!کہاں ہیں لو جہاد والے

سہیل انجم
یکم اپریل کے اخباروں میں ایک بڑی دلچسپ خبر نظر آئی۔ یہ خبر کانگریس صدر سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی کی نند کی شادی سے متعلق ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شادی تو ہوتی ہی رہتی ہے اس میں دلچسپی یا حیرانی کی کون سی بات ہے۔ آپ درست سوچ رہے ہیں۔ اس لیے پہلے خبر کی تلخیص ملاحظہ فرمائیں۔ پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ واڈرہ ایک معروف تاجر ہیں۔ ان کی بہن پرینکا واڈرہ کی شادی سپریم کورٹ کے وکیل اور کانگریس کے جواں سال لیڈر شہزاد پونہ والا کے بھائی تحسین پونہ والا سے ہوئی۔ دہلی کے فائیو اسٹار ہوٹل لی مریڈین میں ہونے والی شادی کی اس تقریب میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، موتی لال وورہ، جنارد دویدی، شکیل احمد، سلمان خورشید، منیش تیواری اور ششی تھرور سمیت متعدد سیاسی و عوامی شخصیات سے شرکت کی۔ چلیے پرینکا کی نند پرینکا کی شادی تحسین پونہ والا سے ہوئی اور اس میں کانگریسی لیڈروں نے شرکت کی، یہ کوئی خاص بات نہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے آڈوانی نے اپنی بیٹی پرتیبھا کے ساتھ شرکت کی۔ یہ بھی کوئی ایسی دلچسپ بات نہیں کہ آڈوانی جی اپنی ہی پارٹی میں کنارے لگا دیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں بی جے پی کے ایک تیز طرار ترجمان اور اپنے بیانوں سے انتہائی متعصب نظر آنے والے ڈاکٹر سمبت پاترا اور دوسرے ترجمان سدھانشو ترویدی نے بھی شرکت کی۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ یہ خبر یکم اپریل کے اخباروں میں شائع ہوئی ہے اس لیے اپریل فول بنایا گیا ہے۔ یہ محض ایک شرارت ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم یہ بات مان لیتے اگر خبر کے ساتھ اس موقع کی تصویر نہ ہوتی۔ تصویر بھی خبر کے ساتھ شائع کی گئی ہے اور اس میں سونیا گاندھی، دولھا، دلہن اور دوسرے بہت سے لوگ نظر آرہے ہیں۔ یوں بھی سونیا گاندھی سے متعلق ایسی شرارت کرنے کی ہمت کوئی نہیں کرے گا۔
خیال رہے کہ سمبت پاترا اور سدھانشو ترویدی ان لوگوں میں شامل ہیں جو لو جہاد کے معاملے پر بڑے زور و شور کے ساتھ اور چیخ چیخ کر مسلمانوں پر یہ الزام عائد کیا کرتے تھے کہ انھوں نے ہندو لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھانسنے کی ایک سازش رچ رکھی ہے اور اس سازش کے تحت وہ ہندو لڑکیوں کو پٹاتے ہیں اور پھر ان سے شادی کرتے ہیں۔ وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس اور بی جے پی نے اسے لو جہاد کا نام دیا۔ یعنی مسلمان ہندووں کے خلاف جو جہاد چلا رہے ہیں اس میں ایک یہ بھی ہے۔ اس سلسلے میں متعدد واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ جہاں کسی مسلمان کی کسی ہندو لڑکی سے شادی کی کوئی خبر آئی فوراً سنگھ پریوار میدان میں آگیا اور اس نے اسے ہندووں کے خلاف ایک سازش قرار دے دیا۔ میرٹھ کے پاس کے ایک واقعہ کی تو بڑی شہرت ہوئی تھی۔ جب ایک ہندو لڑکی ایک مسلم نوجوان کے ساتھ رہنے لگی تھی۔ اس کو بھی اسی رنگ میں رنگ دیا گیا۔ پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی گئی اور مسلم نوجوان پر لڑکی کے اغوا کا الزام لگایا گیا۔ کئی لوگ گرفتار ہوئے۔ اس معاملے میں ایک مدرسہ کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے ناظم کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ در اصل مسلم نوجوان کے ساتھ رہنے کے دوران مذکورہ لڑکی نے اس مدرسہ میں پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ اس معاملے میں کئی لوگ گرفتار ہوئے تھے اور کئی دنوں تک انھیں جیلوں میں رہنا پڑا تھا۔ لیکن بعد میں جب معاملہ ٹھنڈا ہوا تو پھر ہوا یہ کہ وہ لڑکی پھر مسلم نوجوان کے ساتھ چلی گئی اور اس کے ساتھ رہنے لگی۔ اس نے کہا کہ وہ مذکورہ لڑکے سے محبت کرتی ہے اور دونوں نے شادی کر لی ہے۔ اس قسم کے دوسرے بہت سے واقعات بھی ہوئے اور ہر اس واقعہ میں جس میں ہندو لڑکی اور مسلم لڑکے کی محبت سامنے آتی تو اسے لو جہاد کا رنگ دے دیا جاتا۔ کئی لوگوں کو تو مار مار کر ہلاک بھی کر دیا گیا۔
اس معاملے پر پورے ملک میں اور خاص طور پر اتر پردیش میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا اور یہ کہا جانے لگا کہ مسلمانوں نے یہ سازش اس لیے رچی ہے تاکہ ان کی آبادی ہندووں سے زیادہ ہو جائے۔ بہت سے لوگوں نے تو باقاعدہ اعداد و شمار بھی پیش کر دیے کہ فلاں سنہ میں مسلمانوں کی آبادی ہندووں سے زیادہ ہو جائے گی، مسلمان اس ملک میں اکثریت میں آجائیں گے اور ہندوں اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔ لو جہاد میں چار شادیوں کو بھی جوڑ دیا گیا۔ لیکن اس کا دعوا کرنے والا کوئی بھی شخص کہ مسلمان چار چار شادیاں کرتے ہیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکا۔ بہت سے لوگوں نے اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ ایک سے زائد شادیوں کا رجحان مسلمانوں میں کم غیر مسلموں میں زیادہ ہے۔ لیکن کون ایسی معقول باتیں سنتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلمان پہلے ہندو ہی تھے۔ انھوں نے اپنا مذہب بدل لیا لہٰذا ان کو پھر سے ہندو ہو جانا چاہیے۔ اس کو وہ گھر واپسی کا نام دیتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندو لڑکیوں سے شادی کرنے والے مسلمانوں کو ہندو بنایا جائے گا اور ان کی گھر واپسی کرائی جائے گی۔ لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کی گھر واپسی کرانی ہے تو سب سے پہلے بی جے پی کے ان مسلم لیڈروں کی کرائیے جن کی بیویاں ہندو ہیں تو ان کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ مختار عباس نقوی اور سید شاہنواز حسین اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ان سے یہ نہیں کہا جاتا کہ انھوں نے ہماری بیٹیوں کو اپنے پیار کے جال میں کیوں پھانسا اور تم لوگ ہندو ہو جاو¿۔ یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے کہ وہ پہلے ان دونوں کو درست کریں بعد میں دوسروں کے بارے میں سوچیں۔ کیونکہ بہر حال اچھا کام گھر سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ لیکن وہ لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اب سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی کی نند پرینکا واڈرہ کی ایک مسلمان تحسین پونہ والا سے شادی ہوئی تو اس پر لو جہاد والے خاموش کیوں ہیں۔ وہ کہاں چلے گئے، کس جگہ چھپ گئے۔ آخر اس پر واویلہ کیوں نہیں مچاتے۔ ان کے لیے تو ایک بڑا اچھا موقع ہے۔ اس طرح انھیں کانگریس کو بدنام کرنے کا ایک موقع ملا ہوا ہے۔ انھیں تو یہ پروپیگنڈہ کرنا چاہیے کہ دیکھو کانگریس بھی لو جہاد کے کھیل میں شامل ہو گئی ہے۔ ایک کانگریسی لیڈر کے بھائی نے کانگریس پارٹی کی صدر کی ایک انتہائی قریبی خاتون کو اپنے پیار کے جال میں پھانس کر اس سے شادی کر لی۔ اور تو اور اس شادی میں سونیا اور راہل نے بھی شرکت کی۔ گویا لو جہاد کو ان لوگوں کی اور پوری پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن وہ چپ ہیں۔ نہ صرف چپ ہیں بلکہ وہ تو اس دعوت میں جاکر مرغ و ماہی سے لطف اندوز بھی ہو آئے۔ کہاں ہے بی جے پی کی چال، اس کا چہرہ اور اس کا چرتر۔ کم از کم سمبت پاترا اور سدھانشو ترویدی کو تو اس دعوت میں نہیں جانا چاہیے تھا۔ انھیں کچھ تو شرم آنی چاہیے تھی کہ جس معاملے کے خلاف وہ ٹی وی چینلوں پر طوفان بد تمیزی اٹھاتے رہے ہیں اسی قسم کے ایک پروگرام میں کیسے شریک ہوں۔ اب نہ تو سادھوی پراچی کی زبان کھل رہی ہے اور نہ ہی یوگی آدتیہ ناتھ کی۔
دراصل لو جہاد کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کا کوئی سرپیر نہیں ہے۔ سنگھ پریوار نے سیاسی فائدہ اٹھانے اور عوام کو مذہب کے نام پر بانٹنے کی خاطر ایک شوشہ چھوڑا تھا۔ ورنہ مختار عباش نقوی اور شاہنواز حسین کے علاوہ اور بھی بہت سے بھاجپائی ہیں جن کی بیویاں دوسرے مذہب میں ہیں۔ پہلے بھی اس قسم کی شادیاں ہوتی رہی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ راہل گاندھی کی دادی اور سونیا گاندھی کی ساس اندرا گاندھی کی شادی ایک پارسی فیروز گاندھی سے ہوئی تھی۔ لہٰذا لو جہاد کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بی جے پی والے اب اس لیے خاموش ہیں کہ لو جہاد کے غبارے کی ہوا نکل گئی ہے۔ اب اگر اسے اڑانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ کوشش بیکار ہی ہوگی۔ لہٰذا بھاجپائیوں نے یہی بہتر سمجھا کہ چلو دعوت میں کھاو¿، پیو، موج کرو۔ جب لو جہاد کا شوشہ پھر اٹھے گا تب پھر دیکھا جائے گا۔ ابھی لذت کام و دہن سے خود کو کیوں محروم رکھا جائے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: isnt it love jihad why bjp is silent now | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply