دہشت گردوں کے خلاف ہندوستان کی سرجیکل اسٹرائیک

سہیل انجم
اٹھارہ ستمبر کو جموں و کشمیر کے اڑی میں فوجی کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے میں اٹھارہ فوجی جوانوں کی ہلاکت کے بعد ہندوستانی عوام کے دلوں میں ایک غصہ تھا۔ ان میں ایک بے چینی تھی۔ ایک اضطراب تھا۔ وہ اس کارروائی کا انتقام لینے کے حق میں تھے۔ کیونکہ بہر حال اٹھارہ فوجی جوانوں کی ہلاکت کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ بالآخر دس روز کے بعد فوج نے کنٹرول لائن کے پار دس کلو میٹر کے اندر جاکر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ اس طرح عوام کے مشتعل جذبات آسودہ ہوئے۔ ان کی بے چینی دور ہوئی اور ان کا اضطراب ختم ہوا۔ عوام یہی چاہتے تھے کہ کم از کم دہشت گردوں کو اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کو بھی یہ پیغام دیا جائے کہ اس قسم کی کارروائی کو زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کارروائی میں سوا سو کمانڈوز نے حصہ لیا اور انھوں نے دہشت گردوں کے سات ٹھکانوں کو نیست و نابود کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران تیس پینتیس دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ کارروائی سے قبل ایک ہفتے تک اہداف کی نگرانی کی جاتی رہی۔ 29 ستمبر کو ڈائرکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز، ڈی جی ای او، لیفٹنینٹ جنرل رنبیر سنگھ نے ایک پریس بریفنگ میں کارروائی کی تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا تھا اور کارروائی میں بہت سے دہشت گرد مار گرائے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کو اب ختم کر دیا گیا ہے اور اسے آگے جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ڈی جی ایم او نے بتایا کہ کنٹرول لائن کے پار جا کر سرجیکل کارروائی کی گئی۔ نیوز چینلوں پر بھی مسلسل سرجیکل آپریشن کا ذکر ہوتا رہا۔ اس پر مباحثے بھی ہوتے رہے اور اس کی تفصیلات بھی پیش کی جاتی رہیں۔ بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہوگا کہ آخر سرجیکل اسٹرائک کیا بلا ہے۔ کس کارروائی کو کہتے ہیں اور یہ کیسے انجام دی جاتی ہے۔ سرجیکل اسٹرائک کا مطلب ہوتا ہے ایک خاص ہدف کو وہاں تک جاکر نشانہ بنانا۔ یعنی جس ہدف کو متعین کیا جاتا ہے کمانڈوز وہاں جاتے ہیں اور کارروائی کرکے واپس آجاتے ہیں۔ وہ وہاں رکتے نہیں ہیں۔ اس کارروائی کے دوران جنگ کی مانند آس پاس کے علاقوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ نقصان صرف اسی جگہ ہوتا ہے جہاں کارروائی کی جاتی ہے۔ ہندوستانی کمانڈوز نے دو کلومیٹر اندر جاکر دہشت گردوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ڈھائی بجے شروع ہونے والی یہ کارروائی صبح ساڑھ چار بجے تک جاری رہی۔ کارروائی سے قبل فوج نے کراس بارڈر فائرنگ کی تاکہ پاکستانی فوج کو مغالطے میں ڈالا جا سکے۔ اس مقصد میں ہندوستانی فوج کامیاب رہی۔ پاکستانی فوج کو سرجیکل کارروائی کی کوئی بھنک نہیں لگ سکی۔
ہندوستان کی جانب سے کنٹرول لائن کے پار جا کر اتنی بڑی کارروائی پہلی بار کی گئی۔ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ ایسی کسی کارروائی کا عوامی طور پر اعلان کیا گیا۔ اس سے قبل یو پی اے حکومت میں بھی ایسی کارروائیاں ہوئی تھیں لیکن ایک تو وہ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہوئی تھیں اور دوسرے ان کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اس بار ایسا ہوا اور اس کی وجوہات بھی ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ دہشت گردوں کی کارروائی میں اٹھارہ فوجی جوان مارے گئے۔ اس سے قبل پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا تھا لیکن اس میں اتنی بڑی تباہی نہیں آئی تھی۔ اس کے علاوہ چھوٹی موٹی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ دہشت گردوں کی جانب سے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے اڑی میں دہشت گردانہ حملے میں اٹھارہ جوانوں کی ہلاکت کے بعد فطری طور پر لوگوں میں زبردست غصہ تھا اور لوگ اس کا جواب چاہتے تھے۔ حالانکہ عوام جنگ کے طرفدار نہیں ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ دہشت گرد اپنی کارروائیاں کرتے رہیں اور ہندوستان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے۔ ایک وجہ اور بھی تھی۔ سابقہ حکومت میں جب پاکستانی فوج کے ذریعے ایک ہندوستانی فوجی کا سر قلم کیا گیا تھا تو اس وقت بھی یہاں بہت غصہ تھا۔ فوج نے کارروائی بھی کی تھی۔ لیکن کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب الیکشن کا زمانہ آیا تو بی جے پی کی جانب سے یہ پرچار کیا جاتا رہا کہ اگر پاکستانی ایک فوجی ماریں گے تو ہم دس ماریں گے۔ ایک سر کے بدلے میں دس سر لائیں گے۔ لیکن این ڈی اے حکومت کی اس دوسالہ مدت میں کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاتا رہا۔ وزیر اعظم نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں بلایا۔ وہ افغانستان سے واپسی پر اچانک لاہور چلے گئے۔ بقول سشما سوراج اس دو سال میں تعلقات کو معمول پر لانے اور دوستانہ رشتوں کے قیام کے سلسلے میں جو پیمانہ بنایا گیا ویسا پہلے کبھی نہیں بنایا گیا تھا۔ اس لیے عوام میں بڑی بے چینی تھی کہ یہ لوگ تو کہتے تھے کہ ایک کے بدلے دس سر لائیں گے۔ لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ گویا حکومت پر کارروائی کرنے کے لیے عوامی دباو¿ بھی تھا۔ حکومت کو طعنے بھی خوب سننے پڑے تھے۔ اس طرح بہت ساری باتیں یکجا ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی۔
اس کارروائی کے ساتھ ہندوستان نے پاکستان کو اور اس کی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کو سخت پیغام دیا ہے۔ وہ پیغام یہ ہے کہ اگر ہمارے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ سرجیکل آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو آگے بھی ایسے آپریشن کیے جائیں گے۔ پاکستانی حکمرانوں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ صرف وعدے کرکے بھاگ نہیں سکتے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اقتدار میں آنے سے بعد ہندوستان کے ساتھ دوستانہ رشتوں کے قیام کی بات کہی تھی۔ 2004 میں پاکستان نے ہندوستان سے اور پوری عالمی برادری سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن اس کے باوجود اس کی سرزمین ہندوستان کے خلا ف استعمال ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہو رہی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کو اس کے شواہد پیش کیے ہیں کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس پر جو حملہ ہوا تھا وہ بھی پاکستان سے آئے دہشت گردوں نے کیا تھا اور اڑی میں جو حملہ ہوا وہ بھی پاکستان سے آئے دہشت گردوں نے کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کی سرزمین ہندوستان کے خلاف مسلسل استعمال ہو رہی ہے۔ لیکن اب پاکستان کے ارباب اقتدار کو سنبھل جانا چاہیے اور انھیں ہندوستان کو کوئی بھی کارروائی کرنے کے لیے مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ سرجیکل آپریشن ایک پیغام ہے پاکستان کے لیے بھی اور دہشت گردوں کے لیے بھی۔ بہتر یہی ہوگا کہ وہ اس پیغام کو سمجھیں اور خود بھی امن و امان کے ساتھ رہیں اور دوسروں کو بھی رہنے دیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: indian surgical strikes against terrorists | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply