یہ الیکشن ہے بھائی، ذرا دیکھ بھال کے!

سہیل انجم

الیکشن کو جمہوریت کا جشن کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں پہلے یہ جشن ہر پانچ سال پر ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کا دورانیہ کم ہونے لگا اور اب ہر سال اور ہر موسم میں الیکشن ہونے لگے ہیں۔ کہیں اسمبلی الیکشن تو کہیں کسی ایک نشست کے لیے الیکشن۔ ضمنی الیکشن کی بہاریں تو ہمیشہ ہمارے دروازوں پر دستک دیتی رہتی ہیں۔ لیکن پارلیمانی الیکشن کی بہار پانچ سال پر ہی آتی ہے۔ ہاں اگر کبھی کوئی کمزور حکومت بن گئی اور ممبران پارلیمنٹ کی باہمی چپقلش کے نتیجے میں گر گئی تو پانچ سال سے قبل ہی انتخابی موسم آجاتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایسا کئی بار ہوا ہے۔ لیکن اب ایک بار پھر استحکام آگیا ہے۔ سابقہ این ڈی اے حکومت سے لے کر جس کی قیادت اٹل بہاری واجپئی نے کی تھی، موجودہ این ڈی اے حکومت تک جس کی قیادت نریندر مودی کر رہے ہیں، پانچ پانچ سال پر ہی عام انتخابات ہو رہے ہیں۔

یہ الیکشن بھی خوب ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی اس کا اسٹیج سجا ہوا ہے اور الگ الگ کردار اس اسٹیج پر آکر اپنا اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ اس بارے میں جہاں دانشوروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے وہیں شعرا نے بھی اپنے انداز میں انتخابات کو بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شعر یاد آرہا ہے:
نئے کردار آتے جا رہیں
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
اب اس شعر میں شاعر نے انتخابات کو ناٹک قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ ناٹک نہیں ہے بلکہ ہندوستانی شہریوں کے لیے اپنے حقوق کی حصولیابی اور ملک میں ایک بہتر حکمرانی کے لیے ایک حکومت کا انتخاب کرنا ہے۔ ایک ایسی حکومت کا جو عوام کی فلاح و بہبود کو اپنا مقصد حیات سمجھے اور اسی کے لیے پالیسیاں بنائے اور فیصلے کرے۔ لیکن اس سے الگ ہٹ کر اگر ہم امیدواروں پر نظر دوڑائیں تو یہ شعر بالکل سچا معلوم ہوتا ہے۔ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک کتنے امیدواروں کا سامنا ہوا، کتنوں کی تقریریں سنیں، کتنوں کو منتخب اور کتنوں کو مسترد کیا گیا۔ اس کی تفصیل بہت طویل ہے۔ ان امیدواروں میں کچھ لوگ تو سنجیدہ ہوتے ہیں مگر کچھ لوگ واقعی ناٹک کرتے ہیں، ڈرامہ کرتے ہیں، کھیل تماشہ کرتے ہیں۔ وہ کسی امیدوار کو محض ہرانے کے لیے کسی سیاسی پارٹی سے منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں اور ایک نیا جھنڈا لے کر میدان میں اتر پڑتے ہیں۔ اس قماش کے امیدوار عوام کو گمراہ کرتے ہیں، انھیں دھوکہ دیتے ہیں۔ انھیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ کس کی حکومت بنے گی، کون وزیر اعظم بنے گا، کون اچھا ہے، کون برا ہے۔ انھیں تو بس یا تو اپنی موجودگی کا احساس کرانا ہوتا ہے یا اپنے حقیر مفادات کی تکمیل کرنی ہوتی ہے یا پھر ایک انتہائی سنجیدہ عمل کو غیر سنجیدہ بنا دینا ہوتا ہے۔ جبھی تو کسی نے کہا ہے:
سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہم کو سچائی
کبھی چہرہ نہیں ملتا کبھی درپن نہیں ملتا
یہ بات بالکل درست ہے کہ سیاست کو سمجھنا اور سیاست دانوں کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے۔ اب تو سیاست میں ایسا زوال آگیا ہے اور قدروں کی ایسی پامالی ہوئی ہے کہ کسی کے بارے میں سوچا ہی نہیں جا سکتا کہ وہ اپنے فرائض کے تئیں ایماندار ہوگا بھی یا نہیں۔ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ جو شخص آج اس جماعت میں ہے کل دوسری جماعت میں نہیں ہوگا۔ دل بدلی کی روایت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ کل تک جس کو پانی پی پی کر گالیاں دیتے رہے ہیں اور جس پارٹی کے نظریات کو ملک کے لیے نقصاندہ اور خطرناک تصور کرتے رہے ہیں محض حقیر سیاسی مفادات کے لیے آج اسی پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ انتخابات کے مواقع پر اس کی متعدد مثالیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ اس الیکشن میں بھی ایسے واقعات ہو رہے ہیں اور خوب ہو رہے ہیں۔ اب ایسے سیاست دانوں کے پاس آنکھوں کی شرم بھی نہیں رہ گئی ہے کہ کل جن لوگوں کو گالیاں دیتے رہے ہیں آج کیسے انھی کی گود میں جا کر بیٹھ جائیں۔ شرم و حیا کس چڑیا کا نام ہے سیاست دانوں کو نہیں معلوم۔ بشیر بدر نے کبھی کہا تھا:
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست بن جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
سیاست میں دشمنی تو جم کر کی جاتی ہے لیکن شرمندگی کا معاملہ ختم ہو گیا ہے۔ سیاسی مخالفین کو مخالف نہیں دشمن سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ سیاست میں اگر کوئی نظریاتی مخالف ہے تو اسے مخالفت کرنے کا حق ہے۔ یہی تو ہندوستانی سیاست کی خوبی اور اس کا حسن ہے کہ اگر ہمیں کسی کے نظریات پسند نہیں ہیں تو ہم اس سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ لیکن اس اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہاں بی جے پی کی سینئر رہنما ایل کے آڈوانی کے ایک تازہ بیان کا حوالہ حسب حال ہوگا۔ انھوں نے ابھی کل ہی ایک بلاگ میں لکھا ہے اور بالکل صحیح لکھا ہے کہ سیاسی نظریے کا مخالف ہمارا دشمن نہیں ہوتا اسے مخالف سمجھنا چاہتے دشمن نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی ہمارے نظریات کی حمایت نہیں کرتا تو وہ ملک کا غدار نہیں ہے۔ آڈوانی جیسے ایک سینئر سیاست داں نے کتنی پتے کی اور کتنی سچی بات کہی ہے۔ کاش اس کو تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما سمجھتے اور اس کے مطابق عمل کرتے۔ لیکن جیسا کہ ذکر کیا گیا اب سیاست میں اقدار کی ایسی پامالی ہوئی ہے کہ اگر کوئی کسی سے نظریاتی اختلاف کرتا ہے تو اسے دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ کسی ایک جماعت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام جماعتوں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ اس نظریاتی زوال کا ہی نتیجہ ہے کہ اگر کسی کی مخالفت کی جاتی ہے تو دشمنی کی حد تک جا کر کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ اس کی کردار
کشی سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اسے جانے کیا کیا کہا جاتا ہے۔

آج سیاست میں شعبدہ باز بہت آگئے ہیں۔ وہ حسب ضرورت اپنے کرتب دکھاتے ہیں اور عوام کے ووٹ لوٹ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ گُر خوب آتا ہے کہ کب کیسے بیانات دیے جائیں اور کب کیسی ایکٹنگ کی جائے کہ عوام اپنے دل و دماغ قدموں میں ڈال دیں۔ عوام بھی بیچارے کیا کریں۔ ایسے ہی لوگوں میں سے انتخاب کرنا ہے اور وہ کرتے ہیں۔ کیونکہ بہر حال جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ انتخابات میں حصہ لیا جائے اور اپنے ووٹوں کی بنیاد پر ایک ایک نئی حکومت چُنی جائے۔ حالانکہ اب وہ ایسے شعبدہ بازیوں سے تنگ آگئے ہیں۔ وہ ان کرتبوں پر تالیاں تو بجاتے ہیں اور نعرے تو لگاتے ہیں لیکن ان کے دلوں سے پوچھیے تو وہ محض رواروی میں ایسا کرتے ہیں:
وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
کیا سچا شعر ہے۔ کسی نے کسی سیاست داں کو تھکتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔ اسّی اور نوّے سال کی عمروں میں بھی ایسے چلتے ہیں کہ جیسے جوانِ رعنا ہوں۔ بلکہ وہ تو جوانوں کو بھی مات دے دیتے ہیں۔ اپنی تیز رفتاری سے انھیں بھی شرمندہ کر دیتے ہیں۔ عوام سمجھ ہی نہیں پاتے کہ آخر ان کی اس چستی پھرتی کا راز کیا ہے۔ ایک عام انسان ساٹھ سال تک جاتے جاتے تھک جاتا ہے، کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ اسی لیے ریٹائرمنٹ کی عمر متعین کی گئی ہے۔ لیکن سیاست میں کوئی ریٹائرمنٹ نہیں۔ ایک بار سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ”نہ ٹائرڈ نہ ریٹائرڈ“ یعنی نہ تھکا ہوا ہوں اور نہ ہی سبکدوش ہونے جا رہا ہوں۔ خیر واجپئی جیسے لوگ سیاسی قدروں کے امین تھے۔ لیکن آج سیاسی قدروں کی پامالی کرنے والے ہی اصل سیاست داں سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے مذکورہ شعر کہا گیا ہوگا۔
لیکن بہر حال برائی کے ساتھ ساتھ اچھائی بھی چلتی رہتی ہے۔ ورنہ یہ دنیا ختم ہو جائے۔ یہی حال سیاست کا بھی ہے۔ اگر برے سیاست دانوں یا غتر معتبر سیاست دانوں کی بھرمار ہے تو اچھے سیاست داں بھی موجود ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اقلیت میں ہے۔ وہ بہت تھوڑے ہیں۔ لیکن بہر حال ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگوں کے دم سے ہی جمہوریت کا وقار قائم ہے۔ جمہوری اور سیاسی قدروں کے امین ایسے لوگ جب تک موجود رہیں گے ہندوستانی سیاست اور جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

رائے دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی شناخت کریں اور اپنے ووٹوں سے ان کو کامیاب بنا کر پارلیمنٹ میں بھیجیں۔ یہ پانچ سال پر آنے والا جشن محض جشن ہی نہیں ہے بلکہ رائے دہندگان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور دور اندیشی کا ایک امتحان بھی ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تو ہندوستان بھی کامیاب ہو گیا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ گیارہ اپریل سے شروع ہونے والی پولنگ میں عوام اپنی ذہانتوں کا مظاہرہ کریں اور باکردار امیدوراوں کو کامیاب بنا کر ملک کا نام ایک بار پھر پوری دنیا میں سربلند کر دیں۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Lok sabha elections 2019 in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.