19 سال میں 50 ہزار فیصلے سنانے والا جج

سہیل انجم

عام طور پر جج حضرات زبان سے کم اور اپنے فیصلوں سے زیادہ بولتے ہیں۔ اگر وہ زبان چلانے لگیں تو ان کے قلم کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ اسی لیے وہ عوامی تقریبات میں بھی زیادہ نہیں جاتے اور عوام سے گھلتے ملتے بھی کم ہیں۔ ہاں سبک دوش ہونے کے بعد بعض ججوں کی عوامی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں اور بعض اپنے تخلیقی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کچھ جج حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو سبکدوشی کے بعد بھی سرگرم رہنا یا حکومت سے مراعات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے فیصلوں سے حکومتوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ سبکدوش ہو جاتے ہیں تو حکومتوں کی جانب سے ان کو عہدوں کی شکل میں نئی مراعات حاصل ہو جاتی ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان میں جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بہت کچھ فرق ہے وہیں دونوں ملکوں کی عدلیہ میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہندوستان کی عدلیہ جہاں مکمل طور پر آزاد ہے اور وہ حکومتوں کا دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتی وہیں پاکستان کی عدلیہ پر حکومتیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں، فوج بھی ہوتی ہے اور یہاں تک کہ بعض اوقات شدت پسند تنظیمیں بھی اثر انداز ہو جاتی ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ دنیا کی مانی ہوئی سپریم کورٹ ہے۔ تمام ملکوں میں اسے بہت ہی وقار اور احترام کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ لہٰذا جب گزشتہ سال کے اوائل میں چار سینئر ترین ججوں نے ایک پریس کانفرنس کرکے بعض امور پر اظہار تشویش کیا تو اس پر بھی دنیا کی نظریں اٹھ گئی تھیں۔ لیکن جیسا کہ یہاں کی عدلیہ کی روایت رہی ہے ، بہت ہی سلیقے کے ساتھ وہ تنازعہ ختم ہو گیا۔ لیکن اگر پاکستان میں ایسا کوئی واقعہ ہوا ہوتا تو اس کی کیا شکل ہوتی کہا نہیں جا سکتا۔ وہاں کی عدالتوں پر ہمیشہ جانبداری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ابھی ابھی سبک دوش ہونے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کا دور بڑا ہنگامہ خیز بلکہ پاکستان کے ایک صحافی کے مطابق شورش زدہ رہا۔ ان کے دور میں بڑے بڑے فیصلے سنائے گئے جن کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہوئے۔ میاں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف جو فیصلے سنائے گئے اور انھیں جس طرح سزائیں دی گئیںان فیصلوں کو سیاسی سمجھا جا رہا ہے۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ فوج نے عدالت کے ساتھ مل کر نواز شریف کو سیاسی منظر سے ہٹایا ہے تاکہ فوج اور شدت پسند تنظیموں کے پسندیدہ رہنما عمران خان کو برسراقتدار لایا جائے اور وہ اس میں کامیاب ہوگئے۔
جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں الگ الگ حلقوں سے الگ الگ رائیں ظاہر کی جا رہی ہیں۔ لیکن بیشتر تجزیہ کاروں نے ان کے دور کو ہنگامہ خیز قرار دیا ہے اور ایک صحافی نے تو ان کے دور کو تاریک دور بتایا ہے۔ ایک تجزیہ کار بابر ستار نے کہا کہ ثاقب نثار کا دور سپریم کورٹ کا تاریک دور سمجھا جائے گا۔ انھوں نے اختیارات کا بے جااستعمال کیا۔ ان کے فیصلوں کی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ بے تحاشا قانونی عدم استحکام بھی پیدا ہوا۔ بقول ان کے جسٹس ثاقب نثار نے ملک کو جتنا نقصان پہنچایا شاید پہلے کسی چیف جسٹس نے نہ پہنچایا ہو۔ حالانکہ ان کے بعض فیصلوں کی کافی ستائش بھی ہوئی ہے۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ ان کے دور میں عدلیہ ضرورت سے زیاد ہ سرگرم رہی۔ عدالتوں کی ایسی سرگرمی کبھی کبھار نقصاندہ بھی ہو جاتی ہے۔ اب وہ سبک دوش ہو گئے ہیں۔ ان کی جگہ پر آصف سعید کھوسہ نے چیف جسٹس کی حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ گیارہ ماہ کے لیے اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں اور اسی سال دسمبر میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عدالتی اصلاحات اور زیر التواءمقدمات کو نمٹانے کے عزم اور چارٹر آف گورننس بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چارٹر آف گورننس میں صدر مملکت، عدالت، انتظامیہ اور پارلیمنٹ کے سربراہان اور فوج شامل ہو تاکہ کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کی حدود میں مداخلت نہ کرے۔ آصف سعید کھوسہ اپنے فیصلوں کے لیے بہت مشہور ہیں۔ ان کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ وہ خود بہت کم بولتے ہیں لیکن ان کے فیصلے زیادہ بولتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق انھوں نے 19 برسوں میں تقریباً پچاس ہزار فیصلے سنائے ہیں۔ یعنی ایک سال میں ڈھائی ہزارے سے زائد فیصلے۔ غالباً یہ ایک ریکارڈ ہوگا۔ اتنی تیزی سے فیصلے سنانے والے جج کم ہی ملیں گے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ کو کم سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ ورنہ ہندوستان میں تو پورے ملک میں کئی کروڑ مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ ایسے قیدیوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن کے مقدمات کئی برس گزر جانے کے بعد بھی شروع نہیں ہوتے۔ لیکن اس میں عدالتوں کی کم پولیس اور تفتیشی محکموں کی غلطی زیادہ ہوتی ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ جے این یو معاملے میں تین سال کے بعد فرد جرم داخل کی گئی۔ ظاہر ہے کہ اس کی سماعت بھی جلد نہیں ہوگی اور فیصلہ آنے میں بھی کافی دیر لگے گی۔

بہر حال پاکستان کے عوام کو جسٹس آصف سعید کھوسہ سے بہت امیدیں ہیں اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں عدالتی سرگرمیوں کی وجہ سے جو سیاسی و قانونی عدم استحکام آیا ہے وہ دور ہوگا اور پاکستانی عدلیہ اپنے وقار کو واپس حاصل کرے گی۔ جہاں تک نئے چیف جسٹس کا سوال ہے تو ان کے بارے میں تفصیلات یہ ہیں کہ وہ 21 دسمبر 1954ءکو ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ 1975ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگر ی حاصل کی اور 1977ءاور 1978ءمیں کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔انہوں نے1979ءمیں لاہور ہائیکورٹ سے وکالت کا آغاز کیا اور 21 مئی 1998ءکو لاہور ہائیکورٹ کے جج بنے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا شمار ان جج صاحبان میں ہوتا ہے جنہوں نے 2007ءمیں جنرل پرویز مشرف کے دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ جسٹس کھوسہ 19 سال میں 50 ہزار کے قریب مقدمات کے فیصلے سنا چکے ہیں۔ جسٹس کھوسہ اگست 2008ءمیں وکلاءتحریک کے بعد بحال ہوئے اور 2010ءمیں سپریم کورٹ کے جج بنے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ سب سے زیادہ فیصلے تحریر کرنے کی شہرت بھی رکھتے ہیں۔

انہیں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کیس سے شہرت ملی۔ جب سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنایا تو جسٹس کھوسہ نے اختلافی نوٹ میں انہیں نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی۔ وہ چار کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور انہیں لمز یونیورسٹی، بی زیڈ یو اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں پڑھانے کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہے۔ ان کے عہدے کی معیاد بطور چیف جسٹس 347 دن ہوگی۔ وہ رواں سال 20 دسمبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ ان کے بعد جسٹس گلزار احمد چیف جسٹس آف پاکستان بنیں گے جو یکم فروری 2022 کو ریٹائر ہونگے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاکستان کے 26ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھالیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں کوئی نمایاں کام کرتے ہیں اور سابق چیف جسٹس کے دور میں جس طرح سیاسی فیصلے سنائے گئے اس سے خود کو الگ ثابت کرتے ہیں یا انھی کے نقش قدم پر چل کر اپنی مختصر مدت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ویسے ان سے امید یہی ہے کہ وہ چیف جسٹس کی حیثیت سے پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنے الگ نقوش پا ثبت کریں گے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Justice khosa sets record in deciding criminal cases in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment