کیا کانگریس خودکشی کرنا چاہتی ہے؟

سہیل انجم

ہم یہ بات پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ کانگریس ایک ایسی فوج میں تبدیل ہو گئی ہے جس کا کوئی سپہ سالار نہیں ہے۔ اس لیے وہ میدان جنگ میں دشمنوں سے لڑنے کے بجائے اپنے ہی فوجیوں سے لڑ رہی ہے اور اپنے ہی لوگوں سے دست و گریباں ہے۔ وہ بے قائدکی جماعت بن گئی ہے اور اس کے کیڈر کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اسے آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھیڑوں کے ایک ایسے ریوڑ میں تبدیل ہو گئی ہے جو دشمن کے حملے کے بعد بکھر گیا ہے، منتشر ہو گیا ہے اور ہر کوئی جدھر سینگ سما رہا ہے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پارٹی صدر راہل گاندھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔ وہ اپنے قدم پیچھے لینے کو تیار نہیں ہیں۔ جب سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی نے انھیں منانے کی کوشش کی تو انھوں نے بہت واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ اب صدر بنے رہنا نہیں چاہتے۔ لہٰذا دونوں خواتین یعنی ماں اور بہن بھی اب ان کی حامی ہو گئی ہیں اور وہ بھی نہیں چاہتیں کہ راہل پارٹی صدر بنے رہیں۔ راہل نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ پارٹی اپنا نیا قائد چن لے وہ اب یہ منصب نہیں سنبھال سکتے البتہ وہ اپنی خدمات دیتے رہیں گے۔

لیکن پارٹی ہے کہ وہ اپنا کوئی لیڈر ابھی تک نہیں چن سکی ہے۔ اب بھی اس کی نظریں راہل گاندھی پر ہی ٹکی ہوئی ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ جلد یا بدیر راہل مان جائیں گے اور ایک بار پھر قیادت کی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔ ادھر یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ کم از کم سونیا گاندھی ہی کچھ دنوں کے لیے عارضی صدر بن جائیں۔ اس سلسلے میں ان سے گزارش کی گئی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پارٹی پر ایسا لگتا ہے کہ جیسے پژمردگی چھا گئی ہے۔ کوئی بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے پارٹی لیڈروں کو اس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ کچھ سینئر رہنما پریشان ضرور ہیں لیکن وہ بھی کچھ خاص نہیں کر پا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سینئر رہنما ڈاکٹر کرن سنگھ نے اس تعطل پر اظہار تشویش کیاہے اور راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ اس بحران کو حل کریں۔ ان کی تجویز کے مطابق جب تک کوئی مستقل صدر نہیں مل جاتا ایک عارضی صدر منتخب کر لیا جائے اور چاروں سمتوں میں کام کرنے کے لیے چار نائب صدور مقرر کر دیے جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ ایک سینئر سیاست داں ہیں فی الحال ان کی صدارت میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہو۔ لیکن ان کی اس تجویز پر بھی سناٹا چھایا ہوا ہے۔ ایک اور سینئر رہنما جناردن دویدی نے راہل گاندھی سے کہا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں۔ جبکہ پی چدمبرم اور دوسرے سینئر رہنماوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انھوں نے بس یہ بیان دینے پر اکتفا کیا ہے کہ راہل گاندھی کے علاوہ کوئی صدر نہیں ہوگا۔ وہی پارٹی سنبھال سکتے ہیں۔ لیکن راہل بالکل بے لچک رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

اس تعطل کا پارٹی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ ایسے لوگ جو صرف مفاد پرستی کی خاطر کانگریس میں آئے تھے، جن کی کوئی نظریاتی وابستگی نہیں تھی اور اب جن کو اپنا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑتا نظر آرہا ہے وہ نئی نئی چراگاہوں کی طرف رخ کر رہے ہیں اور اس وقت صرف ایک سیاسی چراگاہ رہ گئی ہے جہاں اپنی سیاسی بھوک مٹائی جا سکتی ہے اور وہ ہے بی جے پی۔ لہٰذا جو بھی کانگریس چھوڑنا چاہتا ہے وہ بی جے پی کی طرف منہ اٹھائے بھاگ رہا ہے۔ پارلیمانی الیکشن میں کانگریس کی شکست نے اسے اس قدر بزدل اور پژمردہ بنا دیا ہے کہ اس میں اب زندگی جینے کی کوئی چاہ ہی نہیں رہ گئی ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ سینئر کانگریس رہنما بھی یہ مان کر چلنے لگے ہیں کہ پارٹی ختم ہو گئی ہے۔ وہ ایک مردہ گھوڑا بن گئی ہے۔ اس میں نئی جان نہیں پھونکی جا سکتی۔ اس لیے جو بھی جیسے بھی چل رہا ہے چلنے دو۔ معمر اور سینئر رہنماؤں نے اپنی پاری کھیل لی ہے۔ انھوں نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے بہت کچھ کما لیا ہے۔ انھیں اب اور حاصل کرنے یا کمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنی جگہ پر گھاگھ بنے بیٹھے ہیں۔ لیکن جو کچھ کم عمر یا کم سینئر رہنما ہیں اور خاص طور پر ریاستوں کی سیاست میں سرگرم ہیں انھیں اپنے مستقبل کی فکر ستا رہی ہے۔ اسی لیے وہ ہری ہری گھاس کی طرف دوڑ لگا رہے ہیں۔

کرناٹک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں پارٹی کی پژمردگی کا بھی ہاتھ ہے۔ حالانکہ یہ بات بھی درست ہے کہ وہاں بی جے پی شروع سے ہی کانگریس جے ڈی ایس حکومت کو گرانے کی فکر میں رہی ہے۔ لیکن اب جو حالات بن گئے ہیں ان میں اسے گرانے کی ضرورت ہی نہیں رہ گئی وہ از خود گر رہی ہے اور ممکن ہے کہ جب آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہوں اس وقت تک وہاں کی موجودہ حکومت ختم ہو گئی ہو اور بی جے پی کی حکومت یا تو بن گئی ہو یا بننے کے مرحلے میں ہو۔ وہاں کانگریس ممبران پارلیمنٹ اگر بھاگ رہے ہیں تو اپنے مستقبل کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ بی جے پی تو چارہ دکھا ہی رہی ہے۔ کانگریس کی اندرونی کشمکش اور طاقت کی لڑائی بھی اس کی ذمہ دار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش میں سابق کانگریس وزیر اعلیٰ سدھا رمیا بھی شامل ہیں۔ وہ شروع سے ہی مخلوط حکومت کے خلاف رہے ہیں۔ وہ کمارا سوامی کے وزیر اعلیٰ بنائے جانے سے ناراض ہیں۔ وہ خود وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تھے۔ اس لیے بتایا جاتا ہے کہ موجودہ بحران میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔ ادھر گوا کے کانگریسی بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں سے کانگریس کا وجود مٹتا چلا جا رہا ہے۔ دوسری ریاستوں میں بھی کانگریس کی حالت اچھی نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی اندرونی لڑائی جاری ہے۔ مدھیہ پردیش میں جیوترادتیہ سندھیا اور کمل ناتھ میں چشمک چل رہی ہے تو راجستھان میں اشوک گہلوت اور راجیش پائلٹ میں چل رہی ہے۔ اشوک گہلوت نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ انھیں اس لیے وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے کہ وہی بن سکتے ہیں کوئی دوسرا نہیںاور یہ کہ عوام انھی کو چاہتے ہیں۔

2014 کے عام انتخابات کے موقع پر نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہندوستان کو کانگریس مکت یعنی کانگریس سے پاک کر دیں گے۔ لہٰذا بی جے پی اس محاذ پر کام کر رہی ہے۔ لیکن اب راہل گاندھی کے استعفیٰ دینے کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کے لیے بی جے پی یا مودی کو ذمہ دار نھیں ٹھہرایا جا سکتا۔ راہل نے استعفیٰ دے کر در اصل کانگریس کی قبر کھود دی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انھوں نے استعفیٰ دیا تھا لیکن جب ان پر دباؤ پڑنے لگا تو انھیں استعفیٰ واپس لے لینا چاہیے تھا۔ اگر انھوں نے ایسا کیا ہوتا تو پارٹی اس طرح حوصلہ شکنی کی شکار نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب پارلیمنٹ میں کرناٹک کے معاملے پر ہنگامہ ہوا اور کانگریس نے بی جے پی پر حکومت گرانے کا الزام لگایاتو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بی جے پی اس کے لیے کیسے ذمہ دار ہو سکتی ہے۔

استعفیٰ دینے کا آغاز تو خود پارٹی صدر راہل گاندھی نے کیا تھا۔ اب ان کی نقل میں دوسرے لوگ بھی استعفیٰ دے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک چالاکی بھرا بیان ہے لیکن یہ حقیقت بھی ہے۔ اگر راہل نے استعفیٰ دینے کے بعد اس پر اڑے رہنے کا رویہ نہ اپنایا ہوتا تو یہ نوبت نہیں آتی۔


یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا راہل گاندھی واقعی شکست سے بہت زیادہ بددل ہو گئے ہیں اور اس قدر ہو گئے ہیں کہ انھیں اب سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی ہے۔ یا پھر وہ اپنی اہمیت جتانا چاہتے ہیں کہ دیکھو میرے بغیر یا نہرو گاندھی خاندان کے بغیر تم لوگ کچھ نہیں کر سکتے۔ فی الحال اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ ابھی تو ایسا ہی لگتا ہے کہ راہل بہت زیادہ بددل ہو گئے ہیں۔ اس لیے پانچ سال آرام کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ صدر بنے رہیں گے تو محنت کرنی پڑے گی اور انھوں نے ابھی عام انتخابات میں اور اس سے قبل بہت محنت کی ہے۔ شاید وہ سمجھتے ہوں کہ اب محنت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب انتخابات کا موقع آئے گا تب دیکھا جائے گا۔ لیکن اگر وہ ایسا سوچتے ہیں تو یہ ان کی بہت بڑی بھول اور سیاسی ناپختگی ہوگی۔ اگر وہ یا جو بھی پارٹی صدر بنے ابھی سے محنت نہیں کرے گا اور حکمت عملی بنا کر پورے ملک میں کانگریس کو زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا تو وہ 2024 کے انتخابات میں بھی کچھ نہیں کر پائے گا۔ بی جے پی ابھی سے اگلے پارلیمانی الیکشن کی تیاری کر رہی ہے۔ جو بھی حوصلہ مند جماعت ہوتی ہے اور جس کے اندر لڑنے کی طاقت ہوتی ہے اور مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے ایسے ہی کرتی ہے جیسے کہ بی جے پی کر رہی ہے۔ اس لیے اگر کانگریس خود کو زندہ کرنا چاہتی ہے تو اسے ابھی سے زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ ورنہ راہل گاندھی اور دیگر لیڈروں کا جو رویہ ہے وہ کانگریس کو قبر کی آغوش میں پہنچا کر ہی دم لے گا۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس نے خود کشی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اگر وہ خود کشی کر ہی رہی ہے تو پھر نریندر مودی کو کانگریس مکت بھارت بنانے میں اب کچھ زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی اور اگر ہندوستان کانگریس مکت ہو گیا تو اس کے لیے انھیں مورد الزام بھی نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس کی ذمہ دار خود کانگریس ہی ہوگی۔
ای میل:sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Is rahuls decision to resign suicidal for congress party in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.