کشمیر عالمی نہیں دو طرفہ مسئلہ ہے!

سہیل انجم

یوں تو پاکستان ہمیشہ اس کوشش میں مصروف رہا ہے کہ کشمیر کو ایک عالمی مسئلہ بنا دیا جائے۔ اقوام متحدہ سے لے کر دیگر تمام عالمی فورموں پر وہ اسے اٹھاتا رہا اور یہ اپیل کرتا رہا ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ یقیناً یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے حل کیا جانا چاہیے۔ جب تک یہ حل نہیں ہوگا خطے میں کشیدگی کا ماحول رہے گا۔ وادی کے نوجوانوں کے ایک طبقے کے غلط ہاتھوں میں پڑنے یا امن دشمن قوتوں کے ورغلانے میں آجانے کا خدشہ موجود رہے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سلسلے میں عالمی پنچایت کی جائے اور دنیا کے بڑے لوگوں کو بٹھا کر میٹنگ کی جائے اور پھر ایک دوسرے پر الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ شروع ہو۔

ہمارے بڑوں نے یعنی ہندوستان اور پاکستان کے سابق حکمرانوں نے اس کو حل کرنے کا ایک بہترین نسخہ تجویز کیا ہے اور ہندوستان بڑوں کے احترام میں اسی نسخے پر زور دیتا آیا ہے۔ یعنی شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلامیہ۔ شملہ میں دو جولائی 1972 کو ہندوستان کی اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مابین ایک سمجھوتہ ہوا تھا جس پر دونوں کے دستخط ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک باہمی تنازعے کو آپسی گفت و شنید سے حل کریں گے۔ اس کے بعد ہندوستان مسئلہ کشمیر سمیت دیگر تمام تنازعات کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیتا آیا ہے۔ اس کے بعد 21 فروری 1999 کو لاہور میں اس وقت کے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپئی اور نواز شریف کے مابین اجلاس ہوا تھا اور اس میں ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جسے لاہور اعلامیہ یا لاہور ڈکلریشن کہا جاتا ہے۔ اس پر دونوں وزرائے اعظم کے دستخط ہیں۔ اس میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ دونوں ملک باہمی تنازعات کو دوطرفہ بات چیت سے حل کریں گے۔ اس اعلامیہ کی اسی روز دونوں ملکوں کی پارلیمنٹ نے توثیق بھی کر دی تھی۔ ان دونوں معاہدوں کے بعد ہندوستان استقلال کے ساتھ ان کی پابندی کرتا رہا ہے اور ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کشمیر سمیت تمام اختلافات کو آپسی بات چیت سے حل کیا جائے۔ سابقہ حکومتوں میں دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں اور بحالی اعتماد کے اقدامات بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ یہ اقدامات دونوں ملکوں کی جانب سے کیے جاتے رہے۔ مسئلہ کشمیر بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ یعنی اسے بھی باہمی گفت و شنید سے ہی حل کیا جانا ہے۔

لیکن پاکستان ان دونوں معاہدوں کی کم از کم مسئلہ کشمیر کی حد تک پاسداری کرنے سے انکار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا کے بڑے لوگ اسے حل کرائیں۔ حالانکہ دونوں ملک خود اس پوزیشن میں ہیں کہ آپس میں بات چیت کرکے اسے حل کریں۔ اس کے باوجود پاکستان اپنی کوششوں سے باز نہیں آتا۔ ہندوستان نے جب پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس کے بعد سے پاکستان مسلسل یہ کوشش کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی رنگ دے دیا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے اس سلسلے میں چین کا بھی دورہ کیا اور وہاں کی قیادت سے مل کر ہندوستان کی شکایت کی۔ پاکستان کی درخواست پر چین نے اپنے طور پر کوشش کی اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پانچوں مستقل ارکان تک پہنچایا۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہو۔ لیکن سلامتی کونسل کا اجلاس تو نہیں ہوا البتہ بند کمرے میں اجلاس ضرور ہوا۔ اسے اجلاس کہیں یا میٹنگ۔ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ حالانکہ اس اجلاس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بند کمرے میں ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کی کارروائیوںکا اندراج اس کی مستقل کارروائیوں میں نہیں ہوتا یعنی وہ ریکارڈ پر نہیں آتیں۔ اس کے باوجود ہندوستان نے اس اجلاس کے بعد پاکستان کی کوششوں کی ہوا نکال دی۔ اجلاس تو ہوا لیکن اس کا کوئی فائدہ پاکستان کو نہیں پہنچ سکا۔

ادھر پاکستان کی کوششوں کے سبب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مسئلے میں ثالثی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جب عمران خان نے امریکہ کا دورہ کیا تو صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے مسئلہ کشمیر میں مداخلت کرکے ثالثی کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کے اس بیان پر پوری دنیا میں اور خاص طور پر ہندوستان میں ہنگامہ ہو گیا۔ کیونکہ ہندوستان کا موقف تو یہ ہے کہ اس مسئلے میں کوئی ثالثی نہیں ہوگی تو پھر وزیر اعظم مودی نے کیسے کہہ دیاکہ ٹرمپ ثالثی کریں۔ لیکن ہندوستان نے ان کے اس بیان کی سختی سے تردید کی او رکہا کہ وزیر اعظم مودی نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی ہے۔ اس بارے میں وزارت خارجہ سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا۔ اس پر صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ مودی نے کوئی درخواست نہیں کی تھی۔ ٹرمپ نے از خود ان کا نام لے لیا۔ اس کے باوجود پاکستان اپنی کوششوں میں مصروف رہا۔ نتیجتاً ٹرمپ نے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔ در اصل وہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کروا کر تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیں۔ حالانکہ ہندوستان کسی بھی قیمت پر اس کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس معاملے میں عالمی طاقتیں ملوث ہوں۔ دو ملکوں کے کسی معاملے میں اگر عالمی طاقتیں ملوث ہوتی ہیں تو اس کا ملکی سطح پر غلط پیغام جاتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی ایک غلط پیغام جاتا ہے کہ دونوں میں اتنی قوت یا صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کر سکیں۔ انھیں دوسروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ جبکہ ہندوستان اتنی صلاحیت و اہلیت رکھتا ہے کہ اپنے مسئلے خود حل کر سکے۔ کشمیر سمیت دیگر تمام تنازعات کے سلسلے میں اس کا موقف باہمی مذاکرات کا ہی ہے۔

اب یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ جب ہندوستان بات چیت سے اس مسئلے کو حل کرنے کے حق میں ہے تو پھر وہ بات چیت کی پاکستانی درخواستوں کو کیوں درخور اعتنا نہیں سمجھتا اور اس سے مذاکرات کا سلسلہ کیوں شروع نہیں کرتا۔ اس سلسلے میں ہندوستان کا ایک موقف اور ہے جو بہت واضح ہے۔ یعنی پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کا سلسلہ بند ہو جائے تو اس سے بات چیت کرنے میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ موجودہ حکومت کی یہی پالیسی ہے۔ اس لیے پاکستان اگر چاہتا ہے کہ ہندوستان اس سے بات چیت کرے تو اسے دہشت گردی کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔ سرحد پر اس کی افواج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی روکنی ہوگی اور دراندازوں کو کشمیر میں داخل کرنے کی کوشش ترک کرنی ہوگی۔ جب تک پاکستان یہ اقدامات نہیں کرتا اور دہشت و تشدد سے پاک ماحول نہیں بناتا اس وقت تک ہندوستان اس سے مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں کر سکتا۔

یہی شرط مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں بھی ہے۔ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے قدم کو ہندوستان اپنا اندرونی معاملہ مانتا ہے اور بار بار اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے ہم اس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت منظور نہیں کریں گے۔ لہٰذا اگر پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے عالمی رنگ دینے کی کوشش ترک کر دے اور خلوص نیت کے ساتھ میز پر آئے اور ہندوستان کے ساتھ بات چیت کرے۔ لیکن اس سے قبل دہشت و تشدد سے پاک ماحول بنانا ہوگا اور اس کی ذمہ داری خود پاکستان پر عاید ہوتی ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Kashmir problem is a bilateral issue not international in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.