معاشرے پر میڈیا کے مثبت و منفی کردار کے اثرات

سہیل انجم
گزشتہ دنوں جنوبی دہلی کے ابوالفضل انکلیو میں محفوظ الرحمن یادگاری خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ اس کا اہتمام محفوظ الرحمن میموریل کمیٹی نے کیا تھا۔ اس کی صدارت کرتے ہوئے سینئر صحافی سید منصور آغا نے محفوظ الرحمن کی صحافتی و شخصی خوبیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ صرف ایک صحافی ہی نہیں تھے بلکہ ایک دانشور بھی تھے۔ لیکن وہ آج کے دانشوروں سے بالکل الگ تھے۔ منصور آغا نے آج کے میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا اس وقت میڈیا جس طرز فکر سے کام لے رہا ہے وہ چند دنوں کی پیداوار نہیں ہے بلکہ اس کے لیے برسوں سے محنت کی جا رہی تھی۔ آزادی سے قبل اور اس کے بعد کے حالات کا بھی اثر ہے۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے لیکن بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی لائے گا۔ محفوظ الرحمن میموریل کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر سید احمد خاں نے بھی محفوظ الرحمن کی خوبیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ انھوں نے بہت کم لوگوں کو اپنا شاگرد بنایا تھا لیکن جن کو بنایا تھا وہ ان کے نقش قدم پر دلجمعی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا انعقاد غالب اکیڈمی میں ہونا تھا لیکن حکومت کی ایڈوائزری کے پیش نظر اسے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا اور بہت محدود پیمانے پر اور علامتی انداز میں کیا گیا۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی نے کہا کہ آج میڈیا دو حلقوں میں بٹ گیا ہے۔ ایک مثبت انداز میں کام کرتا ہے اور دوسرا منفی انداز میں۔
اس موقع پر یادگاری خطبہ راقم الحروف (سہیل انجم) نے پیش کیا۔ انھوں نے درج بالا موضوع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے میڈیا کے مثبت و منفی کردار کا جائزہ کیا اور کہا کہ جس طرح ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا دوسرا برا، ایک مثبت دوسرا منفی۔ اسی طرح میڈیا کے بھی دو پہلو ہیں ایک مثبت اور دوسرا منفی۔ آج میڈیا ایک بہت طاقتور Tool بن گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کی عظیم الشان عمارت جن چار ستونوں پر ٹکی ہوئی ہے ان میں ایک میڈیا بھی ہے۔ ان چاروں میں سے اگر کوئی ایک بھی ستون کمزور پڑ جائے یا اس میں کجی آجائے تو جمہوریت کی عمارت کی دیوار بھی کج ہو جاتی ہے اور اس کے کمزور ہوتے ہوتے منہدم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ اس وقت یہ چوتھا ستون بہت کمزور ہو گیا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ باقی جو تین ستون ہیں وہ ہیں مقننہ، منتظمہ اور عدلیہ۔ مقننہ یعنی پارلیمنٹ، منتظمہ یعنی ایڈمنسٹریشن اور ہماری عدالتیں۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ باقی تینوں ستون بھی کمزور ہو گئے ہیں لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ حکومت کے زیر اثر ہیں۔ عدلیہ سے کچھ امیدیں وابستہ ہیں اور وہ اکثر و بیشتر مواقع پر یہ ثابت کر تی رہتی ہے کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی اب بھی مضبوط ہے، گلی نہیں ہے۔
ہاں میڈیا کی ریڑھ کی ہڈی ضرور گل گئی ہے۔ اس پر حکومت اس طرح اثرانداز ہو گئی ہے یا حاوی ہو گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کی اپنی آزادی کہیں کھو گئی ہے۔ خاص طور پر سماجی ایشوز اور سماجی سروکاروں کے معاملے میں الیکٹرانک میڈیا کا جو رویہ ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ لیکن ہم اس پر بعد میں آئیں گے۔ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ کیا میڈیا کا کوئی مثبت کیرکٹر بھی ہے یا نہیں۔ یا جو کچھ ہے وہ منفی ہی ہے۔ بے انتہا خرابیوں کے باوجود ہم یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ میڈیا میں اب بھی ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس کے مثبت کردار کے محافظ ہیں اور جو میڈیا کی آبرو ہیں اور جن کی رپورٹیں اس بات کی ضامن ہیں کہ جب تک ایسے لوگ موجود رہیں گے میڈیا کا مثبت کردار بھی باقی رہے گا۔ میڈیا بہت سے معاملات میں عوام کو بیدار کرنے کا کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت ہندوستان سمیت پوری دنیا میں کروناوائرس کا خوف چھایا ہوا ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا دونوں پلیٹ فارموں پر اس سلسلے میں بہت اچھی رپورٹیں آرہی ہیں۔ لوگوں کو باخبر کیا جا رہا ہے اور ان کو حکومتوں کی جاری کردہ تدابیر کے علاوہ ڈاکٹروں کے ذریعے بتائی جانے والی ایسی تدابیر سے بھی روبرو کرایا جا رہا ہے جن کو اپنا کر وہ اس ہلاکت خیز وبا سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اسی طرح جب بھی ملک میں کوئی اہم واقعہ پیش آتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا بہت زیادہ چوکس ہو جاتا ہے اور اس واقعہ کے پل پل اور لمحے لمحے کی خبر سے عوام کو آگاہ کرتا رہتا ہے اور انھیں بیدار بھی کرتا ہے اور ان کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اب بھی چند ایسے نیوز چینل موجود ہیں جو دوسرے نیوز چینلوں کی آپا دھاپی میں شامل نہیں ہیں اور جو اب بھی اپنے کردار کو بچائے ہوئے ہیں۔ ان چینلوں پر جذباتی ایشوز پر بحث کرانے کے بجائے تعمیری ایشوز پر گفتگو ہوتی ہے اور متعلقہ موضوع کا علم رکھنے والوں کو بلا کر ان سے بات چیت کی جاتی ہے۔ ان نیوز چینلوں پر عوام سے تعلق رکھنے والے حقیقی مسائل اٹھائے جاتے ہیں اور ان کو حل کرنے کے راستے بھی بتائے جاتے ہیں۔ ایسی صحافت کرنے والے صحافیوں کو ان کی تعمیری صحافت کی وجہ سے ایوارڈز بھی دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر این ڈی ٹی وی کے رویش کمار کی مثبت رپورٹنگ کی وجہ سے ان کو ایک باوقار ریمن میگسیسے ایوارڈ تفویض کیا گیا۔
اسی طرح این ڈی ٹی وی ٹوینٹی فور سیون کی ندھی رازدان کو کٹھوعہ کی ایک آٹھ سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کے واقعہ کی مثبت اور تعمیری رپورٹنگ کی وجہ سے انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ ایوارڈ حاصل ہوا۔ ایوارڈ لینے کے موقع پر انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل کی کرائم اسٹوری نہیں تھی بلکہ ایک بچی کے خلاف ایک خوفناک واردات تھی جس کے بعد ہم نے فرقہ واریت کا بھیانک چہرہ دیکھا۔ ہم نے اس اسٹوری کو از ابتدا تا انتہا پیش کیا اور بالآخر انصاف ہوا اور کلیدی ملزموں کو جیل بھیجا گیا۔ یہ ایوارڈ ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب میڈیا کی آزادی کو زبردست چیلنجز لاحق ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ اگر میڈیا کسی دباو¿ کے بغیر اور مثبت انداز میں کام کرے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
میں این ڈی ٹی وی ہی سے ایک اور مثال دینا چاہوں گا۔ این ڈی ٹی وی کے مالک اور سینئر انگریزی صحافی پرنے رائے 2017 کے یو پی اسمبلی انتخابات کی فیلڈ کوریج کر رہے تھے۔ انھوں نے الہ آباد کے نزدیک نچلی ذات کے ہندووں کے ایک گاو¿ں کا اپنی ٹیم کے ساتھ دورہ کیا۔ وہ ایک غریب گاو¿ں میں پہنچے اور ایک گھر کے سامنے ایک پچیس تیس سال کی خاتون سے بات کرنے لگے۔ وہ بہت جھجک کے ساتھ گفتگو کر رہی تھی۔ وہ جب بھی مائک اس خاتون کے سامنے کرکے کوئی سوال کرتے تو وہیں دروازے میں کھڑی ایک کم عمر لڑکی جواب دینے لگتی۔ وہ مائک اس کے سامنے کر دیتے۔ پھر خاتون کے سامنے مائک کرکے سوال پوچھتے اور پھر وہ جھجکتی اور لڑکی فراٹے سے جواب دینے لگتی۔ جب دو تین بار ایسا ہوا تو ان کے صحافی دماغ نے تاڑ لیا کہ اس لڑکی میں کچھ بات ضرور ہے اسی سے گفتگو کرنی چاہیے۔ وہ خاتون اس لڑکی کی بھابھی تھی۔ اب ان کی پوری توجہ اس لڑکی کی جانب ہو گئی۔ انھوں نے اس کے گھر کی اقتصادی حالت اور دیگر بہت سے معاملات پر اس سے گفتگو کی۔ وہ کھل کر بات کرتی رہی۔ پھر اس نے اپنی غریبی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ بڑے لوگوں کے کھیت کاٹتے ہیں (یعنی فصل کاٹتے ہیں) تو کچھ پیسے مل جاتے ہیں اور گزارہ چل جاتا ہے۔ لیکن اب جانور اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ وہی کھیت چر لیتے ہیں ہم لوگوں کو کاٹنے کو اب کوئی نہیں دیتا۔ اس نے بڑی حسرت سے کہا کہ اب ہم لوگ بھی جانور بن جائیں تو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اس کے بعد لڑکی نے کہا کہ وہ اب کھیت میں جائے گی اور وہاں سے بورے میں بھوسہ بھر کر لائے گی۔ پرنے رائے نے پوچھا کہ کھیت کتنی دور ہے۔ اس نے بتایا ڈیرھ دو کلو میٹر۔ انھوں نے کہا ہم بھی ساتھ چلیں گے۔ اب آگے آگے لڑکی اور پیچھے پیچھے مائک لیے ہوئے پوری ٹیم کے ساتھ پرنے رائے۔ کھیت کھیت اور مینڈ مینڈ چلتے ہوئے وہ مقررہ جگہ پر پہنچے۔ وہاں دو تین عورتیں ملیں ان سے بھی انھوں نے بات کی۔ پھر لڑکی بورے میں بھوسہ بھر کر سر پر رکھ کر واپس آئی۔ پھر پرنے رائے اور ان کی ٹیم اس کے پیچھے پیچھے۔ وہ آتے اور جاتے وقت بھی اس سے باتیں کرتے رہے۔ اس کے گھر کے، علاقے کے، اسکول کے، ٹیچرس کے، اس کے مستقبل کے بارے میں، گویا انھوں نے کوئی بات چھوڑی نہیں جو پوچھی نہ ہو۔ اور لڑکی ہر سوال کا بڑی بیباکی کے ساتھ اور مہذب انداز میں جواب دیتی رہی۔ واپسی پر وہ پھر اس کے گھر کے اندر گئے اور چوپائے دیکھنے کے لیے اس کی گھاری میں گئے۔ پھر اجازت لے کر واپس چلے گئے۔ اس لڑکی کی عمر گیارہ سال تھی۔ وہ درجہ سات کی طالبہ تھی۔ اس کا نام سونینا تھا۔ انھوں نے ایک انٹرو بنایا کہ کس طرح ایک غریب گھر کی لڑکی اپنی زندگی، مستقبل، اپنے اہداف اور مقامی حالات وواقعات کے بارے میں بہت واضح وژن رکھتی ہے اور پھر ایڈٹ کرکے نصف گھنٹے کی اسٹوری ”سونینا کی کہانی“ کے نام سے یو ٹیوب پر پوسٹ کر دی۔ پرنے رائے کو اس اسٹوری پر انٹرنیشنل ایوارڈ ملا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مثبت رپورٹنگ کی یہ ایک انتہائی عمدہ مثال ہے۔
نیوز چینلوں کی مانند بہت سے اخبارات بھی سماجی مسائل کے تئیں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ جس طرح سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران کئی نیوز چینلوں نے مثبت رپورٹنگ کی اور حال ہی میں دہلی میں بھڑکے فسادات کے تعلق سے مثبت کردار ادا کیا اسی طرح اخبارات نے بھی ان دونوں ایشوز پر مثبت رول ادا کیا۔ اخبارات میں ایسی مبنی بر حقیقت رپورٹیں شائع ہوئیں جن کی امید بہت کم تھی۔ ان اخباروں نے کچھ بدنام اخباروں کی مانند منفی رول ادا نہیں کیا اور اپنی رپورٹنگ سے فساد کو مزید بھڑکانے کی کوشش نہیں کی۔ متعدد ہندی اور انگریزی روزناموں میں مسلمانوں کی جانب سے ہندووں اور ہندووں کی جانب سے مسلمانوں کو پناہ دینے کی خبریں نمایاں انداز میں شائع کی گئیں اور ایک دوسرے کی مدد کے رجحان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ بعض بڑے صحافیوں نے بھی حقیقت پر مبنی تجزیے پیش کیے اور کچھ چھوٹے اور متوسط صحافیوں نے بھی اچھا رول نبھایا۔ حالانکہ تمام اخبارات کا یہ رول نہیں رہا۔ بہت سے اخباروں نے منفی کارکردگی دکھائی۔ لیکن بہر حال ایسے اخبارات بھی دیکھے گئے جنھوں نے اپنے فرائض کو بخوبی ادا کیا۔ ایسے اخباروں میں دی ہندو، ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، انڈین ایکسپریس اور نوبھارت ٹائمس قابل ذکر ہیں۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا جن اہم ایشوز کو چھپا جاتا ہے سوشل میڈیا ان کو واشگاف کر دیتا ہے۔ سیاست دانوں کی بہت سی کارستانیاں جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نہیں دکھاتا سوشل میڈیا پر بے نقاب ہو جاتی ہیں۔ ایسی بہت سی باتیں جو عوام کے سامنے آنی چاہئیں مگر نہیں آپاتیں سوشل میڈیا ان کو سامنے لے آتا ہے۔ حالانکہ اس کا غلط اور منفی استعمال بھی ہوتا ہے اور اس کے توسط سے بہت سی فرضی خبریں اور افواہیں پھیلا کر ماحول کو خراب کرنے یا بعض طبقات اور کچھ لوگوں کو بدنام کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کا ایک مثبت کردار بھی ہے اور بہت مضبوط کردار ہے۔ ابھی جب دہلی میں فسادات ہوئے تو سوشل میڈیا کے توسط سے جہاں افواہ بازی کی گئی وہیں اس پر حقائق بھی بیان کیے گئے۔ متعدد یو ٹیوب چینلوں پر متاثرین کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات بیان کیے گئے، فساد کی سازشوں کی پرتیں کھولی گئیں اور فسادیوں اور شرپسندوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور انتظامیہ کی بھی قلعی اتاری گئی۔ یو ٹیوب چینلوں پر جو حقائق پیش کیے گئے اس کی وجہ سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔
لیکن یہ چند مستثنیات ہیں۔ سوشل میڈیا کے علاوہ کچھ خاص چینل اور اخبار ہی ہیں جو صحافت کی روح کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور جو مسلمانوں کے معاملات کو منفی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جب مسلمانوں کا کوئی معاملہ درپیش ہوتا ہے تو میڈیا منفی طرز فکر سے کام لینے لگتا ہے۔ وہ ایسی چیزوں کو اچھالتا ہے جن سے مسلمانوں اور ان کے مذہب کی بدنامی ہو۔ ہندوستانی مسلمانوں کو جان بوجھ کر پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان پر دہشت گردی کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کسی ایک مسلمان نے غلطی سے بھی کوئی اشتعال انگیز بیان دے دیا ہے تو اس کی آڑ میں پورے ملک کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سی اے اے، این پی آر اور مجوزہ این آر سی کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ برادران وطن بھی بڑی تعداد میں شامل ہے۔ لیکن ان مظاہروں کی آڑ میں مسلمانوں کو ملک دشمن اور غدار ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ میڈیا میں متعصب ذہنوں کی بڑی کارفرمائی ہے۔ ایک خاص مکتب فکر کے حامل افراد کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ کھول دیا گیا ہے اور میڈیا اس محاذ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پورے ملک میں کئی سو نیوز چینل ہیں اور تقریباً تمام چینلوں پر پرائم ٹائم میں کسی نہ کسی اہم مسئلے پر پینل ڈبیٹ یا اجتماعی مباحثہ ہوتا ہے۔ ان مباحثوں میں اینکر کا رول غیر جانبدارانہ نہیں رہ پاتا۔ وہ ایک فریق بن جاتا ہے اور مسلم مخالف پینلسٹ کے لیے ماحول سازگار کرتا رہتا ہے اور بوقت ضرورت آن کیمرہ ان کی مدد بھی کرتا ہے۔ ان اینکروں کی چال میں مسلم پینلسٹ پھنس جاتے ہیں۔ بلکہ بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مسلم پینلسٹ جان بوجھ کر اینکروں کے آلہ کار بنتے ہیں۔ ان سے ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف ہوں اور وہ ان کے کوئی ٹھوس جواب نہیں دے پاتے۔ اگر غلطی سے انھوں نے کسی ایسے مسلمان کو بلا لیا ہے جو صحیح اور ٹھوس جواب دے سکے تو یا تو اسے بولنے نہیں دیا جاتا یا پھر اس کے جواب کو بیچ ہی میں کاٹ دیا جاتا ہے۔ لیکن جو نام نہاد مسلمان عام مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زبان درازی کریں انھیں خوب مواقع دیے جاتے ہیں۔
بیشتر نیوز چینل اپنی رپورٹوں میں زیادہ سے زیادہ ڈرامائیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پڑھنے کا انداز کسی رپورٹ کو پڑھنے کا نہیں ہوتا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ کسی تھیئٹر میں ڈائلاگ بول رہے ہوں۔ رپورٹ، رپورٹ نہیں لگتی بلکہ کسی فلم کے کسی سین کی منظرنگاری لگتی ہے۔ ایک جملہ بولا جاتا ہے اور پھر ڈرامائیت اور کبھی کبھار خوف و دہشت پیدا کرنے کے لیے اس میں ڈراونی قسم کی موسیقی ڈالی جاتی ہے۔ موسیقی بھی ایسی ہوگی کہ بعض اوقات یوں لگے گا کہ ہم کسی شمشان بھومی سے گزر رہے ہیں۔ اس طرح ایک سنجیدہ رپورٹ بھی ڈراما بن کر رہ جاتی ہے اور اس کا جو اثر ہونا چاہیے وہ نہیں ہو پاتا۔
اب سوال یہ ہے کہ معاشرے پر میڈیا کے اس مثبت اور منفی کردار کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس طرح کسی مثبت چیز کا اثر کم اور منفی چیز کا اثر زیادہ پڑتا ہے اسی طرح میڈیا کے منفی کردار کا اثر بھی معاشرے پر زیادہ پڑتا ہے۔ جب میڈیا میں ماب لنچنگ کے واقعات بڑے پیمانے پر دکھائے جانے لگے اور ان میں مسلمانوں کو ویلن کے طور پر پیش کیا جانے لگا تو ماب لنچنگ کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا۔ میڈیا میں آنے کے لالچ میں لوگ اپنی غلط کاریوں کی خود ویڈیو بنانے لگے اور نیوز چینلوں کو بھیجنے لگے۔ اس کا مقصد خود کو ٹی وی اسکرین پر پہنچانا تھا۔ جب ایک چینل نے ایک ویڈیو کو بار بار دکھایا تو دوسرے چینل بھی اس کو دکھا نے لگے اور اس طرح وہ شخص خود کو ایک ہیرو تصور کرنے لگا۔ حالانکہ اس نے کام ویلن کا کیا تھا۔ اسی طرح جب جھارکھنڈ میں ماب لنچنگ کے مجرموں کا جیل سے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ہار پہنا کر استقبال کیا گیا تو میڈیا میں اسے خوب ہائی لائٹ کیا گیا۔ بلند شہر کے انسپکٹر سبودھ کمار کے قتل میں ملوث ایک شخص کا جیل سے رہائی کے بعد ہار پھول پہنا کر استقبال کیا گیا۔ اس واقعہ کو بھی میڈیا میں خوب ہائی لائٹ کیا گیا۔ ایسے واقعات اگر نیوز چینلوں پر نہ دکھائے جائیں تو مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں میں اس قسم کے واقعات میں ملوث ہونے کا حوصلہ پیدا نہ ہو۔ اسی طرح گزشتہ چھ برسوں کے دوران نیوز چینلوں پر جو روزانہ ہندو مسلم ڈبیٹ چلائی جاتی ہے اس نے بھی عوام کے ایک بڑے طبقے کے ذہن میں ایسا زہر بھر دیا جس کے اثرات جلد زائل ہونے والے نہیں ہیں۔
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشرے پر میڈیا کے مثبت و منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس بات کا احساس میڈیا کو بھی ہونا چاہیے۔ اگر اسے اس کا احساس ہو جائے کہ اس کے اینکر اور رپورٹر نوجوانوں کے لیے رول ماڈل بن جاتے ہیں اور پھر میڈیا اپنے رویے میں مثبت تبدیلی پیدا کرے تو معاشرے کی بڑی خدمت ہوگی۔ حالانکہ میڈیا معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں جو کچھ ہوتا ہے میڈیا وہی دکھاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سماجی مسائل میں اس کا زاویہ¿ نظر عام طور پر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔ میڈیا سے سماج کا ایک بہت بڑا طبقہ متاثر بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا میں آخر میں رویش کمار کے ایک جملے پر، جو انھوں نے ایک خاص تناطر میں ٹی وی ناظرین کے لیے ادا کیا تھا، اپنی بات ختم کرتا ہوں، کہ خدا را آپ لوگ ٹی وی دیکھنا بند کر دیجیے ورنہ وہ آپ کو اور آپ کے بچوں کو ہندو مسلم کے نام پر لڑا ئے گا اور قاتل بھیڑ میں تبدیل کر دے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com
( یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ادارہ اردو تہذیب کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Medias negative and positive role impact on society in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.