مودی حکومت کے دو سال: وعدے دعوے اور تنازعات

سہیل انجم
نریندر مودی کی قیادت میں مرکز کی بی جے پی حکومت کے دو سال پورے ہو رہے ہیں۔ ان دو سالوں میں اس حکومت نے کیا کیا اور کیا وعدہ کرکے نہیں کیا، اس کا جائزہ لیا جائے گا اور لیا جا رہا ہے۔ اگر حکومت کے ذمہ داروں سے پوچھیں تو وہ جہاں یہ بات کہیں گے کہ کسی بھی حکومت کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لیے دو سال کی مدت بہت مختصر ہے وہیں وہ یہ دعویٰ بھی کریں گے کہ ان دو برسوں میں جتنا کام ہوا ہے آزادی کے بعد سے لے کر اب تک نہیں ہوا۔ گویا اس حکومت کے پاس ایک جادو کی چھڑی ہے جسے گھما گھما کر وہ تمام کام کر رہی ہے اور عوام کے تمام مسائل حل کر رہی ہے۔ ویسے اس حکومت میں کچھ مثبت باتیں ہیں تو کچھ منفی ہیں۔ مثبت باتیں کم ہیں منفی باتیں زیادہ ہیں۔ آر ایس ایس کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے جس قسم کی سیاست کی جا رہی ہے وہ عوام کے درمیان منافرت کی ایک لکیر کھینچ رہی ہے جو دن بہ دن موٹی ہوتی جا رہی ہے۔ اس قسم کی لکیر نریندر مودی کی ریاست گجرات میں کافی نمایاں ہے۔ جہاں ہندو اکثریتی علاقوں میں خوب ترقیاتی کام ہوئے ہیں مگر مسلم اکثریتی علاقے کوڑے دانوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ خطرہ اس بات کا ہے کہ کہیں پورے ملک میں یہ سلسلہ شروع نہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو مذہب کے نام پر ملک گیر تفریق بہت زیادہ نمایاں ہو جائے گی۔
اس حکومت کی مثبت بات یہ ہے کہ اس دوران اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر چہ مہنگائی جتنی کم ہونی چاہیے نہیں ہوئی ہے لیکن کسی حد تک ضرور کم ہوئی ہے۔ اب اس میں حکومت کی کوششوں کا دخل ہے یا کسی اور بات کا اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اس کی مزید مثبت باتوں کا پتہ لگانے کی کوشش کریں تو ایک خوردبین کی ضرورت پڑے گی بلکہ کئی خوردبینوں کی ضرورت پڑے گی۔ کیونکہ وہ ایسی ہیں ہی نہیں جو نظر آجائیں۔ ہاں منفی باتوں کے لیے کسی چشمے کی ضرورت نہیں ہے وہ ہر جگہ نمایاں ہیں، ہر جگہ دکھائی دے رہی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ حکومت انتقامی جذبے سے سرشار ہے۔ اور وہ ایسا محض یہ دکھانے کے لیے کر رہی ہے کہ وہ کرپشن یا بدعنوانی کو بالکل برداشت نہیں کرتی۔ حالانکہ راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کے بیٹے کی للت مودی معاملے میں بد عنوانیاں جگ ظاہر ہو چکی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں ویاپم گھوٹالہ تو اتنا بڑا ہے کہ اس کی دوسری مثال نہیں مل سکتی۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ کا نام بھی بار بار گھوٹالوں میں آتا رہا ہے اب ایک بار پھر آیا ہے۔ پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو نے اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر میں ان کے مشکوک رول کا انکشاف کیا ہے۔ اسی طرح انفرادی بھاجپائیوں کی بد عنوانیاں وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی یہی دعوی کرتے ہیں کہ ان کی حکومت میں کرپشن نہیں ہے۔ یہ حکومت چن چن کر ایسے معاملات سامنے لا رہی ہے جن کی بنیاد پر سابقہ حکومت کو بدنام کیا جا سکے۔ چاہے نیشنل ہیرالڈ کا معاملہ ہو یا اگستاویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر کی بات ہو۔ سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ وڈارا کا معاملہ ہو یا اس قسم کے دوسرے معاملات ہوں، یہ حکومت بس کانگریس پارٹی اور یو پی اے کو معتوب کرنے میں کوئی کسر چھوڑنا نہیں چاہتی۔ اس حکومت میں ایسے ایسے دریدہ دہن موجود ہیں کہ وہ بولنے سے پہلے سوچتے بھی نہیں۔ ان کے سرغنہ سبرامنیم سوامی ہیں۔ اور جب تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔ مذہبی منافرت کو جتنی ہوا ان دو برسوں میں دی گئی آزادی کے بعد شاید ہی کبھی دی گئی ہو۔ کبھی لو جہاد کے نام پر تو کبھی گھر واپسی کے نام پر، کبھی پاکستان بھیجنے کے نام پر تو کبھی عدم رواداری کے نام پر، جانے کن کن بہانوں سے اکثریت اور اقلیت میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ بیف پر پابندی بھی مذہبی منافرت کی ایک شکل ہے۔ حالانکہ ویدوں میں بڑے کا گوشت اور گائے کا گوشت بھی کھانے کی بات آئی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت نے بھی ایسا ہی بیان دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بیف کے نام پر لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کے واقعات بھی ہوئے۔ مہاراشٹرا میں بیف پر پابندی لگائی گئی تو بے شمار مسلم تاجروں کو اٹھا اٹھا کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ بڑے جانور کہیں لے جا رہے تھے۔ اب یہ پتا کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ کس مقصد سے لے جائے جا رہے تھے۔ آیا ان کا ذبیحہ ہوتا یا ان کو پالا جاتا۔ بس یہ دیکھا گیا کہ ٹرک پر گائے بیل بھینس بچھڑے لے جائے جا رہے ہیں۔ بس پولیس کو خبر کی گئی۔ رپورٹ لکھوائی گئی اور پولیس نے ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ٹرک ڈرائیوروں کو پکڑ لیا اور انھیں جیل میں ڈال دیا۔ ابھی پچھلے دنوں اس سلسلے میں ایک رپورٹ اخباروں میں شائع ہوئی تھی جس کے مطابق 98 فیصد مسلمان پکڑے گئے ہیں۔ اب عدالت نے مہاراشٹرا میں بیف پر پابندی سے ایک اہم شق ہٹا دی ہے۔ یعنی گائے بیل، بچھڑے اور ان کی نسل کے جانوروں کے ذبیحہ پر تو پابندی رہے گی لیکن اس کا گوشت رکھنے اور کھانے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ یعنی مہاراشٹرا میں آپ ذبح نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر کسی دوسری ریاست سے گوشت لاتے ہیں، اپنے گھر میں رکھتے ہیں اور کھاتے ہیں تو یہ جرم نہیں ہے۔ خیال رہے کہ دادری کے اخلاق کو محض اس افواہ پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا کہ اس نے اپنے فریج میں گائے کا گوشت رکھا ہے۔ جبکہ وہ لوگ چیختے چلاتے رہے کہ وہ گائے کا نہیں بکرے کا ہے۔ لیکن بھیڑ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ بعد میں فورنسک رپورٹ سے ثابت بھی ہوا کہ وہ بکرے کا گوشت تھا۔ لیکن اب کیا ہوتا ہے کیا اب اخلاق کی زندگی واپس آسکتی ہے۔ صرف اخلاق ہی نہیں بلکہ کئی بے قصوروں کو اسی بات بات پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔
اس کے خلاف پورے ملک میں آوازیں اٹھیں۔ بیف پر بین کے خلاف بھی آواز اٹھی اور اب بھی اٹھ رہی ہے۔ گودریج کمپنی کے مالک آدی گودریج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیف بین سے ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ یعنی بیف پر پابندی لگانا ملکی معیشت کے لیے مفید نہیں ہے۔ جب معیشت کی حالت ہی خراب رہے گی تو عوامی فلاح و بہبود کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ اس سلسلے کی ایک اور قابل ذکر بات ہے۔ وہ یہ کہ مراٹھواڑہ خطے میں زبردست قحط سالی ہے۔ وہاں کے لوگوں کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کھانا اور پانی میسر نہیں ہے وہ اپنے جانوروں کو کہاں سے کھلائیں پلائیں۔ اسی بات پر بی جے پی کے مہاراشٹرا کے ایک ایم ایل نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت غریبوں کے منہ سے ان کا نوالہ چھین رہی ہے۔ انھوں نے یہ بات بھی کہی تھی کہ جب وہ اپنے کھانے پینے کا انتظام کرنے سے معذور ہیں تو جانوروں کو کہاں سے کھلائیں پلائیں گے۔ وہ اس بات کی طرف بہت واضح انداز میں اشارہ کر رہے تھے کہ بڑے کے ذبیحہ پر پابندی سے غریبوں کے مسائل بڑھے ہیں۔ ورنہ پہلے یہ ہوتا تھا کہ بوڑھے جانوروں یا دودھ دینے سے معذور گایوں کو لوگ بیچ دیتے تھے اور خود لے جا کر قصائیوں کے ہاتھوں بیچ دیتے تھے۔ وہ بھی جانتے تھے کہ قصائی ان کا کیا کرے گا اور قصائی بھی کس لیے لیتے تھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس سے کسانوں کو دو فائدے ہوتے تھے۔ ایک تو یہ کہ کچھ پیسے مل جاتے تھے اور دوسرے یہ کہ جانورو ںکے کھانے پینے کا انتظام کرنے کی ذمہ داری سے ان کو نجات مل جاتی تھی۔ لیکن اب معاملہ بڑا گمبھیر ہو گیا ہے۔ اس لیے حکومت کو آدی گودریج کے بیان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
اوپر ہم نے ذکر کیا کہ یہ حکومت انتقامی جذبے سے سرشار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ریاستوں کی غیر بی جے پی حکومتوں پر بھی ہاتھ ڈال رہی ہے۔ پہلے اروناچل پردیش کی حکومت کو گرایا پھر اتارکھنڈ کی حکومت کے ساتھ انتہائی گھٹیا سلوک کیا۔ وہ تو غنیمت ہے کہ ابھی اس ملک کی عدلیہ میں زیادہ بگاڑ نہیں آیا ہے۔ اس لیے پہلے اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کی وہ گوشمالی کی کہ اس کے ہوش ٹھکانے لگ گئے۔ اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے وہ چانٹا مارا کہ حکومت تلملا کر رہ گئی۔ حالانکہ جب نریندر مودی وزیر اعظم بنے تھے تو انھوں نے اپنی تقریر میں وفاق کو مضبوط کرنے اور ریاستی حکومتوں اور مرکز کے مابین تعاون کی فضا قائم کرنے کی بات کہی تھی۔ لیکن کیا جا رہا ہے اس کا الٹا۔ اب وزیر مالیات ارون جیٹلی نے جو کہ اس حکومت میں دو نمبر کے مالک ہیں عدالتوں کے خلاف بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کی عدالتیں جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہیں۔ یہ عدلیہ سے ٹکراو¿ مول لینے کی بات ہے۔ یہ حکومت شروع سے ہی عدلیہ سے ٹکراتی رہی ہے۔ اس نے کوشش کی تھی کہ عدلیہ پر بھی پوری طرح قابو پا لیا جائے۔ اس کے لیے اس نے ججوں کے تقرر کے لیے رائج نظام سے الگ ہٹ کر ایک ایسا نظام بنانے کی کوشش کی تھی جس میں حکومت کو بالادستی حاصل ہو۔ لیکن شکر ہے کہ اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ لیکن حکومت کو عدلیہ کی سرگرمی ذرا بھی نہیں بھا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتراکھنڈ کے اس جج کا تبادلہ کر دیا گیا جس نے ریاست میں صدر راج لگانے کے خلاف شدید تبصرہ کیا تھا اور مرکزی حکومت کی زوردار انداز میں سرزنش کی تھی۔
ان تمام حقائق کے باوجود حکومت میں شامل افراد اور بی جے پی کے لوگ یہ پروپیگنڈہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں کہ جب سے یہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے دنیا بھر میں ہندوستان کا نام روشن ہوا ہے۔ جو کام پہلے کبھی نہیں ہوا وہ اب ہو رہا ہے۔ اس پر ایک سینئر صحافی اور تجزیہ نگار نے راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے طنز کیا کہ واقعی یہ حکومت ہر کام پہلی بار کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ پہلی بار ہی برسر اقتدار آئی ہے نا۔ ان تمام امور کے علاوہ ایک اور پہلو ہے جس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے اور وہ پہلو ہے وزیر اعظم کی تقریروں کا۔ وہ جہاں جاتے ہیں وہاں سے خود کو جوڑ دیتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں بیانات دے دیتے ہیں۔ اور پھر تنازعات میں پھنس جاتے ہیں۔ حالیہ تنازعہ کیرالا کا موازنہ صومالیہ سے کرنے کا ہے۔ جس پر کیرالا میں زبردست بے چینی اور اضطراب ہے۔ وزیر اعظم کی ڈگری کا معاملہ ایک الگ موضوع ہے۔ ان موضوعات پر پھر کبھی۔ بہر حال ہم نے تو بہت کوشش کی کہ اس حکومت کی مثبت باتیں تلاش کریں اور ان پر لکھ کر حکومت کی ستائش کریں۔ ہمیں تو ایسی باتیں ملی نہیں۔ آپ کو ملیں تو ہمیں ضرور خبر کیجیے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Modi gvernments 2 years and its achievements in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply