کانگریس اپنی شناخت کے بحران سے دوچار

سہیل انجم

کانگریس جیسی تاریخی سیاسی جماعت ایسے بحران سے دوچار ہو جائے گی یہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ پارلیمانی انتخابات میں شرمناک شکست کے بعد اس پر جو پژمردگی چھا گئی تھی وہ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ آپسی اختلافات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ جو عہدے خالی ہیں ان کو پُرکرنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی۔ نئے نئے عہدے بھی خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن پارٹی کے اندر نئے عہدے داروں کے تقرر کے سلسلے میں کوئی جوش خروش نہیں ہے۔ پی چدمبرم جیسے ایک سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر کی گرفتاری کے بعد پارٹی کارکنوں کی جانب سے جس احتجاج کی توقع تھی وہ بھی کہیں دکھائی نہیں دیا۔ جنوب سے تعلق رکھنے والے کچھ کارکنوں نے ہلکا پھلکا احتجاج کیا اور بس۔ دہلی میں تو کوئی ہلچل ہی نہیں ہوئی۔ حالانکہ اگر بی جے پی کے کسی اتنے بڑے قد کے لیڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہوتا تو پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہوتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کانگریس کے اندر زندگی نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی ایک مردہ گھوڑا بن گئی ہے۔ اس میں جان ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے۔ اگر کوشش ہو بھی تب بھی اس میں نئی جان پیدا ہونے کے بظاہر امکانات نہیں ہیں۔ سونیا گاندھی کو اگر چہ پارٹی کا کارگزار صدر بنا دیا گیا ہے لیکن وہ عمر کی جس منزل میں ہیں اور جس طرح بیمار رہنے لگی ہیں اس کے پیش نظر اس کی امید کم ہے کہ وہ کوئی کرشمہ دکھا پائیں گی۔

پارٹی میں اب ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو برا بھلا کہنا چاہیے اور انھیں بدنام کرنے کی روش پر چلتے رہنا چاہیے یا نہیں اس کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس بارے میں پارٹی میں دو خیمے بن گئے ہیں۔ ایک خیمہ چاہتا ہے کہ مودی کے خلاف کوئی بیان نہ دیا جائے۔ اس سے کانگریس کو فائدہ کے بجائے نقصان ہوتا ہے۔ فائدہ مودی کو پہنچتا ہے۔ اس کے ثبوت میں وہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن میں پارٹی نے صرف وزیر اعظم کے خلاف مہم چلانے کو اپنا ون پوائنٹ پروگرام بنا لیا تھا۔ جس کی وجہ سے الیکشن کا انداز صدارتی ہو گیا تھا۔ اس سے نریندر مودی کو بہت فائدہ پہنچا۔ اس کی آواز سب سے پہلے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اٹھائی۔ انھوں نے کہا کہ مودی کو ہمیشہ Demonise کرنے کا کوئی فائدہ پارٹی کو نہیں ملا بلکہ اس سے الٹا نقصان ہوا۔ ان کی ہاں میں ہاں ملائی ایک اور سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے۔ انھوں نے بھی کہا کہ وہ بھی جے رام رمیش سے متفق ہیں کہ مودی جی کو ہمیشہ بدنام کرنے کی روش ترک کر دینی چاہیے۔ پھر ایک اور سینئر رہنما ششی تھرور بھی بول پڑے۔ انھوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف بیان بازی کو ناپسند کرتے ہیں۔ جے رام رمیش یا ابھیشیک منو سنگھوی کے بیانات پر تو کوئی زیادہ آواز نہیں اٹھی البتہ ششی تھرور کے بیان پر کیرالہ کانگریس نے ان سے صفائی مانگ لی۔ اس کے بعد ایک اور سینئر رہنما ویرپا موئیلی بھی کود پڑے۔ انھوں نے ششی تھرور کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر ڈالا۔ انھوں نے جے رام رمیش کا بھی معاملہ اٹھایا اور کہا کہ یو پی اے ٹو میں ان کی پالیسی کی وجہ سے حکومت میں ایک قسم کا پالیسی تعطل پیدا ہو گیا تھا۔ انھوں نے بحیثیت وزیر ان کے کئی فیصلوں پر اپنی ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ ان فیصلوں سے حکومت کو نقصان پہنچا تھا۔ انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کوئی پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو جائے لیکن پارٹی کے اندر رہ کر اس قسم کی گفتگو کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اب پارٹی میں دبے لفظوں میں اس پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا مودی کے خلاف بیان بازی کرنی چاہیے یا نہیں۔

