مظلومین مالیگاؤں کو انصاف مل ہی گیا

سہیل انجم
ایسے وقت میں جبکہ دہشت گردانہ واقعات میں بھگوا ملزموں کے خلاف گواہ منحرف ہوتے جا رہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ سبھی بھگوا ملزم بری ہو جائیں گے اور دہشت گردی کے تمام واقعات کی ذمہ داری صرف اور صرف مسلمانوں پر ہی ڈال دی جائے گی، مالیگاو¿ں بم دھماکوں کے ملزمین کا عدالت سے بری کیا جانا ایک خوشگوار خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ممبئی کی ایک عدالت نے 2006 میں مالیگاو¿ں میں ہونے والے بم دھماکوں کے الزام سے تمام 9 ملزموں کو بری کر دیا اور کہا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ان دھماکوں میں جو کہ شب برات کے موقع پر ہوئے تھے 35افراد ہلاک ہوئے تھے جو کہ تمام کے تمام مسلمان تھے۔ ممبئی اے ٹی ایس نے اس معاملے میں نو مسلمانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی اور انھیں گرفتار کیا تھا۔ وہ لوگ پانچ سال جیل کے اندر رہے۔ 2011 میں عدالت نے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔ گرفتاری کے بعد ہر واقعہ کی مانند اس واقعہ میں بھی پویس ملزموں پر اذیتیں ڈھاتی رہی اور ان پر دباو¿ ڈالتی رہی کہ وہ دھماکوں کا جرم قبول کر لیں۔
لیکن جب مکہ مسجد حیدرآباد میں ہونے والے دھماکوں کے ایک ملزم سوامی اسیمانند نے اعتراف کیا اور جس کی بنیاد پر مکہ مسجد کے مسلم ملزموں کو رہا کیا گیا تو پھر مالیگاو¿ں معاملے نے بھی ایک موڑ لیا اور ملزموں کو ضمانت دے دی گئی۔ اس سے قبل ممبئی اے ٹی ایس کے علاوہ سی بی آئی نے بھی اس معاملے کی جانچ کی تھی اور کہا تھا کہ مسلمانوں نے ہی دھماکے کیے ہیں۔ لیکن جب دو سال قبل یہ معاملہ قومی تحقیقاتی ایجنسی اے این آئی کے ہاتھ میں آیا تو اس نے ایک بار پھر ایک نیا موڑ لیا۔ این آئی اے نے اس معاملے میں بھگوا دہشت گردوں کا انکشاف کیا اور اس نے منوہر نواریا، راجیندر چودھری، دھان سنگھ، شیو سنگھ، لوکیش شرما، سنیل جوشی، رام چندر کلا سنگرا، رمیش مہالکر اور سندیپ ڈانگے کو ملزم بنایا۔ بعد میں ان میں سے کئی ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن رام چندر کلا سنگرا اور رمیش مہالکر ابھی بھی گرفت سے باہر ہیں اور پولیس انھیں ڈھونڈ رہی ہے۔ جبکہ سنیل جوشی کا قتل ہو چکا ہے۔ اس قتل میں شک کی سوئی جیل میں بند سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی طرف گھوم رہی ہے جس نے بتایا جاتا ہے کہ خود کو بچانے کے لیے سنیل جوشی کا قتل کروا دیا۔
اس انکشاف کے بعد این آئی اے نے کہا کہ اگر مسلم ملزمان الزامات سے بری کیے جانے کے درخواست عدالت میں داخل کرتے ہیں تو وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گی۔ اس طرح ایک تو اسیمانند کا اعتراف اور دوسرے این آئی اے کی کارروائی کے سبب ان مسلمانوں کے بری کیے جانے کا راستہ صاف ہو سکا۔ لیکن ممبئی اے ٹی ایس نے پہلے کہا تھا کہ اس کا بھی وہی موقف ہے جو این آئی اے کا ہے۔ لیکن اب اس نے الزامات سے بری کیے جانے کی مخالفت کی۔ لیکن بہر حال عدالت نے اس کے دلائل تسلیم نہیں کیے اور یہ کہتے ہوئے ان لوگوں کو بری کر دیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ عدالت نے جو تبصرہ کیا وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ وہی بات ہے جو مسلمانو ںکی جانب سے اور انصاف پسند برادران وطن کی جانب سے ایسے معاملات میں باربار کہی جاتی رہی ہے۔
عدالت نے کہا کہ اے ٹی ایس نے اپنی چارج شیٹ میں ملزموں کے خلاف جو بنیاد بنائی ہے یا جو دلائل دیے ہیں وہ قابل تسلیم نہیں ہیں۔ 8 ستمبر 2006 سے قبل گنیش وسرجن تھا۔ اگر ملزموں کا مقصد شہر میں فساد کرانا تھا تو انھیں گنیش وسرجن کے موقع پر ہی بم دھماکے کرنے چاہیے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ ہندو ہلاک ہوں۔ جج نے کہا کہ مجھے یہ انتہائی ناممکن سا لگتا ہے کہ ملزمان جو کہ مسلمان ہیں اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرکے دو فرقوں کے مابین منافرت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ بھی شب برات کے موقع پر۔ یہ بات اہم ہے کہ جب این آئی اے نے اپنی جانچ میں ملزمان منوہر نواریا، راجیندر چودھری اور دھان سنگھ، شیو سنگھ اور لوکیش شرما کی طرف انگشت نمائی کی کہ انھیں لوگوں نے دھماکے کیے ہیں اور یہ کہ مسلم ملزمان بے قصور ہیں تو یہ عدالت پوسٹ آفس بن کر مسلمانوں کے خلاف الزامات پر اپنی تائید کی مہر نہیں لگا سکتی۔ میرے خیال میں یہ لوگ بے قصور ہیں اور انھیں قانون کا فائدہ ملنا چاہیے۔ عدالت نے این آئی اے کے اس نتیجے کا بھی ذکر کیا کہ جانچ میں مسلمانوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس درمیان این آئی اے کے ڈائرکٹر شرد کمار نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہم نے اس معاملے کی گہرائی میں جا کر جانچ کی اور عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ ہماری جانچ میں پتہ چلا کہ ان دھماکوں میں دوسرے لوگ ملوث ہیں۔ عدالت نے ہمارے موقف کی توثیق کر دی ہے اس سے ہمیں خوشی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ تو بری کر دیے گئے تو ان لوگوں کے خلاف جو کہ دھماکوں کے اصل مجرم ہیں کب کارروائی ہوگی۔ عدالت نے یہ تو کہا کہ ان9 مسلمانوں کے خلاف کوئی ثبو ت نہیں ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ جو اصل مجرم ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جس طرح اس وقت بھگوا دہشت گردوں کے خلاف گواہوں کے مکرنے کا سلسلہ جاری ہے اگر اس کیس میں گرفتار ملزموں کے خلاف بھی گواہ مکر گئے تو کیا ہوگا۔ اس وقت ملک میں جو ماحول ہے اس کے پیش نظر کوئی بھی ایسے لوگوں کے خلاف کھل کر سامنے آنے کو تیار نہیں ہے۔ اس لیے یہ خدشہ برقرار ہے کہ اگر این آئی اے نے اپنا موقف بعد میں بدل دیا تو ان لوگوں پر پھر خطرے کی تلوار لٹک جائے گی۔ بہر حال الزامات سے بری کیے جانے کے بعد تمام مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا کہ ان کی زندگی جہنم بنی ہوئی تھی اب اس سے ان کو نجات ملے گی۔ ان پر دہشت گرد ہونے کا جو لیبل لگ گیا تھا اس سے بھی ان کو نجات مل گئی ہے۔
اس معاملے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جب ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا تو میڈیا نے بڑا طوفان اٹھایا تھا اور ان لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف زبردست واویلا مچایا تھا۔ ایسے ہر معاملے میں میڈیا یہی کرتا ہے۔ لیکن جب ان کو بری کر دیا گیا تو میڈیا کا ایک بھی نمائندہ نظر نہیں آیا۔ این ڈی ٹی وی جیسے بعض چینلوں نے اس خبر کو دکھایا اور بری ہونے والوں کے بیانات بھی دکھائے۔ لیکن باقی چینل غیر حاضر ہی رہے۔ یہ میڈیا کا انتہائی متعصبانہ رویہ ہے کہ جب فرضی الزامات میں مسلمان گرفتار ہوں تو ان کے خلاف خوب ڈھول پیٹا جائے اور پوری دنیا کو یہ بتایا جائے کہ دیکھو یہ ہیں دہشت گرد اور ملک کے اور انسانیت کے دشمن۔ لیکن جب وہی مسلمان عدالت سے بری ہو جائیں تو ان کی رپورٹ تک نہ دکھائی جائے۔ یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن بہر حال یہ بہت امید افزا فیصلہ ہے۔ اگر ملک کی تحقیقاتی ایجنسیاں دوسرے معاملات میں بھی اسی طرح غیر جانبداری سے جانچ کریں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Malegaon blasts accused discharged but justice is far from done in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply