مودی کا ”اسلامی دیش پریم“

سہیل انجم
وزیر اعظم نریندر مودی کے دو سالہ دور حکومت کے بارے میں مذہبی آزادی کا جائزہ لینے والا امریکی کمیشن خواہ کچھ بھی کہے لیکن اسلامی ملکوں میں ان کی امیج بہت اچھی ہے۔ انھیں ایک قابل اور با صلاحیت حکمراں کے حیثیت سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی اسی حساب سے عزت و توقیر بھی کی جاتی ہے۔ امریکی کمیشن نے سال 2015 کے بارے میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ سال ہندوستان میں مذہبی آزادی کے حوالے سے بہت سخت رہا، مذہبی آزادی کی رفتار سست رہی اور مذہبی اقلیتوں کے لیے یہ سال مشکلوں سے بھرا ہوا رہا۔ اس نے بی جے پی کے صدر امت شاہ اور ممبران پارلیمنٹ سوامی ساکشی مہاراج اور آدتیہ ناتھ کے نام لے کر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب ملک میں گھر واپسی کی مہم چل رہی تھی تو یہ لوگ اس مہم کے چمپین بنے رہے۔ خیال رہے کہ حکومت نے اس کمیشن کو یہاں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور کہا تھا کہ کسی دوسرے ملک کے کسی ادارے کو ہمارے ملک کی صورت حال کا جائزہ لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے اور آئین نے عوام کو مذہبی آزادی دی ہے۔ جب یہ رپورٹ منظر عام پر آئی تو ا س وقت بھی حکومت کی جانب سے یہی بیان دیا گیا۔ لیکن بہر حال امریکی کمیشن کی رپورٹ کو پوری طرح مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں یہ جو بات کہی گئی ہے اس پر کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ گھر واپسی کے نام پر عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دو برسوں میں ان لوگوں کو خاصی قوت حاصل ہو گئی ہے جو آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ کام صرف انفرادی سطح پر نہیں ہوتا بلکہ حکومتی سطح بھی ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کو مسلمان اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔
بہر حال ان حقائق سے قطع نظر نریندر مودی کو اسلامی ملکوں سے بہت پیار ہے۔ وہ جب ان ملکوں کا دورہ کرتے ہیں تو بڑی دل لبھانے والی باتیں کرتے ہیں۔ ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے ہیرو ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ مودی جی کا سیاسی کمال ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی لچھے دار باتوں کا دیوانہ بنا دیتے ہیں اور اسلامی ملکوں کے حکمراں ان کے آگے بچھے جاتے ہیں۔ یہ بات یوں ہی نہیں کہی جا رہی ہے بلکہ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔ ذرا یاد کیجیے کہ جب انھوں نے دبئی کا دورہ کیا تھا تو وہاں کیسا ماحول تھا۔ حکمراں بھی بہت خوش تھے اور وہاں رہنے والے ہندوستانی بھی۔ بلکہ وہاں کے حکمرانوں نے تو خبروں کے مطابق دبئی میں مندر کی تعمیر کے لیے زمین دینے کا وعدہ بھی کیا جسے یہاں ہندو حلقے میں مودی کی بہت بڑی کامیابی سمجھا گیا۔ مسلمانوں نے بہت ناک بھوں چڑھائے کہ یہ کیا کیا ان لوگوں نے۔ ایک اسلامی ملک میں بت خانہ بنانے کی اجازت دے دی گئی۔ حالانکہ لوگ بتاتے ہیں کہ وہاں تو پہلے سے ہی مندر بنے ہوئے ہیں۔ ایک مندر کے لیے زمین حاصل کرنے کی کوشش بہت دنوں سے چل رہی تھی شاید اسی کے لیے وہاں کی حکومت نے وعدہ کر لیا ہو۔ اور پھر اگر دبئی میں مندر یا کلیسا بنتا ہے تو اس پر تشویش میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ دبئی تو ایک بہت ہی کھلا ہوا شہر ہے۔ جہاں مغربی ملکوں سے کہیں زیادہ آزادی اور کھلاپن ہے۔ دنیا کی کون سی چیز ہے جو دبئی میں نہیں ملتی اور وہ کون سا کام ہے جو دبئی میں نہیں ہوتا۔ مودی جی نے دبئی کی عظیم الشان مندر میں سیلفی لے کر یہ جتانے کی بھی کوشش کی تھی کہ وہ یہاں آکر کتنے خوش ہیں اور کسی مسجد میں پہلی بار داخل ہونا ان کے لیے کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اب مودی کو کیا معلوم کہ مسجد صرف عبادت کے لیے ہوتی ہے۔ وہاں تصویر کشی حرام ہے۔ جب بہت سے مسلمان خانہ کعبہ میں سیلفی لے کر عبادت کو دنیاوی آلائشوں سے داغدار کر دیتے ہیں تو مودی جی کی اس حرکت پر کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات کا ان کا دورہ کتنا کامیاب رہا اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے واپس آنے کے بعد وہاں کی حکومت نے دھڑا دھڑ بہت سے مسلمانوں کو ہندوستان بھیج دیا اور یہ کہہ کے بھیج دیا کہ یہ تمام لوگ دہشت گرد ہیں، ان کا داعش سے تعلق ہے۔ سچ مچ مودی کا دورہ بہت کامیاب رہا۔
اس کے بعد انھوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس دورے کی خاص بات یہ رہی کہ وہاں کی حکومت نے ان کو اپنے ملک کے اعلی ترین شہری اعزاز سے نوازا۔ وہ اعزاز جو دنیا کے چند ہی ملکوں کے حکمرانوں کو تفویض کیا گیا ہے۔ وہاں کے حکمراں بھی مودی کی باتوںمیں آگئے اور ان کی ایسی آو¿ بھگت کی جو ایک مثال بن گئی۔ اب مودی جی ایران جانے والے ہیں۔ جہاں وہ اعلی روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔ خامنہ ای ایران کے سب سے طاقتور رہنما ہیں۔ وہ وہاں کے پالیسی ساز ہیں او ران کے اشارے کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ ان سے مودی کی ملاقات پر کم از کم تین ملکوں کی گہری نظریں لگی رہیں گی۔ ایک پاکستان کی دوسرے اسرائیل کی اور تیسرے امریکہ کی۔ حالانکہ مودی کے امریکہ، اسرائیل اور پاکستان سے بھی اچھے رشتے ہیں۔ امریکہ کا دورہ تو وہ کئی بار کر چکے ہیں۔ در اصل 2005 سے 2013 تک ان پر امریکہ جانے پر پابندی لگی رہی۔ اب جو امریکہ نے یہ پابندی ہٹائی ہے تو مودی تمام کسر نکال لینا چاہتے ہیں۔ وہ جلد ہی پھر امریکہ جانے والے ہیں اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ امریکی کانگریس سے خطاب بھی کریں گے۔ بہر حال ان کے دورہ ایران پر تینوں ملکوں کی نظریں لگی رہیں گی۔ سفارتی سطح پر اس کی کوششیں جاری ہیں کہ یہ دورہ بھی انتہائی کامیاب ثابت ہو، تاکہ ان کے مغربی ایشیا کے خانے میں یہ جو حصہ خالی تھا وہ بھی پُر ہو جائے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر تیل دھرمیندر پردھان پہلے ہی وہاں کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ مودی کا دورہ بے انتہا کامیاب ثابت ہو۔ سشما کے دورے پر ان کی جو تصویریں آئی تھیں ان پر یہاں سوشل میڈیا میں الگ الگ قسم کے تبصرے بھی آئے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ انھیں وہاں کے رہنماو¿ں سے ملاقات کے وقت شال اوڑھنے کی کیا ضرورت تھی۔ لیکن اس پر اعتراض کرنے والوں نے شاید غور نہیں کیا کہ شال پوشی میں ان کا وقار اور بڑھ گیا تھا۔ بالکل الگ قسم کی سشما سوراج لگ رہی تھیں۔ بالکل سشما باجی یا سشما بانو لگ رہی تھیں۔ ایک سفارتکار کا کہنا ہے کہ خامنہ ای سے مودی کی ملاقات واقعی دلچسپ ثابت ہوگی۔ کیونکہ وہ وہاں کے دورے پر پہنچے کسی بھی سیاست داں سے نہیں ملتے ہیں۔ اگر وہ مودی سے ملتے ہیں تو اس کا یہی مطلب نکالا جائے گا کہ ایران کو مودی حکومت سے خاصی دلچسپی ہے۔ وہ اس کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
بہر حال مودی کو اسلامی ملکوں کے دورے مبارک ہوں۔ کیا پتا ان دوروں کی بدولت ہی ان کے اندر کچھ تبدیلی آجائے اور انھوں نے عالمی صوفی کانفرنس میں اسلام کے بارے میں جو کچھ کہا تھا اس کو وہ حقیقی معنوں میں اپنی زندگی میں بھی اتار لیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: modi and his islamic countries trips | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply