی اسے63 سیٹیں مل گئیں۔ جبکہ ایس پی بی ایس پی اتحاد کو محض 15 سیٹیں ہی مل سکیں۔ بی جے پی نے مغربی بنگال میں بھی اپنی دھماکہ خیز موجودگی درج کرائی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں اسے ریاست کی 42 سیٹوں میں سے صرف دو ملی تھیں جبکہ اس بار اس نے 18 جیتی ہیں۔ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس نے پچھلے الیکشن میں 34 سیٹیں جیتی تھیں مگر اس بار اس کی سیٹوں کی تعداد کم ہو کر 21 ہی رہ گئی۔ بی جے پی نے مغربی بنگال میں زبردست محنت کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے بھی یہ اندازہ تھا کہ یو پی میں اس کو نقصان ہوگا۔ پچھلی بار اس نے 73 سیٹیں جیتی تھیں مگر اس بار اس تعداد کو دوہرا پانا مشکل تھا۔ اس لیے اس نے وہاں ہونے والی کمی کو مغربی بنگال میں پورا کرنے کی کوشش کی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ریاست میں سات مراحل میں پولنگ کرانے کے پروگرام نے بی جے پی کی بڑی مدد کی اور اس طرح اسے ممتا کے خلاف ایک ماحول بنانے میں کامیابی حاصل ہو گئی۔ دہلی پر بھی سب کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ کانگریس اور عام آدمی نے اتحاد کرنے کی کوشش کی جسے دونوں پارٹیوں کے غرور نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔ عام آدمی پارٹی نے کانگریس کے سامنے ہریانہ اور پنجاب میں بھی اتحاد کی شرطیں رکھ دیں۔ جبکہ کانگریس اس کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت اور اجے ماکن اتحاد کے سخت خلاف تھے۔ لہٰذا دونوں میں اتحاد نہیں ہو سکا۔ اس طرح بی جے پی نے ساتوں سیٹیں جیت لیں۔ لیکن اگر دونوں میں اتحاد ہو بھی جاتا تو بھی بی جے پی کو روک پانا اس اتحاد کے بس میں نہیں تھا۔ یوپی، مہاراشٹر اور بہار کی مثالیں سامنے ہیں۔ ادھر بہار میں ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس کی قیادت والے محاذ کو جس میں راشٹریہ جنتا دل بھی شامل تھا بڑی کامیابی ملے گی اور این ڈی کو بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن وہاں بھی دوسری ریاستوں والی تاریخ دوہرائی گئی۔ 40 سیٹوں میں سے گٹھ بندھن کو محض ایک ہی سیٹ ملی ہے۔

اس طرح پورے ملک میں بی جے پی کی آندھی بلکہ سونامی آئی ہوئی تھی جس نے تمام پارٹیوں کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر دور لے جا کر پٹخ دیا۔ کئی ریاستوں میں تو بی جے پی کو پچاس فیصد سے زائد ووٹ شیئر ملے۔ جبکہ گزشتہ الیکشن میں اسے غالباً 36 فیصد ووٹ ملے تھے۔ آزاد ہندوستان میں ایسا واقعہ پہلی بار ہوا ہے۔ جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہونے والے الیکشن میں راجیو گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو بے مثال کامیابی ملی تھی تو وہ ایک ریکارڈ تھا۔ لیکن اس کے بعد کے الیکشن میں کانگریس کو شکست نصیب ہوئی تھی۔ لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی حکومت جو کہ اکثریت سے بنی تھی دوبارہ مکمل اکثریت حاصل کر لے۔ بی جے پی اور این ڈی اے نے نہ صرف مکمل اکثریت حاصل کر لی بلکہ اس سے بھی آگے نکل گئیں اور اپنے سابقہ ریکارڈ کو ہی توڑ دیا۔ بی جے پی کی اس غیر معمولی کامیابی اور کانگریس کی شرمناک شکست کے اسباب کیا تھے اس کا تجزیہ آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔ فی الحال بادی النظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بی جے پی نے مثبت انتخابی مہم چلائی اور کانگریس نے منفی۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے عوام کو متاثر کرنے والے ایشوز اٹھائے، وہ سارے ایشوز درست تھے یا نہیں یہ الگ بات ہے۔ اور کانگریس اپنے کسی بھی انتخابی ایشو پر خود کو عوام سے نہیں جوڑ سکی۔ اس انتخابی نتیجے کے اور کیا کیا اسباب رہے اس پر اگلے ہفتے تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Modi magic works bjps spectacular victory in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.