ہم آصفہ کے لیے شرمندہ ہیں!

سہیل انجم

دسمبر 2012 کی ایک شب میں دہلی کی سڑکوں پر جب میڈیکل کی ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی ہوئی تھی اور اسے اس بری طرح زدوکوب کیا گیا تھا کہ چند روز کے اندر ہی اس کی موت واقع ہو گئی تھی تو پورا ملک سڑکوں پر نکل آیا تھا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں سے لے کر دارالحکومت دہلی تک لوگوں میں زبردست غم و غصہ تھا اور مظاہروں کا طویل سلسلہ چل پڑا تھا۔ مظاہرین، انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاست دانوں، سول سوسائٹی اور ہر انصاف پسند شخص کا مطالبہ تھا کہ ایسے بھیانک جرائم کے مرتکبین کو بخشنا نہیں جانا چاہیے، انھیں پھانسی دے دینی چاہیے۔ چاروں طرف سے پڑنے والے دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے خواتین کے خلاف جرائم کے سلسلے میں موجود قوانین کو مزید سخت بنایا تھا اور ملزموں کے خلاف تیز رفتار عدالتی کارروائی ہوئی اور انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ یقیناً اس وقت عوام نے بجا طور پر صدائے احتجاج بلند کی تھی اور ان کے دباؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ عدالتی کارروائی نسبتاً جلد نمٹ گئی۔ ہم ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ اس قسم کے گھناونے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو ایسی عبرت ناک سزا دینی چاہیے کہ کسی شخص کو دوبارہ ایسے جرم کی ہمت نہ ہوسکے۔
آج ایک بار پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے، اسی طرح غم و غصے کا اظہار وقت کا تقاضہ ہے۔ اس بار بھی ایک معصوم زندگی درندگی کا شکار بنی ہے اور اس کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی اور پھر انتہائی بے رحمی کے ساتھ اس کا قتل کر دیا گیا ہے۔ ہاں اگر ہم غور کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس بار جرم کی سنگینی کہیں زیادہ ہے۔ اس بار نشانہ ایک آٹھ سالہ معصوم بچی بنی ہے۔ اس کو اغوا کیا گیا۔ ایک دیوی استھان میں رکھا گیا۔ یعنی عبادت گاہ کو بھی اس جرم میں شامل کر لیا گیا۔ اسے خالی پیٹ نشہ آور دوا دی جاتی رہی اور ایک ہفتے تک اس کے ساتھ منہ کالا کیا جاتا رہا ۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ درندہ صفت مجرموں نے میرٹھ سے یہ کہہ کر ایک نوجوان کو بلایا کہ تم اگر اپنی پیاس بجھانا چاہتے ہو تو تم بھی آجاؤ۔ وہ آیا اور اس نے بھی اس معصوم بچی کے جسم کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ درندگی یہیں پر ختم نہیں ہو ئی بلکہ جب اسے ہلاک کرنے کے لیے لے جانے لگے تو ایک شیطان صفت نے کہا کہ ذرا رک جاؤ میں ایک بار اور اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے پھر بے ہوش بچی کے ساتھ گھناونی حرکت کی اور اس کے بعد اسے مار دیا گیا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ واقعی ختم ہو جائے ایک بڑے پتھر سے دو بار اس کے سر پر کاری ضرب لگائی گئی اور جب وہ ختم ہو گئی تو اس کی لاش جنگل میں پھینک دی گئی۔
یہ کوئی فلمی کہانی نہیں ہے بلکہ ایک سچا واقعہ ہے۔ اور جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ فرضی نہیں بلکہ پولیس کی جانب سے دائر کی گئی چارج شیٹ سے لیا گیا ہے۔ ایک انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے اس کی پوری تفصیل شائع کی ہے جو مختلف اخباروں کے ساتھ ساتھ نیوز چینلوں پر بھی پیش کی جا رہی ہے۔ یہ معصوم بچی کون تھی اور کہاں کی رہنے والی تھی اور اس کا جرم کیا تھا؟ تو سنیے یہ معصوم بچی جموں کے کٹھوعہ کی باشندہ تھی۔ اس کا نام آصفہ تھا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک غریب خانہ بدوش بکروال خاندان کی بیٹی تھی۔ اس کے والدین کا مکان جس جگہ واقع ہے اسے بعض مقامی باشندے وہاں سے ہٹانا چاہتے تھے۔ وہ لوگ چاہتے تھے کہ بکروال خاندان وہاں سے چلا جائے اور وہ پورے علاقے پر قبضہ کر لیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بارے میں پہلے سے ہی ایک تنازعہ چلا آرہا تھا۔ اسی لیے بعض درندوں نے اس گھر کی ایک آٹھ سالہ بچی کو شکار بنایا تاکہ وہ لوگ خوف زدہ ہو کر وہ علاقہ چھوڑ دیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس بچی کا کیا قصور تھا۔ وہ تو اپنے گھوڑوں کو چرانے گئی تھی۔ اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کیا تنازعہ ہے اور کیوں ہے۔ وہ تو انسان تو انسان جانوروں سے بھی بہت پیار کرتی تھی۔ گھوڑوں کو چرانے کے ساتھ ساتھ اسے دوسرے جانوروں کو کھانا کھلانے سے بھی بڑی دلچسپی تھی۔ اسے کیا پتا تھا کہ اس کے پڑوس میں شیطانوں کی ایسی ذریت موجود ہے جو ایک روز اسے اپنا نشانہ بنا لے گی۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس جرم میں ریونیو محکمہ کا ایک سابق ملازم یعنی ایک معمر شخص ملوث تھا تو دو نابالغ لڑکے بھی ملوث تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ شمبھو ریگر نے ایک شخص کو کلہاڑی سے قتل کرنے کے جرم کا ویڈیو بنانے کے لیے اپنے ایک نابالغ بھتیجے کو استعمال کیا تھا۔ اسی طرح اس معاملے میں بھی دو نابالغوں کو استعمال کیا گیا۔
یہ واقعہ جنوری کا ہے۔ اب جو پولیس نے تحقیقات کرکے چارج شیٹ عدالت میں داخل کرنے کی کوشش کی تو ایسا کچھ ہوا جس کا تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ مقامی باشندوں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا۔ جموں کے وکلا ملزموں کے حق میں کھڑے ہو گئے اور پولیس افسران کو چند میٹر کے فاصلے پر واقع عدالت تک جانے میں چھ گھنٹے لگ گئے۔ ملزموں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا اور کہا گیا کہ انھیں پولیس کی کرائم برانچ کی جانچ پر یقین نہیں ہے۔ حالانکہ جس افسر نے جانچ کی ہے وہ نہایت ایماندار مانے جاتے ہیں اور ان کی بڑی صاف ستھری امیج ہے۔ لیکن اس معاملے کو اس قدر ہندو مسلم رنگ میں رنگ دیا گیا کہ اب اس پر غور ہو رہا ہے کہ جانچ کمیٹی میں دو سکھ افسروں کو بھی شامل کر دیا جائے۔ لیکن مقامی باشندے اور وکلا اور ملزموں کے اہل خانہ سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ایک خاص سیاسی جماعت کے لیڈروں نے بھی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ ریاستی حکومت میں شامل دو وزرا بھی پولیس جانچ سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ بھی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ ماحول میں فرقہ وارایت کا زہر سرایت کر گیا ہے یا کر دیا گیا ہے۔ جرم اور مجرم کو مذہب کا چشمہ پہن کر دیکھا جانے لگا ہے۔ یہ بھی بڑی حیرت انگیز بات ہے کہ اگر اس قسم کے کسی جرم میں کسی دوسرے مذہب کا شخص ملوث ہوتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی ہم مذہب ملوث ہے تو اس کے ساتھ لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اس طرح جرم اور مجرم کی پشت پناہی کی جاتی ہے۔
وکلا کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ کسی مجرم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ ان کا کام تو مجرم کو سزا دلانا ہوتا ہے۔ انصاف کی بالادستی قائم کروانی ہوتی ہے۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ قانون کے رکھوالے بھی ایک روز قانون کا مذاق اڑائیں گے۔ جموں کے وکلا کے اس قدم کو دیکھ کر تقریباً بارہ تیرہ سال قبل فیض آباد کی ایک عدالت کے وکلا کا فیصلہ یاد آگیا۔ اس وقت لکھنؤ اور فیض آباد کی عدالتوں میں کئی بم دھماکے ہوئے تھے۔ بم دھماکے کس نے کیے تھے معلوم نہیں تھا۔ لیکن چونکہ دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا ہے لہٰذا چند مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد وکلا نے ملزموں کے خلاف مظاہرہ کیا اور انھوں نے اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان کا کیس نہیں لڑیں گے یعنی ان کو کسی بھی قسم کی قانونی مدد فراہم نہیں کریں گے۔ وہاں اس لیے ملزموں کے خلاف فیصلہ کیا گیا کہ ان کا مذہب دوسرا تھا اور جموں میں اس لیے ملزموں کاساتھ دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ ہم مذہب ٹھہرے۔
ہندوستانی معاشرہ پہلے ایسا تو نہیں تھا۔ پہلے جرم کو جرم اور مجرم کو مجرم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب کیا ہو گیا ہے کہ انصاف کا پیمانہ بدل گیا ہے۔ اب سیاست داں بھی مذہب کا چشمہ پہن کر معاملات کو دیکھنے لگے ہیں۔ کوئی اکا دکا سیاست داں اگر جرات سے کام لے کر انصاف کی بات کرے تو وہ الگ معاملہ ہے ورنہ سیاست دانوں کی اکثریت بھی فرقہ واریت کے جراثیم سے متاثر ہو گئی ہے۔ ووٹ بینک کی سیاست نے ان کو اس قدر بے حس کر دیا ہے کہ ان میں کھل کر بولنے کی جرات نہیں رہ گئی ہے۔ وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر میں نے زبان کھولی تو میرا ووٹ بینک مجھ سے الگ ہو جائے گا ، میرا سیاسی کریئر ختم ہو جائے گا، میں ایم پی اور ایم ایل اے نہیں رہ سکوں گا۔ یہ پیمانہ بن گیا ہے انصاف کا۔ اسی میں یہ رخ بھی جڑ گیا ہے کہ اگر مجرم کسی ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے تو اس سیاسی جماعت کے لوگ یا تو خاموش رہتے ہیں یا اس کے حق میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور دوسری سیاسی جماعتوں کے لیڈران اس کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ یعنی دونوں طرف سے سیاست کی جاتی ہے۔ دونوں سیاسی مفاد کے پیش نظر اپنی حکمت عملی طے کرتے ہیں۔
لیکن آصفہ تو کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ اس کے اہل خانہ کا تو کوئی سیاسی رشتہ کسی جماعت سے نہیں تھا۔ پھر اسے کیوں نشانہ بنایا گیا، اس کی زندگی اس طرح کیوں ختم کر دی گئی اور اب اس معاملے کو سیاسی رنگ کیوں دیا جا رہا ہے۔ شاید اس میں بھی ووٹ بینک کی ہی سیاست کارفرما ہے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Kathua rape and murder makes us ashamed in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
Tags: , ,

Leave a Reply