جمال خاشقجی کا قتل اور اس کے مضمرات

سہیل انجم

اس وقت عالمی سطح پر اگر کوئی موضوع مرکز گفتگو ہے تو وہ بلا شبہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا واقعہ ہے۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس میں عبرت کی کئی چیزیں موجود ہیں۔ بالخصوص ان افراد کے لیے جو طاقت کے نشے میں چور ہو کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کسی صحافی نے بڑے پتے کی بات لکھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آپ ایک صحافی کو تو مار سکتے ہیں لیکن اس سچ کو نہیں مار سکتے جس کا وہ علم بردار ہے۔ شاید یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی صحافی کے قتل پر دنیا کے طاقتور ترین شخص نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور اس کی وجہ سے دو ملکوں کے باہمی رشتے خطرے میں پڑ گئے۔

یہ معاملہ شروع سے ہی مشکوک رہا ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جمال خاشقجی ایک سعودی شہری تھے۔ وہ روشن خیال صحافی تھے۔ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کھل کر لکھتے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے انھیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر وہ سعودی عرب سے امریکہ منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے شہریت اختیار کر لی۔ وہ واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھنے لگے۔ اسی دوران انھوں نے اپنی سعودی بیوی کو طلاق دے دی اور ایک ترک خاتون سے شادی کا فیصلہ کیا۔ اسی سلسلے میں وہ استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے تھے تاکہ اپنے کاغذات بنوا سکیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انھوں نے یہی کام واشنگٹن میں سعودی قونصل خانے سے کیوں نہیں کرایا۔ کیا انھیں استنبول جانے کے لیے مجبور کیا گیا یا اس کے حالات بنائے گئے۔ خیر وہ وہاں گئے اور اس کے بعد لاپتہ ہو گئے۔ ان کی منگیتر باہر کئی گھنٹے تک ان کا انتظار کرتی رہیں۔ جب وہ نہیں آئے تو شور مچا اور پھر یہ کہا جانے لگا کہ ان کا قتل ہو گیا ہے۔

شروع میں سعودی عرب کی جانب سے قتل کی تردید کی جاتی رہی۔ لیکن بعد میں بتدریج یہ اعتراف کیا گیا کہ ان کا قتل ہو چکا ہے اور اب تو قتل میں ملوث افراد کے بارے میں تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں اور امریکہ نے اعلان کر دیا ہے کہ ان سبھی کے ویزے رد کر دیے گئے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس امریکی ویزے تھے۔ شروع میں یہ بھی کہا گیا کہ جمال خاشقجی قونصل خانے سے چلے گئے تھے۔ پھر کہا گیا کہ کچھ لوگ ان سے ملنے آئے تھے جن سے ان کا جھگڑا ہوا۔ پھر وہاں کے سی سی ٹی وی کیمروں میں ایک شخص جمال کے لباس میں باہر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پھر یہ خبر آئی کہ ان کی لاش کے ٹکڑے بوروں میں بھر کر لے جائے گئے ہیں۔ پھر کہا گیا کہ قونصل خانے کے باہر واقع جنگلوں میں ان کے جسم کے اعضا پائے گئے ہیں۔ اب حتمی طور پر سعودی عرب نے تسلیم کر لیا ہے کہ ایک منصوبہ بند طریقے سے خاشقجی کا قتل کیا گیا۔ اس نے قاتلوں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ خاشقجی کے بیٹوں نے شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس کی تصویریں دنیا بھر کے اخباروں میں شائع ہوئیں۔ پھر یہ بھی خبر آئی کہ انھوں نے سعودی عرب چھوڑ دیا ہے۔ گویا شروع سے ہی اس معاملے کو شکوک و شبہات کی چادر میں لپٹا ہوا پایا گیا۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ وہ لوگ جو سعودی حکومت کو ایک آنکھ بھی پسند نہیں کرتے انھوں نے اس کے خلاف ایک محاذ کھول دیا۔ انھیں موقع مل گیا کہ وہ سعودی عرب کو برا بھلا کہہ سکیں۔ لیکن یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ سعودی حکومت نے جس طرح اس قتل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی وہ کوئی اچھی بات نہیں تھی۔ لوگوں کا یہ کہنا بہت حد تک درست معلوم ہوتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے علم میں لائے بغیر اتنا بڑا کام نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا اس معاملے میں سعودی حکومت کا کردار شک کے دائرے میں ہے۔

یہ ذکر بھی دلچسپ ہوگا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صحافی کے قتل پر اپنے تیور سخت کر لیے جبکہ ان کے ملک میں خود ان کے تعلقات صحافیوں سے اچھے نہیں ہیں۔ وہ صحافیوں کو جھوٹا تک کہتے ہیں اور ان لوگوں کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی اس معاملے میں انتہائی سخت موقف اختیار کیا۔ جبکہ ان کے ملک میں صحافیوں پر کیا کیا مظالم نہیں توڑے جاتے۔ وہ اپنے ملک میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا جان بوجھ کر انھیںتحفظ نہیں دیتے۔ لیکن جمال خاشقجی کے معاملے میں انھوں نے خوب سخت لہجہ اختیار کیا۔

پاکستان کے معروف صحافی اور کالم نگار حامد میر نے لکھا ہے کہ ” سعودی عرب میں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے اور بادشاہ کے مصاحبین اپنے ناقدوں کے ساتھ وہی کرتے ہیں جو جمال خاشقجی کے ساتھ ہوا۔ لیکن امریکا، ترکی، ایران، بنگلہ دیش اور پاکستان میں تو جمہوریت ہے۔ ان ممالک میں صحافیوں کی آواز کیوں دبائی جاتی ہے؟ سرمایہ دارانہ جمہوریتوں میں صحافیوں کو کیوں قتل کیا جاتا ہے؟ جمال خاشقجی کے قتل نے پوری دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ آزادی اظہار کے تحفظ کے لئے دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینل متحد ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ اور اردوغان یاد رکھیں کہ ایک صحافی کے قتل پر سامنے آنے والے ردعمل نے سعودی عرب کے طاقتور بادشاہ کا سر جھکا دیا ہے تو کل کو آپ کا غرور اور تمکنت بھی خاک میں مل سکتا ہے۔ صدر اردوغان سے گزارش ہے کہ ترکی میں گرفتار سینکڑوں صحافیوں کو فی الفور رہا کریں۔ صحافیوں کو جیل میں ڈالنے، اخبار اور ٹی وی چینل بند کرا دینے یا صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوا دینے سے ریاست مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہو جاتی ہے“۔

یہاں ایک رپورٹ کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے جس میں دنیا بھر میں صحافیوں کے قتل سے متعلق کئی چونکانے والی تفصیلات ہیں۔ یہ تفصیلات ہماری معلومات میں اضافے کا باعث بنیں گی:

”حالیہ تاریخ میں بین الاقوامی شہرت کے حامل بعض صحافیوں کو وحشیانہ طور پر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ 1992سے 2016 تک دنیا میں 1195 صحافی قتل کیے گئے۔ پاکستان میں امریکی صحافی ڈیئنل پرل اور پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کے علاوہ بہت سی خاتون صحافیوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔ 8 اکتوبر کو بلغاریہ کی خاتون صحافی 30سالہ وکٹوریہ میرینوواجو وہاں کے مقامی ٹی وی پر حالات حاضرہ کا پروگرام کرتی تھیں، ان کی آبروریزی کی گئی اور قتل کرکے لاش سرحدی قصبے ”ریوز“ میں دریائے ڈینوب کے کنارے پھینک دی گئی۔ 21اگست اور 20نومبر 2017کے درمیان سوئیڈن کی فری لانس خاتون صحافی کم وال کی لاش کا سر کاٹ کر باقیات کوپن ہیگن کے اطراف میں بکھیر دیے گئے۔ ان کی سربریدہ لاش کو ساحل پر ایک سائیکل سوار نے دریافت کیا۔ مقتولہ کے جسم کے ٹکڑے پلاسٹک کی تھیلیوں میں بند پائے گئے۔ باقی اعضا پولیس کے غوطہ خوروں نے 6 اکتوبر کو پانی سے نکالے۔ جن میں سر، ٹانگیں، کپڑے اور ایک چاقو شامل تھے۔ مقتولہ پر چاقو کے 15وار کئے گئے۔ جنوری 2018 میں شائع اخباری اطلاع کے مطابق ڈنمارک کے موجد پیٹر میڈسن نے کم وال کو اپنی مکان نما آبدوز میں آبرو ریزی کے بعد قتل کردیا۔ 25اپریل 2018کو میڈسن پر کم وال کے قتل کی فرد جرم عائد کی گئی۔ کوپن ہیگن کی عدالت نے اسے عمر قید کی سزا دی۔ 7 اکتوبر 2016کو روسی خاتون صحافی اناپولٹکو سکایا کو اس کے فلیٹ کی لفٹ میں گولی مارکر قتل کردیا گیا۔ وہ روسی حکومت کی سخت نقاد تھیں اور انہیں دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔ چیچنیا کے تنازع میں حکومتی مظالم کواجاگر کرکے انہوں نے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ معروف امریکی صحافی جیمز رائٹ فولے کو شمال مغربی شام سے نومبر 2012میں اغوا کیا گیا۔ عراق پرا مریکی فضائی حملوں کے بدلے اگست2016میں فولے کا سر قلم کردیا گیا۔ فروری 2002میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیل پرل کو پاکستان میں اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق القاعدہ رہنما خالد شیخ محمد نے پرل کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا۔ 7اکتوبر 2006 کو ”ڈوئچے ویلے“ کے فری لانس فلم سازوں کرسچیئن اسٹرو اور کیر ن فشر کو افغان جنگ کی پانچویں سالگرہ پر قتل کیا گیا۔ انہیں اسی روز قتل کیا گیا جس دن روسی خاتون صحافی قتل کی گئیں۔ جون 2007میں افغانستان میں دو مقامی خاتون صحافی قتل کردی گئیں۔ ذکیہ ذکی کو اپنے شیر خوار بیٹے کے ساتھ سوتے میں قتل کیا گیا۔ وہ افغان ریڈیو ”پیس“ کے لئے اور دوسری خاتون صحافی شکیبہ شمشاد ٹی وی کے لئے کام کرتی تھیں۔ 22 سالہ شکیبہ کو یکم جون 2007کو قتل کیا گیا۔

پاکستانی انوسٹی گیٹیوصحافی سید سلیم شہزاد کو مئی 2011میں بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔ وہ ایشیا ٹائمز آن لائن ہانگ کانگ کے پاکستان میں بیورو چیف تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سلیم شہزاد کو طالبان نے ہلمند افغانستان میں اغوا کیا لیکن بعدازاں چھوڑ دیا۔ وہ 29مئی 2011کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے لاپتہ ہوئے پھرا ن کی لاش منڈی بہاءالدین میں نہر کے کنارے سے ملی۔ 2009 میں نیپالی خاتون صحافی اوما سنگھ کو جرائم پیشہ گروہ نے قتل کیا۔ 2011میں میکسیکوکی دو خاتون صحافی انارمار سیلا اور پراس وائیورس ایک پارک میں قتل کردی گئیں۔ اِسی سال جون میں سری نگر کے صحافی شجاعت بخاری کو ہلاک کیا گیا۔ اس سے قبل ستمبر 2017 میں گوری لنکیش کا قتل کیا گیا۔ اس کے بعد بھی ہندوستان میں کئی صحافیوں کو ہلاک کیا گیا۔ 21 جون 2016 کو نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق 1992سے مذکورہ تاریخ تک دنیا میں 1195 صحافیوں کو قتل کیا گیا“۔

بہر حال اس وقت جمال خاشقجی کے قتل پر پوری دنیا میں طوفان برپا ہے۔ اسے آزادی اظہار پر ایک بھرپور وار تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طاقتور افراد اپنے ناقدوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اسی لیے وہ ایسے صحافیوں کو ہلاک کروا دیتے ہیں جن سے ان کو خطرہ ہو۔ جمال خاشقجی کے قتل پر جو طوفان اس وقت اٹھا ہوا ہے اس سے سیاست کی بھی بو آرہی ہے۔ ورنہ دنیا میں صحافیوں کو ہلاک کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مذکورہ بالا رپورٹ اس کی شاہد ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خاشقجی کا قتل سعودی قونصل خانہ کے بجائے کسی دوسرے ملک کے قونصل خانہ میں ہوا ہوتا تو تو شاید اتنا طوفان نہیں اٹھتا۔ امریکی اور ترک صدر کو جمال خاشقجی کے معاملے کو اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنے ملکوں میں صحافیوں کو اظہار رائے کی آزادی دینے جیسے معاملات پر بھی اسی طرح کا موقف اختیار کیا جانا چاہیے۔ خیر امریکہ میں تو آزادی حاصل ہے لیکن ترکی میں نہیں ہے اور نہ ہی ایران میں ہے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jamal khashoggis death and its repercussions in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply