جے این یو تنازعہ میں میڈیا کا گھناونا رول

سہیل انجم
جے این یو تنازعہ اب بھی ملکی سیاست اور میڈیا میں چھایا ہوا ہے۔ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے ایک وفد نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کرکے حکومت اور پولیس کے رویے کی شکایت کی ہے۔ انھوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ آر ایس ایس اس ملک کے طلبہ پر اپنا ناقص نظریہ تھوپنا چاہتا ہے۔ یہ بات اس سے قبل بھی بارہا واضح ہو چکی ہے۔ متعدد تعلیمی اداروں میں جس طرح سنگھی نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ باعث تشویش ہے اور اس کے خلاف سیکولر نظریات کے حامل افراد کا احتجاج بجا ہے۔ لیکن سنگھی عناصر اس قدر جوش میں ہیں او ران کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ وہ کسی کی نہیں سن رہے۔ وہ ہر حال میں اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ نہ تو آر ایس ایس کے عام کارکنوں میں صبر و ضبط ہے اور نہ ہی بڑے لیڈروں اور سنگھی نظریات کے حامل وزرا میں۔ شکر ہے کہ ابھی تک سنگھ سربراہ موہن بھاگوت خاموش ہیں۔ ورنہ ان کو بھی بولنے کی ایسی عادت ہے کہ بول بول کر تنازعہ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ انسانی وسائل کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی جن کی تعلیمی لیاقت ہمیشہ مشکوک رہی ہے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرس کو دھمکا رہی ہیں۔ انھوں نے وائس چانسلرس کے ایک اجلاس میں انھیں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا کام کریں ورنہ راستہ ناپتے نظر آئیں گے۔ اجلاس کے دوران ایک افسر نے اپنے موبائل میں ان کی تصویر اتارنے کی کوشش کی تو اسے ہال سے باہر نکال دیا۔ بحیثیت وزیر اب تک کا ان کا رویہ یہ دکھاتا ہے کہ ان کے اندر کتنا غرور اور کتنی اکڑ ہے۔ کیوں نہ ہو کہ جب وزیر اعظم نے ان کو اپنی منہ بولی بہن بنا رکھا ہے تو وہ آپے سے باہر رہیں گی ہی.بہر حال اس وقت ہم اس معاملے میں میڈیا کے رویے کا جائزہ لینا چاہیں گے۔ جب سے یہ تنازعہ اٹھا ہے میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا عدالت بن بیٹھا ہے۔ وہ بغیر سماعت کے فیصلے سنا رہا ہے اور جس کو چاہ رہا ہے ملک کا غدار اور دہشت گرد بتا رہا ہے۔ جو لوگ جے این یو طلبہ کی حمایت میں بول رہے ہیں ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ملک کے غداروں اور دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار اور ایک طالب علم عمر خالد کو ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک بتایا جا رہا ہے۔ عمر خالد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ملک مخالف پروگراموں ماسٹر مائنڈ ہے۔ اس نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس کا تعلق جیش محمد سے ہے۔ وہ اٹھارہ یونیورسٹیوں میں افضل گرو کی حمایت میں پروگرام منعقد کرنے جا رہا تھا۔ حالانکہ نہ تو کنہیا کو ملک مخالف نعرہ لگاتے ہوئے کسی نے دیکھا نہ ہی عمر خالد کو۔ ہاں کچھ کشمیری طلبہ نے آزادی کا نعرہ ضرور لگایا۔ لیکن ان دونوں کے ایسا نعرہ لگاتے ہوئے کسی بھی ٹی وی فوٹیج میں نہیں دیکھا گیا۔ اس کے باوجود میڈیا اور خاص طور پر زی نیوز کی جانب سے ایسی ایسی کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں کہ حقیقی صحافی شرمندہ ہو جائیں۔ کنہیا کو اس لیے ملک دشمن بتایا جا رہا ہے کہ اس نے بی جے پی کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد یعنی اے بی وی پی کے خلاف سخت تقریر کی۔ سوشل میڈیا پر ا س کی جو تقریر ہے اس میں اس نے اے بی وی پی کے کارکنوں کی قلعی کھولی ہے۔ اسی لیے اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جہاں تک عمر خالد کا تعلق ہے تو وہ کمیونسٹ نظریات کا حامل ہے اور ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس یونین ڈی ایس یو سے وابستہ ہے۔ لیکن اسے دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ اس کے والد ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کا، جو کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن، ویلفئیر پارٹی کے صدر اور ماہنامہ افکار ملی کے ایڈیٹر ہیں، ایک انٹرویو ۹۱ فروری کے انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے جس کے مطابق عمر خالد کا کسی بھی مشکوک جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈاکٹر الیاس نے عمر خالد کے میڈیا ٹرائیل پر سخت ناراضگی جتائی ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ انھوں نے بتایا عمر خالد کمیونسٹ خیالات کا لڑکا ہے اور ان کے مذہبی رجحانات پر اس سے ان کی بحث بھی ہوتی رہی ہے۔ ان کی ایک بیٹی میسوچسٹس یونیورسٹی میں استاد ہے اور ایک بیٹی سینٹ اسٹیفنس کالج دہلی کی طالبہ ہے۔ قاسم رسول الیاس کے مطابق ان کے گھر میں سب کے نام پاسپورٹ ہے لیکن عمر خالد نے پاسپورٹ نہیں بنوایا۔ وہ کبھی جہاز پر سوار نہیں ہوا۔ پھر بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان گیا تھا۔ کیسے چلا گیا جب ا س کے پاس پاسپورٹ ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر الیاس ایس آئی ایم کے صدر رہے ہیں۔ لیکن انھوں نے 1985میں اسے چھوڑ دیا تھا جب اس پر پابندی بھی نہیں لگی تھی اور نہ ہی اس کے یا اس کے کسی کارکن کے خلاف کوئی کیس درج ہوا تھا۔ حکومت نے سیمی پر2001 میں پابندی لگائی ہے۔ ڈاکٹر الیاس سوال کرتے ہیں کہ کیا ان کے سیمی سے ماضی کے تعلق کی بنیاد پر ان کے بیٹے کو دہشت گرد بتایا جائے گا۔اس پورے معاملے میں جس طرح میڈیا نے یکطرفہ رول ادا کیا وہ باعث تشویش تو ہے ہی میڈیا کو ایک بار پھر بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ بار بار کنہیا اور عمر خالد کے چہرے دکھا کر انھیں دہشت گرد بتانا کیا حقیقی صحافت ہے۔ ان لوگوں کا میڈیا ٹرائیل کرنا اور ان کے خلاف فیصلے سنانا کہا ںکا انصا ف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ان لوگوں کے خلاف بے بنیاد رپورٹنگ کی جا رہی ہے اور دوسری طرف اے بی وی پی کے تین عہدے داروں کے استعفوں پر خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ کیایہ خبر نہیں ہے۔ یہ تو اور بڑی خبر ہے کہ برسراقتدار جماعت کی طلبہ شاخ کے تین عہدے داروں نے جو کہ طلبہ یونین کے ذمہ دار بھی ہیں، حکومت اور پارٹی کے رویے اور نظریات کی مخالفت کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ لیکن واہ رے میڈیا یہ خبر اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ 17فروری کو جس طرح دہلی کے بیشتر کالجوں، یونیورسٹیوں اور بیرون دہلی کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ نے ہزارو ںہزار کی تعداد میں دہلی کی سڑکوں پر اتر کر پولیس اور حکومت کے ایکشن کے خلاف زبردست احتجاج کیا وہ قابل دید تھا۔ لیکن بعض نیوز چینلوں کے علاوہ بیشتر چینلو ںنے اس کو دکھانے سے گریز کیا۔ جبکہ اس میں صرف طلبہ ہی شامل نہیں تھے بلکہ ان کے والدین بھی تھے۔ سول سوسائٹی کے لوگ بھی تھے۔ مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی تھیں۔ طلبہ نے تو پولیس اور حکومت کے رویے کی پرزور مخالفت کی ہی غیر طلبہ برادری نے بھی زبردست نکتہ چینی کی۔ لیکن این ڈی ٹی وی کے رویش کمار کے علاوہ کسی نے اس کو دکھانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ میڈیا کا یہ رویہ اس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ اس کے اندر سنگھی نظریات کے افراد کی بھرمار ہو گئی ہے۔ جو اپنے آقاو¿ں کو خوش کرنے کے لیے ان کے احکامات کی پابندی کر رہے ہیں۔ وہ حکومت کی نظروں میں بھی سرخرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ مودی حکومت کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مودی نے ان کو اس لائق سمجھا ہی نہیں کہ وہ ان سے گفتگو کریں یا سابقہ حکومتوں کی مانند ان کو وہ اہمیت دیں جس کے وہ اہل ہیں۔ اس کے باوجود حکومت کی حاشیہ برداری کی جا رہی ہے اور سچ کا گلا گھوٹنے اور جھوٹ کی شان میں قصیدہ پڑھنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ میڈیا کو ایسا تو نہیں ہونا چاہیے۔ اسے جمہوریت کا چوتھا ستون ہونے کی لاج رکھنی چاہیے اور فسطائیت کے آگے سجدہ ریزی سے گریز کرتے ہوئے اور سیکولر نظریات پر چلتے ہوئے حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اگر میڈیا کا یہ رویہ برقرار رہا تو اس سے ملک میں مزید انتشار پیدا ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر تو عائد ہوگی ہی میڈیا بھی اس ذمہ داری سے بچ نہیں پائے گا۔
رابطے کے لیے :sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jnu controversy and midias ugly role in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply