یہ وارننگ کہیں محض دکھاوا تو نہیں

سہیل انجم
جموں و کشمیر کے اڑی میں فوجی کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے اور اس کے بعد دہشت گردوں کے خلاف ہندوستان کی سرجیکل اسٹرائک نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ دونوں جانب آگ لگی ہوئی ہے اور گرما گرم بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہندوستان میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ماحول کو خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور پاکستان میں بھی ایسے لوگ خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان میں کچھ لوگ تو ایٹمی حملے کی دھمکی تک دے رہے ہیں۔ اگر ان لوگوں کی چلے تو کل جنگ ہوتی ہو تو آج ہو جائے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ جنگ سے ان عناصر کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ ان کے پاس ہتھیاروں کی فیکٹریاں بھی تو نہیں ہیں کہ ان کے ہتھیار فروخت ہوں گے اور ان کی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ لوگ جنگ کی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ شائد اس طرح وہ اپنے جذبات کو آسودہ کرنا چاہتے ہیں یا پھر ممکن ہے کوئی اور بات ہو۔
حالانکہ یہ بات سبھی سمجھتے ہیں کہ جنگ سے تباہی و برباردی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اور ایسے میں جبکہ دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اگر خدا نخواستہ جنگ چھڑ جائے اور کسی ایک ملک نے ان ہتھیاروں کے استعمال کی حماقت کر دی تو کیا ہوگا۔ کیا دوسرا ملک اس کے استعمال سے خود کو روک پائے گا۔ ہندوستان نے تو بہت پہلے رضاکارانہ طور پر یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی ملک ایٹمی ہتھیار استعمال کرتا ہے تو ہندوستان چپ بیٹھ رہے گا اور تماشہ دیکھے گا۔ پاکستان کی جانب سے بار بار یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ اس کے ایٹمی ہتھیار شب برات میں پٹاخہ پھوڑنے کے لیے نہیں ہیں۔ اس قسم کا بیان دینے والوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہندوستان کے ایٹمی ہتھیار بھی دیوالی میں پٹاخہ پھوڑنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ہندوستان فوجی اعتبار سے پاکستان کے مقابلے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اس کے پاس پاکستان سے زیادہ ہتھیار ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی دونوں ملکوں میں جنگ ہوئی ہے پاکستان کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہاں تک کہ ایک بار تو اس کے ایک لاکھ فوجیوں کو ہندوستان کے آگے ہتھیار ڈال دینے پڑے تھے۔ اس کے باوجود اگر پاکستان میں کچھ لوگ جنگ کی باتیں کریں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔
یہ صورت حال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے بے شمار ٹھکانے موجود ہیں۔ ان کے تربیتی کیمپ چل رہے ہیں اور ان کو کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے۔ وہ پاکستان کی سرزمین کا استعمال کرکے دوسرے ملکوں کے خلاف تو کارروائی کرتے ہی ہیں خود پاکستان کے خلاف بھی کرتے ہیں۔ شیعوں کے الگ گروپ پیں اور سنیوں کے الگ ہیں۔ مسلکی تنازعات میں بھی دہشت گردانہ وادراتیں ہوتی رہتی ہیں۔ کسی بھی مسلک کی نہ تو مسجد محفوظ ہے اور نہ ہی دوسرے مقامات۔ ہندوستان تقریباً تیس برسوں سے دہشت گردی کی مار جھیل رہا ہے اور یہ دہشت گردی پاکستان کی سرزمین سے ہو رہی ہے۔
ہندوستان بار بار پاکستان سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ کیونکہ دہشت گردی نہ صرف ہندوستان اور اس خطے کے لیے تباہ کن ہے بلکہ خود پاکستان کے لیے بھی ہے۔ پاکستان میں تقریباً ساٹھ ہزار بے قصور شہری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اربوں روپے کی املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں ان کے خلاف وہ کارروائی نہیں کی جاتی جو کی جانی چاہیے۔ حالانکہ پاکستان میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو ان کے خلاف سخت کارروائی کی وکالت کرتا ہے اور حکومت پر بار بار زور دیتا ہے کہ وہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ جب وہاں کی حکومت اپنے لوگوں کی باتوں پر دھیان نہیں دیتی تو ہندوستان کی باتوں کو کہاں تک اہمیت دے گی۔
دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں پہلے ممبئی پر خوفناک حملے ہوئے پھر پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر اور اس کے بعد اڑی کے فوجی ٹھکانے پر۔ اڑی میں حملے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو گھیرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس نے سفارتی سطح پر جو کوششیں کیں ان کا نتیجہ اس شکل میں برآمد ہوا کہ بہت سے ملکوں نے دہشت گردی کے تعلق سے ہندوستان کی حمایت کی اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے سخت کارروائی کرے۔ ان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان الگ تھلگ پڑتا نظر آرہا ہے۔ ایسے میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کو وارننگ دی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے یا پھر عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑنے کے لیے تیار ہو جائے۔ ان کی یہ وارننگ اپنے آپ میں کئی مفہوم رکھتی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سے یہ نتیجہ آسانی کے ساتھ نکالا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف فوج کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی، دوسری بات یہ ہے کہ ان کو فوج کی پشت پناہی حاصل ہے، تیسری بات یہ ہے کہ فوج اور سویلین حکومت میں اس معاملے پر اختلافات ہیں اور چوتھی بات یہ کہ پاکستان کی سویلین حکومت کو اندیشہ ہے کہ اگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی فوج دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔ فوج میں، آئی ایس آئی میں اور خود سویلین حکومت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، ان کی اعانت کرتے ہیں۔ اسٹیٹ ایکٹر س اور نان اسٹیٹ ایکٹرس کی اصطلاح اسی لیے پیدا ہوئی۔ لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہا ہے جس کا احساس وزیر اعظم نواز شریف کو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے فوج کو وارننگ دی ہے۔ اگر انھوں نے سنجیدگی سے یہ وارننگ دی ہے اور واقعی وہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر اور ٹھوس کارروائی کی جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ کارروائی تو بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ اگر ہوئی ہوتی تو جو تباہی اب تک دیکھنے کو ملی ہے وہ نہیں ہوتی۔ لیکن اگر نواز شریف نے دنیا کو دکھانے کے لیے یہ وارننگ دی ہے تو انھیں سمجھ لینا چاہیے کہ اس سے پاکستان کو بھی شدید نقصان ہوگا۔ دہشت گردانہ واداتوں سے تو ہوگا ہی عالمی سطح پر جو وہ الگ تھلگ پڑ جائے گا اس کا نقصان الگ ہے۔
یہاں اس بات کا بھی ذکر کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ایسی خبریں ہیں کہ سویلین حکومت اور فوجی قیادت میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں ایسا بیان دیا گیا ہے۔ در اصل پاکستان میں فوج ہمیشہ طاقتور رہی ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر کوئی بھی فیصلہ سویلین حکومت نہیں کر سکتی۔ بلکہ جو بھی فیصلہ ہوتے رہے ہیں فوج کی ہدایت پر اور اس کے دباو¿ میں ہوتے رہے ہیں۔ دونوں میں اختلافات تو پہلے بھی رہے ہیں لیکن سویلین حکومت کو انھیں طشت از بام کرنے کی جرات کبھی نہیں ہوئی۔ اب اگر نواز شریف نے ایسا بیان دیا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ انھوں نے نتائج کی کوئی پروا نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں سے اس قسم کی قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں تختہ پلٹ ہونے والا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے نتائج نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ ہندوستان کے لیے بھی اور خطے کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہوں گے۔ کیونکہ سویلین حکومت جس طرح دانشمندی سے کام لیتی ہے فوجی قیادت نہیں لے سکتی۔ اگر ایسا ہوا تو دونوں ملکوں میں جنگ کے خطرات اور بڑھ جائیں گے۔ خدا کرے کہ ایسا نہ ہو۔
رابطے کے لیے: sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Is nawaz shareef warning to pak army farce in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply