”کتنا اچھا ہے مودی“

سہیل انجم

جس وقت یہ کالم لکھا جا رہا ہے جاپان کے شہر اوساکا میں گروپ 20 کا سربراہ اجلاس جاری ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی بھی وہاں موجود ہیں۔ انھوں نے متعدد عالمی رہنماو¿ں سے ملاقات کی ہے اور باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ کئی عالمی رہنما ان کے ساتھ سیلفی لینے میں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایسے ہی رہنماو¿ں میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن بھی ہیں۔ انھوں نے پی ایم مودی کے ساتھ سیلفی لی اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔ انھوں نے اس تصویر کے ساتھ جس میں دونوں وزرائے اعظم مسکرا رہے ہیں ایک کیپشن بھی لگایا۔ انھوں نے ہندی میں لکھا ”کتنا آچھا ہے مودی، G20 OsakaSummit“۔ اس سیلفی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنماو¿ں میں کتنی گہری دوستی ہے۔ یا کتنی گہری دوستی معلوم ہوتی ہے۔ بعد میں انھوں نے ٹویٹر پر اس تصویر کو پوسٹ کیا۔ لوگوں نے اسے بے حد پسند کیا۔ یہاں تک کہ آن واحد میں یہ تصویر وائرل ہو گئی۔ چار گھنٹے کے اندر اس پر 3.8 ری ٹویٹ آگئے اور پندرہ ہزار سے زائد لائک مل گئے۔ بعد میں وزیر اعظم مودی نے بھی اس تصویر کا جواب دیا اور لکھا کہ وہ اپنے آسٹریلیائی ہم منصب کے جوش اور حوصلے کے قدردان ہیں۔

نریندر مودی جہاں بھی جاتے ہیں لوگ ان کے ساتھ سیلفی لینے میں دلچسپی دکھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم بلکہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے سے قبل ہی لوگ ان کے ساتھ سیلفی لیتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد یہ سلسلہ تیز ہو گیا۔ وہ خود اس فن میں ماہر ہیں۔ سیلفی لیتے ہوئے ان کی لاتعداد تصویریں وائرل ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہندوستان میں سیلفی کو رواج دینے میں مودی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ 2014 میں پارلیمانی انتخابات کے دوران جب انھوں نے اپنے حلقے میں ووٹ ڈالا تھا اور پھر کمل کے نشان کے ساتھ سیلفی لی تھی تو وہ تصویر پوری دنیا میں وائرل ہوئی تھی۔ اس کے بعد بھی بے شمار مواقع ایسے آئے جب ان کی لی ہوئی سیلفی نے شہرت حاصل کی۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیلفی کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی جانیں بھی گنوا دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر مودی نے سیلفی کو اتنا مقبول بنانے میں اپنا کردار ادا نہ کیا ہوتا تو اس سے لوگوںکی اتنی جانیں نہیں جاتیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کی جانیں جاتی ہیں وہ بد احتیاطی کرتے ہیں۔ اب گزشتہ دنوں متھرا میں ایک گھاٹ پر سیلفی لیتے وقت ایک شخص کی جان چلی گئی۔ ہوا یہ کہ وہ اپنے کندھے پر دو بچوں کو بٹھا کر سیلفی لے رہا تھا کہ اس کا پاو¿ں پھسلا، وہ گر گیا اور ندی کے بیچ دھارے میں چلا گیا۔ وہ ڈوب گیا اور بعد میں اس کی لاش ملی۔ اگر اس نے احتیاط سے کام لیا ہوتا تو اس کی جان نہیں جاتی۔ اسی طرح دہلی کے سگنیچر بریج پر بھی سیلفی لیتے ہوئے کئی لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ اس میں بھی انھی لوگوں کی غلطی ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب متعدد تفریحی مقامات پر ”نو سیلفی“ کا بورڈ آویزاں کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ”سیلفی زون“ بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ لوگ وہیں جا کر سیلفی لیں کسی خطرناک جگہ پر نہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ فلاں کی وجہ سے سیلفی لیتے وقت لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں غلط ہوگا۔

