پاکستان سے بندوق کی گولی کے جواب میں ہندوستان سے میڈیکل ویزے

سہیل انجم
”دشمن ملک شرارتوں سے باز نہ آیا تو
اس کا اچھی طرح علاج کریں گے۔
اس پر بم باری کریں گے،
میزائل پھینکیں گے،
اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔“
ڈوڈو (ایک فرضی کردار) کا سیکریٹری یہ بیان لکھ کر لایا۔
”سر،آپ کے نام سے اخبارات کو جاری کر دوں؟“
اس نے دریافت کیا۔
”نہیں، رہنے دو۔“
ڈوڈو نے منع کیا۔
”آجکل گرما گرم بیانات آ رہے ہیں۔
آپ کیوں منع کر رہے ہیں؟“
سیکریٹری نے پوچھا۔
ڈوڈو نے نظر چراتے ہوئے کہا،
”میرے بھتیجے کے دل میں سوراخ ہے۔
بھائی اسے لے کرآپریشن کے لئے دشمن ملک گیا ہے۔“
یہ پاکستان کے ایک قلمکار مبشر علی زیدی کا ایک مختصر طنزیہ کالم ہے جو ہم نے روزنامہ جنگ کراچی کی دس اکتوبر کی اشاعت سے لیا ہے اور اس کا عنوان ہے علاج۔ مبشر علی زیدی اخبار میں سو لفظوں کا ایک مختصر کالم روزانہ لکھتے ہیں جس میں بڑی کاٹ ہوتی ہے اور کبھی کبھار مزاح کا بھی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
ہم نے یہ کالم اس لیے مستعار لیا تاکہ ہندوستان اور پاکستان کے رشتوں کی ایک نئی شکل آپ کے سامنے پیش کر سکیں۔ ہم بار بار یہ بات لکھتے رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے رشتے بہت عجیب ہیں۔ اگر چہ دونوں ملکوں میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو ہمیشہ جنگی جنون پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہے جو دوستانہ رشتوں کی وکالت کرتی ہے اور جسے دشمنی و منافرت سے نہیں بلکہ خیر خواہی اور گہرے مراسم سے دلچسپی ہے۔ مذکورہ کالم سے جو بات بہت کھل کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سیاست داں ہی ہیں جو باہمی رشتوں میں تلخی گھول رہے ہیں۔ جب ان کا ذاتی مفاد سامنے ہوگا تو یا تو میٹھی باتیں کریں گے یا خاموش ہو جائیں اور جب سیاسی مفاد سامنے ہوگا تو تلوار لے کر میدان میں نکل آئیں گے اور اپنی فنی مہارت کا مظاہرہ کرنے لگیں گے۔
ایک طرف دونوں ملکوں کی سرحدوں پر دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ اور مجبوراً ہندوستان کی جانب سے جوابی فائرنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ دونوں جانب کے فوجی اور سویلین ہلاک بھی ہوتے ہیں ۔ لیکن اسی کے دوش بہ دوش یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ موت کے اس رقص کے درمیان زندگی کا جشن بھی برپا ہے۔ ہر سال سیکڑوں پاکستانی مریضوں کا ہندوستان میں علاج ہوتا ہے اور وہ شفا یابی کا تحفہ لے کر اس ”دشمن ملک“ کی سرزمین سے اپنے وطن واپس لوٹتے ہیں۔ ابھی رواں ماہ کے ابتدائی دس دنوں میں پاکستان کے پانچ مریضوں کو ہندوستان نے میڈیکل ویزا جاری کیا ہے۔ اور اس کا سہرا بلا شبہ ہندوستان کی انسانیت نواز اور ہمدرد دل کی مالک وزیر خارجہ سشما سوراج کے سر جاتا ہے۔ پہلے میڈیکل ویزا حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔ لیکن اب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی درخواست ،ڈالیے اور ویزا لے لیجیے۔
آجکل یہی ہو رہا ہے کہ اسلام آباد میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن میں میڈیکل ویزا کی درخواست دینے کے بعد لوگ ٹویٹر پر وزیر خارجہ سشما سوراج کے نام ایک درخواست پوسٹ کر دیتے ہیں اور ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کیس پر ہمدردانہ غور کریں اور پھر سشما جی کا جواب اسی ٹیوٹر پر آتا ہے کہ آپ کو ویزا دے دیا گیا ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں سیکڑوں پاکستانیوں نے ہندوستان آکر اپنا علاج کرایا ہے۔ اور یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ اس سے قبل ابھی حال ہی میں سشما سوراج نے یہ شرط لگا دی تھی کہ کوئی پاکستانی اگر ویزا کی درخواست دیتا ہے تو اس کے ساتھ اسے وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا سفارشی خط بھی ہونا چاہیے۔ لیکن اب انھوں نے یہ شرط واپس لے لی ہے۔ اب اس کے بغیر ہی ویزا جاری کیا جار ہا ہے۔
جن امراض کا علاج یہاں پاکستانیوں کو آسان لگتا ہے ان میں دل اور جگر کے امراض قابل ذکر ہیں۔ کسی کے دل میں سوراخ ہے تو کسی کا انتہائی پیچیدہ اوپن ہارٹ آپریشن ہونا ہے۔ کسی کے جگر کی پیوند کاری ہونی ہے تو کسی کو کوئی اور خطرناک مرض لاحق ہے۔ ایسے امراض کا علاج دہلی، ممبئی، بنگلور اور چنڈی گڑھ میں ہو رہا ہے۔ پاکستانی باشندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان امراض کے علاج کی بہتر سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تو ہندوستان میں بہترین علاج ہوتا ہے اور دوسرے کم خرچ پر ہوتا ہے۔ وہی علاج جو ہندوستان میں دو تین لاکھ میں ہو جاتا ہے وہی امریکہ وغیرہ میں دسیوں لاکھ میں بھی نہیں ہو پاتا۔ اس لیے پاکستانیوں کو یہ آسان لگتا ہے کہ وہ ہندوستان میں آکر علاج کروائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہندوستان ایک پڑوسی ملک ہے۔
اگر چہ دونوں کے رشتوں میں تلخیاں ہیں لیکن پھر بھی شہریوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے گھر میں یا اپنے ملک میں ہیں۔ وہی زبان، وہی تہذیب و ثقافت، وہی انداز بود و باش۔ جبکہ یوروپی ملکوں یا امریکہ وغیرہ میں بہر حال غیریت کا احساس ہوتا ہے۔ اور پھر آج اگر چہ دونوں دو ملک ہو گئے ہیں لیکن دونوں کی بنیاد تو ایک ہی ہے۔ دونوں میں بہت سی مماثلتیں ہیں۔ بہت سی قدریں مشترک ہیں۔ آخر دونو ںتو ایک ہی تھے۔ بس یوں ہو گیا ہے کہ جیسے دو بھائیوں میں اختلاف ہو جائے اور دونوں الگ ہو جائیں۔ اپنے گھروں کے درمیان دیواریں کھڑی کر لیں۔ لیکن کوئی بھی بات ہوگی تو دونوں کے دل ایک ساتھ دھڑکیں گے اور ایک ساتھ دھڑکنا بھی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کا کوئی شخص اپنے کسی شیر خوار بچے کے دل میں سوراخ ہونے کی بات کرتا ہے، یا کوئی اوپن ہارٹ سرجری کی بات کرتا ہے، یا کوئی اپنے کسی بچے یا والدین میں سے کسی کے جگر کی پیوند کاری کی بات کرتا ہے تو سشما سوراج کا بھی دل دھڑک اٹھتا ہے اور ہر انصاف پسند ہندوستانی کا بھی دھڑکنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باہمی چشمک اور کشیدگی کے باوجود زندگی کا جشن بھی جاری ہے۔ خدا کرے کہ موت کا رقص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے اور زندگی کا رقص شروع ہو جائے، اس کا جشن سرحد کی دونوں طرف پورے شباب پر چلتا رہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Medicl visa from india in response of pak firng at loc in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply