مسعود اظہر عالمی دہشت گرد:ہندوستان کی زبردست کامیابی

سہیل انجم

بالآخر کالعدم دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے ان کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کردی۔ اس سے قبل جب بھی مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی گئی تو چین نے اسے ویٹو کر دیا۔ لیکن اس بار چین کی جانب سے تکنیکی اعتراض ختم کیے جانے کے بعد سلامتی کونسل کی 1267 پابندی کمیٹی نے مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی اس فہرست میں شامل کرلیا جس میں حافظ سعید اور القاعدہ کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سلامتی کونسل نے مسعود اظہر کے اثاثے منجمد کردیے اور ان کے سفر اور ہتھیار رکھنے پر پابندی عائد کردی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسعود اظہر پر پابندی کی قرارداد 27 فروری کوفرانس،برطانیہ اور امریکا نے پیش کی تھی۔ لیکن چین نے اس قرارداد پر تکنیکی اعتراض کیا تھا۔ اس سے قبل چین نے 2016 اور 2017 میں بھی مسعود اظہر پر پابندی لگنے کے اقدام کو روک دیا تھا۔ ماضی میں چین کی مخالف کی وجہ سے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی چار کوششیں ناکام ہوئی تھیں۔ یاد رہے کہ اسی سال فروری میں پلوامہ میں سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی تھی۔اس حملے میں 40سیکورٹی جوان ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ برطانیہ اور فرانس نے مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بلیک لسٹ کروانے کی تجویز پیش کی تھی۔ ہندوستان گزشتہ دس برسوں سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے یہ کوشش 2009 میں شروع کی تھی۔ پلوامہ حملے سے قبل پٹھان کوٹ ائیر بیس پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی جیش محمد نے لی تھی۔ ان حملوں کے بعد ہندوستان کی نریندر مودی حکومت کی جانب سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی سفارتی مہم تیز کر دی گئی تھی۔

اب جبکہ پابندی عاید کر دی گئی ہے تو پاکستان کو فوری طور پر تین اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایک مسعود اظہر کے فنڈز اور مالیاتی اثاثوں کو منجمد کرنا۔ دوسرا ان کے سفر پر پابندی عائد کرنا اور تیسرا ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان خریدنے پر پابندی عائد کرنا۔ پلوامہ حملے کے بعد جب امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تجویز پیش کی تھی تو چین نے ایک بار پھر روڑے اٹکانے کی کوشش کی۔ اس نے اس معاملے پر غور کرنے کے لیے مزید وقت مانگا جس پر امریکہ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس نے دھمکی دی کہ اگر چین نے ویٹو کیا تو وہ اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جائے گا جہاں اب بند کمرے میں میٹنگ کے بجائے کھلا اجلاس ہوگا اور وہاں اس پر بحث ہوگی۔ اس دھمکی نے چین کو اپنے موقف پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر دیا۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے جب ہندوستان کے خارجہ سکریرٹری وجے گوکھلے نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے چینی حکام کے سامنے مسعود اظہر کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی تھی اور اس کے ثبوت بھی پیش کیے تھے۔

پابندی عائد کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ سے جو بیان جاری کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ مسعود اظہر کا تعلق القاعدہ، اسامہ بن لادن اور طالبان سے بھی ہے۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسعود اظہر حرکت المجاہدین کے سابق رہنما بھی ہیں۔ یاد رہے کہ حرکت المجاہدین جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے اور اس نے متعدد وارداتیں انجام دی ہیں۔ مسعود اظہر کا عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا یقینی طور پر ہندوستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ لیکن اس قدم سے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک بھی خوش ہیں۔ متعدد ممالک کی یہ خواہش رہی ہے کہ ان پر پابندی عائد کی جائے۔ لیکن چین اور پاکستان کے باہمی روابط کی وجہ سے چین ایسی ہر کوشش کو ویٹو کرتا رہا ہے۔ لیکن بہر حال چین کو عالمی دباؤ کے آگے جھکنا ہی پڑا۔ اسے ویٹو کا سلسلہ بند کرنا ہی پڑا۔ کیونکہ جیش محمد نے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ دوسرے ملکوں اور خاص طور پر ہندوستان میں متعدد دہشت گردانہ وارداتیں انجام دی ہیں۔ مسعود اظہر کو پاکستان میں پوری چھوٹ ملی ہوئی تھی۔

بالاکوٹ کے تربیتی کیمپ پر فضائیہ کی کارروائی کے بعد دنیا کو جیش محمد کی تباہ کن سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات ہوئیں۔ جہاں تک مسعود اظہر کی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنے بیشتر ساتھیوں کی طرح افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں سرگرم رہا ہے۔ پھر افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد اس نے لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کی طرح اپنے نام نہاد جہاد کا رخ کشمیر کی جانب موڑ دیا۔ 1994 میں کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں ایک چھاپے کے دوران مسعود اظہر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کے ساتھی اسے رہا کرانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ دسمبر 1999 میں وہ لوگ ہندوستان کے ایک مسافر بردار طیارے کو اغوا کر کے افغانستان کے شہر قندھار لے گئے اور کئی دن کی بات چیت کے بعد جہاز اور اس میں سوار مسافروں کی زندگی کے عوض مسعود اظہر کو رہا کر دیا گیا۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی۔ طالبان کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے کے سبب چند دن قندھار میں قیام کرنے کے بعد مسعود اظہر پاکستان چلا گیا۔ لیکن اس کے بعد وہ کشمیر میں سرگرم ہو گیاجہاں اس نے دہشت گردوں کو ٹریننگ بھی دی۔ کشمیر اسمبلی اور ہندوستانی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے اسی کے اشارے پر جیش محمد نے کیے۔ بہر حال ہندوستان اور پھر اس کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی کوششوں سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ قدم ان تمام لوگوں کے لیے باعث اطمینان ہے جو امن پسند ہیں۔ جو دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ اور جو جیش محمد جیسی تمام دہشت گرد تنظیموں اور گروپوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

جس قرارداد 1267 کے تحت مسعود اظہر پر پابندی لگائی گئی ہے وہ 1999 میں منظور کی گئی تھی اور اس کا مقصد طالبان اور القاعدہ پر پابندی لگانا تھا۔ بلکہ اسے القاعدہ طالبان پابندی کمیٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اب مسعود اظہر پر سفری پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ اس قرارداد کی ایک بنیادی پابندی ہے۔ اب اس کے اثاثوں کی جانچ ہوگی اور ان کو منجمد کر دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ مسعود اظہر کے گروپ جیش محمد پر 2002 ہی میں پابندی عائد کر دی گئی تھی لیکن انفرادی طور پر اس پر ابھی تک پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔ اب انتظامیہ کویہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ مسعود اظہر کے ذاتی اثاثوں پر بھی چھاپے مارے اور ان کے کچھ حقوق پر بھی پابندی لگا دے۔ اب ان پر ہتھیار خریدنے پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ کوئی فرد یا کوئی کمپنی اس کو ہتھیار فروخت نہیں کر سکتی۔

ہندوستان نے چین اور اقوام متحدہ کو جو ڈوزیئر سونپا ہے اس کے مطابق مسعود اظہر مختلف طریقوں سے فنڈ اکٹھا کیا کرتا تھا۔ اس میں اسکا طلبا بازو بھی مدد کرتا تھا۔ اب انہی پابندیوں کے تحت ایسی تمام سرگرمیاں غیر قانونی قرار دے دی گئی ہیں۔ اب اقوام متحدہ کے تمام ارکان پر لازم ہے کہ وہ مسعود اظہر پر پابندی لگائیں اور اقوام متحدہ کی قرار داد کومن و عن نافذ کریں۔ بہر حال یہ ایک اچھا قدم ہے او راب جیش محمد کی سرگرمیوں پر کسی حد تک روک لگانے میں ضرور کامیابی ملے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Masood azhar designated as global terrorist a great diplomatic victory for india in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.