دلت سیاست حکومت کے گلے کی ہڈی بن گئی

سہیل انجم
مرکز کی نریندر مودی حکومت آر ایس ایس کے نظریے کے تحت ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی مہم میں مصروف ہے۔ وہ اپنے اقدامات سے آئین و دستور کی روح کو پامال کر رہی ہے اور ہندوستان کی رنگا رنگ تہذیب و ثقافت کو ملیا میٹ کرنے کے درپے نظر آتی ہے۔ اس کی یہ کوشش ہے کہ ملک میں ایک ایسا ماحول بنا دیا جائے جس میں آئین و دستور کی بات کرنے کی جرآت کوئی نہ کر سکے اور اس کی ضرورت بھی کسی کو محسوس نہ ہو۔ پورے ملک کو ہندوازم کے رنگ میں اس طرح رنگ دیا جائے کہ سیکولرزم کی روح ختم ہو جائے اور منووادی برہمنی نظام پورے ملک پر چھا جائے۔ اس وقت دلتوں پر زیادتی کا جو سلسلہ چل رہا ہے اور حکومت جس طرح دلتوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہ اسی سیاست کا نتیجہ ہے۔
جب سے یہ حکومت آئی ہے گایوں کے تحفظ کے نام پر غنڈہ گردی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے۔ لاتعداد گؤرکشک دل قائم ہو گئے ہیں اور گؤ شالائیں قائم کرنے کے نام پر سرکاری زمینوں پر قبضوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی حکومتوں کی گایوں کی پرورش کے نام پر اختیار کی جانے والی سیاست نے اس رجحان کو بہت زیادہ پروان چڑھایا ہے۔ غنڈوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں منووادیوں کی باتوں سے جارحیت کی بو آنے لگی ہے۔ اگر ہم دادری کے محمد اخلاق کے قتل کے بعد کے واقعات پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے اور ان کو چھوٹ دیے جانے کی وجہ سے ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گجرات کے اونا کے واقعہ نے جس میں چار دلت نوجوانوں کو نیم عریاں کرکے ایک کار سے باندھ کر ان کی پٹائی کے واقعہ نے ان واقعات کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاج کی ایک لہر پیدا کر دی۔ اپوزیشن کی جانب سے جب اس پر بہت زیاہ ہنگامہ ہوا اور اس نے یہ مطالبہ تیز کر دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس سلسلے میں چپی کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں وہ بیانات کیوں نہیں دیتے تو وزیر اعظم کے کان پر جوں رینگی اور دو روز تک رینگتی رہی۔ انھوں نے نئی دہلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ جو لوگ گایوں کے تحفظ کے نام پر ہنگامہ کر رہے ہیں وہ در اصل دکانیں چلا رہے ہیں۔ وہ رات میں جرائم کرتے ہیں اور دن میں گؤ رکشک کا چولا پہن لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان میں ستر اسی فیصد لوگ غیر سماجی عناصر ہیں۔ مودی نے ریاستی حکومتوں سے کہا کہ وہ ان کا ڈوزیئر تیار کریں اور ان کے خلاف کارروائی کریں۔
لیکن ان کے اس بیان کا خیر مقدم کسی نے نہیں کیا۔ اس اپوزیشن نے بھی نہیں جس نے ان سے بیان دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے اسے بجا طور پر سیاست سے تعبیر کیا۔ ہاں ہندو مہا سبھا اور دوسری ہندو تنظیموں کی جانب سے ان کی مخالفت میں بیانات دیے جانے لگے۔ یہا ں تک کہ ہندو مہا سبھا نے ان سے اپنا بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر اس نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی۔ وزیر اعظم نے دوسرے روز تلنگانہ میں اس سلسلے میں پھر بیان دیا۔ البتہ مخالفتوں سے گھبرا کر اپنے بیان میں تھوڑی سی تبدیلی کر لی۔ جہاں انھوں نے یہ کہا تھا کہ ستر اسی فیصد گؤ رکشک نقلی ہیں اور غیر سماجی عناصر ہیں وہیں اب انھوں نے کہا کہ مٹھی بھر لوگ حقیقی گؤ رکشکوں کی خدمات پر پانی پھیر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیان میں جذباتیت کا رنگ بھرنے کے لیے یہاں تک کہہ دیا کہ گولی چلانی ہے تو مجھ پر چلاؤ دلت بھائیوں کو مت مارو۔ لیکن ان کے موقف میں اس تبدیلی سے جس کا مقصد ہندو تنظیموں کو مطمئن کرنا تھا، کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہندو تنظیموں کے تیور میں کوئی نرمی نہیں آئی اور وہ ان کے بیان کو گؤ رکشکوں کی توہین و تذلیل والا قرار دیتے رہے۔
ان کے بیان کے بعد بی جے پی نے ان کی حمایت کی۔ مرکزی وزرا بھی بولنے لگے اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ گائے کے تحفظ کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے والوں کو بردساشت نہ کریں بلکہ ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں۔ لیکن مودی اور راج ناتھ کے بیانات کے باوجود نام نہاد گؤ رکشکوں کی غنڈہ گردی کم نہیں ہو رہی ہے۔ اس کے بعد بھی ملک کے کئی حصوں میں گائے کے تحفظ کے نام پر لوگوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ مردہ گائے کی کھال نکالنے والوں کو پیٹا جا رہا ہے۔ ادھر اب حکومت نے یہ دکھانے کی کوشش شروع کر دی کہ وہ دلتوں کی بہت بڑی ہمدرد ہے۔ اس کو دلتوں سے پریم ہے اور اگر کسی نے ان پر ترچھی نظر بھی ڈالی تو اس کی آنکھیں نکال لی جائیں گی۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کارٹونسٹ کارٹون بھی بنا رہے ہیں۔ ایک کارٹون میں جب گؤ رکشک مودی کی جانب ہتھیار لے کر دوڑ رہے ہیں تاکہ دلتوں کے بجائے ان کو ماریں تو مودی جی بھاگتے ہوئے ان سے کہتے ہیں کہ ارے کمبختو! وہ تو ایک جملہ تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ حکومت جملوں پر ہی چل رہی ہے۔ بہر حال حکومت کے ذمہ داران یہ جتانے کی بے انتہا کوشش کر رہے ہیں کہ دلتوں کے تعلق سے اس کے بارے میں لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اسے تو دلت بہت عزیز ہیں۔ وہ انھیں گلے لگانے کے لیے بے چین ہے۔ لیکن یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ ووٹ کی سیاست ہے۔ کئی ریاستوں میں اگلے سال الیکشن ہونے والے ہیں۔ اگر دلت بی جے پی سے روٹھ گیا اور اس نے مسلمانوں سے ہاتھ ملا لیا تو بی جے پی کو زبردست خسارے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس لیے وزیر اعظم بھی یہ کہنے لگے ہیں کہ مارنا ہے تو مجھے مارو دلت بھائیوں کو نہ مارو اور راج ناتھ بھی ریاستی حکومتوں کو کارروائی کی ہدایت دے رہے ہیں۔
لیکن دلتوں نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ بی جے پی کے قریب نہیں جائیں گے۔ ایسے بہت سے دلت جو 2002ءکے گجرات فسادات کے دوران مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کی املاک کو نذر آتش کرنے کے جرم میں ملوث رہے ہیں اب انھوں نے توبہ کر لی ہے۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ آگئے ہیں اور انھوں نے بی جے پی سے ناطہ توڑ لیا ہے۔ عام طور پر یہی ہوتا آیا ہے کہ دلت بھی فسادات کے دوران مسلمانوں کے خلاف کھل کر میدان میں آجاتے تھے۔ لیکن اب شاید ان کی سمجھ میں آنے لگا ہے اور وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ گجرات کے دلتوں نے وہاں مرے ہوئے جانور اٹھانے سے انکار کر دیا ہے اور سیوروں کی صفائی سے فی الحال خود کو قطع تعلق کر لیا ہے۔ جس کی وجہ سے گجرات کے شہروں کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ تعفن سے لوگوں کا جینا دشوار ہے۔ افسران کرینوں کے ذریعے مردہ جانوروں کو اٹھانے کا بند و بست کر رہے ہیں۔ لیکن آخر کب تک۔ یہ مسئلے کا مستقل حل تو ہے نہیں۔ لہٰذا بی جے پی حکومتوں کی بھی سمجھ میں آنے لگا ہے کہ انھیں دلتوں کو انسان سمجھنا ہوگا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب گؤ رکشک مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور جانور لے جانے والے یا گوشت لے جانے والے مسلمانوں کو گائے کا گوبر کھلانے اور پیشاب پینے پر مجبور کرتے ہیں اور انھیں زدوکوب کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔ اس کے دو اسباب ہیں۔ پہلا سبب تو یہ ہے کہ بی جے پی کو مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ ہمدردی تو دلتوں سے بھی نہیں ہے۔
لیکن دلتوں کے ووٹ اس کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے ووٹ کی اسے ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بغیر بھی وہ کامیاب ہوتی رہی ہے اور آگے بھی کامیاب ہوتی رہے گی۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف دلت سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ انھوں نے پر امن احتجاجی ریلیاں کی ہیں۔ مسلمان اس معاملے میں سڑک پر نہیں آئے۔ اچھا ہوا نہیں آئے۔ ورنہ وہ آتے ہیں تو اتنے جذباتی انداز میں آتے ہیں کہ پولیس ان کے خلاف کارروائی کرنے لگتی ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ اغیار اس معاملے میں اپنی روٹی سینکتے ہیں اور ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ پولیس مسلمانوں کے خلاف کارروائی پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ پولیس مسلمانوں پر زیادہ ہی مہربان رہتی ہے دوسروں پر ذرا کم ہوتی ہے۔ جو حرکت دوسرے کرتے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اگر مسلمان اس کا عشر عشیر بھی کر دیں تو بندوقوں کے دہانے کھل جاتے ہیں۔ بہر حال گؤرکشا کے نام پر دلتوں پر مظالم کا معاملہ حکومت کے گلے میں ہڈی بن کر اٹک گیا ہے جو اس سے نہ اگلتے بن رہا ہے اور نہ ہی نگلتے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Modi government and the dalit politics in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply