جلیاں والا باغ سانحہ کی ایک صدی اور برطانوی شرمندگی

سہیل انجم

اگر چہ یہ وقت انتخابی موسم کا ہے لیکن بعض اوقات عارضی موضوعات پر تاریخی موضوعات اس طرح چھا جاتے ہیں کہ ان کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یو ںبھی انتخابی موسم جون کے اواخر تک رہے گا۔ اس وقت ہندوستان اپنے 72 ویں یوم آزادی پر 17 ویں پارلیمنٹ کا انتخاب کر رہا ہے۔ لیکن اسی مہینے میں ایک ایسا سانحہ گزر چکا ہے جو برطانوی ہندوستان کی تاریخ پر ایک بھیانک اور سیاہ داغ کی حیثیت رکھتا ہے اور جس پر برطانیہ جتنا ہی افسوس کرے اور جتنی بھی معافی مانگے کم ہے۔ اس سانحہ کو گزرے 13 اپریل کو ایک سال ہو گیا۔ اور وہ سانحہ ہے جلیاں والا باغ کا قتل عام۔ 13 اپریل 1919 کو برطانوی فوجی افسر جنرل ڈائر نے جلیاں والا باغ میں ایک استبدادی قانون رولیٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہونے والے ہزاروں نہتے اور پر امن ہندوستانیوں پر بلا وارننگ گولی چلوائی تھی جس میں 379 افراد شہید اور بارہ سو زخمی ہوئے تھے۔

برطانیہ کی موجودہ وزیراعظم تھریسا مئے نے اس سانحہ کو برطانوی ہندوستان کی تاریخ پر ایک بدنما داغ قراردیتے ہوئے اظہار افسو س کیا ہے۔ حالانکہ اس پر انہو ں نے معافی نہیں مانگی۔ منگل کے روز ایوان پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر بحث کے دوران اہم اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ مارک فیلاڈ نے کہاکہ ہمیں اس تاریخ کی شرمناک باتوں کو طول دینے سے گریز کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے کوئن ایلزبتھ اور2013میں اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی جلیاں والا باغ سانحہ پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرچکے ہیں۔ لیکن معافی انہوں نے بھی نہیں مانگی ۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ہندوستان میں برطانوی دور کے خاتمہ کی وجہ بنا۔ اس واقعہ پر برطانیہ سے طویل عرصہ سے معافی کا مطالبہ ہوتا رہا ہے۔

جب راقم الروف نے چند سال قبل امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کے قریب واقع اس میدان کو دیکھا تو یہ پورا واقعہ اپنی تمام تر ہیبتوں کے ساتھ نظروں کے سامنے آگیا۔ ہم نے وہ کنواں بھی دیکھا جس میں اپنی جان بچانے کے لیے بے شمار افراد کود گئے تھے اور ہلاک ہوئے تھے۔ آزادی کے بعد کنویں پر لگائی گئی تختی کے مطابق اس کنویں سے 120 لاشیں نکالی گئیں۔ اسی احاطے میں وہ عمارت بھی واقع ہے جس کی دیواروں پر جنرل ڈائر کی بربریت کے نشان موجود ہیں۔ جگہ جگہ گولیاں لگنے سے دیواروں پر گڈھے بن گئے ہیں۔ آج اگر چہ اسے ایک پکنک اسپاٹ کی شکل دے دی گئی ہے لیکن وہ واقعہ تاریخ کا ایک بدنما واقعہ بن کر رہ گیا ہے۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ وہ سانحہ برطانوی ظلم و استبداد کے خاتمے کا نقش آغاز ثابت ہوا تھا۔
برطانوی حکومت نے ہندوستانیوں کی بچی کھچی آزادی کو چھیننے کے لیے ایک ظالمانہ قانون پاس کیا تھا جسے رولیٹ ایکٹ کہتے ہیں۔ اسے 21 مارچ 1919 کو نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف تمام ملک میں مظاہرے ہو رہے تھے اور احتجاج کیا جا رہا تھا۔اس احتجاج کی وجہ سے امرتسر میں بغاوت کی سی حالت تھی۔ اس روز وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اکٹھا ہوئے تھے۔ مقصد اس قانون کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ مظاہرے میں بیساکھی تہوار منانے والے شرکا بھی شامل تھے۔ یہ افراد بیساکھی کے میلے میں شریک ہوئے تھے جو پنجابیوں کا ثقافتی اور مذہبی اہمیت کا تہوار ہے۔ بیساکھی کے شرکا بیرون شہر سے آئے تھے اور انہیں علم نہیں تھا کہ شہر میں مارشل لا نافذ ہے۔

اتوار 13اپریل 1919 کو جنرل ڈائر کو بغاوت کا علم ہوا تو اس نے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا دی۔ مگر لوگوں نے اس پر زیادہ کان نہیں دھرے۔ چونکہ بیساکھی کا دن سکھ مذہب کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے اس لیے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ باغ میں جمع ہو گئے تھے۔ ڈائر نے فوراً پچاس گورکھے فوجی اپنے ساتھ لیے اور باغ کے کنارے ایک اونچی جگہ انہیں تعینات کر کے مجمع پر گولی چلانے کا حکم دے دیا۔ دس منٹ تک گولیاں چلتی رہیں۔ حتیٰ کہ گولیاں تقریباً ختم ہو گئیں۔ بعد میں ایک جانچ کے دوران جنرل ڈائر نے بیان دیا تھا کہ کل 1650 گولیاں چلائی گئیں۔ برطانوی ہندوستانی اہلکاروں کے مطابق 379 کو مردہ اور تقریباً 1100 کو زخمی قرار دیا گیا تھا۔ جبکہ انڈین نیشنل کانگریس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی۔ ڈائر نے مجمع کو کوئی تنبیہ نہیں دی اور نہ ہی انہیں اجلاس ختم کرنے کو کہا۔ اس نے گولی چلوانے سے قبل اہم داخلی راستے بند کر دیے۔ بعد میں اس نے بتایا تھا کہ میرا مقصد مجمع ختم کرنا نہیں بلکہ ہندوستانیوں کو سزا دینا تھا۔ اس نے فوجیوں کو حکم دیا کہ مجمع میں ان حصوں پر گولی چلائی جائے جہاں سب سے زیادہ افراد جمع ہوں۔

شروع میں برطانیہ کے قدامت پسندوں نے جنرل ڈائر کی بہت تعریف کی۔ مگر ایوان نمائندگان نے جولائی 1920 تک اس کو منظرِ عام سے ہٹا کر ریٹائر کر دیا۔ برطانیہ میں سلطنت کے حامیوں اور ہاؤس آف لارڈز میں ڈائر کو ہیرو سمجھا جاتا تھا۔ مگر جمہوری اداروں جیسے کہ ایوان نمائندگان میں اسے ناپسند کیا جاتا تھا اور اس کے خلاف دو بار ووٹ دیا گیا۔ اس قتل عام کے بعد فوجی کردار کے بارے میں نئے سرے سے فیصلہ کیا گیا اور یہ طے پایا کہ فوجی کردار کو کم از کم طاقت تک محدود کر دینا چاہیے اور مجمع کو قابو کرنے کے لیے نئی مشقیں اور نئے طریقے اپنانے چاہئیں۔

اس سانحہ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور آگے بھی لکھا جاتا رہے گا۔ اس کے علاوہ اس پر برطانیہ سے معافی کا مطالبہ بھی جاری رہے گا۔ خود ہندوستان میں 1984 میں سکھوں کے قتل عام پر سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی معافی مانگ چکی ہیں۔ جلیاں والا باغ سانحہ کے بارے میں ایک سابق سفارتکار مسٹر سوری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی آٹھ برس جلیاں والا باغ کے پڑوس میں گزارے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دادا بھی جسے وہ لوگ باؤ جی کہتے تھے اس دن وہاں موجود تھے۔ وہ رولیٹ ایکٹ کے خلاف ہونے والی ریلی میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ گئے تھے۔ گولی چلنے کے بعد مچنے والی بھگدڑ میں ان کے باؤ جی گر گئے۔ ان کے دو دوست ہلاک ہو گئے۔ کچھ گھنٹوں کے بعد جب انھیں ہوش آیا تو وہ وہاں سے نکل کر گھر پہنچے۔ لیکن وہ اس سانحہ کے بارے میں گفتگو سے بچتے رہے ہیں۔

1962 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ حاصل کرنے والے ایک پنجابی شاعر نانک سنگھ نے اس سانحہ کے بارے میں نظمیں لکھی ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں اس سانحہ کو تاریخ وار بیان کیا ہے اور تمام تفصیلات کا ذکر کیا ہے۔ اتفاق دیکھیے کہ جب مسٹر سوری جلیاں والا باغ پر پی ایچ ڈی کر رہے تھے تو ان کی ملاقات بی بی سی کے ایک صحافی جسٹن رولیٹ سے ہوئی۔ جسٹن رولیٹ کے پردادا سڈنی رولیٹ نے ہی وہ کالا قانون تیار کیا تھا جس کے خلاف پورا ملک احجاج کر رہا تھا۔رولیٹ ایکٹ میں اس کے خلاف کسی بھی بات کو تسلیم نہ کرنے کی بات کہی گئی تھی اور یہ جملہ لکھا گیا تھا ”نو دلیل، نو وکیل، نو اپیل“۔ یعنی کوئی دلیل نہیں، کوئی وکیل نہیں، کوئی اپیل نہیں۔

جسٹن رولیٹ 2015 سے 2018 تک ہندوستان میں بی بی سی کے ساؤتھ ایشیا نمائندہ تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب وہ جلیاں والا باغ گئے تو نہ تو وہ روئے اور نہ ہی انھوں نے کوئی سخت رد عمل ظاہر کیا۔ وہ در اصل اس غیر انسانی واقعہ پر بے حد شرمندہ تھے۔ کیونکہ وہاں جو لوگ آئے تھے وہ ان کے پردادا کے بنائے قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور ان پر گولیاں چلائی گئیں۔

وہ مذکورہ قانون کو ایک وحشی قانون قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان میں بہت سے لوگ ان کی اس لیے بھی عزت کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کا تعلق ہندوستان سے رہا ہے۔ لیکن مہاتما گاندھی کے پوتے تشار گاندھی لکھتے ہیں کہ میں ان کے پردادا کے کردار کو اس لیے قابل تعریف سمجھتا ہوں کہ انھوں نے مذکورہ قانون بنا کر برطانوی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی تھی۔ بہر حال ملکوں اور قوموں کی تاریخ میں ایسے واقعات آتے رہتے ہیں جب یہ کہنا پڑتا ہے کہ:

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jallianwala bagh massacre centenary in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.