ہندوستان و پاکستان کے مابین بد اعتمادی کی نئی لہر

سہیل انجم
ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ کشیدگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کبھی کبھی اندیشے جنم لینے لگتے ہیں۔ حالانکہ ہندوستان کی بالغ نظر قیادت سے کسی نا سمجھی کی کوئی امید نہیں ہے۔ پھر بھی کب کیا ہو جائے کہا نہیں جا سکتا۔ تازہ کشیدگی کے دو بنیادی اسباب ہیں۔ پہلا جموں و کشمیر میں جاری احتجاج کو پاکستان کی جانب سے ہوا دینا اور دوسرا اڑی میں دہشت گردوں کے حملے میں بیس جوانوں کا ہلاک ہونا۔ جموں و کشمیر میں ڈھائی ماہ سے ہنگامہ برپا ہے۔ 70 سے زائد افراد ہلاک اور دس ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کی بینائی چلی گئی ہے۔ اس پورے ہنگامے کے دوران پاکستان کا رویہ انتہائی شرمناک رہا۔ اس نے نیم مسلح دستوں پر پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس نے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کو شہادت قرار دیا اورعلی الاعلان کشمیر میں دہشت گردی میں ملوث گروپو ں اور نوجوانوں کی بارہا حوصلہ افزائی کی۔ اسی درمیان اڑی میں چار دہشت گردوں نے پولیس کے کیمپ پر حملہ کر دیا جس میں اٹھارہ جوان ہلاک ہو گئے۔ بعد میں ہلاک شدگان کی تعداد بیس ہو گئی۔ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان کی سرزمین سے سرگرم جیش محمد سے تھا۔ ان حملے نے ہندوستان کے اندر پاکستان کے خلاف زبردست اشتعال پیدا کر دیا۔ عوام کا ایک طبقہ یہ مطالبہ کرنے لگا کہ پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے۔ کم از کم نیوز چینلوں پر مباحثوں میں شریک سابق فوجیوں نے بار بار پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے کیمپوں کے خلاف کارروائی کی مطالبہ کیا۔ لیکن حکومت نے بہت ہی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور عجلت میں کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔ اس نے کئی متبادلوں پر غور کیا اور سفارتی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی کارروائی کو ترجیح دی۔ اس وقت ہندوستان کی جانب سے عالمی سطح پر جو کوششیں ہوئی ہیں ان کے خاطر خواہ نتائج نکل رہے ہیں۔ بیشتر ملکوں نے پاکستان کی مذمت کی ہے اور امریکی کانگریس میں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کے لیے ایک بل پیش کر دیا گیا ہے۔ اڑی حملے کے بعد عالمی رہنماؤں نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اس وعدے کو پورا کرے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
یہ تمام باتیں اپنی جگہ پر۔ لیکن اگر ہم پاکستان کے رویے پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ اس کی جانب سے حالات کو خراب کرنے کی ہی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جہاں ہندوستان تعلقات کو بہتر بنانے کا کوئی موقع کھونا نہیں چاہتا وہیں وہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتا جس سے تعلقات خراب ہوں۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ جموں و کشمیر میں ہنگامے کو حمایت دینے سے اس کا پیٹ نہیں بھرا تو اس نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے کو اٹھا دیا۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اپنی پندرہ منٹ کی تقریر میں 75 فیصد حصہ کشمیر پر مرکوز رکھا۔ انھوں نے تقریر کا آغاز افغانستان میں دہشت گردی سے کیا اور پہنچ گئے کشمیر۔ انھوں نے برہان وانی کو جو کہ حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا کشمیری عوام اور نام نہاد تحریک آزادی کی آواز اور علامت قرار دیا۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں وہاں استصواب رائے کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کو اس سلسلے میں تفصیلات پیش کرنے کی بات کہی۔ انھوں نے ہندوستان پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ ظاہر ہے انھوں نے جو کچھ کہا ان کو وہی کہنا تھا۔ کیونکہ پاکستانی عوام وہی سننا چاہتے تھے۔ وہ اس سے بھی سخت زبان کی توقع کر رہے تھے۔ پاکستانی حزب اختلاف کا ان کی تقریر پر کہنا ہے کہ ان کو توقع تھی کہ نواز شریف کشمیر کے معاملے پر زیادہ سخت لب و لہجہ اختیار کریں گے لیکن بقول اس کے انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ گویا اس کے خیال میں انھیں اور سخت گفتگو کرنی چاہیے تھی۔ اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ شائد پاکستان کے حزب اختلاف کو ہندوستان اور پاکستان کے مابین دوستی اور خیرسگالانہ تعلقات پسند نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو کم از کم اس کو یہ بات نہیں کہنی چاہیے تھی۔ لیکن نواز شریف کی تقریر پر جیسی کہ توقع تھی کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ بان کی مون نے تو ان کی اس اپیل کو سرے سے مسترد کر دیا کہ اقوا م متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کرایا جائے اور اس کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کا جائزہ لے۔ بان کی مون نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ باہمی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرے۔ انھوں نے اس مسئلے میں تیسرے فریق کی مداخلت کو رد کر دیا۔ اور امرواقعہ بھی یہی ہے کہ اس مسئلے کو دونوں کو آپسی بات چیت سے حل کرنا ہے نہ کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی مدد سے۔
ہندوستان نے نواز شریف کی تقریر پر انتہائی سخت رد عمل ظاہر کیا ہے اور پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک بتایا ہے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ بھی اسے دہشت گرد ملک قرار دے چکے ہیں۔ وزیر مملکت برائے خارجہ ایم جے اکبر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نواز شریف کی تقریر غیر حقیقت پسندانہ اور دھمکی آمیز تھی۔ ہندوستان نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کی حمایت کرکے در اصل جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ اس کے مطابق وہ ٹکسلا جو کسی زمانے میں علم و عرفان کا مرکز ہوا کرتا تھا اب وہاں دہشت گردی کی پڑھائی ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے دہشت گرد وہاں داخلہ لے رہے ہیں اور دہشت گردی کی ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے قبل جب پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا تھا تو نواز شریف کی جانب سے بہت مثبت رد عمل کا اظہار کیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کو فون کر کے ان کو یقین دلایا تھا کہ حملے کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ وہ حملے کے کارپردازوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن اس کے بعد پھر معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔ حالانکہ ہندوستان نے اس حملے کی جانچ کے لیے پاکستانی تفتیش کاروں کو یہاں آنے کی اجازت بھی دی۔ وہ آئے اور ایئر بیس پر جا کر جائزہ بھی لیا۔ لیکن پاکستان نے ہندوستان کی این آئی اے کو اپنے یہاں آنے کی اجازت ابھی تک نہیں دی ہے۔
اگر ہم دیکھیں تو پائیں گے کہ جب سے دہلی میں نئی حکومت بنی ہے وہ بہت ہی سمجھداری سے کام لے رہی ہے۔ سب سے پہلے تو نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کو مدعو کیا اور ان کی بہت آؤ بھگت کی۔ ان کو مقررہ سے زیادہ وقت دیا اور ان سے باہمی مسائل پر کھل کر تبادلہ خیال کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپسی مسائل کو آپسی بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد بھی ان کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے۔ یہاں تک کہ وہ افغانستان کے دورے سے واپسی پر اچانک لاہور پہنچ گئے اور نواز شریف کے خاندان میں ہونے والی شادی میں شرکت کی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان گئیں اور بہت ہی محبت آمیز انداز میں انھوں نے پاکستانی رہنماؤں سے بات چیت کی۔ لیکن اس کے بعد پاکستان کا رویہ بدلنے لگا۔ جب وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پاکستان گئے تو ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ پاکستان نے اپنی روش نہیں بدلی۔ کشمیر میں دراندازوں اور دہشت گردوں کو بھیجنے کا سلسلہ ترک نہیں کیا۔ گویا وزیرناعظم نریندر مودی کی جانب سے دوستانہ تعلقات کے قیام کی تمام تر کوششوں پر پاکستان نے پانی پھیر دیا۔ بہر حال اگر پٹھان کوٹ اور اڑی کے واقعات نہ ہوئے ہوتے اور کشمیر میں جاری شورش کو اس نے ہوا نہ دی ہوتی اور برہان وانی کی ہلاکت کو شہادت قرار دے کر دہشت گردوں کے ساتھ اظہار یک جہتی نہ کیا ہوتا تو حالات اس رخ پر نہیں پہنچتے جس پر آج پہنچ گئے ہیں۔ دونوں ملکوں میں بد اعتمادی کی وہ فضا نہیں بنی ہوتی جو اس وقت بن گئی ہے۔ کیا پاکستان سمجھداری سے کام لینے پر غور کرے گا۔

رابطہ کے لیے:sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Lack of trust between india and pakistan in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply