مینکا بتائیں انسانی جان قیمتی ہے یا جانوروں کی؟

سہیل انجم
قدرت کی بنائی ہوئی اس کائنات میں ہزاروں مخلوقات ہیں اور ان تمام کے رزق کا ذمہ اللہ تعالی نے لے رکھا ہے۔ گھنے جنگلوں میں رہنے والے خونخوار جانور ہوں یا انسانوں کے درمیان رہنے والے بے ضرر حیوان۔ چرند و پرند ہوں یا درند۔ سب کی زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اس کائنات میں اولیت انسان کو دی گئی ہے۔ اسے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا گیا ہے۔ اسی لیے اسے دماغ جیسی قوت دی گئی ہے جس کے بل بوتے پر وہ ستاروں پر بھی کمند ڈالتا ہے اور سمندروں کی گہرائیاں بھی ناپتا ہے۔ انسانی آبادیوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جنگلوں کے راز جاننے کی سعی کرتا ہے۔ قدرت نے ہزاروں قسم کے جانور پیدا کیے ہیں جن میں سے بہت سے جانوروں کو انسان دوست بنایا ہے اور بہت سے جانور انسان دشمن ہیں یعنی وہ انسانوں کو بھی چیر پھاڑ کر کھا جانے والے ہیں۔ انسان دوست جانوروں کو انسان پالتا ہے اور دشمن جانوروں سے دور بھاگتا ہے اور موقع ملتے ہی انھیں ختم کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ قدرت نے بہت سے جانوروں کو انسانوں کی غذا میں شامل کیا ہے۔ یعنی وہ انھیں مار کر کھا سکتے ہیں۔ ایسے جانوروں میں بعض وہ جانور بھی شامل ہیں جن کو انسان پالتا ہے اور بعض وہ بھی ہیں جو جنگلوں میں پائے جاتے ہیں۔ چونکہ انسان کو تمام مخلوقات میں اشرف بنایا گیا ہے اس لیے اس کے تحفظ کو حیوانوں کے تحفظ پر فوقیت دی گئی ہے۔ یعنی اگر کوئی جانور انسانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے تو انسان اسے مار سکتے ہیں۔
لیکن اس ترقی یافتہ دنیا میں انسانوں کے حقوق سے زیادہ حیوانوں کی حقوق کے تحفظ کی باتیں کی جاتی ہیں۔ جنگلی جانوروں کے ہاتھوں انسانوں کے حقوق تلف ہوتے ہوں تو ہوں لیکن انسانوں کے ہاتھوں جانوروں کے حقوق تلف نہیں ہونے چاہئیں۔ جہاں انسانی حقوق کی بہت سی تنظیمیں ہیں اور بہت سے کارکن ہیں وہیں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں بھی تنظیمیں قائم ہیں اور بہت سے کارکنوں نے جانوروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ ہندوستان میں یوں تو ایسے بہت سے لوگ ہیں لیکن ان میں سرفہرست بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر مینکا گاندھی ہیں جو جانوروں پر ہوتا ہوا” ظلم“ برداشت نہیں کر سکتیں۔ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جس میں ان کو لگتا ہے کہ جانوروں پر ظلم ہو رہا ہے تو وہ میدان میں کود پڑتی ہیں۔ ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ جانوروں کے حقوق کی حفاظت کے نام پر انسانوں کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں جب اتراکھنڈ میں ایک بی جے پی ایم پی نے پولیس کے ایک انتہائی طاقتور اور خوبصورت گھوڑے شکتی مان پر ظلم کیا تو جانوروں سے پریم کا ان کا جذبہ بہت دیر میں بیدار ہوا تھا۔
اب جانوروں کو مارنے یا نہ مارنے کے مسئلے پر اپنی ہی حکومت کی ایک وزارت کے ساتھ ان کی ٹھن گئی ہے۔ وہ وزارت ماحولیات سے متعلق ہے اور وزیر ہیں پرکاش جاوڈیکر۔ در اصل بہار میں نیل گائیں ایک عرصے سے فصلوں کو تباہ کر رہی تھیں۔ اب مرکزی وزیر ماحولیات نے ریاستی حکومت کی درخواست پر نیل گایوں کو مارنے کی اجازت دے دی اور تین روز میں ڈھائی سو نیل گائیں ماری جا چکی ہیں۔ جس پر مینکا گاندھی کا جانور پریم بیدار ہو گیا ہے اور وہ چراغ پا ہو گئی ہیں۔ انھوں نے پرکاش جاوڈیکر پر زوردار حملہ کیا ہے۔ لیکن جاوڈیکر نے شائستگی کے ساتھ جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ریاستی حکومت کی درخواست کا مطالعہ کرنے کے بعد سائنٹفک مینجمنٹ کے تحت نیل گایوں کو مارنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن یہ معاملہ ابھی حل نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ چھ مہینوں میں ماحولیات کی وزارت نے تین نوٹی فکیشن جاری کیے جن پر مینکا گاندھی بری طرح برافروختہ ہیں۔ ان نوٹی فکیشنوں میں کسی نہ کسی ریاست میں کسی نہ کسی جنگلی جانور کو انسانوں کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے اور اس طرح ان کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزارت نے دسمبر میں کہا کہ بہار میں نیل گائیں انسانوں اور ان کی فصلوں کے لیے خطرناک ثابت ہو چکی ہیں اس لیے ان کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس نے فروری نے اترا کھنڈ میں جنگلی خنزیر کو انسانوں کے لیے خطرناک قرار دیا۔ اور ایک ماہ بعد یہ اعلان کیا کہ ہماچل پردیش میں بندر انسانوں کے لیے خطرناک ہو گئے ہیں۔ یہی وہ نوٹی فکیشن ہیں جن پر مینکا کو بہت زیادہ غصہ آگیا ہے۔ لیکن ان کو اس پر غصہ نہیں آتا کہ یہ جانور انسانی زندگی کے لیے کیوں خطرناک اور نقصاندہ ہو جاتے ہیں۔ ان نوٹی فکیشنوں نے ان جانوروں کو مارنے کا راستہ ہموار کر دیا جو انسانوں اور فصلو ںکے لیے نقصاندہ ہوں۔ اسی کے تحت بہار میں نیل گایوں کو مارا جا رہا ہے۔ پوری ریاست میں انھیں مارنے کے لیے مشاق نشانے باز نہیں ملے تو وزارت نے حیدرآباد سے نشانے باز بلوایا۔ اتفاق سے وہ ایک مسلمان ہے۔ یہ بات اور بھی مینکا کو کھل رہی ہے اور وہ طنز کر رہی ہیں کہ جب بہار میں نیل گایوں کو مارنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوا تو باہر سے قاتل منگائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جانوروں کو قتل کرنے کے اس ”لالچ“ کو سمجھ نہیں پا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وزارت ماحولیات نے اپنے طور پر ایک مکتوب کے ذریعے تمام ریاستوں سے دریافت کیا ہے کہ وہ جانوروں کو مارنے کی تجویز پیش کریں کہ کون سا جانور نقصاندہ ہو رہا ہے۔ بقول مینکا گاندھی وزارت نے بہار میں نیل گایوں کو مارنے کی اجازت دی، بنگال میں ہاتھیوں کو ، اتراکھنڈ میں جنگلی سووروں کو، گوا میں مور کو او رہماچل پردیش میں بندروں کو۔
ان کے اعتراض کے جواب میں وزارت ماحولیات نے ایک وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال پانچ سو سے زائد انسانوں کی جانیں جنگلی جانوروں کے ہاتھوں ضائع ہوئیں۔ قانون میں اس کا باضابطہ انتظام ہے کہ اگر جنگلی جانور انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہو جائیں تو انھیں مارا جا سکتا ہے۔ اگر کسی ریاست میں انسانوں اور جانوروں کے درمیان ایسا تنازعہ پیدا ہو جائے تو متعلقہ ریاست مرکزی حکومت کو اس بارے میں یعنی جانوروں کو مارنے کے بارے میں اپنی تجویز پیش کر سکتی ہے۔ اب تک پانچ ریاستیں اپنی تجویز پیش کر چکی ہیں۔ وزارت نے ان کا جائزہ لیا اور مخصوص علاقوں میں مخصوص مدت تک جانوروں کو مارنے کی اجازت دی۔ جنگلی سووروں، نیل گایوں اور دوسرے جانوروں کے بارے میں شکایات موصول ہوئی ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں کی جانیں قیمتی ہیں یا جانوروں کی۔ اگر جنگلی جانور انسانوں اور ان کی فصلوں کے لیے خطرناک بن جائیں اور ان سے جان و مال کو نقصان ہونے لگے تو پھر کیا کیا جائے۔ کیا خاموش تماشہ دیکھا جائے اور اس لیے کچھ نہ بولا جائے کہ جانوروں کے حقوق تلف ہوں گے۔ کیا چپ چاپ اپنا نقصان ہوتے دیکھا جائے۔ کیا مینکا گاندھی یہ بتا سکتی ہیں کہ اگر کوئی جانور ان کی زندگی کے لیے خطرناک بن جائے تب بھی وہ خاموش رہیں گی اور اس لیے اس جانور کو کچھ نہیں کہیں گی کہ اس کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں تو اگر کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے لیے نقصاندہ ہو جائے اور بلا وجہ اس کی جان کا دشمن بن جائے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کے لیے قانون موجود ہے۔ اس کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے گی اور اگر وہ نہیں مانے گا تو قانون کے ہاتھ سے اسے روکا جائے گا اور اسے اس کے جرم کی سزا دی جائے گی۔ کیا جانوروں کی جان انسانوں کے مقابلے میں اتنی قیمتی ہو گئی ہے کہ انسان اپنی جان گنوا دے مگر جانور کو اف تک نہ کہے۔ یہ کون سی دلیل ہے اور کون سا حیوان پریم ہے۔ ہاں اگر کوئی بلا وجہ کسی جانور کو ستاتا ہے اور اسے مارتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی جانور انسانوں کے لیے خطرناک بن جائے تو اسے گولی مار دی جاتی ہے۔ ایسے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ کیا صرف اس وجہ سے جنگلی جانوروں کی نسلیں روئے زمین سے ختم نہ ہو جائیں، انھیں کچھ نہ کہا جائے چاہے وہ انسانوں کی جان لے لیں یا ان کی فصلیں تباہ کرے انھیں بھوکوں مرنے پر مجبور کر دیں۔ مینکا جی پہلے انسانوں کے تو حقوق کا تحفظ کیجیے، جانوروں کے حقوق کا تحفظ اس کے بعد آئے گا۔ اگر ان کی باتوں پر عمل کیا گیا تو یہ دنیا انسانی آبادیوں سے خالی ہو جائے گی اور جنگلی جانورو ں کی دنیا بن جائے گی۔ آبادیاں انسانوں کے رہنے کے لیے ہوتی ہیں اور جنگل جنگلی جانوروں کے لیے۔ قدرت کے اس قانون میں مداخلت کی گئی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اور ہم قدرت کے قانون میں مداخلت کے نتائج بارہا دیکھ چکے ہیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Menka gandhi and killing of crop raiding animals in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply