یہ ہجومی جنون ہندوستان کو کہاں لے جائے گا؟

سہیل انجم

ایک 45 سالہ خاتون بعد میں جس کا نام شانتا دیوی ناتھ معلوم ہوا، احمدآباد کے وداج علاقہ میں تین عورتوں کے ساتھ بھیک مانگ رہی تھی۔ اچانک بچہ چوری کی افواہ اڑی اور کچھ لوگوں نے ان عورتوں کو گھیر لیا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں ایک مجمع لگ گیا۔ پھر کیا تھا۔ ان خواتین پر گھونسوں، لاتوں اور چپلوں کی بارش ہونے لگی۔ جب تک پولیس کو خبر ہوتی اور وہ وہاں پہنچتی کافی دیر ہو چکی تھی۔ پولیس نے جب مجمع کو کنٹرول کیا تب تک مذکورہ خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔

مہاراشٹر کی ایک خاتون مزید تین خواتین کے ساتھ گجرات کے راج کوٹ گئی تھی جہاں اسے ایک رشتہ دیکھنا تھا۔ مگر وہاں بھی بچہ چوری کی افواہ اڑی اور رفتہ رفتہ بہت سے لوگوں نے ان عورتوں کو گھیر لیا۔ ان پر حملہ کر دیا اور انھیں زد و کوب کیا جانے لگا۔ یہاں پولیس بروقت پہنچ گئی اور اس نے بھیڑ سے ان عورتوں کو بچا لیا۔

راج کوٹ ہی کے جیت پور میں بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا جہاں ایک 55 سالہ شخص کو بچہ چوری کے شک میں پیٹا گیا۔ اسے کافی چوٹیں آئیں۔
بڑودہ میں بھی دو عورتوں کو بچہ چوری کے شک میں بری طرح مارا پیٹا گیا۔

سورت میں ایک 45 سالہ خاتون اپنی ڈیڑھ سال کی بچے کے ساتھ ایک آٹو رکشہ سے کہیں جا رہی تھی کہ لوگوں نے اسے گھیر لیا۔ بھیڑ نے اس کی پٹائی شروع کر دی۔ لوگوں کو شک تھا کہ وہ بچی چرا کر بھاگ رہی ہے۔ حالانکہ وہ یہ چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ یہ اسی کی بچی ہے اس نے چوری نہیں کی ہے لیکن کسی کے کانوں پر جوں نہیں رینگی اور لوگ اس خاتون کو بری طرح پیٹتے رہے۔ وہ تو خیر سے پولیس آگئی جس نے اس عورت کو بچایا۔ بعد میں اس نے اپنی بچی اور شوہر کے ساتھ میڈیا کو بتایا کہ کس طرح اسے بچہ چوری کے الزام میں مارا پیٹا گیا۔

اسی طرح سورت کے پلسانہ علاقہ میں بھی بھیڑ نے پانچ عورتوں کو گھیر لیا اور ان کی پٹائی شروع کر دی۔ اتفاق سے پولیس پہنچ گئی جس نے ان عورتوں کو بچا لیا۔ پوچھ گچھ میں پتا چلا کہ وہ بھیک مانگ رہی تھیں۔

چھتیس گڑھ کے سرگوجہ ضلع میں بھی ایک شخص کو بچہ چوری کے الزام میں بری طرح زد و کوب کیا گیا جس کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی۔ چالیس سالہ شخص کسی گاو¿ں سے وہاں پہنچا تھا۔ لوگوں نے اسے مشکوک حالات میں دیکھا تو اس سے پوچھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے وہ خاموش رہا۔ اسی درمیان یہ افواہ اڑ گئی کہ بچہ چوری کرنے والوں کا ایک گروہ گھوم رہا ہے۔ پھر کیا تھا لوگوں نے اسے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

9 جون کو آسام کے کربی اینگلانگ میں پیش آنے والا وہ واقعہ تو بہت بھیانک تھا جس میں دو نوجوانوں کو بچہ چوری کے الزام میں بری طرح پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کا تعلق گوا سے تھا۔ ان میں سے ایک کا نام نیلوتپل داس تھا ارو دوسرے کا ابھجیت داس۔ ان کی عمریں علی الترتیب 29 اور 30سال تھیں۔ ان میں سے ایک ساونڈ انجینئر تھا اور دوسرا بزنس مین۔ لیکن افواہوں کی بنیاد پر ڈھائی سو افراد نے ان کی گاڑی گھیر لی اور وہ لاکھ چیختے رہے کہ وہ بچہ چور نہیں ہیں بلکہ گوا کے اچھے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے والدین کے نام پتے بھی بتائے۔ وہ بھیڑ سے رحم کی بھیک مانگتے رہے۔ مگر بھیڑ بے رحم بنی رہی۔ بالاآخر اس نے ان دونوں کی زندگی کی شمع گل کر دی۔

یہ وہ چند واقعات ہیں جو کچھ دنوں میں پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں تمام مذاہب کے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ ابھی تک مسلمانوں کو گائے چوری یا گو¿ کشی کے الزام میں ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔ جب مسلمانوں کے تعلق سے واقعات ہو رہے تھے تو یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ سلسلہ اگر نہیں روکا گیاتو بہت آگے بڑھ جائے گا اور پھر تمام مذاہب اور ذات برادری کے لوگ اس کے شکار بنیں گے۔ کیونکہ بھیڑ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور وہ ایک جنون میں مبتلا ہوتی ہے۔ اس جنون کو روکنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ملک کے سنجیدہ افراد کی ان اپیلوں پر کان نہیں دھرا گیا اور آج بالکل وہی ہو رہا ہے جس کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔

آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ پہلے گو¿ کشی کے نام پر ایک خاص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا اور اب بلا امتیاز مذہب لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ پولیس نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کرتی ہے اور پھر ایسے لوگوں کو پکڑتی ہے جن کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بالآخر وہ لوگ عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ لوگ بالکل آزادانہ گھومتے ہیں جو اصل مجرم ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خلاف نہ تو رپورٹ درج ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی ہوتی ہے۔ اگر ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف عبرت انگیز کارروائی ہو تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے۔ پولیس کی لاپروائی کی وجہ سے لاقانونیت کا بول بالا ہے۔ لوگ قانون اپنے ہاتھوں میں لینے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ ایک خاص قسم کی ذہنیت پروان چڑھ رہی ہے جس میں قانون کا احترام اور خوف کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اس رجحان کے پیدا ہونے میں سوشل میڈیا کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ کسی نے فیس بک پر یا واٹس ایپ پر یہ افواہ پھیلا دی کہ شہر میں بچہ چوروں کا گروہ گھوم رہا ہے تو پھر لوگ اسے دھڑا دھڑ فارورڈ کرنے لگتے ہیں۔ کوئی یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا کہ اس میں کتنی صداقت ہے۔ لوگ اس افواہ پر جس طرح ایمان لے آتے ہیں اپنے مذہبی امور پر نہیں لاتے۔

افواہ کے پھیلتے ہی بے قصوروں کو نشانہ بنایا جانے لگتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھیڑ کی یہ بڑھتی دہشت گردی ہندوستان کو کہاں لے جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر افواہ پھیلانے سے بچیں، کوئی مشکوک یا خطرناک چیز آئے تو اسے فارورڈ نہ کریں۔ ممکن ہو تو اس کی جانچ پڑتال کریں۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ پولیس اس معاملے میں بہت زیادہ سرگرمی سے کام لے۔ محض نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کر لینے سے بات نہیں بنے گی۔ بے بنیاد باتیں یا افواہیں سوشل میڈیا پر ڈالنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کریں۔ چونکہ لوگ ان واقعات کا ویڈیو بھی پوسٹ کرتے ہیں جن میں حملہ آور آسانی کے ساتھ پہچانے جا سکتے ہیں۔ پولیس ان لوگوں کے خلاف نام بہ نام کارروائی کرے اور ان کے خلاف انتہائی سخت کیس تیار کرے تاکہ وہ کسی بھی عدالت سے بری نہ ہو سکیں۔ جب تک کہ ایسا نہیں کیا جائے گا یہ ہجومی جنون جاری رہے گا بلکہ بڑھتا ہی جائے گا۔

sanjumdelhi@gmail.com

Title: lynching in india becoming a daily affair | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply