اے’ بی ایچ یو‘ کے طلبا! زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا

سہیل انجم

کہتے ہیں کہ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ کسی بھی زبان کو اپنے فروغ کے لیے کسی مذہبی کے سہارے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ لیکن مذاہب کو زبانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ زبان کے سہارے کے بغیر مذہب آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لیکن جب زبانوں کو بھی مذہبی چشمے سے دیکھا جانے لگے تو پھر تشویش کا پیدا ہونا بجا ہے۔ آجکل یہ سوال پورے ملک میں گردش کر رہا ہے کہ کیا زبان کی شناخت اب مذہب سے ہوگی اور اگر کچھ لوگ زبان کو مذہب سے جوڑ دیں تو اس زبان کا کیا حشر ہوگا۔ لیکن کیا کیا جائے کہ اب ملک کا ماحول ایسا بن گیا ہے کہ زبانوں کو بھی مذہب سے جوڑ کر دیکھا جانے لگا ہے۔

جے پور کے فیروز خان کو بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ سنسکرت میں اسسٹنٹ پروفیسر کا تقررنامہ کیا ملا کہ ہنگامہ برپا ہو گیا۔ سنسکرت کے طلبا دھرنے پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ ہم کسی غیر آریہ سے سنسکرت نہیں پڑھیں گے۔ فیروز خان تو آریہ چھوڑیے ہندو بھی نہیں ہیں۔ تو بھلا ان سے کیسے سنسکرت پڑھی جائے۔ حالانکہ وہ عملاً کوئی پکے مسلمان بھی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ قرآن کو اتنا نہیں جانتے جتنا کہ سنسکرت کو جانتے ہیں۔ درجہ دو سے ہی انھوں نے سنسکرت پڑھنی شروع کر دی تھی۔ ان کے والد بھی سنسکرت پڑھے ہوئے ہیں اور ان کے بھائی بھی۔ انھوں نے سنسکرت میں بی اے ایم اے اور پی ایچ ڈی کر ڈالی۔ یعنی ان کو آچاریہ سے بھی بڑی پدوی مل گئی۔ بنارس ہندو یونیورسٹی میں سنسکرت شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامی خالی ہوئی تو تقریباً ایک درجن امیدواروں نے اپلائی کر دیا۔ لیکن تقرر ہوا فیروز خان کا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تقرر ضابطے کے مطابق ہوا ہے اور فیروز خان سب سے قابل پائے گئے اس لیے ان کو رکھا گیا۔ لیکن طلبہ کے ایک گروپ کو ان کا تقرر پسند نہیں آیا۔ ہاں بھائی اب بھلا ایک مسلمان پنڈتوں اور شتریوں کو سنسکرت پڑھائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ فیروز خان کے والد رضوان خان ڈھول بجا بجا کر مندروں میں بھجن اور گیت گا گا کر اپنی روزی روٹی چلاتے ہوں لیکن نام سے تو مسلمان ہی ہیں نا! لہٰذا ان کے خلاف بنارس ہندو یونیورسٹی میں تحریک چھڑ گئی۔ اس تحریک سے فیروز خان بہت ڈر گئے۔ ماحول ہی ایسا ہے۔ وہ خاموش ہو گئے۔ انھوں نے اپنا موبائیل آف کر دیا۔ گھر میں قید ہو گئے۔ لیکن پھر ان کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں۔ پہلے ایک آواز اٹھی پھر دوسری پھر تیسری۔ لیکن دھرنا جاری رہا۔ اس لیے فیروز خان تنازعہ کو بڑھنے سے بچانے کے لیے اپنے وطن لوٹ گئے۔ ان کے لوٹتے ہی بی ایچ یو کے طلبہ بڑی تعداد میں ان کی حمایت میں آگئے او ران کو واپس بلانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے فیروز خان کی تقرری منسوخ نہیں کی ہے۔ گویا ان کی آمد کے امکانات موجود ہیں۔

لیکن بہر حال خواہ مخواہ کا ایک تنازعہ پیدا ہو گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سنسکرت زبان صرف ہندو ہی پڑھ سکتے ہیں اور اسے ہندو ہی پڑھا سکتا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کسی غیر آریہ سے نہیں پڑھیں گے لیکن امریکہ اور بعض دوسرے ملکوں میں بھی سنسکرت کے شعبے ہیں اور برطانیہ میں تو انگریز سنسکرت پڑھاتے ہیں۔ کیا یہ طلبہ وہاں بھی جائیں گے اور کہیں گے کہ تم ہٹ جاؤ تم سنسکرت نہیں پڑھا سکتے۔ یہ بڑی تنگ نظری ہے کہ ایک علم کو مذہب سے جوڑ دیا گیا۔ حالانکہ فیروز خان کوئی پہلے مسلمان نہیں ہیں جنھوں نے سنسکرت کی تعلیم حاصل کی اور آچاریہ سے بھی بڑی پدوی حاصل کی۔ ہم نے بچپن میں ایسے کئی عالموں کو تقریر کرتے ہوئے سنا ہے جو آچاریہ تھے یعنی جنھوں نے ایم اے سنسکرت سے کیا تھا۔ تو کیا ان علما کا مذہب بھرشٹ ہو گیا یا سنسکرت ناپاک ہو گئی۔

فیروز خان کی حمایت میں متعدد قلمکار بھی میدان میں آگئے ہیں اور یہ بتانے میں مصروف ہیں کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اگر مذکورہ فارمولے کو تسلیم کر لیا جائے تو سوال یہ اٹھے گا کہ جو ہندو اردو کے بڑے عالم ہوئے ہیں اور اب بھی ایسے کئی موجود ہیں یا جن مسلم شعرا نے ہندو دیوی دیوتاؤں کی شان میں قصیدے اور نظمیں لکھی ہیں ان کا کیا جائے۔ کیا وہ سب دریا برد کر دیا جائے۔ اور سب تو چھوڑیے خود بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں سات اساتذہ میں سے ایک استاد ہندو ہیں اور ان کا نام رشی کمار شرما ہے۔ کیا شرما جی کو شعبہ اردو سے نکال باہر کیا جائے۔ انگریزی روزنامہ ”دی ہندو“ نے نمایاں انداز میں ان کی اسٹوری شائع کی ہے۔ اسی طرح ایک ہندو قلمکار ناگیندر نے فیروز خان کی حمایت میں ایک بہترین مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے ”فیروز خان تو لوٹ گئے، بسم اللہ خان، نذیر بنارسی اور فراق کو کیا کریں گے“۔ جی چاہتا ہے کہ اس مضمون کے کچھ اقتباسات نذر قارئین کیے جائیں۔
وہ لکھتے ہیں:
”کئی دن سے ایک سوال پریشان کر رہا ہے۔ ذہن اچانک پوچھنے لگا ہے کہ یہ نظیر اکبر آبای صاحب کون تھے جو دیوالی-ہولی پر بھی گیت لکھ ڈالتے تھے! کرشن-کنہیا کی بانسری کی آواز اور لیلائیں انھیں اتنی کیوں بھائیں کہ ان پر بھی گیت لکھ ڈالے۔ اچانک خیال آیا کہ ارے یہ نظیر اکبر آبادی تو مسلمان تھے۔

اب ہم سوچنے لگے کہ ہمارے بچپن میں ہی یہ ’گل نغمہ‘ جیسا بہترین رزمیہ لکھنے والا شخص فراق گورکھپوری آخر کون تھا؟ نام سے تو ’مسلم‘ ہی لگتا ہے لیکن ڈھونڈا تو پتہ چلا کہ یہ تو گرو گورکھ ناتھ کی زمین سے آنے والا کوئی ’رگھو پتی سہائے‘ تھا جو پتہ نہیں کب فراق بن گیا۔ یعنی یہ شخص تو ہندو نکلا۔ اور اگر ہندو نکلا تو اردو کا اتنا بڑا دانشور کیسے ہو سکتا ہے اور ’گل نغمہ‘ جیسی عظیم تصنیف کیسے پیش کر سکتا ہے۔ ’ہندی‘ میں جنم لینے والا یہ شخص ’اردو‘ میں لکھ کر ’ساہتیہ اکادمی‘ جیسے ایوارڈ پر بھی ’قبضہ‘ کر لیتا ہے، اورکوئی ہندو یا مسلم ’مائی کا لال‘ چوں تک نہیں کرتا۔ ایسی حرکت کے لیے اسے تو اسی وقت پہلو خان کی حالت تک پہنچا دیا جانا چاہیے تھا، اپنا مذہب ’تباہ‘ کرنے کے لیے۔ اسے تو صرف ’ہندی‘ اور ’سنسکرت‘ تک محدود رہ کر ’مذہبی پرچم‘ کی ٹھیکیداری کرنی چاہیے تھی، لیکن اس نے تو مذہب ہی نہیں، پتہ نہیں کیا کیا تباہ کیا ہوگا۔

نظر آ رہا ہے کہ اسی بنارس کے مینا شاہ کی گلی والے استاد بسم اللہ خان کمر میں لال انگوچھا لپیٹے بینیا باغ، دال منڈی ہوتے ہوئے کسی سے ’رام رام‘، کسی سے’جے رام جی‘ کی کرتے، بولتے-بتیاتے پنچ گنگا گھاٹ پر آئے ہیں اور گنگا کی دھارا میں ڈبکی لگا کر سورج کو نمسکار بھی کیا ہے۔ لوٹتے ہوئے وہ بالاجی مندر میں گئے ہیں اور وہاں بیٹھ کر بڑی دیر سے اپنی پسندیدہ شہنائی پر ریاض کر رہے ہیں۔ آس پاس لوگ جمع ہو گئے ہیں… ان میں وہ لوگ ہی زیادہ ہیں جو عقیدت میں ڈوبے ہمیشہ کی طرح گنگا اشنان کرنے آئے ہیں اور سوریہ کو اَرگھ دینے کے بعد عادتاً بسم اللہ خان کی شہنائی کی آواز سے مدہوش ہو گئے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے پورا برج کرشن کی بانسری کے سحر میں ڈوب جاتا تھا اور اسی بانسری کا سحر جب کسی مسلم فنکار کی بانسری سے نکلتا ہے تب بھی سب کی زبان سے ویسی ہی ’واہ‘ نکلتی ہے۔

تو کیا اب ہمیں بانسری اور شہنائی کی آوازوں کو سننے سے پہلے ساز چھیڑنے والے کا مذہب بھی دیکھ لینا ہوگا! یہ بہت بڑا سوال ہے۔ یہ بڑا سوال بھارتیندو پرساد، پریم چند، نذیر بنارسی اور استاد بسم اللہ خان کی سرزمین سے نکلا ہے۔ اس نے یہ سوال بھی ہمارے سامنے چھوڑا ہے کہ کیا ہم اپنی ان علامتوں کو بھول گئے ہیں اور یہ بھی کہ کیا ہم نے ان سے سبق لینا، سیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ویسے ضمناً بتا دیں کہ یہ اسی بنارس کی ’نئی ہوا‘ ہے جہاں کے عالمی شہرت یافتہ سنکٹ موچن مندر کے سالانہ سنگیت اتسو میں استاد بسم اللہ خان اگر شہنائی بجاتے رہے تو استاد امجد علی خان کے ساتھ امان اور ایان کا سرود بھی گونجا ہے، ذاکر حسین کا طبلہ بھی اور نظامی برادران کی قوالی بھی۔

ایسے میں اپنے بنارس سے بس ایک سوال کہ کہیں ہم اپنی اس مشترکہ تہذیب کو تو ختم کرنے نہیں بیٹھ گئے جس کی ہم مثال دیتے رہے ہیں۔ اور اس مثال میں ہم استاد بڑے غلام علی خاں کا ’ہری اوم تتست…‘ اور پنڈت جسراج کا ’میرو اللہ مہربان…‘ بھی یاد کرتے ہیں اور یہ بھی بتانے سے نہیں جھجکتے کہ بابا علاءالدین خان کود میہر دیوی کے ماننے والے تھے اور ان کی بیٹی کا نام اَنّ پورنا تھا“۔
sanjumdelhi@gmail.com
(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات و نظریات ہیں،ادارہ اردو تہذیب کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Languages have no religion in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.