بہر حال یہ تو درمیان میں ایک بات آگئی۔ ورنہ عرض یہ کرنا ہے کہ ہندوستان نے اوساکا میں اپنی بات بے خوف و خطر اور ببانگ دہل سے رکھی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے متعدد رہنماو¿ں سے ملاقات کی ہے۔ سب کی نگاہیں مودی ٹرمپ ملاقات پر لگی رہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ نے ایک روز قبل امریکی مصنوعات پر ہندوستان کی جانب سے ٹیکس عاید کیے جانے پر سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے اسے واپس لینا ہوگا۔ لیکن جب دونو ںرہنماو¿ں میں ملاقات اور بات چیت ہوئی تو ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ البتہ دونوں نے ایران سمیت کئی موضوعات پر گفت و شنید کی۔ دونوں رہنماو¿ں نے باہمی دلچسپی کے متعدد امور اور عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کے بعد مودی کی ٹرمپ سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

گروپ 20 سربراہ اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات میں تجارت، دفاع، فائیو جی کمیونی کیشن نیٹ ورک، ایران اور دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ٹرمپ نے انتخابات میں شاندار کامیابی پر مودی کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ دونوں ملک دفاعی تعاون سمیت دیگر متعدد شعبوں میں مل کر کام کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم عظیم دوست بن گئے ہیں اور دونوں ملک اس سے قبل اتنے قریب کبھی نہیں ہوئے تھے۔ ٹرمپ نے ایران کے مسئلے پر کہا کہ ہمارے پاس کافی وقت ہے۔ کوئی عجلت نہیں ہے، اس سلسلے میں کوئی دباو¿ نہیں ہے۔ ہندوستان کے سکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے ایران کے تعلق سے گفتگو میں بھارت کی توانائی کی ضرورتوں کو اجاگر کیا اور خطے میں امن و استحکام کے سلسلے میں اپنی فکرمندی ظاہر کی۔ ان کے بقول مودی نے کہا کہ اگرچہ ایران بھارت کی گیارہ فیصد توانائی کی ضرورتیں پوری کرتا ہے تاہم بھارت نے ایران سے تیل کی درآمد میں تخفیف کر دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ قیمتیں مستحکم رہیں گی۔ امریکی صدر نے اس پر روشنی ڈالی کہ امریکہ خطے میں قیام امن اور تیل کی قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ملک اس پر متفق ہیں کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے سلسلے میں ایک دوسرے کے رابطے میں رہیں گے۔ ہندوستان کی جانب سے روس سے S-400 دفاعی نظام خریدنے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ البتہ دونوں نے باہمی فوجی تعاون بڑھانے پر غور و خوض کیا۔ حالانکہ دونوں ملکوں میں جن امور پر اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ ملاقات نتیجہ خیز رہی اور بات چیت گرم جوشی کے ماحول میں ہوئی۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جن دیگر امور پر اختلافات ہیں ان میں ایران سے تیل کی خرید اور امریکی مصنوعات پر ٹیکس شامل ہے۔ امریکہ کو اس بات کی بہت فکر ہے کہ ہندوستان نے اس کی 28 مصنوعات پر ٹیکس لگا دیا ہے۔ وہ اسے جوابی ٹیکس یا محصول قرار دیتا ہے۔ جبکہ اس قسم کا قدم پہلے امریکہ نے ہی اٹھایا۔ اس نے ہندوستان سے ترجیحی تجارتی ملک کا درجہ واپس لے لیا۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ نے کئی ترقی پذیر ملکوں کو ترجیحی ملک کاد رجہ دیا تھا تاکہ ان کے یہاں تجارتی ترقی ہو۔ اس کا مقصد ان ملکوں کو اپنے پالے میں لانا بھی تھا۔ اس سلسلے میں اس نے ایک نظام بنایا جسے جی پی ایس کہتے ہیں۔ اس کے تحت آنے والے ملکوں کو امریکی بازاروں میں ٹیکس دیے بغیر تجارت کرنے کا حق حاصل تھا۔ لیکن امریکہ نے یکم جون کو ہندوستان سے یہ درجہ واپس لے لیا۔ اس کے بعد ہندوستان نے 28 امریکی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لگا دیا۔ ہندوستان کی مجبوری یہ ہے کہ اسے بھی تحفظ پسندی کی پالیسی اپنانی پڑ رہی ہے ورنہ اس کی درمیانہ درجے کی صنعتیں برباد ہو جائیں گی۔ لیکن صدر ٹرمپ کو یہ بات ناگوار گزری ہے۔ تاہم مودی سے ملاقات میں اس پر کوئی زیادہ گفتگو نہیں ہوئی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Kitna achha hai modi in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.