ادھر راہل گاندھی نے پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے کے بعد خاموشی اختیار کر لی تھی۔ لیکن اب رفتہ رفتہ انھوں نے بیان دینا شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے کشمیر کے تعلق سے حکومت کے حالیہ فیصلے پر اعتراض کیا ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں یہاں تک کہا تھا کہ کشمیر سے بڑی تشویش ناک خبریں آرہی ہیں اور وہاں لوگ مر رہے ہیں۔ پاکستان نے ان کے اس بیان کا فائدہ اٹھا لیا۔ وہاں کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کشمیر کے تعلق سے اقوام متحدہ کے نام ایک مکتوب ارسال کیا اور اس میں راہل گاندھی کے اس بیان کا حوالہ دیا۔ اس پر بی جے پی نے راہل کو گھیر لیا جس پر راہل سے کوئی جواب نہیں بن پڑ رہا تھا۔ انھوں نے اس پر صفائی دی اور اس سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان کو اس میں دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن راہل کے بیان سے جو نقصان پہنچنا تھا وہ پہنچ گیا۔ کشمیر کے معاملے پر بھی کانگریس میں اتفاق رائے نہیں ہے۔ کوئی کچھ کہتا ہے تو کوئی کچھ کہتا ہے۔ کئی سینئر لیڈروں نے کشمیر سے دفعہ 370 ختم کیے جانے کی حمایت کی تو کئی نے مخالفت کی۔ حمایت کرنے والوں میں جناردن دویدی جیسے سینئر لوگ ہیں تو مخالفت کرنے والوں میں غلام نبی آزاد اور ابھیشیک منو سنگھوی اور آنند شرما جیسے لوگ ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر پارٹی کے اندر اتفاق رائے کا جو فقدان ہے اس سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کشمیر کا دورہ کرنے کی کوشش کی مگر انھیں اجازت نہیں ملی اور انھیں سری نگری ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے جو بیانات دیے وہ بھی پارٹی کے حق میں سودمند ثابت نہیں ہوئے۔

دہلی میں شیلا دکشت کے انتقال کے بعد کوئی صدر نہیں ہے۔ پی سی چاکو کئی برسوں سے دہلی کے انچارج ہیں لیکن اب انھوں نے اس ذمہ داری سبکدوش ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انھوں نے سونیا گاندھی کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ انھیں اب اس ذمہ داری سے الگ کر دیا جائے۔ پارلیمانی انتخابات میں شیلا دکشت نے عام آدمی پارٹی سے سمجھوتہ نہ کرنے کی جو پالیسی اپنائی تھی اس سے کانگریس اور عام آدمی پارٹی دونوں کو نقصان پہنچا تھا۔ اب تو وہ چلی گئی ہیں لیکن اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کیا ہوگا اس پر بھی کوئی رائے بنتی نظر نہیں آرہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کو امید ہے کہ وہی پھر حکومت بنائے گی۔ کیجری وال کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اس بار ہم ستر کی ستر سیٹیں جیتیں گے۔ جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی میں سخت ٹکر ہوگی اور اگر بی جے پی حکومت بنا لے تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ کانگریس کے بارے میں لوگوں کی کوئی رائے ہی نہیں ہے۔ لیکن اس سے الگ ہٹ کر کانگریس کو کم از کم لڑائی کے موڈ میں تو آنا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں لگتا کہ وہ دہلی اسمبلی کا الیکشن تیاری کے ساتھ لڑنے کی پوزیشن میں ہے۔ ہریانہ اور دوسری ریاستوں میں بھی کانگریس بری طرح پژمردگی کا شکار ہے۔ کہیں بھی اس کے اندر کوئی جوش خروش نظر نہیں آتا۔ مجموعی طور پر کانگریس اس وقت شناخت کے جس بحران سے دوچار ہے اس سے نکلنے کی کوئی خواہش پارٹی کے اندر دکھائی نہیں دیتی۔ اگر یہی صورت حال رہی تو 2024 کا الیکشن بھی وہ طشت میں سجا کر بی جے پی کے حوالے کر دے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Is congress a dead horse in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.