مبینہ لو جہاد کے نام پر درندگی و حیوانیت کی انتہا

سہیل انجم
سات دسمبر بروز جمعرات صبح ساڑھے نو بجے ہمارے ایک شناسا نے ہمارے موبائیل پر ایک ویڈیو بھیجی۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد پورے جسم میں لرزہ طاری ہو گیا۔ دل و دماغ کی عجیب و غریب کیفیت ہو گئی۔ ہم یہاں اس ویڈیو کی تفصیل نہیں بتا سکتے۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ ایک شیطان صفت شخص جنون میں آکر ایک دوسرے شخص کو کلہاڑی سے ہلاک کر دیتا ہے اور پھر اس پر پیٹرول ڈال کر نذر آتش کر دیتا ہے۔ اس انسانیت کش اور دل دہلا دینے والے واقعہ کو انجام دینے کے بعد وہ شخص کیمرے کے سامنے آتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں کہتا ہے کہ لو جہاد کرنے والو، لو جہاد بند کر دو اور ہمارے ملک سے نکل جاؤ ورنہ تم لوگوں کا یہی انجام ہوگا۔
پہلے تو یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ ویڈیو کس جگہ کا ہے۔ کیا واقعی ہندوستان کا ہے یا کسی دوسرے ملک کا ہے اور اس پر ہندی میں ڈائلاگ ڈب کر کے اسے ہندوستانی ثابت کرنے کا تاثر تو نہیں دیا جا رہا ہے۔ دل و دماغ ماؤف ہو گیا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہو چکی تھی۔ ہم نے ایسی بہت سی ویڈیوز بھی دیکھی ہیں جن میں انسانوں کی گردنیں کھلے عام اڑا دی جاتی ہیں۔ ان ویڈیوز کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ آئی ایس یا داعش سے متعلق ہیں اور داعش کے دہشت گرد اپنے دشمنوں کی گردنیں اڑا رہے ہیں۔ لیکن دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ ہندوستان میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ یہاں بھی داعش کی مانند شیطانیت اور حیوانیت کا رقص برہنہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن چند گھنٹوں کے اندر اندر معاملہ بالکل صاف ہو گیا۔ میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ حقیقی ہے، ہندوستانی ہے اور راجستھان کے راج سمند علاقے کا ہے۔ حملہ آور کا نام شمبھو لال ریگر ہے اور مقتول کا نام محمد افروز الحسن ہے۔ شمبھو لال کی عمر 35 سال اور افروز کی تقریباً پچاس سال ہے۔ افروز مالدہ مغربی بنگال سے تعلق رکھتا ہے اور وہ کئی برسوں سے راج سمند میں مزدوری یا ٹھیکیداری کرتا رہا ہے۔ ویڈیو کے ابتدائی مناظر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ کیونکہ جب اس پر کلہاڑی سے حملہ کیا جا رہا تھا تو وہ ”جان بچا لو بابو، جان بچالو بابو“ چلا رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شمبھو افروز کو کام دینے کے بہانے جھاڑیوں میں لے گیا تھا۔ شمبھو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ تین بچوں کا باپ ہے۔ اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ وہ بے روزگار اور ذہنی طور پر کمزور ہے اور وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ کسی کا قتل کر سکتا ہے۔ لیکن پولیس نے اس کے دعوے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ ابتدائی جانچ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شمبھو دماغی طور پر بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔ وہ بے روزگار بھی نہیں تھا۔ ابھی کچھ دنوں قبل تک وہ ماربل کا کامیاب بزنس کرتا رہا ہے۔ اس نے اقبال جرم بھی کر لیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ قتل ان لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے کیا ہے جو لو جہاد کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو اس نے اپنے ایک کمسن بھتیجے سے بنوایا تھا۔ وارادات کے بعد وہ اپنے بھتیجے اور اپنی ایک تیرہ سالہ بیٹی کو لے کر گھر سے بھاگ گیا اور اپنے ایک رشتے دار کے یہاں پناہ لے لی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے بھتیجے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس افسران کے مطابق شمبھو دماغی اعتبار سے بالکل فٹ ہے۔ البتہ وہ کچھ دنوں سے لو جہاد کے خلاف مہم چلائے ہوئے تھا۔ اس نے مبینہ اسلامی جہاد کے خلاف بھی مہم شروع کر رکھی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی کی کالونی کی ایک لڑکی کسی مسلمان کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ لڑکی کی بہن نے پولیس کو بتایا کہ اس کی ماں نے شمبھو سے فریاد کی تھی کہ وہ اس کی بیٹی کو لے آئے۔ شمبھو لڑکی کو تلاش کرنے کے بعد اسے اس کے گھر واپس لانے میں کامیاب ہوا تھا۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے ہی اس کو قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ اس نے افروز کو اس لیے نشانہ بنایا کہ اس کا تعلق اس لڑکے سے تھا جس کے ساتھ لڑکی بھاگی تھی۔ افروز کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اس کا مذکورہ لڑکے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اگر تھا بھی تو اسے کیوں قتل کیا گیا، اس واقعہ میں اس کا کوئی رول نہیں تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ لڑکی کے بھاگنے کا واقعہ کافی پرانا ہے۔ اتنے دنوں کے بعد اس کو کیوں ہلاک کیا گیا اور پھر اس شخص سے انتقام لیا جانا چاہیے تھا جو لڑکی کے ساتھ بھاگا تھا، دوسرے کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ یہاں یہ سوال بھی ہے کہ کیا ایسے واقعات میں غلطی صرف مسلمان لڑکوں کی ہوتی ہے۔ ہندو لڑکیوں کی نہیں ہوتی۔ یہ سوال بھی ہے کہ کیا واقعی ہندو لڑکیاں مسلمان لڑکوں کے ساتھ بھاگتی ہیں۔ وہ ہندو لڑکوں کے ساتھ نہیں بھاگتیں۔ یا مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں کے ساتھ نہیں بھاگتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لڑکیوں کے ہندو لڑکوں کے ساتھ بھاگنے کے بھی بعض واقعات پیش آئے ہیں لیکن ان واقعات کو جان بوجھ کر کوئی اہمیت نہیں دی جاتی یا انھیں چھپا لیا جاتا ہے۔ یا پھر ان کو اس رنگ میں پیش نہیں کیا جاتا جس رنگ میں لو جہاد کو پیش کیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں کیرالہ کی نو مسلم دوشیزہ ہادیہ کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ ہادیہ نے دوران تعلیم اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر قبول اسلام کیا۔ اس کے بعد اس نے ایک مسلم نوجوان سے شادی کی۔ لیکن اس کے معاملے کو نہ صرف لو جہاد سے جوڑ دیا گیا بلکہ سپریم کورٹ نے اس کیس کی این آئی سے جانچ کی ہدایت بھی دے دی اور کیرالہ ہائی کورٹ نے اس کی شادی کو کالعدم قرار دے دیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جان بوجھ کر لو جہاد کی اصطلاح گھڑی گئی ہے تاکہ مسلم نوجوانوں کو اور خاص طور سے ان نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا سکے جو تعلیم یافتہ ہیں اور جو کسی نو مسلم لڑکی سے شادی کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں قبول اسلام کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔ صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایسا ہو رہا ہے۔ لوگ اسلام کا جس تیزی سے مطالعہ کر رہے ہیں اسی تیزی سے قبول اسلام کے واقعات بھی پیش آرہے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو یہاں کے آئین نے ہر شخص کو اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس نے اپنے مذہب کی تبلیغ کی بھی آزادی ہر ہندوستانی شہری کو دی ہے۔ لیکن جہاں کوئی مسلمان اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا ہے اسے جہادی بتا دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کا کیس درج کر دیا جاتا ہے۔
جہاں تک راج سمند کے واقعہ کا تعلق ہے تو یہ واقعہ لو جہاد یا دھرم کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک کریہہ اور گھناونی مثال ہے۔ ملک میں جو ماحول بنا دیا گیا ہے یہ اس کا ایک عملی روپ ہے۔ حالیہ برسوں میں مختلف بہانوں سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جو سیاست کی جا رہی ہے یہ واردات اس کا مظہر ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسا کے خون کا اس قدر پیاسا ہو گیا ہے کہ عقل و شعور کھو بیٹھا ہے۔ اپنی انسانیت کھو بیٹھا ہے۔ اپنی شرافت کا جامہ اتار کر پھینک چکا ہے۔ اس نے شیطانیت کا لبادہ زیب تن کر لیا ہے اور وہ انسان سے حیوان بنتا جا رہا ہے۔ در اصل اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ انھیں ان کے جرائم کی سزا نہیں دی جاتی۔ بلکہ اس کے برعکس مظلوموں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، انھیں گرفتار کیا جاتا ہے اور انھیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ راجستھان کا ہے جہاں گائے کے تحفظ کے نام پر کئی مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے خلاف ہی کارروائیاں ہوئی ہیں اور انھیں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذکورہ واقعہ پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور اس کی مذمت کرتے ہوئے سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن سابقہ واقعات کی روشنی میں ایسا نہیں لگتا کہ اس واقعہ میں کوئی سخت کارروائی ہوگی۔ ممکن ہے کہ شمبھو کو جلد ہی ضمانت بھی مل جائے اور اس کے اور اس جیسے لوگوں کے حوصلے اور بلند ہو جائیں۔
sanjumdelhi@gmail.com
( ارٹیکل میں مصنف کے اپنے خیالات ہیں اس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے )

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Man burnt alive in rajsamand over alleged case of love jihad in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply